اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

خواجہ حسن نظامی کے نام

خط (1) — 22 جولائی 1904ء (جلد اوّل، خط 12)

مکرمی سیّد صاحب زاد عمرہٗ

دو دفعہ پیسہ اخبار میں میں نے وہ خبر1 پڑھی جسے پڑھ کر لاہور کے تمام دوستوں کو بے انتہا تشویش تھی۔ مگر قدرتِ خدا کی، مجھے مطلق رنج نہ2 ہوا۔ اور اسی بنا پر جس دوست نے مجھ سے پوچھا میں نے بے تکلّف کہہ دیا کہ خبر غلط ہے۔ الحمد للہ کہ ایسا ہی ثابت ہوا۔ اور میں لاہور کے احباب میں مفت کا صوفی مشہور ہو گیا۔ ایسی خبریں زیادتیٔ عمر کی علامت ہیں۔ میری نسبت بھی لاہور میں اسی قسم کی خبریں مشہور ہو گئی تھیں۔ والسلام۔

اس خبر سے کم از کم یہ تو معلوم ہو گیا کہ ملک کو آپ کی کس قدر ضرورت ہے۔ ان شاء اللہ میں بھی تعطیلوں میں اگر ممکن ہوا تو آپ سے دہلی میں ملوں گا‘‘۔

میں کچھ دنوں کے لیے لاہور سے باہر تھا۔ اس واسطے آپ کے کارڈ کا جواب نہ لکھ سکا۔

راقم آپ کا مفتون اقبال

از لاہور 22؍ جولائی 1904ء

[اقبال نامہ و اتالیق خطوط نویسی]


خط (2) — 1904ء (جلد اوّل، خط 17)

قلبِ مجسم۔ آستانۂ محبوب کی خاک بوسی کے لیے ایک دن نکل کر دہلی ٹھہروں گا اور ضرور ٹھہروں گا۔ ٹھیک تاریخ پھر عرض کروں گا۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام۔

آپ کا اقبال از سیالکوٹ

[اتالیق خطوط نویسی]3


خط (3) — 18 اکتوبر 1905ء (جلد اوّل، خط 21)

از کیمبرج، ٹرینٹی کالج 18؍ اکتوبر 1905ء4

اسرارِ قدیم سید حسن نظامی

ایک خط اس سے پہلے ارسال کر چکا ہوں۔ امید کہ پہنچ کر ملاحظۂ عالی سے گذرا ہو گا۔

اس خط کے جواب کا انتظار ہے اور بڑی شدّت کے ساتھ۔ اب ایک اور تکلیف دیتا ہوں۔ اور وہ یہ کہ قرآن شریف میں جس قدر آیات صریحاً تصوّف کے متعلق ہوں اُن کا پتا دیجیے۔ سپارہ اور رکوع کا پتا لکھیے اس بارہ میں آپ قاری شاہ سلیمان صاحب یا کسی اور صاحب سے مشورہ کر کے مجھے بہت جلد مفصل جواب دیں اس مضمون کی سخت ضرورت ہے اور یہ گویا آپ کا کام ہے۔

قاری شاہ سلیمان صاحب کی خدمت میں میرا یہی خط بھیج دیجیے اور بعد التماسِ دعا عرض کیجیے کہ میرے لیے یہ زحمت گوارہ کریں اور مہربانی کر کے مطلوبہ قرآنی آیات کا پتا دیویں۔

اگر قاری صاحب موصوف کو یہ ثابت کرنا ہو کہ مسئلہ وحدۃ الوجود یعنی تصوّف کا اصل مسئلہ قرآن کی آیات سے نکلتا ہے تو وہ کون کون سی آیات پیش کر سکتے ہیں۔ اور ان کی کیا تفسیر کرتے ہیں؟

کیا وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ تاریخی طور پر اسلام کو تصوّف سے تعلّق ہے؟ کیا حضرت علی مرتضےٰ کو کوئی خاص پوشیدہ تعلیم دی گئی تھی؟ غرضکہ اس امر کا جواب معقولی اور منقولی اور تاریخی طور پر مفصّل چاہتا ہوں۔ میرے پاس کچھ ذخیرہ اس امر کے متعلق موجود ہے مگر آپ سے اور قاری صاحب سے استصواب ضروری ہے۔ آپ اپنے کسی اور صوفی دوست سے بھی مشورہ کر سکتے ہیں، مگر جواب جلد آئے۔ باقی خیریت ہے۔

اقبال

[اتالیق خطوط نویسی ص 63 اقبال نامہ]


خط (4) — 1905ء (جلد اوّل، خط 23)

پُراسرار5 نظامی کا کارڈ بھی ملا۔ اس سے پہلے آپ کا نوازش نامہ نہیں ملا ورنہ یہ ممکن نہ تھا کہ آپ کا خط آئے اور میں جواب نہ دوں۔

الاحسان کے دو نمبر بھی کل موصول ہوئے۔ خوب اور بہت خوب۔ کس قدر تغیر ہے ایک وہ زمانہ تھا کہ اس مضمون پر بات کرنا خلافِ اصولِ طریقت تھا6 اب یہ زمانہ ہے کہ ماہوار رسالے شائع ہوتے ہیں۔ اس کی ضرورت اور سخت ضرورت ہے لیکن کیوں صاحب آپ مجھے رسوا کر کے اب مشہور کرنے لگے۔

اب مری شہرت کی سوجھی ہے انھیں دیکھے کوئی

مٹ کے میں جس دم غبارِ کوئے رسوائی ہوا

اقبال۔ لاہور

(اتالیق خطوط نویسی)


خط (5) — 25 اپریل 1906ء (جلد اوّل، خط 26)

25؍ اپریل 1906ء

سرمست سیّاح کو سلام، متھرا۔ ہردوار۔ جگن ناتھ۔ امرناتھ جی سب کی سیر کی۔ مبارک ہو۔ مگر بنارس جا کر لیلام ہو گئے۔ کیوں ٹھیک ہے نا۔ بلکہ ہمارے میر صاحب7 نیرنگ اور اکرام8 کو بھی ساتھ لے ڈوبے۔

میرے پہلو میں ایک چھوٹا سا بت خانہ ہے کہ ہر بُت اس صنم کدے کا رشکِ صنعتِ آزری ہے۔ اس پُرانے مکان کی کبھی سیر کی ہے؟ خدا کی قسم، بنارس کا بازار فراموش کر جاؤ۔ میں تو ہر قدم پر آپ کو یاد آتا تھا۔ کیوں نہ یاد آؤں۔ آپ بھی ہم کو یہاں عموماً یاد آیا کرتے ہیں۔ والسّلام

آپ کا

محمد اقبال

ماخذ [1۔ اتالیق خطوط نویسی، 2۔ اقبال نامہ]


خط (6) — 10 فروری 1908ء (جلد اوّل، خط 38)

لندن 10؍ فروری 1908ء

پیارے نظامی! آپ کا خط اور رام کرشن9 دونوں چیزیں پہنچیں، خدا آپ کو جزائے خیر دے کہ آپ مجھے کبھی کبھی یاد فرما لیا کرتے ہیں۔ افسوس کہ جرمنی کے پتے پر جو خط آپ نے لکھا وہ نہ پہنچا۔ بمبئی سے آپ کا ایک خط آیا تھا۔ اس کا جواب اسی پتے پر لکھا تھا معلوم نہیں، پہنچا یا نہیں پہنچا۔ ’’رام کرشن‘‘ نہایت عمدہ ہے۔ جو طریقِ اشاعتِ مذہبِ حقّہ کا آپ نے اختیار کیا ہے، مجھے اس سے پوری ہمدردی ہے۔ مسٹر آرنلڈ10 صاحب بہادر سے آج اس کا ذکر آیا تھا۔ وہ بہت خوش ہوئے اور آپ کی کتاب مجھ سے لے لی۔ کہتے تھے کہ میں نے ہندوستان میں بہت کوشش کی کہ سلسلۂ نظامیہ نے جو کوشش اشاعتِ اسلام میں کی ہو، اُس کی تاریخی شہادت ملے۔ مگر کامیابی نہ ہوئی۔ اگر آپ کے خاندان میں اس مضمون پر کوئی کتاب محفوظ چلی آتی ہو تو آگاہ کیجیے۔ اس کے علاوہ اُن کی یہ خواہش ہے کہ ایک کاپی اس کتاب کی ملے جو آپ کے کسی دوست نے ’’کلکی پران‘‘ کے متعلق لکھی ہو، اور جس کا ذکر آپ نے اس چھوٹی سی کتاب میں کیا ہے۔ مسٹر آرنلڈ کا یہ خیال ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے ہندوؤں میں اسلام پھیلانے کے لیے کوئی باقاعدہ کوشش نہیں کی اور اب وقت ہے کہ ایسا کیا جائے۔ اس میں ہندوستان کیا، ساری دُنیا کا بھلا ہے۔

زیادہ کیا عرض کروں میری کامیابیوں پر جو لوگ آپ کو مبارکباد دیتے ہیں، راستی پر ہیں۔ مجھ میں اور آپ میں فرق ہی کیا ہے۔ دیکھنے کو دو‌2، حقیقت میں ایک۔ انگلستان میں مَیں نے اسلامی مذہب و تمدّن پر لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ ایک لیکچر ہو چکا ہے۔ دوسرا ’’اسلامی تصوّف‘‘ پر فروری کے تیسرے ہفتہ میں ہوگا۔ باقی لیکچروں کے معانی یہ ہوں گے ’’مسلمانوں کا اثر تہذیبِ یورپ پر‘‘ ’’اسلامی جمہوریت‘‘ ’’اسلام اور عقلِ انسانی‘‘ وغیرہ۔ تمام دوستوں کی خدمت میں آداب کہیے اور میرے لیے درگاہ شریف پر دعا کیجیے۔

آپ کا اقبال

[اقبال نامہ]


خط (7) — 12 اکتوبر 1908ء (جلد اوّل، خط 47)

سیالکوٹ 12؍ اکتوبر 1908ء

پیارے نظامی! آپ کا خط پہنچا۔ پوسٹ کارڈوں کے لیے شکرگذار ہوں۔ میں نے وی پی کے لیے لکھا تھا آپ نے کیوں تکلیف کی۔ یہ نیاز جو آپ کو پہنچی ہے، والدہ مکرمہ کی نیاز تھی۔ قبول فرمائیے۔ بھائی صاحب کا ارادہ خود حاضر ہونے کا تھا مگر شاید انھیں فرصت نہ تھی۔

آپ لوگوں کو میرا مشتاق بناتے ہیں۔ مجھے کچھ اعتراض نہیں مگر اندیشہ ہے کہ مجھ سے مل کر انھیں مایوسی نہ ہو۔ میں نے سید صاحب موصوف کے نام ایک عریضہ ابھی لکھا ہے۔ اُن کا خط اِس خط میں ملفوف کرتا ہوں۔

آپ اپنی ہر تحریک میں بغیر پوچھے مجھے شریک تصوّر کیجیے۔ مگر جس درد11 نے کئی مہینوں سے مجھے بیتاب کر رکھا ہے، جو مجھے راتوں کو سونے نہیں دیتا، جو مجھے تنہائی میں رُلاتا ہے، اُس کی وجہ مجھ سے پہلے سن لیجیے پھر جو چاہئے کیجیے۔ میں آپ کے ساتھ ہوں اور آپ میرے ساتھ۔

کئی دنوں سے بیمار ہوں۔ دعا کیجیے کہ بالکل اچھّا ہو جاؤں۔

آپ کا صادق محمد اقبال

(اقبال نامہ)


خط (8) — 25 نومبر 1908ء (جلد اوّل، خط 50)

لاہور 25؍ نومبر 1908ء

مخدومی خواجہ صاحب!