رہبانیت عیسائی مذہب کے ساتھ خاص نہیں بلکہ36 ہر قوم میں پیدا ہوتی ہے اور ہر جگہ اس نے شریعت اور37 قانون کا مقابلہ کیا ہے اور اس کے اثر کو کم کرنا چاہا ہے اسلام حقیقت میں38 اسی کے خلاف ایک39 صدائے احتجاج ہے تصوّف جو مسلمانوں میں پیدا ہوا40 (اور تصوّف سے میری مراد ایرانی تصوّف ہے) اس نے ہر قوم کی رہبانیت سے فائدہ اٹھایا ہے اور ہر راہبی41 تعلیم کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کی ہے42۔ یہاں تک کہ قرمطی تحریک43 سے بھی تصوّف نے فائدہ اٹھایا ہے محض اس وجہ سے کہ قرمطی تحریک کا مقصد بھی بالآخر قیودِ شریعہ اسلامیہ کو فنا کرنا تھا۔ بعض صوفیا کی نسبت تاریخی شہادت بھی44 اس امر کی موجود ہے کہ وہ قرمطی تحریک45 سے تعلق رکھتے تھے۔
اب تک جو اعتراضات آپ کی طرف سے ہوئے ہیں، وہ مثنوی کے دیباچے46 پر ہیں (نہ کہ خود مثنوی پر جب تک47 مجھے یہ معلوم48 نہ ہو کہ مثنوی پر کیا اعتراضات ہیں49۔ اس وقت تک، میں کیونکر قلم اٹھا سکتا ہوں۔ مثنوی پر جو اعتراض50 آپ نے کیا ہے، وہ اسی قدر51 ہے کہ حافظ کی بے حرمتی کی گئی۔ لیکن جب تک اصولی بحث نہ ہو، یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ میں حافظ کی تنقید52 میں کہاں تک حق بجانب ہوں۔
حضرت53 امام ربّانی نے مکتوبات میں ایک جگہ بحث54 کی ہے کہ، گستن اچھا ہے یا پیوستن55، میرے نزدیک گستن عینِ اسلام ہے اور پیوستن رہبانیت یا ایرانی تصوف56 ہے اور اسی57 کے خلاف میں صدائے احتجاج بلند کرتا ہوں۔ گذشتہ علمائے اسلام نے ایسا ہی کیا ہے اور اس بات کی تاریخی شہادت موجود ہے آپ کو یاد ہو گا کہ جب آپ58 نے مجھے سرّ الوصال کا خطاب59 دیا تھا تو میں نے آپ کو لکھا تھا کہ مجھے سرّ الفراق کہا جائے اس وقت میرے60 ذہن میں یہی امتیاز تھا جو مجدد61 الف ثانی نے کیا ہے۔ آپ کے تصوف کی اصطلاح میں اگر میں اپنے مذہب کو بیان کروں تو یہ ہو گا کہ شانِ عبدیت انتہائی کمال روحِ انسانی کا ہے۔ اس سے آگے اور کوئی مرتبہ یا مقام نہیں62 یا محی الدین63 ابنِ عربی کے الفاظ میں ’’عدمِ محض‘‘ ہے یا بالفاظِ دیگر64 یوں کہیے کہ حالتِ سکر، منشائے اسلام65 اور قوانینِ حیات کے مخالف66 ہے اور حالتِ صحو67، جس کا دوسرا نام اسلام ہے، قوانینِ حیات کے عین مطابق ہے اور رسول اکرم68 صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا69 یہ تھا کہ ایسے آدمی70 پیدا ہوں جن کی مستقل71 حالت کیفیتِ صحو، ہو۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریمؐ کے صحابہ72 میں صدیق و عمرؓ تو بکثرت ملے مگر حافظ شیرازی کوئی نظر نہیں آتا، مضمون73 بہت طویل ہے اور اس74 مختصر خط میں سما نہیں سکتا75۔ میں ان شاء اللہ اس پر مفصل بحث کروں گا جب حالات مساعدت کریں گے۔ مگر شیخ76 محی الدین ابن عربیؒ کے ذکر سے ایک بات یاد آگئی77 جو عرض کرتا ہوں۔ اس واسطے کہ آپ کو غلط فہمی نہ رہے۔ میں شیخ کی عظمت78 و فضیلت کا قائل ہوں اور ان کو اسلام کے بہت بڑے حکما79 میں سمجھتا ہوں۔ مجھ کو ان کے اسلام میں80 کوئی شک نہیں۔ کیونکہ جو عقائد81 (مسئلۂ قدمِ ارواح و مسئلۂ وحدت الوجود) ان کے ہیں ان کو انھوں نے فلسفہ کی بنا پر نہیں82 مانا بلکہ نیک نیتی سے قرآن کی آیات83 سے استنباط کیا ہے۔ پس ان کے عقائد صحیح ہوں یا غلط، قرآن کی تاویل پر مبنی ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ جو تاویل ان کی ہے84، وہ منطقی یا منقولی اعتبار سے صحیح ہے یا غلط۔ میرے نزدیک ان کی تعبیر85 یا تاویل جو کچھ ہے صحیح نہیں ہے، اس واسطے گو میں ان کو ایک مخلص مسلمان سمجھتا ہوں، مگر ان کے عقائد کا پیرو نہیں ہوں۔
اصل بات یہ ہے کہ صوفیا کو توحید86، اور وحدت، کا مفہوم سمجھنے میں سخت87 غلطی ہوئی ہے۔ یہ دونوں اصطلاحیں88 مرادف نہیں بلکہ مقدم الذکر کا مفہوم خالص مذہبی ہے اور مؤخر الذکر کا مفہوم خالص فلسفیانہ ہے۔ توحید کے مقابلہ89 میں یا اس کی ضد لفظ کثرت نہیں جیسا کہ صوفیاء نے تصور کیا ہے بلکہ اس کی ضد شرک ہے۔ وحدت الوجود کی ضد، کثرت، ہے۔ اس غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ جن لوگوں نے وحدت الوجود یا زمانۂ حال کے فلسفۂ یورپ کی اصطلاح میں توحید کو ثابت کیا۔ وہ مُوحّد تصور کیے گئے، حالانکہ ان کے ثابت کردہ مسئلے کا تعلق مذہب سے90 نہ تھا بلکہ نظامِ عالم کی حقیقت سے تھا91۔ اسلام کی تعلیم نہایت صاف92 و روشن ہے۔ یعنی یہ کہ عبادت کے قابل93 صرف ایک ذات ہے۔ باقی جو کچھ کثرتِ نظامِ94 عالم میں نظر آتی ہے، وہ سب کی سب مخلوق ہے۔ گو علمی اور فلسفیانہ اعتبار سے اس کی کُنہ اور حقیقت ایک95 ہی ہو، چونکہ صوفیا نے فلسفے اور مذہب کے دو مختلف مسائل یعنی توحید96 اور وحدت الوجود کو ایک ہی مسئلہ سمجھ لیا ہے اس واسطے ان کو یہ فکر97 ہوئی کہ توحید98 کو ثابت کرنے کا کوئی اور طریق ہونا چاہیے، جو عقل99 و ادراک کے قوانین سے تعلق نہ رکھتا ہو۔ اس غرض کے لیے حالتِ سکر ممدّ و معاون ہوئی100 اور یہ اصل ہے مسئلۂ حال و مقامات کی۔ مجھے حالتِ سُکر کی واقعیت سے انکار نہیں۔ صرف اس بات سے انکار ہے کہ جس غرض کے لیے یہ حالت پیدا کی جاتی ہے۔ وہ غرض اس سے مطلق پوری نہیں ہوتی۔ اس101 سے زیادہ سے زیادہ صاحبِ حال کو ایک علمی مسئلے کی تصدیق ہو جاتی ہے نہ مذہبی102 مسئلے کی۔ صوفیا نے وحدت الوجود کی کیفیت کو محض ایک مقام لکھا ہے103 (شیخ عربی کے نزدیک یہ انتہائی مقام ہے اور اس کے آگے104 عام محض ہے) لیکن یہ سوال کسی دل میں105 پیدا نہیں ہوا کہ آیا یہ مقام کسی حقیقتِ نفس الامری106 کو واضح کرتا ہے107؟ اگر کثرت حقیقتِ نفس الامری ہے تو یہ کیفیتِ وحدت الوجود، جو صاحبِ108 حال پر وارد ہوتی ہے، محض دھوکا ہے اور مذہبی109 اور فلسفیانہ اعتبار سے کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ اور اگر کیفیتِ وحدت الوجود محض ایک مقام ہے اور کسی حقیقتِ نفس الامری کا انکشاف اس110 سے نہیں ہوتا تو پھر اس کو معقول طور سے ثابت کرنا111 فضول ہے۔ جیسا کہ محی الدین112 ابنِ عربی اور دیگر صوفیا نے کیا ہے۔ نہ اس113 کے محض مقام ہونے سے روحانی زندگی کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ قرآن کی تعلیم کی رُو سے114 وجود فی الخارج کو ذاتِ باری سے نسبتِ اتحاد کی نہیں بلکہ مخلوقیت کی ہے۔ اگر قرآن کریم115 کی تعلیم یہ ہوتی کہ ذاتِ باری116 کثرتِ نظامِ عالم میں دائر و سائر ہے تو کیفیتِ وحدت الوجود کو قلب پر وارد کر سکنا117 مذہبی زندگی کے لیے نہایت مفید ہوتا بلکہ مذہبی118 زندگی کی آخری منزل ہوتی۔ مگر میرا عقیدہ یہ ہے کہ یہ قرآن کی تعلیم نہیں ہے۔119 اس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ میرے نزدیک120 ہر کیفیتِ قلبی مذہبی اعتبار سے کوئی فائدہ نہیں رکھتی۔ اور علم الحیات کی رُو سے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اس کا وُرُود121 حیاتِ انسانی کے لیے فردی اور ملّی اعتبار سے مُضر ہے۔ مگر علم الحیات کی رُو سے اس پر بحث کرنا بہت فرصت چاہتا ہے۔ جس پر پھر کبھی لکھوں گا122 فی الحال اس خط کو ختم کرتا ہوں اور اس طویل سمع خراشی کی معافی چاہتا ہوں۔ فقط
آپ کا خادم محمد اقبال
ماخذ خطوطِ اقبال اوراقِ گم گشتہ
خط (18) — 26 جنوری 1917ء (جلد اوّل، خط 216)
لاہور 26؍ جنوری 1917ء
مخدومی خواجہ صاحب123
السلام علیکم۔ میں آپ کے اندازِ بیان کا عاشق ہوں اور مجھی پر کیا موقوف ہے، ہندوستانی دنیا میں کوئی دل ایسا نہیں جس کو آپ کے اعجازِ قلم نے مسخر نہ کر لیا ہو۔
پیش پا افتادہ چیزوں میں اخلاقی اور روحانی اسرار دیکھنا اور اس کے ذریعے انسان کے عمیق مگر خوابیدہ جذبات کو بیدار کرنا آپ کے کمال کا خاص جوہر ہے۔ اگر مجھ کو یقین ہوتا کہ ایسا اندازِ تحریر کوشش سے حاصل ہو سکتا تو قافیہ پیمائی چھوڑ کر آپ کے مقلّدین میں داخل ہوتا۔ اردو لکھنے والوں میں آپ کی روش سب سے نرالی ہے اور مجھ کو یقین ہے کہ نثرِ اُردو کے آئندہ مورخین آپ کی ادبی خدمات کا خاص طور پر اعتراف کریں گے۔
رسالہ ’’بیوی کی تعلیم‘‘ جو حال میں آپ کے قلم سے نکلا ہے، نہایت دل چسپ اور مفید ہے خصوصاً درزی والے سبق نے تو مجھے ہنسایا بھی اور رلایا بھی۔
باقی سبق بھی نہایت اچھے اور کار آمد ہیں اور عام تمدنی، سیاسی و مذہبی مسائل کو سمجھانے کے لیے خط و کتابت کا طریق بھی نہایت موزوں ہے۔ لڑکیوں کو اس سے بے حد فائدہ پہنچے گا۔
میں نے بھی یہ رسالہ گھر میں پڑھنے کے لیے دے دیا ہے۔ مسلمان لڑکیوں کو خواجہ بانو کا شکر گزار ہونا چاہیئے کہ اُن کی تحریک سے ایسا مفید رسالہ لکھا گیا۔
والسّلام
مخلص محمد اقبال
(انوارِ اقبال)
خط (19) — 11 جنوری 1918ء (جلد اوّل، خط 277)
لاہور 11 جنوری 18ء
مخدوم و مکرم جناب خواجہ صاحب

