اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

خواجہ حسن نظامی کے نام

آپ کے حلقے12 کا ذکر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ مجھے بھی اس حلقہ میں شامل تصوّر کیجیے اور اہلِ حلقہ سے استدعا کیجیے کہ میرے حق میں دُعا کریں۔ مجھے آپ سے ایک بہت ضروری امر میں مشورہ کرنا ہے اور اس میں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ افسوس ہے کہ تاحال فارغ البالی سے بیٹھنے کا موقع نہ ہوا۔ ورنہ عرض کرتا13۔ بہر حال آپ ایک نئی بات سُننے کے لیے تیار رہیں۔ میرے خیال میں اور احباب بھی ہیں جن سے ابھی تک ذکر اس بات کا نہیں آیا14۔ تاہم وہ اس امر میں یقین ہے ہمارے ساتھ ہوں گے۔ اگر ممکن ہوتا تو ابھی آپ کو دہلی سے لاہور تشریف لانے کی خبر دیتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ نادانستہ اُسی طرف کو جا رہے ہیں جس طرف میں آپ کو لانا چاہتا ہوں۔ اس بات نے مجھے جرأت دلائی ہے کہ میں آپ سے رہنے سہنے کا دکھ ظاہر کروں۔ بہت کم لوگ ہیں جو ہمدردی کے ساتھ اس قضیئے کو سن سکتے ہیں مگر آپ سے مجھے پوری ہمدردی کی توقع ہے۔ ابھی تک کسی دوست سے اس بات کا ذکر نہیں آیا۔ آپ سے ذکر ہو چکنے کے بعد اگر مناسب ہوا تو بعض خاص دوستوں سے اس کا تذکرہ کروں گا۔ زیادہ کیا عرض کروں۔ تاحال خدا کے فضل سے اچھّا ہوں۔ امید ہے کہ آپ بھی بخیریت ہوں گے۔

محمد اقبال بیرسٹر ایٹ لا لاہور

ماخذ: اقبال نامہ، اتالیق خطوط نویسی


خط (9) — 14 جنوری 1909ء (جلد اوّل، خط 54)

مخدومی و مکرّم جناب خواجہ صاحب، السّلام علیکم

حلقہ نظام المشائخ کے متعلق آج مسٹر محمد شفیع بیرسٹر ایٹ لا سے سن کر بڑی خوشی ہوئی۔ خدا کرے آپ کے کام میں ترقّی ہو۔ مجھ کو بھی اپنے حلقہ مشائخ کے ادنےٰ ملازمین میں تصوّر کیجیے۔

مجھے ذرا کاروبار کی طرف سے اطمینان ہو لے تو پھر عملی طور سے اس میں دلچسپی لینے کو حاضر ہوں۔ آپ نے اچھا کیا کہ محمد شفیع صاحب کے نام خط لکھا۔ میری طرف سے مزار شریف پر بھی حاضر ہو کر عرض کیجیے۔

والسّلام

محمد اقبال

14؍ جنوری 1909ء

(اقبال نامہ)


خط (10) — مارچ 1909ء (جلد اوّل، خط 57)

پیارے نظامی!15

آپ کا کارڈ پہنچا۔ الحمد للہ کہ آپ خیریت سے ہوں گے کئی دنوں کی بیماری کے بعد کل بسترِ بیماری سے اُٹھا ہوں۔ مفصّل خط پھر لکھوں گا۔ بلکہ کچھ عرصے کے بعد آپ کو لاہور آنے کی تکلیف دوں گا۔ آپ سے چند ضروری باتیں کرنی ہیں۔ بعض لوگ آپ پر اخباروں میں حملہ کرتے ہیں۔ افسوس ہے مسلمانوں میں معمولی اخلاق بھی نہ رہے۔ میں خود علی گڈھ کالج کی پروفیسری نامنظور کرنے سے ہدفِ ملامت ہو رہا ہوں16۔ مگر —

شادم ز طعنِ خلق کہ مرغانِ باغِ عشق

شاخے کہ سنگ می رسدش آشیاں کنند17

اقبال

[اقبال نامہ]

[اتالیق خطوط نویسی]


خط (11) — 2 اگست 1909ء (جلد اوّل، خط 67)

لاہور 2؍ اگست 1909ء

مخدومی! رسالہ پہنچ گیا تھا۔ آپ کی دست بستہ دُعا نے بڑا لطف دیا۔ میں فراموش کار نہیں۔ البتہ اگر آپ کو یہ لقب دیا جائے تو موزوں تر ہے۔

کچھ دنوں سے عدیم الفرصت ہوں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ قانونی پیشہ میں اس قدر مصروفیت رہے گی۔

پنجاب میں نظامی مشہور ہوں اور آپ میری خبر نہیں لیتے۔

سیہ کار محمد اقبال

[اتالیق خطوط نویسی] اور (اقبال نامہ)


خط (12) — 24 جون 1912ء (جلد اوّل، خط 90)

لاہور 24؍ جون 1912ء

مکرمی! 12 روپیہ جس طرح آپ کے خیال میں آئے خرچ کر دیجیے۔ حلوا پکا دیجیے، یا خانقاہ کے متعلّقین میں تقسیم کر دیجیے۔

آپ سے ملنے کو دل چاہتا ہے مگر کیا کروں، علائق نہیں چھوڑتے۔ روٹی کا دھندہ لاہور سے باہر نکلنے نہیں دیتا۔ کیا کروں۔ عجب طرح کا قفس ہے۔

والسّلام

آپ کا مخلص اقبال

(اقبال نامہ) اور (اتالیقِ خطوط نویسی)


خط (13) — 1912ء (جلد اوّل، خط 97)

مکرمی، السلام علیکم18

خدا آپ کا بھلا کرے کہ آپ نے ہندوستان کے پرانے بتکدے میں توحید کی مشعل روشن کی۔ مجھے یقین ہے کہ دل اس کی حدت سے گرمائیں گے، اور آنکھیں اس کے نور سے منور ہوں گی۔ میں بھی اپنی بساط کے موافق کچھ نہ کچھ حاضر کروں گا۔

مسلمانانِ ہندوستان کی بیداری کے پانچ اسباب جو آپ نے اس ہفتہ کے توحید میں ارقام فرمائے ہیں بالکل بجا ہیں، لیکن آپ نے یہ نہیں لکھا کہ اقبال جس نے اسلامی قومیت کی حقیقت کا راز اس وقت منکشف کیا۔ جب ہندوستان والے اس سے غافل تھے۔ اور جس کے اشعار کی تاریخ زمیندار، کامریڈ، بلقان، طرابلس اور نواب وقار الملک کی حق گوئی کی تاریخ سے پہلے کی ہے۔ کس کا خوشہ چین ہے؟ شاعروں کی بدنصیبی ہے کہ اُن کا کام برا بھلا جو کچھ بھی ہو غیر محسوس ہوتا ہے۔ اور ظاہر میں آنکھیں مرئیات کی طرف قدرۃً زیادہ متوجہ ہوتی ہیں۔

اس خط کا مقصد شکایت نہیں اور نہ یہ کہ اقبال کے کام کا اشتہار ہو۔ حسن نظامی کو خوب معلوم ہے کہ اس کا دوست اشتہار پسند مزاج لے کر دنیا میں نہیں آیا۔ مگر یہ مقصد اس خط کا ضرور ہے کہ ایک واقفِ حال دوست کی غلط فہمی دور ہو۔ تاکہ اقبال کی وقعت اپنے دوست کی نگاہ میں محض اس خیال سے کم نہ ہو کہ اس نے مسلمانانِ ہند کی بیداری میں حصہ نہیں لیا۔

بکلامِ بیدل اگر رسی مگذر ز جادۂ منصفی19

کہ کسے نمی طلبد ز تو صلۂ دگر مگر آفریں

خاکسار اقبال

(اتالیق خطوط نویسی)


خط (14) — جون/جولائی 1913ء (جلد اوّل، خط 99)

ڈیر خواجہ صاحب، السلام علیکم

خواجہ نمبر20 میں نواب علی صاحب پروفیسر بڑودہ کالج کا مضمون مجھے سب سے زیادہ پسند آیا کہ معنی خیز ہے اس سے دوسرے نمبر پر زلفِ خواجہ21 کا اسیر اور ’’شہنشاہوں کی پیشانیاں اجمیری چوکھٹ22 پر‘‘ مؤخر الذکر مضمون کچھ نتیجہ خیز نہیں ہے۔

نظموں میں گرامی صاحب کی غزل سب سے اعلیٰ، اس کے بعد شفق صاحب کا ترانہ یا یوں کہیے کہ فارسی نظموں میں گرامی صاحب کی غزل اوّل نمبر اور اردو23 نظموں میں شفق کا ترانہ۔

محمد اقبال

(خطوطِ اقبال)


خط (15) — 27 دسمبر 1913ء (جلد اوّل، خط 104)

لاہور 27، دسمبر 1913ء

خواجہ صاحب مکرّم

اجمیر سے کوئی خط نہیں لکھا۔ اس بارے میں شاید آپ کی ہدایت پر عمل نہ ہو ’’زلفِ خواجہ کا اسیر24‘‘ دامِ اقبال میں کیوں کر آسکتا ہے۔ شیخ احسان الحق25 سے درخواست کیجیے کہ وہ اقبال کا اشتہار نہ دیں میں اُن کا اور آپ کا ممنون ہوں گا، اگر آپ مجھے اس زحمت سے بچائیں گے۔ آخر شاعری کی وجہ سے میں مشاہیر میں شامل ہوں گا۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ میں اپنے آپ کو شاعر تصوّر نہیں کرتا اور نہ کبھی بحیثیت فن کے میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔ پھر میرا کیا حق ہے کہ صفِ شعرا میں بیٹھوں اور کوئی وجہِ شہرت نہیں ہے۔

دُردانہ بے چاری موتیوں کا ہار دے سکتی ہے۔ مگر گردن دینے کی وہ بساط نہیں رکھتی۔

بالفاظِ دیگر یوں کہیئے کہ ’’دردانہ‘‘ دے سکتی ہے۔ اگر یہ صورت ہے تو گردن کہاں باقی رہ جائے گی وہ تو دردانہ کی ایک جزو ہے۔

والسلام

محمد اقبال از لاہور

(اقبال نامہ) اور (اتالیقِ خطوط نویسی)


خط (16) — 6 فروری 1915ء (جلد اوّل، خط 131)

ڈیر خواجہ صاحب! آپ کی سرکار سے جو خطاب، مجھے عطا ہوا ہے26، اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ لیکن وہ مثنوی جس میں خودی کی حقیقت و استحکام پر بحث کی ہے، اب قریباً تیار ہے۔ اور پریس جانے کو ہے۔ اس کے لیے بھی کوئی عمدہ نام یا خطاب تجویز فرمائیے۔ شیخ عبدالقادر صاحب نے اس کے نام اسرارِ حیات، پیامِ سروش۔ پیامِ نو۔ آئینِ نو تجویز کیے ہیں۔ آپ بھی طبع آزمائی فرمائیے اور نتائج سے مجھے مطلع کیجیے۔ تاکہ میں انتخاب کر سکوں۔

آپ کا خادمِ دیرینہ اقبال۔ لاہور

6۔ فروری 1915ء

(اقبال نامہ)

(اتالیقِ خطوط نویسی)


خط (17) — 30 دسمبر 1915ء (جلد اوّل، خط 172)

لاہور۔ 30؍ دسمبر 15ء

مخدومی خواجہ صاحب السلام علیکم

آپ کا والا نامہ مل گیا27۔ آپ کی علالت کا حال معلوم کر کے تردّد ہوتا ہے اللہ تعالیٰ صحتِ عاجلہ عطا فرمائے۔

مجھے خوب معلوم ہے کہ آپ کو اسلام اور پیغمبرِ اسلام28 سے عشق ہے پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ آپ کو ایک حقیقتِ اسلامی29 معلوم ہو جائے اور آپ اس سے انکار کریں بلکہ مجھے ابھی سے یقین ہے کہ آپ بالآخر30 میرے ساتھ اتّفاق کریں گے۔ میری نسبت بھی آپ کو معلوم ہے۔ میرا فطری اور آبائی میلان تصوّف کی طرف ہے اور یورپ کا فلسفہ پڑھنے سے یہ میلان اور بھی قوی31 ہو گیا تھا۔ کیونکہ فلسفۂ یورپ32 بحیثیتِ مجموعی وحدت الوجود کی طرف رُخ کرتا ہے، مگر قرآن33 پر تدبر کرنے اور تاریخِ اسلام کا بغور مطالعہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے اپنی غلطی معلوم34 ہوئی اور میں نے محض قرآن کی خاطر اپنے قدیم خیال کو ترک کر دیا اور اس مقصد کے لیے مجھے اپنے فطری اور آبائی رجحانات کے ساتھ ایک خوفناک دماغی اور قلبی جہاد کرنا پڑا۔

رہبانیت اور اسلام پر مضمون ضرور لکھوں گا مگر35 آپ کے مضمون کے بعد۔