اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

خلافتِ اسلامیہ

حدیث بیان کی جاتی ہے۔ کہ ایک دفعہ کسی روحانی جذبہ کے زیرِ اثر آپ نے اپنے اصحاب میں سے ایک کو فرمایا ’’جاؤ اور لوگوں سے کہہ دو۔ کہ جس شخص نے ایک دفعہ بھی زندگی میں اپنی زبان سے لا الٰہ الا اللہ کہہ دیا۔ وہ سمجھ لے کہ جنت میں داخل ہو گیا‘‘۔ رسالت مآب نے کلمۂ توحید کے دوسرے جزو یعنی محمد رسول اللہ کو جس کے اقرار کے بغیر مسلمان مسلمان نہیں ہو سکتا۔ دانستہ ذکر نہ فرمایا اور اقرارِ توحید ہی کو کافی سمجھا۔ اور یہ جانتے ہو کہ کیوں ایسا کیا؟ محض اس لئے کہ دوسرے جزو میں اپنی ذاتِ اقدس کا ذکر تھا۔ رسولِ خدا کے اس عمل کی اخلاقی اہمیت کچھ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس پاک ہستی کے اوصاف و خصائل سے واقف ہیں۔ اخلاقیاتِ اسلام کا تمام دار و مدار اس واحد مسئلہ پر ہے کہ فرد من حیث الفرد کیا حیثیت رکھتا ہے؟ زندگی کا کوئی طریقِ عمل یا رویہ جو فرد کے آزادانہ ارتقاء و عروج کے راستہ میں حائل ہو، وہ شریعتِ اسلامیہ اور اخلاقیاتِ اسلام کے قطعاً خلاف ہے۔ ہر مسلمان اپنے افعال و اعمال کے لحاظ سے مختار و آزاد ہے۔ بشرطیکہ خلافِ قانونِ وحی اس سے کوئی فعل یا عمل سرزد نہ ہو۔ شریعتِ اسلامیہ کے اصولوں کے متعلق ہمارا ایمان ہے کہ وہ فطری ہیں اور وحیِ ربانی پر مبنی۔ باقی فروعات ہیں۔ سو چونکہ ان کو زمانہ کی رفتار کے مطابق کم و بیش تمام دنیاوی امور پر حاوی ہونا ہوتا ہے۔ اس لئے ان کی تشریح و تنقیح فقہائے ملت کے سپرد کر دی گئی ہے۔ اس لئے یہ نتیجہ اخذ کرنا بالکل درست ہوگا کہ شریعت جس صورت میں کہ وہ نافذ کی جاتی ہے قضاۃِ اسلام کی تشریح کردہ و منضبط کردہ شریعت ہے۔ یا یوں کہو کہ نظامِ ملت میں تفصیلی قانون سازی کا کام فقیہہ یا قاضی کرتا ہے۔ گر کسی وقت کوئی مسئلہ بالکل نیا پیش آ جائے جو شریعت نے اس سے پہلے کبھی فیصلہ نہ کیا ہو تو اس صورت میں اجماعِ امت ایک مزید منبعِ قانون تصور کیا جائے گا۔ اگرچہ بصورتِ موجودہ اس مقام پر میں کوئی اس قسم کی تاریخی مثال نقل نہیں کر سکتا۔ جو یہ واضح کرے کہ فلاں موقعہ اور مقام پر تمام مسلمانانِ عالم کی کوئی عام کونسل اس غرض کے لئے منعقد ہوئی۔

اس کے بعد اب ہم ان سیاسی مسائل کی توضیح کرتے ہیں جن کی طرف مضمون کے اول حصہ میں اشارہ کیا گیا تھا۔ اس مسئلہ میں اہل السنت والجماعت کا نظریہ ہماری توجہ کا سب سے پہلے مستحق ہے۔

خلافتِ انتخابیّہ

(مذہبِ اہل السنت والجماعت)

خلیفہ اور جمہور مسلمانان:۔ خلفائے راشدین کے زمانہ میں لوگوں کی زندگی نہایت سادہ تھی۔ خلفاء کی حیثیت عام افراد سے بڑھ کر نہ تھی۔ ان کو بسا اوقات معمولی کانسٹیبلوں کا کام بھی کرنا پڑتا تھا۔ (وشاورھم فی الامر)‌اور معاملات میں ان سے مشورہ کرو کے بموجب خلفاء امورِ سلطنت میں ہمیشہ رسول اللہﷺ کے با اثر و مقتدر صحابیوں سے مشورہ کرتے تھے۔ کوئی عدالتی یا انتظامی معاملہ ایسا نہ ہوتا جس میں ان کی رائے نہ پوچھتے۔ اتنا ضرور تھا۔ کہ معاملاتِ مملکت کی سر انجام دہی کے لئے خلیفہ کا ہاتھ بٹانے کے لئے با قاعدہ طور پر کوئی سرکاری وزراء مقرر نہیں تھے۔ بنی امیہ کے زمانہ تک حکومت کا دستور یہی رہا۔ جس وقت خاندانِ عباسیہ نے خلافت کی باگ اپنے ہاتھ میں لی پھر البتہ خلافت کا مسئلہ عالمانہ طریق پر زیرِ بحث لایا گیا۔ اس مسئلہ کے متعلق سنی خیالات کو پیش کرتے ہوئے میں زیادہ امام الماوردی کا نقطۂ خیال پیشِ نظر رکھوں گا۔ امام موصوف دستور العمل حکومت پر سب سے پہلے بحث کرنے والے مسلمان فقیہہ ہیں۔ اُن کا زمانہ عباسی خلیفہ القادر کا زمانہ تھا۔ آپ نے ملتِ اسلامیہ کو سیاسی نقطۂ خیال سے دو حصوں پر تقسیم کیا ہے:۔

(اول) انتخاب کنندگان (دوم) امیدوارانِ خلافت۔ آپ کے نزدیک امیدوارِ خلافت کے لئے ضروری اوصاف و شرائط حسبِ ذیل ہیں: (1) سیرت اخلاقِ حسنہ سے آراستہ ہو۔ عادات و خصائل غیر مشتبہ ہوں۔ (2) صحتِ حواس ظاہری و باطنی قائم ہو (سلطان عبد العزیز اسی شرط کی عدم موجودگی کی بنا پر معزول کئے گئے)۔ (3) مذہب و شریعت کا ضروری علم حاصل ہو جس سے کم از کم خلیفہ اس قابل ہو سکے کہ مختلف نوعیتوں کے مقدمات فیصلہ کر سکے۔ اصولاً یہ شرط معتبر ہے۔ مگر عملاً خصوصاً آخری زمانہ میں آ کر خلیفہ کے مقدمات فیصلہ کرنے کے اختیارات بٹ گئے۔ اور بعض دوسرے عہدہ داروں کو منتقل کر دئے گئے۔ (4) امیدوار ایسی دور بینی و حق اندیشی کا مالک ہو جو ایک حکمران کے لئے ضروری ہے۔ (5) ایسے حوصلہ اور جرأت کا مرد ہو کہ وقتِ ضرورت خلافتِ مقدسہ کی حفاظت کے لئے میدان میں نکل سکے۔ (6) خاندانِ قریش سے قرابت رکھتا ہو۔ متؤخر سنی فقہاء کے نزدیک یہ شرط، اس بنا پر کہ پیغمبر خدا نے اپنا جانشین خود آپ کسی کو نامزد نہیں کیا تھا۔ لازمی نہیں۔ (7) پوری عمر کا بالغ ہو (عند الغزالی) یہی شرط تھی جس کی عدم موجودگی میں قاضی القضاۃ نے المقتدر کو خلیفہ منتخب کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ (8) مرد ہو نہ کہ عورت (عند البیضاوی) اس شرط کا خوارج نے انکار کیا ہے۔ اُن کا خیال ہے۔ کہ عورت خلیفہ منتخب ہو سکتی ہے۔

اگر امیدوار ان شرائط کو پورا کر دے۔ تو پھر تمام بڑے بڑے خاندانوں کے نمائندے، اعاظمِ فقہاء، حکومت کے اعلیٰ عہدہ داران اور افواج کے سپہ سالار سب ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور ان اوصاف کے شخص کو خلیفہ نامزد کرتے ہیں۔ بعد ازاں یہ سارا اجتماع جلوس کی شکل میں مسجد میں داخل ہوتا ہے جہاں جمہورِ ملت اس نامزدگی کی با قاعدہ تائید و تصدیق کرتے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں منتخب شدہ خلیفہ کے نمائندوں کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ منجانبِ خلیفہ عام لوگوں سے بیعت لیں۔ دار الخلافت کے لوگوں کو انتخاب کے معاملہ میں مفصل کے لوگوں پر کسی قسم کی سبقت حاصل نہیں۔ اگرچہ عملاً کچھ تھوڑی سی اس قسم کی سبقت انہیں اس سبب سے حاصل ہے کہ سابق خلیفہ کی موت کی خبر قدرتاً وہی سب سے پہلے سنتے ہیں۔ بعدِ انتخاب، خلیفہ عموماً ایک خطبہ پڑھتا ہے جس میں یہ عہد کرتا ہے کہ میں شریعتِ اسلام کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی حالت میں اس سے اعتداء نہیں کروں گا۔ تاریخِ اسلام کے صفحات میں اس قسم کے کئی خطبے محفوظ ہیں۔ اس حقیقتِ نفس الامری سے یہ واضح ہوگا کہ اسلام نے اصولِ نمائندگی کو ایک خاص حد تک عملی سیاسیات میں جائز قرار دیا ہے۔ قانونِ وراثت کے معاملہ میں البتہ اس کی کھلے الفاظ میں مخالفت کی گئی ہے۔ مثلاً اگر زید اپنے باپ عمرو اور اپنے بھائی بکر کی زندگی میں اپنے پیچھے اپنا کوئی وارث چھوڑ کر مر جائے۔ تو عمرو کی ساری جائداد بکر کو جائے گی۔ زید کی اولاد کا کوئی حق نہ ہوگا۔ وہ اپنے باپ کے نمائندے متصوّر نہ ہوں گے۔ قانونی نقطۂ خیال سے خلیفہ کی حیثیت کوئی مرجح و ممتاز حیثیت نہیں۔ اصولاً وہ بھی جمہور کے اور اراکینِ قوم کی طرح قوم کا ایک عام رکن ہے۔ اس کے خلاف عام عدالت میں مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے۔ جس میں اُسے اصالتاً بہ نفسِ نفیس حاضر ہونا پڑتا ہے۔ خلیفۂ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر ایک دفعہ یہ الزام لگایا گیا کہ آپ نے مالِ غنیمت میں اور لوگوں کی نسبت خود زیادہ حصہ لے لیا ہے۔ اس الزام کے جواب میں خلیفہ کو جمہور کے سامنے اپنے طرزِ عمل کی صفائی دینی پڑی۔ اور شریعتِ اسلامیہ کے مطابق سب کے سامنے اپنی بریت کی شہادت پیش کی۔ ہر مسلمان کو یہ اختیار ہے کہ خلیفہ کی حاکمانہ حیثیت پر آزادانہ نکتہ چینی کرے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت نے محض اس بات پر علانیہ زجر و توبیخ کی کہ تو نے قرآن پاک کی فلاں آیت کی غلط تفسیر و تشریح کی ہے۔ اس عالی منزلت خلیفہ نے بڑھیا کے استدلال کو حوصلہ کے ساتھ سنا اور مقدمہ کا فیصلہ بڑھیا کے بتائے ہوئے معانی کے مطابق کیا۔