اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

خواجہ حسن نظامی کے نام

السلام علیکم۔ آپ کا خط کئی دن سے آیا رکھا ہے۔ مجھے مصروفیت رہی اس وجہ سے جواب نہ لکھ سکا۔ معاف کیجیے گا۔ مجھے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ میر نیرنگ صاحب نے آپ کو خط لکھا ہے جس نے آپ کو ’’بدگمانی کے گناہ‘‘ سے بچا لیا۔

الحمد للہ علیٰ ذلک‌اس پر اللہ کا شکر ہے124

آپ کو معلوم ہے تقریبًا دو سال ہوئے میں نے ان اعتراضات کے جواب میں جو آپ نے مثنوی ’’اسرارِ خودی‘‘ پر کیے تھے چند مضامین125 مسائلِ تصوّف پر لکھے تھے جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ مسئلہ ’’وحدت الوجود‘‘ ان معنوں میں کہ ذاتِ باری تعالی ہر شے کی عین ہے قرآن سے ثابت نہیں۔ اور روحانیت میں اسلامی تربیت کا طریق ’’صحو‘‘126 ہے نہ ’’سکر‘‘۔ آپ ہی کے اخبار ’’خطیب‘‘ میں حضرت صوفی قاری شاہ سلیمان نے ان دونوں مسائل کے متعلق میرے حق میں فیصلہ صادر فرمایا۔ باوجود اس کے کہ مجھے ہمیشہ اس بات کا تعجب رہا کہ آپ اور آپ کے احباب اس اختلاف کی وجہ سے مجھے کیوں دشمنِ تصوّف سمجھتے ہیں؟ یہ اختلاف کوئی نئی بات نہیں، بلکہ حضراتِ صوفیہ میں ایک عرصے سے موجود ہے۔ بہر حال جن خیالات کا اظہار میں نے اخبار ’’وکیل‘‘ میں کیا تھا ان کی صحت و صداقت کا مجھے اب تک یقین ہے، گو ان پر بحث کرنا کئی وجہ سے غیر ضروری جانتا ہوں۔ عوام بلکہ خواص کو بھی ان اصولی امور میں کوئی دل چسپی نہیں، اور نہ اس قسم کے مباحث اخباروں کے لیے موزوں ہیں۔ ان سب باتوں کے علاوہ مولانا اکبر (الہ آبادی) نے (جن کا ادب و احترام میں اس طرح کرتا ہوں جس طرح کوئی مرید اپنے پیر کا احترام کرے) مجھے لکھا کہ یہ بحث غیر ضروری ہے۔ اس دن سے آج تک میں نے ایک سطر بھی ان مباحث پر نہیں لکھی۔ گو ذاتی فائدے کے خیال سے مطالعہ جاری رکھتا ہوں۔ اب جو مولوی ظفر علی خاں صاحب نے اخبار ’’ستارۂ صبح‘‘ میں یہ بحث دوبارہ چھیڑی تو بوجہ ان دیرینہ تعلقات کے جو میرے اور اُن کے درمیان ہیں اور نیز اس وجہ سے کہ اس بحث میں مجھے کمال دل چسپی ہے بعض لوگوں کو یہ بدگمانی ہوئی کہ ’’ستارۂ صبح‘‘ کے مضامین میں لکھتا ہوں یا لکھواتا ہوں — لیکن حقیقت یہ ہے کہ میرے قلم سے ایک سطر بھی اس بحث پر نہ نکلی، اور نہ میں نے مولوی صاحب موصوف (ظفر علی خاں) کو کوئی مضمون لکھنے کی تحریک کی ہے بلکہ پرائیویٹ گفتگو میں کئی امور میں میں نے ان سے اختلاف کیا ہے! اس کے علاوہ میں تو اصولی بحث کو جیسا کہ اوپر عرض کر چکا ہوں اخبارات کے لیے موزوں نہیں سمجھتا، چہ جائیکہ کسی اور کو اس کے جاری رکھنے کی تحریک کروں البتہ موجودہ نتائج کے حالات پر لکھنے اور ہمدردانہ لہجے میں ان کے خیالات و رسوم کی تنقید کرنے سے قوم کو ضرور فائدہ ہوگا اگر مولوی ظفر علی خاں یا آپ اس طرف توجہ کریں تو ’’چشمِ ما روشن دلِ ما شاد‌ہماری آنکھ روشن، ہمارا دل شاد‘‘۔ غرض کہ آپ کو میری نسبت بدگمانی کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، اور اگر کسی وجہ سے بدگمانی ہو بھی گئی، تو آپ مجھ سے براہِ راست دریافت کر سکتے تھے۔ لوگ تو اس قسم کی باتیں اُڑایا ہی کرتے ہیں۔ دو چار روز کا ذکر ہے کہ ایک شخص نے بیان کیا کہ خواجہ حسن نظامی صاحب نے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ اقبالؔ نے اپنی ٹوپی ہمارے قدموں پر رکھ کر ہم سے معافی مانگی ہے، اور آئندہ کے لیے توبہ کی ہے۔ میں نے انھیں یہ جواب دیا کہ جن لوگوں کے عقائد و عمل کا ماخذ کتاب و سنّت ہے۔ اقبالؔ اُن کے قدموں پر ٹوپی کیا سر رکھنے کو تیار ہے! اور اُن کی صحبت کے ایک لحظہ کو دنیا کی تمام عزت و آبرو پر ترجیح دیتا ہے، لیکن جو بات خواجہ حسن نظامی کی طرف سے منسوب کرتے ہو تو اس کے لغو ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ زیادہ کیا عرض کروں۔ امید ہے کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔ اگر آپ چاہیں تو یہ خط شائع کر سکتے ہیں127 والسلام

محمد اقبال از لاہور

(انوارِ اقبال)


خط (20) — 27 ستمبر 1922ء (جلد دوم، خط 223)

جنابِ خواجہ صاحب، السلام علیکم و رحمۃ اللہ128

قرآن آسان قاعدہ بظاہر خوب معلوم ہوتا ہے۔ اس کا تجربہ ضرور کرنا چاہیئے، گو مجھے اندیشہ ہے کہ تجربات میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ کیا آپ نے اپنے بچوں میں سے کسی کو اس قاعدے کے مطابق قرآن شریف پڑھایا ہے؟ اگر آپ نے ایسا کیا تو مجھے یقین ہے کہ اور مسلمان بھی اس قاعدہ سے مستفید ہوں گے۔ میں نے خود کبھی بچوں کو قرآن شریف نہیں پڑھایا۔

اس واسطے ان مشکلات سے ناواقف ہوں جو اُستادوں کو پیش آیا کرتی ہیں۔

محمد اقبال

لاہور 27؍ ستمبر 1922ء

(خطوط اقبال)


اردو جریدہ نے یہ خطوط «کلیاتِ مکاتیبِ اقبال» (مرتبہ سید مظفر حسین برنی، اردو اکادمی، دہلی)، جلد اوّل (نومبر 1989ء)، صفحہ 83 تا 693 کے درمیان (17 مقامات)؛ اور جلد دوم (1991ء)، صفحہ 390 تا 391 سے ڈیجیٹائز کیے ہیں۔