جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کتابوں کا کیڑا

اسی اثناء میں مَیں خیالات میں محو ہو گیا۔ میں کرسٹوفرسن کے دل کی حالت کو محسوس کر رہا تھا۔ اور ساتھ ہی (اگرچہ میں مسز کٹینگ کو ذاتی طور پر نہیں جانتا تھا) مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا۔ کہ اُس کی عنایات اس قسم کی ہیں۔ جن میں بہت کُچھ بوجھ اور گرانی ہے۔ بہر کیف، کیا مسز کرسٹوفرسن ناخوش ہو گی؟ کیا وہ ایثار کی زندگی بسر کرنے والی عورت نہیں ہے؟ جو خود تکلیف برداشت کرتی ہے مگر ایسا کام نہیں ہونے دیتی جس سے اُس کے خاوند کو تکلیف ہو؟

مگر یہ نقطۂ خیال پومفریٹ کو غصہ دلاتا تھا۔ وہ کبھی کرسٹؤفرسن کو اور کبھی مسز کٹینگ کو ملامت کرتا۔ یہ معاملہ اُس کے نزدیک پرلے درجے کی خجالت تھی۔ آخرکار میں بھی کچھ نہ کچھ اُس کی رائے کی طرف مائل ہو گیا۔

(5)

دو تین دن کے بعد جذبۂ رازجوئی پھر مجھے کرسٹوفرسن کے گھر کی طرف کھینچ لے گیا۔ گلی میں چلتے ہُوئے میں نے اُن کی کھڑکی کی طرف نظر کی تو بوڑھے مجنون الکُتب کا چہرہ نظر آیا۔ بظاہر وہ یونہی کھڑکی کے قریب کھڑا ہوا تھا، اور شاید کچھ اداس بھی تھا۔ اُس نے فوراً میری طرف اشارہ کیا اور ابھی مَیں دروازے کے قریب ہی تھا کہ وہ جھٹ نیچے اُتر کر مُجھے آ ملا، اور بولا۔ ”میں بھی آپ کے ساتھ چلوں؟“

اُس کے چہرے پر تفکّر کے آثار تھے، کُچھ دیر تو ہم چُپ چاپ اکٹھے چلے گئے، آخر میں نے یونہی بےپروائی سے پوچھا، ”آپ نے غالباً باہر جانے کا ارادہ بدل دیا ہے؟“

آپ نے مسٹر پومفریٹ ہی سے سُنا ہو گا نہ؟ ہاں، بالفعل ہم جہاں ہیں یہیں رہیں گے“۔

یہ الفاظ اُس نے نہایت تشویش اور دل شکستگی کے عالم میں کہے، اور چلنے میں بھی اُس کے شانے گرے ہوئے اور سر نیچے جھکا ہوا تھا، بلکہ چل نہیں رہا تھا، اپنے آپ کو گھسیٹتا جا رہا تھا۔ اُس کی حالت کُچھ ایسے شخص کی سی تھی جس سے کہ کوئی عجیب کمینہ پن کا فعل سرزد ہوا ہو۔

کہنے لگا۔ ”آپ کو سچ بتاؤں۔ سب تکلیف اُنہی کتابوں ہی کی ہے (دورانِ گفتگو میں میری طرف کنکھیوں سے دیکھتا جا رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ کانپ بھی رہا تھا)۔ آپ دیکھتے ہیں کہ میرے واقعات کُچھ اچھے نہیں ہیں۔ (ذرا ہنس کر) بات یہ ہے کہ میری بیوی کی ایک رشتہ دار کی طرف سے ہمیں خاص شرائط پر ایک مکان کا وعدہ کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے میری لائبریری ہی اُس کے لئے قابلِ اعتراض ٹھیری۔ نہایت قابلِ اعتراض۔ بس ہم نے آپس میں متفقہ فیصلہ کر لیا ہے کہ جہاں ہیں وہیں رہیں“۔

میں اس بات پر زور دے کر پوچھنے سے نہ رہ سکا کہ کیا مسز کرسٹوفرسن نے دیہات کی زندگی کی بھی پروا نہ کی؟ مگر یہ الفاظ منہ سے نکالتے ہی مجھے پشیمانی ہوئی، کیونکہ ان الفاظ نے میرے دوست کو صریحاً صدمہ پہنچایا۔

کہنے لگا، ”اُس کی تو عین خواہش تھی“ اور ساتھ ہی ایک عجیب درد انگیز نظر مجھ پر ڈالی، جیسا کہ مُجھ سے صبر کی درخواست کر رہا ہو۔

میں نے پوچھا، ”کتابوں کے لئے کوئی اور انتظام نہیں ہو سکتا تھا؟ مثلاً، کسی اور قریبی مکان میں ایک کمرہ ان کے لئے لیا جاتا“۔

اُس سوال کا مجسّم جواب کرسٹوفرسن کا چہرہ تھا، جس نے مجھے اُس کی بیزاری پھر سے یاد دلا دی، کہنے لگا، ”اب ہم اس پر مزید غور و فکر نہیں کرتے۔ بات کا فیصلہ ہو چکا ہے اور فیصلہ بھی بالکل مکمل“۔

اب ہم نے اُس مضمون کو چھوڑ دیا اور اگلے دوراہے پر پہنچ کر علیحدہ ہو گئے۔

(6)

اُس روز کے بعد ابھی ہفتہ نہ ہُوا ہو گا۔ کہ مجھے پومفریٹ کی طرف سے ایک پوسٹ کارڈ موصول ہُوا جس پر اتنا لکھا تھا۔ ”آخر ویسا ہُوا جیسا کہ اُمید تھی۔ مسز ”ک“ سخت بیمار ہے، اور بس“۔

مسز ”ک“ سے یقیناً مسز کرسٹوفرسن مراد تھی۔ میں یہ خبر پڑھ کر فکر میں پڑ گیا۔ میرے دل میں طرح طرح کے خیالات پیدا ہونے لگے، اور میرے جذبات اور احساسات میں حرکت سی پیدا ہو گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اُسی روز پچھلے پہر میں پھر اُس دلچسپ گلی کی طرف روانہ ہوا۔

کھڑکی پر کوئی نظر نہ آیا۔ ذرا سے توقف کے بعد میں نے پومفریٹ کی چچی کو بلانے کا ارادہ کیا، اور اُسی نے آ کر دروازہ کھولا۔ ہم نے ایک دوسرے کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، مگر جب میں نے اپنا نام بتایا اور مسز کرسٹوفرسن کے متعلق دریافت کیا، تو وہ مجھے ایک نشستگاہ میں لے گئی، اور آہستہ سے کہنے لگی، ”ہاں مسز کرسٹوفرسن پرسوں سے بیمار ہے۔ مرضِ بیہوشی کے ایک لمبے دورے سے شروع ہوا۔ رات بخار کی وجہ سے بے خوابی میں گزری۔ اُسی وقت ڈاکٹر بلوایا گیا۔ ڈاکٹر نے آتے ہی اُسے کتابوں سے بھری ہوئی گندی ہوا والی خوابگاہ سے نِکلوا کر ایک اور کمرے میں سُلوایا جو حُسنِ اتفاق سے اُس روز خالی پڑا تھا۔ اب تک وہ اُسی کمرے میں لیٹی ہوئی ہے۔ بیچاری نہایت کمزور اور درماندہ ہو رہی ہے۔ آواز تک نہیں نکال سکتی۔ گاہے گاہے اپنے خاوند کو دیکھ کر مُسکرا دیتی ہے، جو رات دن اُس کے سرہانے بیٹھا رہتا ہے۔ وہ خود بھی بہت جلد صاحبِ فراش ہو جائے گا۔ اب وہ ایک بُھوت کی طرح دکھائی دیتا ہے اور نیم مُردہ سا معلوم ہوتا ہے۔

میں نے پوچھا، ”اُس بیماری کا باعث کیا ہو گا؟“

اُس عورت نے میری طرف ایک اچنبھے کی نظر سے دیکھا اور سر ہلا کر آہستہ سے بولی، ”باعث چھپا ہوا تو تھوڑا ہی ہے“۔

میں نے پوچھا، ”شاید مایوسی کا ہی اثر ہو؟“

کہنے لگی، ”اس میں کیا شک ہے۔ عرصے سے بچاری کی طاقت زائل ہوتی جا رہی تھی۔ اس صدمے سے رہی سہی طاقت بھی باقی نہ رہی“۔

میں نے کہا، ”آپ کے بھتیجے کے ساتھ بھی یہی تذکرہ ہوتا رہا، اُن کا خیال ہے کہ مسٹر کرسٹوفرسن کو اُس ایثار کا کماحقۂ احساس نہیں ہے، جس کے لئے اُس نے اپنی بیوی کو مجبور کر رکھا ہے“۔

بولی، ”میرا بھی یہی خیال ہے، مگر اب اُس نے محسوس کرنا شروع کیا ہے، اب وہ اُس کے سوا کُچھ نہیں کہتا“۔

دروازے پر کھٹ کھٹ کی آواز ہوئی، اور ایک تیز اور کانپتی ہوئی آواز نے پومفریٹ کی چچی سے اوپر چلنے کی التجا کی۔

وہ پوچھنے لگی، ”کیا ہے؟“

کرسٹوفرسن نے گھبرایا ہوا چہرہ میری طرف کیا، اور مجھے پہچان کر حیرت زدہ بھی ہوا۔ مگر میرے ساتھ بات تک نہ کی اور یہ کہتا ہوا، ”اُس کی حالت زیادہ خراب ہو گئی ہے، براہِ مہربانی جلدی آؤ،“ مالکۂ مکان کو ساتھ لے کر فوراً اوپر چڑھ گیا۔

میں اب جا بھی نہ سکتا تھا۔ کوئی دس منٹ تک میں اُسی کمرے میں گھر کی ہر آواز پر کان لگائے ہوئے بے چین بیٹھا رہا، اتنے میں سیڑھیوں پر پاؤں کی آہٹ ہوئی، اور مالکۂ مکان آ پہنچی۔ کہنے لگی، ”کچھ بھی نہیں، اگر آرام سے پڑی رہی تو اُمید ہے آج اُس کو نیند بھی آ جائے۔ یہ اُس کے پاس بیٹھا ہوا گھڑی گھڑی اُس سے حال پوچھتا رہتا ہے اور اُس طرح اُسے دق کیے رکھتا ہے۔ میں نے اب اُسے اپنے کمرے میں چلے جانے کو کہہ دیا ہے۔ میرا خیال ہے اگر آپ اُس کے پاس چلے جائیں اور اُسے ذرا باتوں میں لگائیں تو اُس کے لئے مفید ثابت ہو گا۔

میں فوراً دوسری منزل کی نشستگاہ میں پہنچا اور دیکھا کہ کرسٹوفرسن ایک کُرسی پر سر آگے کو جُھکائے اُداسی کا مجسمہ بنا بیٹھا ہے، جب میں قریب پہنچا تو وہ ذرا لڑکھڑاتے ہوئے اُٹھا، اور نہایت خجالت کے عالم میں اُس نے ذرا جھجک کر مجھ سے ہاتھ ملایا، مگر آنکھیں اونچی نہ کر سکا۔

میں نے دل جمعی اور حوصلہ افزائی کے چند الفاظ کہے مگر انہوں نے اُس پر میری خواہش کے عین متضاد اثر پیدا کیا۔

درد بھری آواز سے بولا۔ ”بھئی کُچھ نہ کہو۔ وہ بچاری قریب المرگ ہے۔ بالکل قریب المرگ۔ کوئی کُچھ کہے، میں خوب سمجھتا ہوں۔“

”علاج کرنے والا کوئی اچھا ڈاکٹر ہے؟“

”ہاں ڈاکٹر تو اچھا ہے، مگر علاج اب بعد از وقت ہے، بالکل بعد از وقت ہے۔“

یہ کہہ کر اُس نے پھر اپنے آپ کو کُرسی پر گرا دیا اور میں بھی قریب چُپ چاپ بیٹھ گیا۔ ایک دو منٹ کے بعد یکایک دروازے پر کُچھ آہٹ سی معلوم ہوئی۔ کرسٹوفرسن کُرسی پر سے اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ اور نہایت تیزی سے کمرے کے باہر دروازے کی طرف جھپٹا۔ میں اس خوف سے کہ کہیں وہ دیوانہ نہ ہو گیا ہو، سیڑھیوں تک اُس کے پیچھے دوڑا۔ مگر اتنے میں وہ پھر پہلے کی طرح اُداسی اور پریشانی کی حالت میں اُوپر آ گیا۔ اور کہنے لگا، ”چٹھی رساں تھا۔ میں ایک خط کے انتظار میں ہوں۔“

اُس کی حالت دیکھ کر بات چیت ممکن نظر نہ آتی تھی، لہٰذا میں نے رخصت کی تمہید کے طور پر ایک دو الفاظ کہے، مگر کرسٹوفرسن نے مجھے اُٹھنے نہ دیا۔