میں سمجھتا تھا کہ آپ نے میری نیاز مندی کو تسلیم کر لیا ہے، لیکن جبہ طلبی کے ابرام سے یہ ثابت ہوا۔ خود غلط بود الخ یہ بھی بار بار لکھنے کی بات تھی۔
رفیع الدین6 کی کامیابی سے میں بھی خوش ہوا اور منافقوں سے تو غریب اچھا کام کرے گا، یہاں کا نتیجہ کل معلوم ہوگا۔
شبلی
20/دسمبر 1909ء
خط (10) — 27 دسمبر 1909ء
کارڈ
|
دو سہ روزے است کہ در دیدہ نگہ ویں عجب است |
نہ ثوابے زمن آمد نہ گناہے گاہے |
|
ترجمہ دو تین دن سے آنکھ میں نگاہ کا یہ عجیب حال ہے کہ مجھ سے نہ کبھی کوئی ثواب ہوا نہ کوئی گناہ۔ |
|
شبلی
27/دسمبر 1909ء
خط (11) — 2 مئی 1910ء
کارڈ
نواب وقار الملک کے آنے اور ہز آنر کی مشایعت کی وجہ سے میں رائے بریلی کے اس جلسہ میں نہ جا سکا، لیکن ایک دن بعد گیا اور وہاں اشاعتِ اسلام کی شاخ قائم کرنے کا انتظام ہوا۔
آپ کب تک کلکتہ میں ہیں، اگر زیادہ رہنے کے سامان ہوں تو شاید کلکتہ آنا پڑے .......... والوں نے ندوہ کو سخت نقصان پہنچانا چاہا، لیکن حکیم اجمل خاں صاحب نے مدافعت کی، تاہم وہ بہت ریشہ دوانیاں کر رہے ہیں، ڈھاکہ تک استغاثہ ہوا ہے اور لطف یہ کہ مستغیثوں کے وکیل مولوی حفیظ اللہ صاحب ہیں۔
حکیم عبدالقوی نے اپنی بیوی (جو حال میں قضا کی) کے یادگار میں سات سو روپئے ایک کمرے کے لیے دئے۔
شبلی
2/مئی 1910ء
خط (12) — 9 جون 1910ء
برادرم!
میں بخیریت پہنچا، مغل سرا میں گاڑی نہ صرف بدلی بلکہ مجھ کو پلِ صراط کی مصیبتیں جھیلنی پڑیں۔
ہومر کی قیمت 21/فرنک یا 119 قرش ہے، ایک پونڈ کے 100 قرش ہوتے ہیں، اگر آپ کو خود خواہش ہو تو مفصلۂ بالا رقم جرجی زیدان اڈیٹر الہلال کے پاس بھیج دیجئے، پتہ آپ کو معلوم ہوگا اور ارسالِ زر کا طریقہ بھی، لیکن اگر آپ میری خاطر سے خریداری کا بار اپنے سر لیتے ہوں تو ہرگز ایسا نہ کیجئے، کتاب ارسال فرما دیجئے، میں خود رکھ لوں گا یا نواب علی حسن خاں جو اس کے شایق ہیں لے لیں گے، گرمی یہاں سخت ہے، رات بالکل سو نہ سکا۔
مضامینِ اورنگ زیب کا ترجمہ لندن میں ہوا اور عنقریب شائع ہوگا، سید محمود7 ایک شخص نے کیا، کلکتہ کی پر لطف گھڑیاں، اب دیکھئے کب نصیب ہوں۔
شبلی، لکھنؤ
9/جون 1910ء
خط (13) — 12 جون 1910ء
برادرم!
خط پہنچا، شعرالعجم بھیج دی گئی، الیادہ کے روپئے اس اطلاع کے ساتھ بھیجئے کہ فلاں شخص کے نام جو نسخہ آپ نے بھیجا تھا یہ اس کی قیمت ہے۔
اخبار8 کا نام نہ ملک و ملت موزوں ہے، نہ وقت۔ ایک مطول اور ایک زائد از ضرورت مختصر ہے، صرف آزاد نام ہونا چاہیے، میں اس سے زیادہ کوئی نام حسبِ حال اور حسبِ ضرورت اور آئڈیل کی اصلی تصویر نہیں سمجھتا، یہ دوسری بات ہے کہ لوگ توافقِ اسمی کی وجہ سے خود نمائی کا شبہ کریں۔
یہاں سخت گرمی ہے، کچھ کام نہیں ہو سکتا۔
آپ کی رپورٹ جلسۂ سالانہ ندوہ پر البشیر نے ایک اشتعال انگیز آرٹکل لکھا ہے جس کی سرخی ’’علی گڑھ کالج پر ایک اور حملہ‘‘ ہے، اخیر میں لکھا ہے کہ ’’اگر یہ رپورٹ صحیح ہے تو ارکانِ کالج کو اپنا کام بالکل بند کر دینا چاہیے اور قطعاً ایک آخری فیصلہ کرنا چاہیے، ارکانِ کالج کو توجہ دلائی ہے کہ ندوہ وغیرہ سے قطعاً علاحدگی اختیار کریں۔‘‘ پرچہ آپ کے پاس بھیج دوں گا۔
آپ کو اب زیادہ مولویت کی صورت میں رہنا چاہیے، اس سے بہت اچھے کام لے سکتے ہیں۔
شبلی، لکھنؤ
12/جون 1910ء
خط (14) — 22 جون 1910ء
برادرم
آپ دفعۃً چپ ہو گئے، یہ کیا؟
صلاح الدین9 نے بڑے تقاضا سے معجم فی اشعار العجم منگوا لی، اس لیے تھیکر کے ہاں سے جلد منگوایئے، ہرج ہو رہا ہے، آپ پر البشیر نے جو آرٹیکل لکھا تھا عبدالسلام نے اس کو جواب لکھ کر وکیل وغیرہ میں بھیج دیا ہے۔
اجمیر کب تک جایئے گا، جغرافیہ تو آپ کو اس قدر ضرور معلوم ہوگا کہ اس راہ میں لکھنؤ بھی آتا ہے۔
شبلی
22/جون 1910ء
خط (15) — 25 جون 1910ء
کارڈ
مطلع فرمایئے کہ الیادہ کی قیمت مصر جا چکی یا نہیں، میرا طرزِ عمل الہلال کے ساتھ یہی رہا ہے یعنی بلا تاخیر قیمت بھیج دی گئی ہے، پریس کے متعلق چند سوال ہیں، کیا قیمت ہے؟ ایک گھنٹہ میں کس قدر فردیں اور کتنے پیمانہ کی چھپ سکتی ہیں؟
شبلی
25/جون 1910ء
خط (16) — 25 جون 1910ء
کارڈ
کچھ لکھنے کو نہ تھا کیونکہ ابھی ایک مفصل خط لکھ چکا ہوں، لیکن یہ بھی اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ آپ باتیں کریں اور میں جواب نہ دوں، معجم جلد منگوایئے، صلاح الدین نے اپنا نسخہ منگوا لیا۔
الیادہ کو یوں دیکھئے کہ فہرستِ مضامین میں شواہدِ شعریہ کا ایک عنوان ہے، اس کی تحت میں شعرائے عرب کے نام اور ان کے مختصات ہیں، اس پتہ سے پھر اصل کتاب کے صفحے دیکھئے۔
شبلی
25/جون 1910ء
خط (17) — 8 جولائی 1910ء
میں پریس کے جھگڑوں کے قابل کہاں ہوں، قاری عبدالولی کا خیال تھا، لیکن کم مائیگی درپیش ہے، ملک و ملت کا کب تک انتظار کیا جائے۔
شبلی
8/جولائی 1910ء
خط (18) — 17 جولائی 1910ء
کارڈ
|
شرابِ لطف، پر در جام کردی و می گفتم |
کہ زود آخر شود ایں بادہ و من در خمار افتم |
|
ترجمہ تو نے لطف کی شراب سے جام بھر دیا اور میں کہتا تھا کہ یہ بادہ جلد ختم ہو جائے گا اور میں خمار میں پڑ جاؤں گا۔ |
|
لکھنؤ
17/جولائی 1910ء
خط (19) — 28 ستمبر 1910ء
کارڈ
آپ نے اپنی کتابوں کا نام تو لکھا لیکن یہ نہ لکھا کہ یہاں سے کیا کتاب مطلوب ہے، یہاں جو مکرر کتابیں ہیں وہ تو شاید آپ کے یہاں خود موجود ہوں گی، اس لیے مبادلہ کن کتابوں سے ہوگا، کبیر البتہ موجود ہے۔
مولوی عزیز مرزا صاحب کو مبارک باد لکھئے، ان کی پمفلٹ متعلق مسلم لیگ کی داد جناب وائسرائے بہادر نے دی اور اس کا اعلان تار کے ذریعہ سے اخبارات میں ہوا، ان کو شکایت تھی کہ لوگ مسلم لیگ قائم نہیں کرتے، اب کس کو انکار ہوگا۔
شبلی
28/ستمبر 1910ء
خط (20) — 8 اکتوبر 1910ء
برادرم!
کیا آپ حیدر آباد چلتے ہیں تو میں افریقہ ہو کر کعبہ کو جا سکتا ہوں، ترکستان واپسی میں آ جائے گا، جزیرہ تو ہرگز جانے کا ارادہ نہیں، البتہ چمنستانِ بمبئی کو چھوڑنا، فردوس کو چھوڑنا ہے، جو ایک زاہد سے ممکن نہیں۔
حیدر آباد میں اب چنداں لطف نہ آئے گا، احباب میں کوئی نہیں، خانہ بدوشوں کی طرح قیام ہوگا تاہم فلک نما اور دولت آباد دیکھنے کی چیزیں ہیں، عماد الملک بھی مغتنماتِ روزگار میں ہیں۔
شبلی
8/اکتوبر 1910ء
خط (21) — 15 اکتوبر 1910ء
برادرم!
اچھا کہیں نہیں جاؤں گا۔
|
بندہ را فرماں نباشد ہر چہ فرمائی بر آنم |
|
|
ترجمہ غلام کا اپنا کوئی حکم نہیں، جو تو فرمائے میں اسی پر ہوں۔ |
لیکن کیا شبلی کو رابعہ کا درجہ مل سکتا ہے لیس الذکر کالانثی ماسٹر دین محمد وطن گئے تھے اور سخت جانگزا خبر لائے یعنی بدرِ کامل حیدر آباد سے دلی پہنچ کر غروب ہو گیا، مرتبۂ ابراہیمی کہاں سے ہاتھ آئے کہ لا اُحب الآفلین کہہ سکوں۔
الہ آباد کی نمایش میں ایک اور اضافہ ہوا یعنی دیوانِ فیضی بھی ہوگا اور وہ اوائلِ دسمبر میں پہنچ جائے گا، میرے پاس اطلاع آ چکی ہے، افسوس ہے اس زمانہ میں میاں اسحاق کا کتب خانہ معمور ہوگا، ورنہ ممکن تھا کہ زیادہ مطالعہ کا موقع ملتا، تذکرۂ خطاطاں اور کنز اللغۃ کا اب تک انتظار ہے۔
شبلی
15/اکتوبر 1910ء
خط (22) — 17 نومبر 1910ء
برادرم!
آج کل سخت نرغہ ہے، سہارنپوری، شاہجہانپوری، پھلواروی، کاکوروی سب یکجا جمع ہیں، رپورٹیں تیار ہو رہی ہیں، مضامین لکھے جا رہے ہیں، فردِ قراردادِ جرم مرتب ہو رہی ہے بلکہ ہو چکی ہے، اقرار نامۂ عقائد تیار ہو گیا ہے، جس کا مجھ سے اعتراف کرایا جائے گا اور ان سب کاموں کے چیف اڈیٹر جناب شاہ صاحب ہیں، جنابِ موصوف نے یہاں مستقل قیام اختیار کیا ہے، یہ تمام کاغذات، ارکان کے پاس بھیجے جائیں گے اور باضابطہ میرے نکالنے کی تحریک کی جائے گی۔
فردِ جرم بہت بڑی ہے، خورد برد کا بھی الزام ہے، بہاولپور کے عطیہ کا اشتہار بھی جرائم میں شامل ہے، گورنمنٹ سے ایڈ کے متعلق خط و کتابت اکبر الجرائم قرار دی گئی ہے اور سب پر مستزاد الحاد اور زندقہ جن عقائد کا مجھ سے اقرار کرایا جائے گا ان میں کرامات الاولیاء حق حالانکہ میں تو کرامات الشیاطین حق کا بھی قائل ہوں، ہاں انہی جرائم میں ابوالکلام کی محبت بھی ہے، بھائی حقیقت یہ ہے کہ اب ان لوگوں کا ظلم حد سے بڑھ گیا، کہاں تک صبر کروں، بار بار قلم اٹھاتا ہوں اور پھر رکھ دیتا ہوں، طلبہ بے قابو ہوئے جاتے ہیں، لیکن بڑی مشکل سے روکتا ہوں کہ فساد سے کیا حاصل، دیکھئے کیا انجام ہوتا ہے۔
شبلی
