(7)
ایک زیرِ عتاب مجرم کی طرح اُس نے مجھ پر ایک نظر ڈالی۔ اور کہنے لگا، ”بھائی میں کیا کہوں۔ جو کچھ میرے امکان میں تھا میں نے کیا۔ جونہی وہ بیمار پڑی اور میں نے دیکھا کہ یہ اُسی مایوسی کا صدمہ ہے تو میں فوراً مسز کٹینگ کی طرف یہ اطلاع دینے کے لئے دوڑا کہ میں کتابیں فروخت کر دینے کو تیار ہوں۔ مگر وہ کہیں باہر گئی ہُوئی تھی۔ میں نے پھر اُس کی طرف ایک خط لکھا۔ اپنی بیوقوفی پر پشیمانی ظاہر کی۔ اور اس کی خدمت میں عفوِ قصور کی التجا کی۔ اور درخواست کی کہ وہ اپنی موعودہ عنایت سے پھر مشرف فرمائے۔ کافی وقت گزر گیا ہے مگر ابھی تک اُس نے جواب نہیں دیا۔“
اُس کے ہاتھ میں ایک کتب خانے کی فہرستِ کتب تھی، جو ابھی چٹھی رساں نے آ کر دی تھی۔ بالکل بیساختہ طور پر اُس نے اوپر لپیٹا ہُوا کاغذ پھاڑا اور پہلے صفحے پر نظر بھی دوڑائی، مگر پھر یکایک جیسا کہ ضمیر نے اُس کے دل میں چُھری مار دی ہو، اُس نے فہرست کو زور سے پرے پھینک دیا۔ ”موقع ہاتھ سے نِکل چکا ہے!“ کہہ کر اُس نے کتابوں کے انباروں کے درمیان چُھٹے ہُوئے تنگ راستے پر تیزی سے دوچار قدم بھرے، ”واقعی بچاری نے لندن میں رہنا قبول کیا، واقعی اُس نے وہی منظور کیا جو مجھے پسند تھا۔ بھلا کب اُس نے کوئی بات میری مرضی کے خلاف کی؟ میں نہایت ظالم تھا۔ میں نہایت کمینہ تھا۔ جو اُس کو ایسی قربانی کرنے دی۔“ اب وہ اپنے بازوؤں کو دیوانوں کی طرح ہلا رہا تھا، ”کیا میں اُس بچاری کے نقصان کو نہیں سمجھتا تھا؟ کیا میں اُس کے چہرے پر باہر جانے کی اُمید کی خوشی نہیں دیکھتا تھا؟ میں اُس کی مرض کا سبب جانتا تھا۔ اور ٹھیک ٹھیک جانتا تھا۔ افسوس میں نے ایک خودغرض بُزدل کی طرح دیدہ و دانستہ اُس بچاری کو تکلیف میں پڑنے دیا۔ اور اُسے قریب المرگ کر کے مرنے پر مجبور کیا۔ مرنے پر۔۔۔“
میں نے کہا، ”صبر کرو، ممکن ہے ابھی مسز کٹینگ کی طرف سے جواب آ جائے۔ اور تمہارے لئے کُچھ بہتری کی خبر لائے۔“
”اب بالکل بعد از وقت ہو گا۔ میں نے بچاری کو مار ڈالا ہے۔ وہ مغرور عورت جواب نہیں دے گی۔ وہ بدمزاج اُمراء میں سے ہے۔ اور ہم نے اُس کے جذبۂ مُحسنی پر ضرب لگائی ہے۔ یہ قصور وہ کبھی معاف نہیں کرے گی۔“
دم بھرنے کے لئے کرسٹوفرسن بیٹھ گیا، مگر پھر یکایک اس طرح اُٹھ کھڑا ہوا گویا اُس کے دل کو سخت روحانی صدمات سے تکلیف ہو رہی ہو۔۔
”بچاری کی جان لبوں پر ہے“، کتابوں کی طرف دیوانہ وار اشارہ کر کے، ”یہی چیزیں ہیں جنہوں نے اُس کی زندگی برباد کی ہے، میں نے ان کے بدلے اُس کی جان بیچ دی ہے! آہ!“
آہِ سرد بھر کر اُس نے ہاتھ بڑھایا اور پانچ چھ کتابیں کھسوٹ کر، قبل اس سے کہ مجھے اُس کا ارادہ معلوم ہو جاتا، کھڑکی کی طرف دوڑا اور جھٹ اُنہیں گلی میں پھینک دیں اور اُن کے پیچھے ہی ایک اور گٹھا بھی روانہ کر دیا۔ میں نے زمین پر دھم کی آواز سنی اور اُٹھ کر کرسٹوفرسن کا بازو مضبوطی سے پکڑ لیا، اور اُسے سمجھایا کہ خدارا ذرا اپنے آپ کو سنبھالے اور تحمل سے کام لے۔
جھنجلا کر بولا، ”نہیں، نہیں۔ آپ جانے دیں۔ میں ان کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا۔ انہی نے تو میری پیاری بیوی کی زندگی تباہ کی ہے۔“
یہ الفاظ اُس نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہے اور آخری جُملے کا منہ سے نکلنا تھا کہ آنسوؤں کا تار بندھ گیا۔ اب مجھے اُس کو کتابیں پھینکنے سے باز رکھنا آسان ہو گیا۔ اُس نے میری طرف نہایت درد انگیز نظر سے دیکھا۔ اور رو کر کہنے لگا، ”آپ کو معلوم نہیں کہ وہ میرے لئے کیا کُچھ کر رہی ہے۔ جب اُس نے میرے ساتھ شادی کی۔ میں اُس سے بیس سال بڑا اور نہایت خستہ حال تھا۔ مُجھ سے اُسے مشقت اور فکر کے سوا کچھ وصول نہیں ہُوا۔ آپ کو شاید معلوم نہ ہو۔ میں سالہا سال اُسی کی کمائی پر گزارہ کرتا رہا ہوں۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ میری کتابوں کے لئے اُس نے پیٹ کاٹ کاٹ کر اور فاقے کر کر کے رقم بچائی ہے۔ ہائے میری بیوقوفی۔ مجھے اس بُری عادت نے غلام بنا کر رکھا تھا۔ عین اُسی طرح جیسے شراب خواری اور قماربازی کی لت پڑ جاتی ہے۔ ہر روز میں اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ اور اپنی خواہش کے دبانے کی قسم کھاتا تھا۔ مگر افسوس۔ میں خواہش کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔ میری بیوی نے مجھے کبھی ملامت نہ کی۔ کبھی نہیں۔ نہ لفظ سے نہ آنکھ سے۔ میں بیکاری کی زندگی بسر کرتا رہا۔ میں نے اُس کو دکان کی مشقت سے بچانے کی کُچھ کوشش نہ کی۔ آپ کو معلوم ہے؟ وہ دکان پر کام کیا کرتی تھی۔ ایسی سمجھدار، قابل اور مہذب عورت اور ایسی محنت مشقت! خیال کیجئے۔“ میں ہزار دفعہ اُس دکان کے سامنے سے گزرتا اور ہاتھ میں کتابیں لٹکائے گھر آتا۔ میری سنگدلی دیکھیے۔ وہ وہاں کام میں مشغول ہوتی اور میں (سینے میں دل رکھتے ہوئے) سامنے سے گزر جاتا۔ افسوس! صدا افسوس!
دروازے پر دستک ہوئی۔ میں کھولنے کے لئے اُٹھا، اور دیکھا کہ مالکۂ مکان حیرت زدہ چہرہ بنائے اور ہاتھوں میں کتابیں لئے کھڑی ہے۔
میں نے آہستہ سے کہا، ”کوئی بات نہیں، اتفاق سے گر پڑی تھیں، انہیں اندر نہ لاؤ، یہیں فرش پر رکھ دو“۔
کرسٹوفرسن میرے پیچھے کھڑا تھا، اور زبان کی بجائے نگاہوں سے مجھ سے سوال کر رہا تھا۔ میں نے اُسے بتایا کہ کوئی بات نہیں۔ اور اطمینان دلا کر اُسے ذرا سکون کی حالت میں پہنچایا۔ خوش قسمتی سے میرے بیٹھے بیٹھے ڈاکٹر بھی آ گیا اور قدرے افاقے کی خوشخبری سنائی۔ اُس روز مریضہ کی ذرا آنکھ بھی لگی تھی، اور زیادہ نیند آنے کا امکان بھی نظر آتا تھا۔
کرسٹوفرسن نے مجھے دوبارہ بہت جلد خبر لینے کی التجا کی اور کہا کہ یہاں آپ کے سوا میری خبرگیری کرنے والا کوئی نہیں۔ میں نے دوسرے ہی دن آنے کا وعدہ کیا۔
(8)
دوسرے دن میں دن ڈھلتے ہی چل پڑا۔ کرسٹوفرسن یقیناً میرے انتظار میں تھا۔ زنجیر کھٹکھٹانے سے پہلے دروازہ کھول دیا گیا اور کرسٹوفرسن نے ایسے بشاش چہرے کے ساتھ میرا خیر مقدم کیا، کہ میں حیران رہ گیا، میرے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر بولا، ”خط آ گیا ہے۔ مکان کی اجازت مل گئی ہے“۔
”مگر مسز کرسٹوفرسن کا کیا حال ہے؟“
”خدا کا شکر ہے، اب حالت بہت اچھی ہو گئی ہے، کل جس وقت آپ تشریف لے گئے تھے، اُس وقت سے لے کر آج صبح تک اُس کو نیند آتی رہی ہے، خط آج پہلی ڈاک میں آیا۔ میں نے اُسے بھی سنایا۔ مگر سچی سچی بات اُسے نہیں بتائی۔ اُس نے خیال کیا کہ کتابیں ساتھ لے جانے کی اجازت مل گئی ہے، اُس وقت آپ اُس کی مسکراہٹ دیکھتے۔ مگر اُس کو خبر ہوئے بغیر یہ سب فروخت کر دی جائیں گی، اگر بعد میں اُس کو معلوم ہو بھی گیا، تو کچھ پروا نہیں“۔
کرسٹوفرسن نچلی منزل کی بیٹھک میں داخل ہوا اور اپنے ایثار کے احساس سے اِدھر اُدھر خوشی خوشی چلنے لگا۔ ایک کتب فروش کو ساری کی ساری لائبریری خرید لینے کے لئے خط لکھ دیا گیا تھا۔ میں نے پوچھا ”کیا چند ایک کتابیں بھی نہیں بچا رکھو گے؟“ یقیناً کتابوں کی ایک دو الماریاں باقی رکھنا چنداں قابلِ اعتراض نہ تھا اور ساتھ ہی وہ کتابوں کے بالکل بغیر کیونکر رہ سکتا تھا؟ پہلے تو اُس نے بڑے زور سے کہا کہ ایک کتاب بھی باقی نہیں رکھی جائے گی۔ اور مرتے دم تک وہ کبھی کسی کتاب کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔ مگر میں نے رائے دی ”کہ مسز کرسٹوفرسن کا بھی خیال کرو نا۔ کیا اُس کے لئے گاہے بگاہے کچھ مطالعہ باعثِ تفریح نہ ہو گا؟“ یہ سن کر وہ ذرا سوچ میں پڑ گیا۔ ہم نے اُس معاملے پر بحث کی اور آخرکار یہ قرار پایا کہ کتابوں کا بھی ایک صندوق باقی اسباب کے ساتھ نارفوک لے جانا چاہیے۔ مسز کٹینگ کو بھی اُس پر کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ اور میں نے اُسے یقین دلایا کہ اتنی کتابوں کے لئے اُس کی اجازت ہی اجازت تصور کرنی چاہیے۔
اور ایسا ہی کیا گیا۔ نہایت خوش انتظامی سے کتابوں کے گٹھے بوریوں میں بھر کر نیچے بھیجے گئے اور گاڑی میں لاد کر روانہ کر دیے گئے۔ یہ سب کچھ اُس خاموشی کے ساتھ کیا گیا کہ مریضہ کو ذرا بھی خبر نہ ہوئی۔
آج کرسٹوفرسن کبھی کبھی اس طرح ہنستا، کہ میں نے اُسے پہلے کبھی اس طرح ہنستے نہیں دیکھا تھا، مگر مجھے یاد ہے کہ وہ کمرے کے اُس حصے پر نظر کرنے سے عمداً گریز کر رہا تھا جہاں کتابیں پڑی رہا کرتی تھیں۔ اور اثنائے کلام میں وہ کبھی کبھی سر جھکا کر کسی سوچ میں بھی پڑ جاتا تھا۔ بیوی کی صحت کی جو خوشی اُس کو محسوس ہو رہی تھی۔ اُس میں ذرہ بھر شک نہیں کرتا، البتہ جو نازک وقت اُس پر گزر چکا تھا۔ اُس کے باعث اُس کا چہرہ ذرا زیادہ معمّرانہ ہو گیا تھا۔ اور جب وہ اپنی خوشی کا اظہار کرتا تو اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے اور اُس کا سر بوڑھوں کی طرح لرز جاتا۔
لندن سے اُن کے چلے جانے سے پیشتر میں نے مسز کرسٹوفرسن کو دیکھا۔ ایک زرد رو، دبلی پتلی سی عورت تھی، جو خوبصورت غالباً کبھی نہ رہ چکی ہو گی، لیکن اُس کا چہرہ (اگر چہروں میں اس اظہار کی قابلیت ہے تو) ایک دلیر اور وفادار روح ظاہر کرتا تھا۔ وہ نہ خوش تھی اور نہ غمگین، لیکن میں نے جو بار بار اُس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا، تو مجھے اُس پر ایسی کامل شکر گزاری کی جھلک نظر آئی، کہ گویا قسمت نے اُس کی سب دلی مرادیں پوری کر دی تھیں۔
