اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

مولانا ابوالکلام آزاد دہلوی اڈیٹر الہلال کے نام

خط (1) — 21 اکتوبر 1905ء

محبی!

مضمون واپس ہے1، الندوہ میں درج ہونے کے لیے دیدیجئے، عبدالصمد طالب العلم ندوہ جس نے میرا مضمون لکھا ہے، وہ لکھ دے گا لیکن انگریزی ناموں کو اپنی نگرانی میں لکھوایئے گا، کوشش کیجئے گا کہ یہ پرچہ جس میں عرفی کی لائف ہے اور جس میں آپ کا یہ مضمون بھی درج ہوگا، بہت جلد تیار ہو جائے، دیر ہوگی تو ذمہ داری آپ پر ہے۔

شبلی

21/اکتوبر 1905ء

خط (2) — 28 اکتوبر 1905ء

خط پہنچا، ایک مضمون آج بھیجا ہے منشی محمد علی کے نام، صحت کے ساتھ لکھوایا جائے، عنوان آپ خود تحریر کیجئے۔

ایک جلسہ ہوا، میں بیمار تھا تاہم آدھ گھنٹہ سے زیادہ تقریر کی، شاید لوگوں نے پسند کیا ہو۔ والسلام

شبلی

28/اکتوبر 1905ء

خط (3) — 15 جون 1909ء

ازاں بہ دردِ دگر ہر زماں گرفتارم

کہ شیوہ ہائے ترا باہم آشنائی نیست

ترجمہ میں ہر گھڑی ایک نئے درد میں اس لیے گرفتار رہتا ہوں کہ تیری اداؤں میں آپس میں کوئی آشنائی (یکسانی) نہیں۔

بھائی! تم نے دانستہ خط و کتابت ترک کر دی ہے کہ الیاس احدی الراحتین‌ناامیدی دو راحتوں میں سے ایک ہے لیکن تم رہ رہ کر ایک چرکا لگا دیتے ہو، خیر جو مرضی، یہ بھی منظور، کلکتہ گیا ایک خاص کام تھا، مولوی شرف الدین کے ہاں ٹھہرا، دلچسپیوں کی نئی راہیں نکلیں، لیکن

چہ حظ خضر برد از عمر جاوداں تنہا

ترجمہ خضر اکیلے ہمیشہ کی زندگی سے کیا لطف اٹھائے۔

ایک ہفتہ رہ کر واپس آیا۔

جدید اسٹاف 22/جون کو کھلے گا، اس کے انتظامات کو مہینوں جم کر چلانا ہوگا، اس لیے جگہ سے ہل نہیں سکتا، شعرالعجم پہلا حصہ چھپ گیا، لیکن اشاعت روک دی ہے کہ تینوں حصے ساتھ نکلیں، چوتھا حصہ زیرِ تحریر ہے، چاہتا ہوں کہ بمبئی اور جنجیرہ میں لکھوں، لیکن بظاہر مشکل معلوم ہوتا ہے۔

دارالعلوم کی تعمیر شروع ہو گئی، عجب مست اور فرحت انگیز موقع ہے، روز دیکھنے کو جی چاہتا ہے، سبزی کے لحاظ سے مدرسۃ العلوم کو اس سے کوئی نسبت نہیں۔

اب کی مولوی خلیل الرحمٰن وغیرہ نے جلسۂ انتظامیہ میں میری علاحدگی کی تجویز پیش کی، اس لیے جب سے میں ندوہ میں آیا، لوگوں کی توجہ کم ہو گئی اور ندوہ کو نقصان پہنچ رہا ہے، کیوں آپ بھی اس رائے سے متفق ہیں یا نہیں، افسوس ہے کہ ان کے ووٹ نہیں آئے، ورنہ بمبئی میں آ کر ٹھکانا ملتا اور خوب صحبت رہتی، ماہ و اختر سب وہی ہیں، افق ذرا بدل گیا ہے، میرا دوسرا دیوان ’’بوی گل‘‘ نکلا، لیکن بالکل پھیکا ہے، سب محسوس کرتے ہیں، اب وہ سامان کہاں؟

ہاں اور سنی افتخار عالم صاحب مولوی نذیر احمد کی لائف لکھ کر انہی آلودہ ہاتھوں سے حیاتِ شبلی کو چھونا چاہتے ہیں، اجازت اور حالات مانگے ہیں، میں نے لکھ دیا ہے کہ ظاہری حالات تو ہر جگہ سے مل جائیں گے لیکن عالم السرائر‌بھیدوں کا جاننے والا خدا کے سوا، ایک اور بھی ہے وہاں سے منگوایئے، بھئی بتا تو نہ دو گے، ایسے لوگ لاکھ لکھیں تو کس کو خوشی ہوگی۔

میں نے ندوہ کے پہلو میں ایک اچھا مکان لے لیا ہے، اگر آ کر رہے تو وعدہ کرتا ہوں کہ ساتھ بمبئی چلوں گا، بہت باتیں کرنے کو جی چاہتا ہے لیکن قلم ساتھ نہیں دیتا، اس کی منت کیوں اٹھاؤں۔

شبلی، لکھنؤ

15/جون 1909ء

خط (4) — 1 دسمبر 1909ء

برادرم!

مولوی امیر علی2 کی تحریک ضروری ہے لیکن آج کل ارکانِ ندوہ بلکہ تمام شہر ممبری کے نشہ میں مدہوش ہے، کوئی شخص گھر پر نہیں ملتا، لکھا کس کو جائے اور بلایا کس کو جائے 16/ تک یہی ہل چل رہے گی، علی گڑھ کا مطبع دیوالہ نکالا چاہتا ہے یا نکال چکا شعرالعجم حصہ اول کی بلٹی آئی جس میں 5 من وزن لکھا ہے لیکن دیکھا گیا تو صندوق کا کل وزن دو من بھی نہیں، آج اسٹیشن ماسٹر سے باز پرس کروں گا، علی گڑھ کو آدمی بھیجنا پڑے گا، اسی وجہ سے حصہ دوم کے اوراق آپ کے پاس نہیں بھیج سکا کہ کچھ تو ہاتھ میں رہے اور سند میں پیش ہو سکے۔

گب‌Gibb سیریز میں نوادر الحکایات عوفی موجود ہو تو ویلو بھجوا دیجیے، فہرست سامنے ہوتی تو انتخاب کر سکتا، سب کتابیں لینے کے قابل نہیں، دورے کے متعلق یہ ارادہ ہے کہ دو مہینے جم کر یہاں رہ لوں، ندوہ کی تعلیمی حالت اور بعض انتظامی امور بغیر اس کے درست نہیں ہو سکتے، ادھر علوم القرآن لکھنا شروع کر دیا ہے، وہ بھی کچھ ہو جائے گا، فروری اور مارچ دورہ میں اور پھر اسی طرف سے یرجع الی اصلہ‌اپنی اصل کی طرف لوٹتا ہے کشمیر، شرر مطبع3 میں مصروف ہیں۔

شبلی، لکھنؤ

1/دسمبر 1909ء

خط (5) — 5 دسمبر 1909ء

برادرم!

جس قدر آپ کی عنایت و محبت کا یقین زیادہ ہوتا جاتا ہے اسی قدر آپ کی نکتہ سنجی اور نقادی کی طرف سے بے اعتباری بڑھتی جاتی ہے کہ آپ میری صحبت کو لطف انگیز اور نسبۃً دوسروں کے مقابلہ میں قابلِ ترجیح سمجھتے ہیں۔

دسمبر کا اخیر ہفتہ وہاں ضرور دلچسپ ہوگا، لیکن یہ موقع عمومی ہوتے ہیں جس میں میری شرکت نہ موزوں ہے، نہ خود مجھ کو لطف آ سکتا۔

مٹیابرج کا شانِ نزول بالکل سمجھ میں نہ آیا، ذرا کھول کر لکھیے، دونوں مکانوں کا فاصلہ اس قدر کہ ایک ہی وقت میں گویا دو ملک میں رہتا، پھر وہاں کی ویرانی، دلچسپی کا کوئی سامان نہیں۔

بے شبہ میری خواہش ہے کہ چند روز دنیا سے الگ بسر کروں، ایسی حالت میں ایک تصنیف بھی انجام پائے، لیکن متصل دن رات تو وحشت کدہ میں بسر نہیں ہو سکتی، شیعوں کے عملی فلسفہ کی کوئی صورت پیدا ہو تو البتہ ممکن ہے۔

اوائلِ جنوری میں کلکتہ آنا اور چند روز آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں، لیکن آپ نے بمبئی کی طرح شاہانہ فیاضیاں شروع کیں تو ٹھہرنا مشکل ہوگا۔

سہروردی صاحب کاش رسالۂ وقف کا ترجمہ کر دیتے۔

رضائی میں روئی کیا معنی، تکیہ یہاں سے تیار ہو کر جائے تو ریل کا خرچ زیادہ ہوگا، صندوق میں بھیجنا پڑے گا۔

شبلی

5/دسمبر 1909ء

خط (6) — 7 دسمبر 1909ء

برادرم!

ریویو4 سے بچنے کی یہ اچھی تدبیر ہے کہ میری عبارت کے غلط معنی لگایئے اور اس پر تفریعات‌فرعی نتائج کا استخراج کیجئے، میرا تو یہ مطلب تھا کہ آپ یہ وعدہ کیوں کرتے ہیں، آپ اس کو وفا نہ کر سکیں گے اور پھر مجھ کو ملال ہوگا۔

آپ نے زبردستی یہ معنی لیے کہ میں آپ کے ریویو کی وقعت نہیں کرتا، خوب!

کتابوں کا اب تک پتہ نہیں، صاحبِ مطبع کہتا ہے میں بلٹی بھیج چکا، کہیں اسٹیشن پر بکس گڈمڈ ہو گئے ہیں۔

میں نے ایک مفصل خط آپ کو پہلے ایڈرس پر لکھا ہے، اس میں مٹیابرج کے مکان کا شانِ نزول پوچھا ہے، رنگون تو نہیں کلکتہ آ سکتا ہوں، وقف کا مسئلہ شاید وہاں کچھ کامیابی پا سکے۔

پہلے خط کا جواب آئے تو نئی اسکیم بنا سکوں، میرا قیام اب یہاں چنداں ضروری نہیں، صرف 19/دسمبر تک البتہ مجبوری ہے کہ اس تاریخ کو انتظامی جلسۂ دارالعلوم ہے۔

شبلی

7/دسمبر 1909ء

خط (7) — 10 دسمبر 1909ء

برادرم!

نوازش نامہ پہنچا، کتابیں اب تک گم ہیں، منشی محمد علی علی گڑھ سے واپس آئے، کہتے ہیں کہ 200 جلدوں کا پیکٹ ریلوے میں کہیں ادھر ادھر ہو گیا ہے، باقی کتابیں محفوظ ہیں، لیکن آنکھوں سے دیکھ لوں تو اعتبار آئے، آپ نے تو ایک حرف اس کے متعلق نہ لکھا یعنی ’’خس کم جہان پاک‌کوڑا کم ہوا، دنیا پاک ہوئی‘‘ ہرزۂ چند بدیں می ارزید‌چند بیہودہ باتیں اتنی ہی قیمت کی تھیں۔

جنوری میں آپ کہیں اور چلے جائیں گے، دسمبر میں آؤں اور دو چار روز رہ کر چلا جاؤں، شباب ہوتا تو ایسی جست و خیز ممکن تھی، اب تو بہر جا کہ نشستم وطن شد‌جہاں بیٹھ گیا وہی وطن بن گیا، وہ زمانہ بتایئے کہ آ کر ایک آدھ مہینہ رہ سکوں، گو بارِ خاطر بن جاؤں۔

برجِ خاکی پر قبضہ ہو جائے تو لکھیے گا، ہاں ایک روایت تھی کہ ماہِ تمام بنگال کے افق پر نکلا، تلاش سے شاید پتہ لگ جائے، رسالۂ وقف کا ترجمہ یہاں ہو رہا ہے، لیکن نظرِ ثانی کا محتاج ہوگا۔

دارالعلوم اس قدر بھر گیا کہ مجھ کو بھی کچھ کمرے دینے پڑے، کچھ لڑکے باہر کرایہ کے مکانوں میں ہیں۔

مسٹر شرر5 میرے مضامین کے کچھ اجزا لے گئے، لیکن نہ اجزا کا اور نہ خود ان کا کہیں پتہ ہے۔

شبلی

10/دسمبر 1909ء

خط (8) — 14 دسمبر 1909ء

برادرم!

آپ کے ارشاد پر عطا محمد کا ریویو الندوہ میں دیدیا ہے، دلی سے ندوہ کی نیم سرکاری دعوت آئی ہے اور اگر پختہ ہو گئی تو فروری میں انہی اطراف میں دورہ کرنا ہوگا، گم شدہ شعرالعجم مل گئی۔

جہانگیر پر ایک بسیط مضمون الندوہ میں نکلے گا، کلکتہ میں آؤں تو کہاں ٹھہروں، برجِ خاکی ابھی تو ہوا پر ہے۔

شبلی

14/دسمبر 1909ء

خط (9) — 20 دسمبر 1909ء

کارڈ