”کیونکہ وہ عورت ہی اس قسم کی ہے، اُس کو جاننا نہ جاننے سے بہتر ہے۔ اور بس، وہ ایک شریف خاتون ہے، کرسٹوفرسن کے شریف ہونے سے بھی البتہ کسی کو انکار نہیں، اور اگر وہ ایسا نہ ہوتا، تو میرا خیال ہے میں نے کبھی کا اُس کا سر پھوڑ دیا ہوتا۔ میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں، میں اُن کے ساتھ ایک ہی گھر میں کئی سال رہ چکا ہوں، یہ عورت، کیا کہوں، سر کی چوٹی تک شریف ہے۔ مگر میں نہیں سمجھتا کہ جیسی زندگی وہ بسر کر رہی ہے، اُس کا خاوند کس طرح ٹھنڈے دل سے دیکھ رہا ہے، قسم ہے، اگر مجھے ایسی عورت کو آرام میں رکھنے کے لیے کوئی اور ذریعہ نہ ملتا، تو یقیناً میں چور اور ٹھگ بننے سے بھی گریز نہ کرتا“۔
”تو کیا وہ اپنی روزی خود کماتی ہے؟“
”ہاں۔ اور ساتھ خاوند کے لیے بھی۔ پڑھانے کا کام نہیں، کچہری روڈ پر ایک دکان ہے، اس میں کام کرتی ہے، جگہ اچھی ہے۔ کوئی تیس شلنگ ہفتہ وار پیدا کر لیتی ہے۔ اور یہی اُن کی کل آمدنی ہے۔ مگر کرسٹوفرسن اس میں سے بھی کتابیں خریدا کرتا ہے“۔
”تو کیا اس شادی کے بعد اُس نے کوئی کام نہیں کیا؟“
’’غالباً پہلے چند سال تک وہ کچھ کرتا رہا، مگر بیمار پڑ گیا اور بس خاتمہ بالخیر۔ اُس وقت سے اب تک وہ بیکاری کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ جہاں کتابیں فروخت ہوتی ہوں جھٹ وہاں پہنچتا ہے۔ اور باقی وقت سیکنڈ ہینڈ کتب خانوں کی بو سونگھنے میں گزار دیتا ہے۔ اُس کی بیوی؟ نہیں وہ اس کے متعلق شکایت کا ایک حرف بھی منہ سے نہیں نکالتی۔ اُس سے کبھی ملو نا۔ تب تم پر سب کچھ روشن ہو جائے گا؟‘‘
میں نے کہا، ”اچھا۔ مگر اب کیا بات ہوئی ہے جو وہ شہر کو چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں؟“
”ہاں، سنو، میں ابھی خود بخود یہی بیان کرنے کو تھا۔ مسز کرسٹوفرسن کے رشتہ دار اچھی حالت میں ہیں، اُن میں سے اکثر بفضلِ خدا موٹے آدمی ہیں، مگر جہاں تک مجھے معلوم ہوتا ہے، خود غرض، کیونکہ اس وقت تک اُن میں سے کسی نے بھی بچاری کی امداد کو ہاتھ نہیں ہلایا۔ اُن میں سے ایک مسز کیٹنگ ہے، جو کسی شہری امیر کی بیوہ ہے۔ خدا تمہارا بھلا کرے، نارفوک کے علاقے میں اس عورت کے مکانات ہیں، مگر وہاں رہتی کبھی نہیں، البتہ کبھی کبھی اس کا بیٹا وہاں مچھلیاں پکڑنے اور شکار کھیلنے کے لیے جا نکلتا ہے۔ باہر جانے کے متعلق مسز کرسٹوفرسن نے میری چچی کو تو اتنا بتایا ہے کہ مسز کیٹنگ نے اُسے اور اُس کے خاوند کو اپنے مکان میں رہنے کی اجازت دی ہے۔ کرایہ بھی معاف اور خوراک وغیرہ بھی مُفت۔ فقط اس شرط پر کہ گھر کا سارا انتظام مسز کرسٹوفرسن کے ذمے ہو گا۔ اور وہ آئے گئے مہمان کے لیے گھر کو تیار رکھے گی“۔
”میرا خیال ہے کرسٹوفرسن تو یہیں شہر میں رہنے کو ترجیح دیتا ہو گا؟“
”البتہ بھلا وہ کتابوں کی دوکانوں کے بغیر کیوں کر زندہ رہ سکتا ہے۔ پھر بھی بیوی کی خاطر سے وہ اس پر بھی راضی ہے۔ یہ بھی بتا دوں کہ اُس کی بیوی بھی اب کام سے رہ گئی ہے۔ میری چچی کہتی ہیں کہ بچاری اب نہایت کمزور اور درماندہ ہو گئی ہے۔ اگرچہ شکایت تو اُس کے مُنہ میں ہے ہی نہیں۔ لیکن وقتاً فوقتاً دیہات کا نام لیتی ہے۔ جہاں وہ پہلے رہا کرتی تھی۔ میں نے ایک ہفتہ ہُوا اُسے دیکھا تھا۔ عین اُسی روز مسز کیٹنگ کی طرف سے اُنہیں دعوت موصول ہُوئی تھی۔ میں سچ کہتا ہوں۔ میں اُسے پہچان نہ سکا۔ اس قسم کا فوری تغیر کبھی کسی کے چہرے پر دیکھنے میں نہیں آیا۔ اُس کا چہرہ ایسا بشاش ہو گیا جیسا کہ ایک سترہ سالہ لڑکی کا۔ اور اُس کی مُسکراہٹ۔ کاش اُس وقت تم نے خود دیکھی ہوتی!“
میں نے پوچھا۔ ”اپنے خاوند سے تو وہ بہت کم عمر ہو گی“۔
”کوئی بیس برس چھوٹی ہے۔ اس وقت میرا خیال ہے۔ چالیس برس کی ہو گی“۔
میں نے تھوڑی دیر کے تفکّر کے بعد پوچھا، ”بہرحال اُن کی زنا شوئی کی زندگی نا خوش تو نہیں گزری؟“
پومفریٹ نے بے اختیار ہو کر کہا۔ ”ناخوش؟ میں دعوےٰ سے کہتا ہوں کہ آج تک اُن کے درمیان ذرا بھی رنجش کی گفتگو نہیں ہٗوئی۔ اگر کرسٹوفرسن کی طرزِ زندگی میں بھی انقلاب آ جائے تو پھر اس جوڑے کو دُنیا کی کسی چیز کی ضرورت نہ رہ جائے۔ وہ ہر وقت کتابوں ہی پر گر پڑا ہے“۔
میں نے بات کاٹ کر کہا۔ ”اور یہ بھی کہتے ہو کہ اُس کی کتابیں بھی بیوی کے تیس شلنگوں ہی میں سے خریدی جاتی ہیں“۔
”نہیں نہیں۔ شروع میں تو اُس کی پرانی لائبریری میں سے کُچھ کتابیں بچ رہی تھیں، اور جن ایّام میں وہ خود برسرِ روزگار تھا، بہت کُچھ اس وقت خریدیں۔ میں نے اُسی کی زبانی سُنا ہے کہ بعض اوقات کتابوں کے لئے رقم بچانے کی خاطر اُس نے چھ پنس روزانہ پر بھی گزارہ کیا ہے، واقعی یہ شخص ایک بُڈھا اُلّو ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ ایک شریف آدمی ہے اور خواہ مخواہ دل میں سما جاتا ہے۔ اُس کے باہر چلے جانے پر ہمیں افسوس ضرور ہو گا“۔
اگر مجھ سے پوچھو تو میں چاہتا تھا کہ بہت جلد کرسٹوفرسن کے باہر چلے جانے کی خبر سنوں۔ جو باتیں میں نے ابھی سنی تھیں، اُنہوں نے مجھے بے چین کر رکھا تھا۔ مجھے یہ خیال بہت اچھا معلوم ہوتا تھا کہ بچاری آخر مشقت کی زندگی سے رہائی پائے اور بہار کے خوشگوار ایام میں اپنے مالوف دیہات میں رہ کر لُطف اُٹھائے۔
ساتھ ہی کرسٹوفرسن کی طرف سے رشک کا احساس بھی ہوتا تھا، جس کے لئے ضخیم کتابوں میں نگاہیں گاڑ رکھنے سے بڑھ کر دُنیا میں کوئی دلچسپ مشغلہ نہیں تھا اور یقیناً اپنی پرانی آمد و رفت کی جگہوں سے علیٰحدہ ہو جانے پر اُس کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا لازمی نظر آتا تھا۔ میں نے ایک دو دن کے اندر اُس کو ملنے کا ارادہ کر لیا اور اتوار کے دن کو ترجیح دی، کیونکہ اس روز اُس کی بیوی سے ملنے کا اتفاق بھی ممکن تھا۔
(4)
اتوار کے پچھلے پہر میں اُن کے ہاں جانے کو تیار بیٹھا تھا کہ پومفریٹ آ پہنچا، اُس کی نگاہوں میں ذرا دُرشتی سی تھی اور کمرے میں داخل ہوتے وقت اُس نے خلاف وضع خواہ مخواہ دہلیز کو پاؤں سے ٹھکرا کر اندر قدم رکھا۔ اُس کی آمد بھی بالکل ناگہانی تھی، اگرچہ میں نے اُسے اپنا پتہ بتایا ہوا تھا، مگر مجھے یہ امید نہ تھی کہ وہ کبھی مجھے ملنے آئے گا۔
آتے ہی غصہ بھری بلند آواز سے بولا، ”کبھی اس قسم کی بات بھی سُنی ہے؟ سارا کھیل ختم۔ جانا وانا بند، اور اُس کا باعث صرف وہی کتابیں!“
بڑبڑاتے ہُوئے اس نے جو کُچھ ابھی اپنی چچی کے گھر سنا تھا، مجھے سنایا۔ ایک روز پیشتر مسز کیٹنگ چند رشتہ داروں سمیت کرسٹوفرسن کے گھر اچانک آ نکلی تھی۔ یہ لیڈی اُس دن سے پہلے کبھی اُن کے ہاں نہیں آئی تھی اور اُس روز یقیناً وہ اُسی مجوزہ نقلِ مکان کے متعلق ہی کُچھ بات چیت کرنے آئی ہو گی۔ اُن کی گفتگو کا آخری حصہ پومفریٹ کی چچی نے سُن لیا تھا، کیونکہ مسز کیٹنگ سیڑھیوں سے اُترتے وقت زور زور سے کہہ رہی تھی۔ ”ناممکن۔ بالکل ناممکن۔ میں ایک منٹ کے لئے بھی یہ تصّور نہیں کر سکتی۔ بھلا میں کب اپنے گھر کو اُن اُبسی ہوئی کتابوں سے بھرنے دیتی ہوں۔ نہایت مضر صحت۔ میں نے اس قدر عجیب بات عمر بھر کبھی نہیں دیکھی تھی“۔ یہی کہتی ہُوئی وہ اُتری اور گاڑی پر بیٹھ کر چلی گئی۔ مالکۂ مکان نے اب اوپر چڑھنے کا موقعہ دیکھ کر، لیکن کرسٹوفرسن کے کمرے میں مکمل خاموشی پا کر، دروازہ کھٹکھٹایا اوپر جانے پر میاں بیوی کو پہلو بہ پہلو بیٹھے ہُوئے اور اُداسی سے مُسکراتے ہُوئے دیکھا۔ دریافت کرنے پر اُنہوں نے سارا معاملہ بیان کیا کہ مسز کٹینگ صرف اس لئے آئی تھی کہ مسز کرسٹوفرسن نے ایک خط میں اپنے خاوند کی کتابوں کا ذکر کیا تھا اور اُن کے لئے اجازت طلب کی تھی۔ اب وہ لائبریری کو دیکھنے کے لئے آئی تھی، جس کا نتیجہ یہ ہوا جو بیان کیا جا چکا ہے۔ اب اُن کے لئے دو راستے تھے: یا کتابوں کو قربان کریں ورنہ مسز کیٹنگ کی موعودہ مہربانی سے محروم رہیں“۔
میں نے پوچھا۔ ”تو کیا کرسٹوفرسن نے صاف انکار کر دیا؟“
”میرا خیال ہے خود اُس کی بیوی نے محسوس کیا ہو گا کہ کرسٹوفرسن کتابوں کی جدائی برداشت نہ کر سکے گا، بہرحال نتیجہ یہ ہے کہ اُنہوں نے دیہاتی گھر کو جانے دیا ہے، مگر کتابوں کو نہیں چھوڑا۔ یہ ہے اُن کا فیصلہ“۔
