اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

خلافتِ اسلامیہ

حضرت ابوبکرؓ کے انتقال کے بعد حضرت عمرؓ جو حضرت ابوبکرؓ کے عہدِ خلافت میں قاضی القضاۃ کے عہدہ پر مامور تھے۔ تمام قوم کے اتفاقِ رائے سے خلیفہ منتخب ہوئے۔ سنہ 644ء میں آپ ایک ایرانی غلام کے ہاتھوں مہلک طور پر زخمی ہوئے۔ اور رحلت سے قبل اپنے جانشین کی نامزدگی کا اہم کام سات انتخاب کنندگان کے سپرد کیا۔ ان سات میں آپ کا اپنا فرزندِ ارجمند بھی شامل تھا۔ ان سات حضرات کے ذمہ جب یہ مہتم بالشان فرض کیا گیا۔ تو یہ شرط ساتھ ہی عائد کر دی گئی۔ کہ ’’انتخاب مکمل اتفاقِ آراء پر مبنی ہوگا۔ اور خود تم سات میں سے کوئی شخص خلافت کا امیدوار یا عہدہ دار نہ ہوگا‘‘ حضرت عمر علیہ الاسلام کا خود اپنے فرزند کو خلافت کی امیدواری سے مستثنیٰ رکھنا کس قدر روشن اور جلی ثبوت ہے۔ اس المنشرح حقیقت کا کہ اس زمانہ تک عرب کے سیاسی دل و دماغ کو وراثتی بادشاہت کے خیال سے قطعاً بعد و مغائرت تھی۔

بایں ہمہ حفظِ ماتقدم اس مجلس کا قرعہ اس مجلس ہی کے ارکان میں سے ایک پر پڑا۔ اور حضرت عثمانؓ خلیفہ منتخب کئے گئے۔ پہلے آپ کو مذکورہ بالا طریق پر نامزد کیا گیا۔ بعد میں تمام قوم نے اس نامزدگی کی باتفاقِ آراء تائید و تصدیق کی۔ یہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہی کی خلافت ہے کہ آگے چل کر خلافت جیسے اہم مسئلہ میں اختلافات کا موجب ہوئی۔ شہادتِ عثمانؓ کے بعد مذہب کے پردہ میں تین بڑے سیاسی گروہ پیدا ہو گئے۔ جنہوں نے جدا جدا اپنے سیاسی مسلّمات اختراع کر لئے۔ ان میں سے جب کبھی کوئی گروہ برسرِ اقتدار و حکومت ہوا سلطنتِ عرب کے کسی نہ کسی صوبہ میں اس نے اپنے وضع کردہ سیاسی اصولوں کو رائج کرنے اور کامیاب بنانے کی کوشش کی۔ مگر پیشتر اس کے کہ ہم ان مختلف اصولوں کی تشریح و تنقید پر قلم اٹھائیں مناسب معلوم ہوتا ہے۔ کہ پہلے ناظرین کی توجہ مفصلہ ذیل دو نکات کی طرف مبذول کی جائے:۔

(1) جمہوریہ اسلامیہ کی بنا شریعتِ حقّہ کے نزدیک ایک مطلق و آزاد مساوات پر قائم ہے۔ شریعت کے نزدیک کوئی گروہ، کوئی جماعت، کوئی ملک، کوئی زمانہ فائق و مرجح نہیں۔ اسلام میں کوئی مذہبی پیشوائی یا مشیخیت نہیں۔ ذات پات یا نسل و وطن کا امتیاز نہیں۔ پیغمبرِ عالمﷺ آخری زمانہ میں ایک روز منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا۔ ’’اے مسلمانو! اگر میں نے کبھی تم میں سے کسی کو اپنے ہاتھ سے مارا ہو۔ تو یہ لو میرا بدن آج تمہارے سامنے موجود ہے تم مجھے پِیٹ لو۔ اگر تم میں سے کسی کو میرے ہاتھ سے کوئی نقصان یا ضرر پہنچا ہو تو تم اس نقصان کے بدلے آج مجھے نقصان پہنچا لو۔ اگر میرے ذمہ کسی کا مال بطور قرضہ یا بطور امانت ہو تو آج میری تمام پونجی تمہارے سامنے حاضر ہے۔ ہر شخص کو اختیار ہے جو کچھ اس کو مجھ سے لینا ہے وہ لے لے‘‘ حاضرین میں سے ایک شخص اٹھا اور کہا ’’آپ کے ذمہ میرے تین درہم قرض ہیں‘‘۔ رحمتِ عالمﷺ نے جواب دیا کہ میں اس دنیا میں شرمسار ہو لوں گا مگر آخرت کی سرخروئی کو ہاتھ سے نہ دوں گا۔ اور اسی وقت اس شخص کا مطلوبہ قرض ادا کر دیا۔ شریعتِ حقّہ نسلی یا قومی امتیازات کو جو بظاہر قدرتی سے معلوم ہوتے ہیں ہرگز تسلیم نہیں کرتی۔ نہ ہی قومیت کے تاریخی اختلافات اس کے نزدیک کوئی وقعت رکھتے ہیں۔ اسلام کا سیاسی منتہا یہ ہے کہ تمام نسلوں اور قوموں کے آزادانہ اتحاد و اختلاط سے ایک نئی جامع فضائل و کمالات قوم پیدا کی جائے۔ مذہبِ اسلام میں سیاسی ترقی کا معراج نسلی یا ملکی قومیت نہیں۔ اور یہ اس بنا پر کہ شریعتِ اسلامیہ کے عام اساسی اصول فطرتِ انسانی پر مبنی ہیں نہ کہ کسی خاص قوم کے خصوصیاتِ نسلی پر۔ ایسی قوم کا اندرونی ربط و ضبط کسی نسلی یا جغرافی اتحاد پر قائم نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی زبان اور تمدنی روایات و تجارب‌تجربات پر۔ بلکہ اگر ہو سکتا ہے تو مذہبی اور سیاسی منتہاؤں کے اتحاد و ارتباط پر۔ یا از روئے نفسیات سینٹ پال‌St. Paul کے الفاظ میں ’’یکجہتی و ہمخیالی‘‘ پر۔ پیدائش، شادی، وطنیت وغیرہ کوئی اس قسم کی شرط یا تمیز ایسی قوم میں شمولیت کی مانع نہیں ہو سکتی۔ جب بھی کوئی فرد اس قوم کے دائرہ میں داخل ہوگا اس کو اس ’’ہمخیالی و یکجہتی‘‘ کا اقرار باللسان کرنا ہوگا۔ جب کبھی اس ’’ہمخیالی‘‘ سے قدم پیچھے ہٹائے گا۔ اسی وقت قوم کے ساتھ رشتۂ اتحاد منقطع سمجھا جائے گا۔ پھر ایسی عالمگیر قوم کا وطن بھی تمام صفحۂ عالم ہی ہونا چاہئے۔ عربوں نے یونانیوں اور رومنوں کی طرح اپنی فتوحات کے بل پر ایسی عالمگیر قوم یا سلطنت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اُس وقت بے شک وہ بھی اس مقصد کے حاصل کرنے میں قاصر رہے۔ تاہم اس منتہا کا حصول ناممکنات سے نہیں۔ بالقوۃ تو اس قسم کی جامع کمالات ملت پیشتر ہی سے اس دنیا میں موجود ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں زمانۂ حال کی سیاسی جماعتوں کی زندگی کا نشوونما زیادہ تر آئین و حکومت کے مشترک اصولوں پر مبنی ہو رہا ہے۔ یہ مختلف و متعدد نظام آئے دن اس طریق پر وسعت پکڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے قریب تر ہوتے جاتے ہیں کہ بالآخر کسی وقت ایک دوسرے میں جذب و مرلوط ہو کر ایک ہی صورت و شکل میں رونما ہوں گے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی قابلِ غور ہے۔ کہ ایسے عالمگیر نظام کا قائم ہونا انفرادی سلطنتوں کے حقوقِ اقتدار کے منافی نہیں ہو سکتا۔ لہذا نتیجہ یہ مترتب ہوا۔ کہ ایسے نظام کی تعمیر کی بنیاد دنیا کی مادی قوتوں پر کھڑی نہیں ہوگی۔ اس کا تمام تر دار و مدار ایک منتہائے مشترک و واحد کی روحانی قوت پر ہوگا۔

(2) از روئے شریعتِ محمدیہ مذہب و سیاست میں کوئی تفریق و تمیز نہیں۔ گویا ہمارے نزدیک مذہب و حکومت کے یکجا جمع کرنے کا نام سیاست نہیں بلکہ سیاست وہ عنصرِ غالب و منفرد ہے جس میں اس قسم کے فرق و امتیاز کی گنجائش ہی نہیں۔ یہ لابدی‌ضروری نہیں کہ خلیفۃ المسلمین اسلام کا افضل ترین مذہبی پیشوا سمجھا جائے۔ سطحِ دنیا پر اس کی نائبِ خدا کی حیثیت نہیں، وہ معصوم نہیں، بشر ہے اور دیگر بشروں کی طرح گناہ و خطا کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ اس کی شخصیت بھی شریعتِ وحی کی ازلی و ابدی حکومت کے اسی طرح ماتحت ہے جس طرح اور باقی مسلمانوں کی۔ خلیفہ تو درکنار اکثر علمائے اسلام کے نزدیک پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم معصومِ مطلق نہیں (مثلاً ابو اسحاق اور طبری وغیرہ کے نزدیک) غرض یہ کہ شخصی حکومت کا مفہوم اسلام کی حقیقی اسپرٹ کے خلاف ہے، پیغمبرِ عرب فداہ ابی و امی نے عربوں جیسی پوری قوم کی قوم کو اطاعت و اقتداء کی زنجیروں میں جکڑ دیا لیکن خود اپنے ذاتی اقتدار و حکومت کی مخالفت تمام دنیا سے بڑھ کر خود آپ نے کی۔ ارشاد فرمایا ’’میں بھی ایسا ہی بشر ہوں جیسے تم سب ہو۔ تمہاری طرح میری مغفرت بھی خدا ہی کے رحم و کرم پر موقوف ہے‘‘