17/نومبر 1910ء
خط (23) — 21 دسمبر 1910ء
کارڈ
ان باتوں سے کام نہیں چلتا، اگر آپ اس موقع پر نہ آئے تو میں قیامت تک کلکتہ نہ آؤں گا، بلکہ بعد قیامت بھی، میرے برابر کا کمرہ بالکل خالی اور آپ کے لیے محفوظ ہے، اکثر احباب آ رہے ہیں اور آ چکے ہیں۔
|
دیر ویراں سہی کعبہ مرا آباد رہے |
یعنی مومن ہوں چلا جاؤں گا میں یاد رہے |
شبلی
21/دسمبر 1910ء
خط (24) — 11 جنوری 1911ء
برادرم!
شاہ صاحب کی سخن سازی کا آپ پر یہ اثر ہوا کہ آپ نے سوالات قائم کیے اور جواب پوچھا ان ہذا الشیء عجاب اگر جواب ہی دینا پڑے گا تو قلم اس کے لیے کافی نہیں، چچا صاحب کا حال لکھئے، ڈاکٹر نے کیا تجویز کیا اور وہ کہاں ہیں، میں مہینوں تک کہیں باہر نہیں جا سکتا۔
شبلی
11/جنوری 1911ء
خط (25) — 8 مارچ 1911ء
کارڈ
برادرِ عزیز!
حقی صاحب 17/اپریل کو بغداد جاتے ہیں، انھوں نے صحیح طور سے یقین دلایا کہ ان کے ساتھ سفر کیا جائے، تو سفر سفر نہ معلوم ہوگا، اگر آپ بھی آمادہ ہوں تو ضرور چلوں گا مصارفِ سفر بہت کم ہیں، جواب جلد عنایت ہو، لیکن اگر وعدہ ہو تو غلط نہ ہو، گو کبھی اس کا تجربہ نہیں ہوا۔
شبلی
8/مارچ 1911ء
خط (26) — 8 مارچ 1911ء
کارڈ
فہرست امیدوارانِ رکنیت میرے پاس نہیں، مولوی عبدالحی صاحب بھیج دیں گے، لطف یہ ہے کہ فریقِ مخالف کا انتخاب یہ ہے کہ کاکوروی شریف کے 7 نمبر مولوی خلیل الرحمٰن کا سارا خاندان وعلیٰ ہذا، کئی بڑے آدمی کا نام پیش نہیں کیا، میں نے ہر صوبہ کے معزز لوگوں کے نام پیش کیے، کلکتہ سے شمس الہدیٰ، مولوی یوسف اور آپ ہیں، پنجاب میں شفیع، ڈاکٹر اقبال وغیرہ وعلیٰ ہذا، ایک ضروری کارڈ کے جواب کا انتظار ہے۔
نواب عماد الملک بلگرامی نے اپنا کتب خانہ عربی و انگریزی ندوہ کو عنایت کیا، سید سلیمان اس کے لانے کو حیدر آباد بھیجے گئے ہیں۔
شبلی
8/مارچ 1911ء
خط (27) — 25 مارچ 1911ء
برادرم!
یہ تو بڑی مشکل ہے کہ آپ ہنسی مذاق کی باتوں کو اصلی بات سمجھ جاتے ہیں اور اس پر ایک طومار باندھتے ہیں، یہ کس پاجی کا خیال ہوسکتا ہے کہ بغداد آپ کی پیری مریدی کو ترقی دے گا اور اس لیے آپ چلنے پر مائل ہوں گے، اگر یہی بدگمانی رہے گی تو جینا مشکل ہوجائے گا۔
یہاں کی سازشوں نے یہیں کا بنا دیا ہے، جب تک معاملہ یکسو نہ ہولے کہاں جاسکتا ہوں، 7/اپریل 1910ء کو جلسہ ہے، اس میں شاید یکسوئی ہوجائے اِمّا عَلَیَّ وَ اِمّا لِیَ یونیورسٹی کا چارٹر تو ضرور مل جائے گا، یہ قطعی ہے، باقی یہ کہ وہ کیا ہوگی اس کو لوگ خود جانتے ہیں، لیکن بہرحال نہ ہونے سے ہونا بہتر ہے، میں نے تہذیب الاخلاق کے لیے حاشا کوئی مضمون نہیں لکھا، عمادی صاحب10 کا سخت ابرامی خط آیا تھا، میں نے پرانا مسودہ (پڑا ہوا تھا) بھیج دیا، وقفِ اولاد تو خدا کے فضل سے کامیابی کے قریب پہنچ گئی، سنہا کی تقریر مسلمانوں سے بھی بڑھ کر تھی، دوست دشمن سب متفق اور یک زبان تھے، اب عام آرگنائزیشن کی ضرورت ہے اور گورنمنٹ کی بھی مرضی ہے یا اس کا انتظار ہے۔
شبلی
25/مارچ 1911ء
خط (28) — 4 اپریل 1911ء
برادرم!
مجھ کو یہ خیال ہوگا کہ کارڈ کسی اور کو لکھا تھا، پتہ بدل گیا پھر عنوان پر خیال ہوا کہ یہ عنایت بیجا تو میرے ہی لیے مخصوص ہے، لیکن سید صاحب کا حوالہ، بالکل فہم سے باہر تھا۔
آپ ہمیشہ یہ غلطی کرتے ہیں کہ دوسروں کی بلا اپنے سر لیتے ہیں، مصری کتابیں دوسروں کے لیے منگوانا اور پھر خبر نہ ہونا اور پھر خود قیمت ادا کرنے پر مجبور ہونا ظلمات بعضہا فوق بعض تاہم الہلال سے ساکھ قائم رکھنی چاہیے۔
مسودۂ وقف ترجمہ کرا کے دیکھا، کچھ نہیں سخت جاہل آدمی نے بنایا ہے، گو کوئی بات غلط نہیں لیکن بات ہی نہیں تو کیا غلط ہو، ان شاء اللہ جلسے ہر جگہ ہوں گے۔
میری کتاب جہاں آرا بیگم کی تصنیف ولایت کی نمائش میں طلب ہوئی ہے، میں نے لکھ دیا ہے کہ ضرور واپس ملے۔
اب مسلمانوں کی مصوری کا یورپ قائل ہوتا جاتا ہے، ایک خاص شعبہ اس کا ہے اور خوب خوب تصویریں بہم پہنچ رہی ہیں اور ان پر مضامین لکھے جا رہے ہیں۔
رسالۂ وقف آپ کو بھیجوں گا، سید عسکری صاحب کو دے دیجئے گا، ان کا پتہ جاتا رہا۔
شبلی
4/اپریل 1911ء
خط (29) — 10 مئی 1911ء
|
اس قدر ناسیِ اربابِ وفا ہو جانا |
شبلی، لکھنؤ
10/مئی 1911ء
خط (30) — 18 مئی 1911ء
برادرم!
آپ کا والا نامہ پہنچا جو گورنمنٹ گزٹ تھا، سہروردی صاحب11 کو تمام کاغذات بھیج دئے، مفتی کی تجویز معقول ہے، لیکن ایک ساتھ دو ایسے بڑے کام چھیڑے نہیں جاسکتے، گورنمنٹ پر بھی اس کا اچھا اثر نہ ہوگا۔
میں آج بمبئی جا رہا ہوں، گو آپ کے بغیر وہ ویرانے سے بدتر ہے، لیکن موسم بدلنے کے علاوہ کچھ وقف کا کام بھی کرنا ہے، مسودۂ وقف میں بہت سے نقص ہیں۔
وہ مصرعہ غلط ہے، جزیرہ پہنچ کر آب و ہوا کی لطافت نے اسی وقت ارتجالاً ایک غزل لکھوائی ہے، جس کے دو شعر یہ ہیں۔
|
ہوائے روح پرور بھی یہاں کی نشہ آور ہے |
یہاں فکرِ مے و جام و سبو ہوگی تو کیوں ہوگی |
|
کہاں یہ لطف؟ یہ سبزہ، یہ منظر، یہ بہارستاں |
عطیہ! تم کو یاد لکھنؤ ہوگی تو کیوں ہوگی |
شعرالعجم کا چوتھا حصہ مطبع میں گیا باوجود اس کے کہ ابھی زیرِ تصنیف ہے۔
شبلی
18/مئی 1911ء
خط (30) — 18 اگست 1911ء
برادرِ عزیز!
آپ کا لہجہ اب تک نہیں بدلا، لیکن بخدا یہ امید قائم ہے کہ کلکتہ پہنچوں گا تو آپ سخت دلی سے کام نہ لے سکیں گے اور ظاہری طور سے سہی لیکن وہی قدیم عنایتیں پھر مبذول ہوں گی اور میرے لیے اسی قدر کافی ہے پھر وہ مجاز رفتہ رفتہ حقیقت بن جائے گا۔
یونیورسٹی کے اجلاس یہاں ہو رہے ہیں، بڑے معزز لوگوں کا مجمع ہے، میں بھی ممبر ہوں، اس لیے شریک ہوتا ہوں، اس کے بعد شملہ ڈیپوٹیشن میں جانا ہے، غرض ان اسباب سے تاخیر ہو رہی ہے، ورنہ آپ بچ کر کہاں جاسکتے ہیں، ان سب باتوں کے ساتھ یہ تسلیم کرتا ہوں اور ندامت سے منفعل ہوجاتا ہوں کہ جرم سخت ہے، بلکہ سخت سے سخت تر لیکن جس سے معاملہ ہے اس کا دل بھی، اسی قدر نرم بلکہ نرم تر ہے، اس لیے جرأتِ معذرت قائم ہے اور رہے گی۔
شبلی
18/اگست 1911ء
خط (32) — 29 اگست 1911ء
تمدنِ اسلام12 کا ضرر بہت متعدی ہوا، یہاں تک کہ ڈاکٹر ہارویز پروفیسر علی گڑھ نے اپنی تحریری رائے یونیورسٹی میں بھیجی کہ امتحاناتِ فاضل و عالم میں وہ داخلِ درس کی جائے، مجھ پر اس کا سخت اثر ہوا اور میں نے سب کام چھوڑ کر اس کی دروغ بیانیوں پر ایک مضمون لکھنا شروع کیا، اس وقت تک 20/صفحے ہوچکے ہیں، عربی میں بھی لکھوں گا اور عربی اخبارات میں طبع کراؤں گا، لیکن اس کا تیسرا حصہ نہیں ہے، آپ کے پاس ہو تو بھیج دیجئے پھر واپس کردوں گا۔
آپ کا کارڈ پہنچا، مجھ کو بڑی شکایت آپ سے تلون مزاجی اور عدمِ استقلال کی تھی، بارے اس مرتبہ آپ اپنی ناراضی میں پورے مستقل رہے اور اب تک ہیں۔
|
بخت بد بیں کہ بہ شبلی نہ کند غیر جفا |
نیک خوئے کہ وفا را ز جفا نشناسد |
|
ترجمہ میری بدقسمتی دیکھو کہ رقیب شبلی پر جفا نہیں کرتا، (وہ) ایسا نیک خو ہے کہ وفا کو جفا سے نہیں پہچانتا۔ |
|
شبلی
29/اگست 1911ء
خط (33) — 26 اکتوبر 1911ء
برادرم!
والا نامہ پہنچا، ردّ پڑھ کر آپ کو حیرت ہوگی، میں خود قیاس نہیں کرسکتا تھا کہ جرجی یا کوئی شخص اس قدر جھوٹ بول سکتا ہے۔
ایک بات اور دریافت طلب ہے، جبل المتین کی جو کتابیں دیکھیں ان کی سیاہی روشن نہ تھی، سنا ہے کہ سیاہی کے اقسام میں زیادہ قیمت کی لی جائے تو زیادہ روشن ہوتی ہے، اس لیے اجرتِ طبع میں اضافہ کرلیجیے لیکن نہایت روشن چھپنا چاہیے، المنار میں بھیج دوں تو وہ خوشی سے چھاپ دیں گے، لیکن دیر ہوگی اور اب ایک منٹ گراں ہے، یہاں 12/نومبر کو طبیہ کالج دہلی کا عظیم الشان جلسہ اور حکیم عبدالعزیز مرحوم کے خاندان اور حکیم اجمل خاں کا خطرناک معرکہ ہے، جس میں زد و کوب تک کی تیاریاں ہیں، نواب رام پور پریسیڈنٹ ہیں، تاہم مخالفین کا وہی دم دعویٰ ہے، آپ آسکتے تو تماشہ دیکھتے۔
20/نومبر کو الہ آباد میں اردو نصاب یونیورسٹی کی کمیٹی ہے، اردو کے مٹائے جانے کے سامان ہیں، میں بھی ممبر ہوں، اس لیے جانا پڑے گا، اس کے بعد خالی ہوں اور ممکن ہے کہ زیارت نصیب ہو۔
شبلی، لکھنؤ
26/اکتوبر 1911ء
رسالہ صاف ہو رہا ہے، ایک ہفتہ میں غالباً مع کچھ پیشگی اجرت کے بھیج دوں گا، مولوی عبداللہ ٹونکی کو ندوہ میں بلایا ہے، غالباً آجائیں گے۔
