خط (34) — 6 نومبر 1911ء
برادرم!
تمدن کے ردّ میں ابتداءً ایک ہفتہ میں اس قدر انہماک رہا کہ ایک آنکھ میں پانی اترنا محسوس ہوا اور اب اس سے حرف نظر نہیں آتے، ایک آنکھ جو صحیح ہے، اس پر بھی بہت بار معلوم ہوتا ہے، اب لکھنا پڑھنا بالکل کم ہوگیا ہے، اس لیے ساٹھ صفحے ہو کر رہ گئے اور اسی پر کتاب ختم کردی۔
طبیعت بہت افسردہ رہتی ہے، سپاہی کا ہتھیار چھن جائے تو پھر وہ کس کام کا ہے۔
شبلی
6/نومبر 1911ء
خط (35) — 4 فروری 1912ء
برادرم!
صبح کو بانکی پور پہنچا، غایت کثرت سے مجمع تھا، عمائدِ شہر اور تمام طلبۂ کالج موجود تھے، نہایت اصرار کے ساتھ طلبہ نے گاڑی کھینچی اور فرودگاہ تک لائے، میرے اصرار کا اتنا اثر تھا کہ آدھی راہ کے بعد یہ مشغلہ شروع ہوا، ورنہ اسٹیشن ہی سے کانٹوں میں گھسیٹتے تھے، یہ تو نہیں کہتا کہ رعونت پسند نفس کو پھریری نہیں ہوئی ہوگی، لیکن واقعاً ہنسی آتی تھی کہ عجب خوش اعتقاد بلکہ ضعیف الاعتقاد ہیں، دورہ کرتا ہوں تو لکھنؤ میں سالانہ جلسہ کے متعلق جو کام چھڑے ہیں ابتر ہوجائیں گے۔
رام پور سے کچھ توقع پیدا ہوئی ہے کہ اگر خود وہاں جاؤں تو شاید نواب صاحب پریسیڈنٹی قبول کرلیں، اس لیے فوراً وہاں جانا ہے۔
آج یہاں جلسہ ہوا، بہت کثرت تھی، ندوہ کا ذکر مناسب پیرایہ سے آگیا، بس اسی قدر ہوسکتا تھا باقی پھر کبھی۔
آپ کی سخن سرائی پر بار بار ٹوکنے کو جی چاہتا تھا کہ مرض میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس قدر گستاخی نہ ہوسکی، بہرحال کچھ دن زبانِ سعدی درکام رہنی چاہیے، یہاں رکوں تو ہفتوں تک مہلت نہ ہوگی، اس لیے کل روانہ ہوتا ہوں۔
شبلی
4/فروری 1912ء
خط (36) — 20 اگست 1913ء
برادرم!
یہ تو ظاہر ہے کہ اس وقت کانپور13 کے سوا کوئی آواز کچھ اثر نہیں رکھ سکتی، لیکن اب گورنمنٹ بھی سختی اور پامردی پر آمادہ ہے، ہز آنر نے سفارت کو سوکھا جواب دیا، لکھنؤ میں اعانت کا جلسہ حکماً روک دیا گیا، حسن نظامی وغیرہ کو کلکٹر نے بلوایا، میں نے ایک نظمِ مختصر کانپور کے متعلق زمیندار میں بھیج دی ہے، گو کسی قدر مؤثر ہے تاہم بہت احتیاط کی ہے۔
کلکتہ آنے کو سو سو بار جی چاہتا ہے، لیکن کیا کروں سیرۃ کے لیے کتابوں کی کئی الماریاں ساتھ رکھنی پڑتی ہیں، ان کو کہاں کہاں لیے پھروں، یہاں سورتی سے استعارۃً بھی کتابیں مل جاتی ہیں، اس پر بھی بہت سی خریدنی پڑیں، ایک کافی ذخیرہ ساتھ آیا تھا، پھر بھی ہر قدم پر ضرورت پیش آتی ہے۔
چونکہ بہت کچھ کام ہو بھی چکا ہے، اس لیے اب ہر منٹ گراں معلوم ہوتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ جلد سے جلد پریس میں جاسکے۔
عماد الملک بلگرامی تفریحاً حیدر آباد بلاتے ہیں، لیکن پس و پیش میں ہوں کہ اتنے دن کیوں ضایع جائیں، عماد الملک ترجمۂ قرآن میں مصروف ہیں، لکھا ہے کہ پندرہ پارے ہوچکے۔
آپ نے بہت اونچا نصب العین رکھا ہے، ورنہ جی یہ چاہتا تھا کہ سب طرف سے نظر کر کے وہیں آ رہتا اور آپ کے ساتھ مل کر کوئی ضروری خدمت انجام دیتا، اس وقت مسلمان سخت پراگندہ اور پریشاں خیال اور پریشاں عمل ہو رہے ہیں، کسی خاص مرکز پر ان کو لانا ہے، ورنہ ہر طرف سے بھٹکتے بھٹکتے آخر بالکل برباد ہوجائیں گے۔
مریضہ کی نسبت آپ نے نہیں لکھا کہ ان کو کہاں تک فائدہ ہوا ہے۔
یہ تو آپ کو لکھ چکا ہوں کہ میری جدید نظمیں علی گڑھ والے چھاپ رہے ہیں، کشافیات14 پر بھی ان کی نظر ہے، لیکن اس کا سلسلہ اگر ہوگا تو الگ ہوگا۔
ہاں عطیہ فیضی کے یہودی شوہر نے جو آرٹسٹ ہے، میری تصویر ہاتھ سے کھینچی ہے، ابھی پوری تیار نہیں ہوچکی، میں اس کا فوٹو لے کر آپ کو بھیجوں گا، نائب سفیرِ ٹرکی جو نہایت خوبصورت شخص ہے اس نے خواہش کی کہ اس کے ساتھ تصویر کھنچواؤں، چنانچہ ایک انگریزی کارخانہ میں فوٹو لیا گیا، توفیق آفندی بھی گروپ میں ہے۔15
شبلی
20/اگست 1913ء
خط (37) — 15 اکتوبر 1913ء
برادرم!
میں چند روز کے لیے حیدر آباد آگیا، مولوی سید حسین صاحب کا ایما تھا، ترجمۂ قرآن مجید کے متعلق مشورے مقصود تھے، پندرہ پارے ہوچکے، روزانہ وہ کام کرتے ہیں۔
یہاں سیرت کے متعلق بعض اچھی کتابیں ہاتھ آئیں، ہاں مطبوعاتِ یورپ یہاں اکثر ملتی ہیں، آپ چاہیں تو خرید سکتے ہیں مثلاً نفح الطیب، ابن الاثیر، جغرافیہ کا پورا سلسلہ وغیرہ وغیرہ۔
آپ سے ملنے کی بہت ضرورت ہے کہ آئندہ کوئی متفقہ پروگرام تیار ہو کر کارروائی ہوسکے۔
شبلی، حیدر آباد
15/اکتوبر 1913ء
خط (38) — 20 اکتوبر 1913ء
برادرم!
کانپور کا معاملہ جس طرح ہوا فیصل ہوگیا، اب سردست اس سے آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں۔
اب فرمائیے ندوہ پر کب توجہ ہوگی، مدت سے میری رائے تھی اور اب تو بالکل موقع آگیا کہ تمام قومی کام قوم کے ہاتھ میں آجائیں اور دو چار شخصوں کی خود اختیاری مٹ جائے، ندوہ میں سب سے بڑی چیز ممبری کا انتخاب تھا، پہلے تو یہ سب ایک ہی جلسہ میں بغیر اطلاعِ سابق سب کچھ کرلیا کرتے تھے، میں نے مجبور کر کے کچھ قاعدے بنوائے لیکن اس کو خود غرضی سے برتتے ہیں، حالانکہ دستور العمل موجودہ میں علاج موجود ہے۔
بہرحال اگر آپ پورے زور کے ساتھ اس مسئلہ کی طرف متوجہ ہوں اور تمام حزب الاحرار کو متوجہ کرسکیں تو میں کلکتہ آکر دستور العمل اور دیگر کاغذات اچھی طرح آپ کے پیشِ نظر کردوں، میری معتمدی کا سوال نہیں ہے اور نہ اب میں خود یہ عہدہ لینا چاہتا، لیکن عام اسلامی اقتدار قائم ہونا چاہیے اور عام انتخاب ہونا چاہیے۔
سیرت کی وجہ سے میری نقل و حرکت سخت مشکل ہوگئی ہے، ہر جگہ ایک اونٹ کتابیں لاد کر لے جانی پڑتی ہیں اور پھر کام نہیں چلتا، یہاں کچھ نیا سامان ہاتھ آگیا ہے اور بلا توقع سابق ماہوار میں 200/روپے اضافہ ہوگیا، اب تین سو ملیں گے، گویا قیامِ بمبئی کا خرچ نکل آیا۔
لکھنؤ سے مسعود16 مسلم گزٹ کا جانشین نکالنا چاہتے ہیں کہ ندوہ کی صدا قائم رہے۔
شبلی، حیدر آباد
20/اکتوبر 1913ء
خط (39) — 27 اکتوبر 1913ء
برادرم!
آپ نے یہ بدگمانی کیونکر کی کہ مشرف علی الموت ہو کر بھی ملازمت کا کانٹا دل میں باقی ہے۔17
|
یہ قصے ہیں جب کے کہ آتش جواں تھا |
قدیم سے عادت ہے اور اب روز بروز ضعف کی ترقی کی وجہ سے ایک دن کا ناغہ بھی سخت گراں گذرتا ہے، ادھر طبیعت کی یہ حالت کہ ہزار کوشش پر ہفتہ میں بہت سے بہت دو تین دن لکھ سکتا ہوں، باقی شب بیداری اور ناسازیِ مزاج کے نذر ہوتا ہے۔
حیدر آباد عماد الملک کے بلانے سے آگیا تھا، حسنِ اتفاق سے اضافۂ منصب کی تحریک عماد الملک نے کردی، گو انھوں نے میرے قیامِ بمبئی کے زمانہ میں بھی وہماً اس کا ذکر کیا تھا، حیدر آباد سے بہت جلد نکلنا مقصود تھا، لیکن عجیب اتفاق یہ کہ مکان ایسا دلخواہ اور تفریح بخش مل گیا ہے کہ لکھنؤ وغیرہ کہیں توقع نہیں، اس لیے نکلنے میں طبیعت ذرا کسمساتی ہے، اس کے ساتھ ایک اور بالکل غیر متوقع بات پیدا ہوگئی ہے، جو میری خوش قسمتی سے بہت ابعد ہے۔
آپ کا تمام حیدر آباد مشتاق ہے، لیکن یہاں کوئی شخص حدودِ ریاست کے اندر کوئی آزادانہ تقریر نہیں کرسکتا، ایسی حالتوں میں لوگ یہ کرتے ہیں کہ رزیڈنسی کے حدود میں جلسے کرتے ہیں جو بالکل شہر سے متصل ہے اور ریاست کے تمام شایقین شریک ہوتے ہیں۔
مفصل انتظامات دریافت اور استصواب کے بعد لکھوں گا۔
وایسرائے کے آنے پر بڑے بڑے انقلابات کا انتظار ہے اور ایک دفعہ یہاں کی سطحِ انتظامی بالکل الٹ جائے گی، سید علی امام کو سب چاہتے ہیں18 لیکن حاشیہ بوسانِ بارگاہ جن کا نظام پر بڑا اثر ہے، سخت مخالف ہیں۔
ندوہ کا قصہ اب ٹالنے کی چیز نہیں، میرا کلکتہ کا آنا موقوف علیہ نہیں ہے، میرے سر میں اس وقت سخت درد ہے، جا چکے تو دستور العمل اور مجلسِ اخیر کے متعلق ضروری اطلاعات معہ اصل نصوص بھیج دوں گا تاکہ جو کچھ لکھا جائے بالکل قانونی الفاظ میں ہو۔
الہلال وغیرہ نے احساسِ عام پیدا کردیا ہے یعنی تمام اسلامی کاموں پر لوگوں کو مداخلت کا دعویٰ پیدا ہوگیا ہے، اسی اصول پر الہلال میں یہ صدا بلند ہونی چاہیے اور قطعاً ملک متوجہ ہوگا، کم از کم ایک پرزور کمیشن تحقیقات اور درستیِ طریقِ عمل کے لیے قائم ہونی چاہیے، اس میں پانچ ممبر ہوں، مسٹر مظہر الحق اور مولوی عبدالباری بھی ہوں (گو آخر الذکر میرے مخالف سہی)۔
آپ نے یہ نہ لکھا کہ کون سا کام لے کر بیٹھوں، میں خود بھی یہی چاہتا ہوں، لیکن ابھی تک مختلف مقاصد میں سے کسی ایک کا قطعی انتخاب نہیں ہوتا، چاہوں تو خود سیرت کو ایک مقصدِ مستقل قرار دوں یعنی ایک اکاڈیمی قائم ہو، سیرت کے متعلق تمام نادر تصانیف جمع کی جائیں، لوگوں کو وظائف بطور فیلوشپ کے دئے جائیں کہ سیرت کی اسٹڈی کریں اور خاص اس فن میں ماہر بنیں اور سیرت پر تقریر و تحریر کریں وغیرہ وغیرہ، اس میں بقدرِ ضرورت مالی اعانت بھی مل سکتی ہے۔
ادھر خدامِ کعبہ کی طرف سے ممبری کا تقاضا ہے، لیکن اس کی عالمگیریِ مقاصد میں خوابِ پریشاں ہوا جاتا ہے، ایک دو کام ہو تو آدمی لے کر بیٹھے، مرتبہ اطلاق اور تعمیم سے پریشان ہوں۔
ندوہ کا سالانہ جلسہ اگر کہیں ہوجائے تو موجودہ نظامت کا شیشہ بالکل چکنا چور ہوجائے، کیونکہ نظامت کی شرطِ اولین یہ ہے کہ جلسۂ عام سالانہ میں اتفاقِ رائے ہو۔
درد بڑھتا جاتا ہے پھر حاضر ہوں گا۔ تسلیم
شبلی، حیدر آباد
27/اکتوبر 1913ء
خط (40) — 15 نومبر 1914ء
تار
اگر آپ19 اس اثنا میں مل جاتے تو سیرتِ نبویؐ کی اسکیم کا کچھ انتظام ہوجاتا، ورنہ سب کارروائی بیکار ہوجائے گی، سید سلیمان اگر موجود ہوتے تو ان کو پورا پلان سمجھا دیتا۔
15/نومبر 1914ء
