جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کتابوں کا کیڑا

ہم نے کتابوں کے متعلق باتیں شروع کر دیں، اور اکٹھے واپس مڑ کر گفتگو کو جاری رکھا۔ کرسٹوفرسن تربیت یافتہ ہونے کے علاوہ نہایت ذہین اور صاحبِ علم بھی تھا۔ جب اُس نے اپنے مخصوص شرمیلے پن کے ساتھ گفتگو میں علمیت کا ثبوت دینا شروع کیا، تو میں نے تحریر و تصنیف کے متعلق سوال کیا جس پر اُس نے جواب دیا۔ ”نہیں جناب، میں نے کچھ لکھا کبھی نہیں۔ میں تو کتابوں کا کیڑا ہوں“۔ یہ کہہ کر وہ ہنسا اور اجازت لے کر چل دیا۔

بہت عرصہ نہ گزرا تھا کہ ہمیں پھر ملنے کا اتفاق ہوا۔ میرے گھر کے قریب ہی ایک گلی کے سرے پر وہ میرے سامنے آیا۔ اس دفعہ مجھے اُس کے چہرے پر بڑا تغیر نظر آیا۔ اب وہ پہلے سے زیادہ بوڑھا معلوم ہوتا تھا۔ چہرے پر اُداسی نے سیاہی پھیلا رکھی تھی۔ مصافحے کے وقت اُس کا ہاتھ بھی ذرا لچلچا سا محسوس ہُوا۔ اور ملاقات کی خوشی کا اظہار بھی اُس نے مدھم طور پر کیا۔

میرا سراپا سوال نگاہوں کا جواب اس نے یہ دیا کہ ”بھئی میں باہر جا رہا ہوں، لندن سے ہجرت ہونے والی ہے“۔

”مگر کوئی خیر کا کام ہے؟“

”مجھے بھی یہی خطرہ ہے، لیکن پھر بھی خوش ہوں۔ میری بیوی کی پچھلے دنوں سے ذرا طبیعت اچھی نہیں، اور اُس کے لئے دیہات کی کُھلی ہوا کی ضرورت ہے، ہاں، میں خوش ہوں کہ ہم نے باہر جانے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔ بہت خوش ہوں، واقعی بہت خوش ہوں“۔

ان الفاظ پر وہ مصنوعی طور پر زور دے رہا تھا۔ اس کی آنکھیں ادھر اُدھر گردش کر رہی تھیں۔ اور ہاتھ بل کھا رہے تھے۔ میں ابھی انتخابِ مقام کے متعلق سوال کرنے ہی کو تھا کہ اُس نے یکایک کہا۔ ”میرا گھر یہاں پاس ہی ہے۔ کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آپ کو اپنی کتابیں دکھاؤں؟“

میں نے خوشی سے اُس کی دعوت قبول کی اور کوئی دو منٹ میں ہم ایک عمدہ گلی میں پہنچے، جس کے اکثر گھروں کے دروازوں پر سائن بورڈ لگے ہُوئے تھے۔ ہم ایک دروازے پر رُکے، مگر میرا ساتھی ذرا کچھ اس طرح جھجکا، جیسا کہ مجھے دعوت دینے پر پچھتا رہا ہو۔

ذرا سہم کر بولا۔ ”افسوس کہ میرا گھر آپ کے شان کے لائق نہیں۔ بات یہ ہے کہ میرے پاس اتنی جگہ بھی نہیں کہ آپ کو کتابیں بطریقِ احسن دکھا سکوں“۔

میں نے اس کا اعتراض ٹال دیا، اور ہم اندر داخل ہُوئے۔ کرسٹوفرسن مجھے نہایت ادب سے تنگ سیڑھیوں پر چڑھاتا ہُوا دوسری منزل پر لے گیا اور سامنے کا دروازہ کھول دیا۔ میں دہلیز پر حیران کھڑا رہ گیا۔ کمرہ نہایت ہی چھوٹا تھا۔ اور کسی طرح بھی خانگی ضروریات کے لئے مکتفی نہیں تھا۔ جیسا کہ وہ استعمال کر رہے تھے۔ کمرے کی بلا مبالغہ تقریباً ایک تہائی کتابوں سے پٹی پڑی تھی، دو دیواروں کے آگے فرش سے لے کر چھت تک کتابوں کی دیواریں کھڑی ہُوئی تھیں۔ فرنیچر صرف ایک گول میز اور تین کُرسیوں پر مشتمل تھا، البتہ اس سے زیادہ کی جگہ ہی نہ تھی۔ کھڑکی بند تھی۔ اور اُس پر دھوپ پڑ رہی تھی۔ ہوا نہایت کثیف ہو رہی تھی۔ واقعی میں نے جلدوں اور چھاپے کی سیاہی کی بُو سے اس قدر تکلیف پہلے کبھی نہیں اُٹھائی تھی۔

میں نے کہا۔ ”آپ تو کہتے تھے کہ فقط چند کتابیں باقی رہ گئی ہیں۔ مگر یہاں تو میری کتابوں سے بھی پانچ گُنی موجود ہیں“۔

ذرا بے چینی کے ساتھ بولا۔ ”ہاں۔ مُجھے پوری تعداد یاد نہیں رہتی۔ آپ دیکھتے ہیں نا۔ میں ان کو با ترتیب نہیں رکھ سکتا۔ کُچھ اور بھی ہیں۔ دوسرے کمرے میں“۔

مجھے ساتھ لے کر اُس نے ایک اور دروازہ کھولا اور ایک چھوٹی سی خوابگاہ دکھائی۔ اگرچہ اس میں کتابوں کی اتنی بھرمار نہیں تھی، پھر بھی ایک دیوار کو کتابوں نے پوری طرح سے چھپا رکھا تھا۔ کتابوں کی بُو سے بھری ہوئی ہوا میں ہر شب دو شخصوں کے سونے کا خیال کر کے میرے دل میں کراہت اور نفرت سی پیدا ہو رہی تھی۔

ہم نشستگاہ کی طرف واپس آئے، کرسٹوفرسن کتابیں چُن چُن کر مُجھے دکھاتا جاتا تھا۔ نیز شکستہ آواز میں اور کبھی کبھی آہِ سرد بھرتے ہُوئے۔ اپنی سوانح عمری پر بھی روشنی ڈالتا جاتا تھا۔ مجھے معلوم ہُوا کہ آٹھ سال سے وہ اس مکان میں سکونت پذیر تھا۔ اُس نے دو شادیاں کی تھیں۔ پہلی بیوی سے صرف ایک لڑکی ہُوئی جو بچپن ہی میں مر گئی تھی۔ اور آخرکار ایک خوش آئند مُسکراہٹ کے ساتھ اس نے یہ راز بھی کھولا کہ دوسری بیوی اُس کی لڑکی کی اُستانی تھی۔ اس عجیب گھرانے کے مزید حالات معلوم کرنے کی اُمید پر میں نے اُس کی باتوں کو زیادہ گہری دلچسپی سے سُننا شروع کیا۔

میں نے کہا، ”دیہات میں تو یقیناً آپ کو کتابوں کے لیے طاقچوں والا کمرہ مل سکے گا؟“

اُس کا چہرہ فوراً اُتر گیا اور اُس نے میری طرف حسرت بھری نظروں سے دیکھا۔ میں ابھی کچھ اور کہنے کو تھا کہ گھر کے اندر کی ایک آواز نے میری توجہ کو اپنی طرف کھینچا۔ سیڑھیوں پر بھاری قدموں کی آہٹ معلوم ہوئی اور کانوں کو ایک مانوس، بلند آواز سنائی دی۔

کرسٹوفرسن چونک کر بولا۔ ”اہا! کوئی میری کتابیں اُٹھوانے میں مدد کرنے والا آ رہا ہے! آئیے مسٹر پومفریٹ۔ اندر تشریف لائیے!“

(3)

دروازہ کھلا اور ایک بلند قامت، دُبلا سا آدمی ظاہر ہُوا۔ جس کے پریشان بال، نیلو فری آنکھیں، باہر کو نکلے ہوئے جبڑے اور فراخ منہ مجموعی طور پر ایک ایسی تصویر بنا رہے تھے۔ جس سے سنجیدگی کم اور زبردست مگر خوش آئند مردانگی زیادہ ظاہر ہوتی تھی۔ اُس کی آواز کا مانوس معلوم ہونا بھی کچھ عجب نہ تھا اگرچہ ہمیں ایک دوسرے سے ملنے کا موقع عموماً بڑی مدتوں کے بعد ہُوا کرتا تھا۔ لیکن مسٹر پومفریٹ اور میں ایک دوسرے سے شناسائی تھی۔

مجھے دیکھ کر بولا، ”خوب! مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ بھی مسٹر کرسٹوفرسن کو جانتے ہیں“۔

میں نے بھی یہی جواب دیا کہ آپ کو ان کا واقف پا کر مجھے بھی تعجب ہے۔

بوڑھے عاشقِ کتب نے ہم پر ایک حیرت کی نگاہ ڈالی اور پھر نو وارد سے مصافحہ کیا، جو اُسے کسی قدر عامیانہ مگر مؤدبانہ طریقے سے ملا۔

پومفریٹ یار کشائری لہجے میں بولتا تھا اور اُس کی تراش خراش بھی دیسی ہی تھی، جیسی کہ یارکشائر والوں کے لیے مخصوص ہے۔ وہ صرف یہی اطلاع کرنے آیا تھا کہ مسٹر کرسٹوفرسن کی لائبریری کے نقلِ مکان کا پورا پورا بندوبست کر لیا گیا ہے، فقط دن مقرر کرنا باقی ہے۔

کرسٹوفرسن بولا۔ ”جلدی کی کوئی ضرورت نہیں۔ مسٹر پومفریٹ۔ آپ جس قدر تکلیف کر رہے ہیں میں اس کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تاریخ روانگی ہم ایک دو دن کے اندر اندر مقرر کر لیں گے۔ ہاں۔ ایک یا دو دن کے اندر اندر“۔

ایک خوش مزاجانہ جنبشِ سر کے ساتھ پومفریٹ رخصت ہونے کے لیے اُٹھا۔ ہماری آنکھیں ایک دوسرے سے چار ہُوئیں۔ اور ہم اکٹھے اُس گھر سے باہر نکلے۔ گلی میں آتے ہی میں نے کھلی ہوا میں ایک گہرا سانس کھینچا۔ دم گھٹنے والے کمرے سے نکل کر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گویا کسی سبزہ زار میں پہنچ گیا ہوں۔

میرے ساتھی نے بھی صریحاً ایسا ہی محسوس کیا۔ اور آسمان کی طرف دیکھ کر کندھے پھیلا کر بولا۔ ”آہا آج دن بہت اچھا ہے۔ آج تو کسی باغ کی سیر کرنے کو جی چاہتا ہے“۔

اس پر ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ وہاں سے نزدیک ترین سبزہ زار ریجنٹ پارک ہی میں ذرا گلگشت کریں۔ پومفریٹ کو تو جانا ہی اُسی طرف تھا اور میں کرسٹوفرسن کے متعلق تبادلۂ خیالات کرنے کے لیے ساتھ ہو لیا۔ باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ جس مکان میں کرسٹوفرسن رہتا ہے، اُس کی مالکہ پومفریٹ کی چچی ہے۔ اس بات کی بھی تصدیق ہوئی کہ کرسٹوفرسن کی خوشحالی اور پھر بربادی کی کہانی لفظ بہ لفظ دُرست تھی، تباہی اس قدر مکمل ہوئی تھی کہ چالیس برس کی عمر میں اُسے کلرکی یا اسی قسم کی نوکری ہی سے گزارہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس سے تقریباً پانچ سال بعد اُس نے دوسری شادی کر لی۔

پومفریٹ نے مجھ سے پوچھا، ”کیا آپ مسز کرسٹوفرسن کو بھی جانتے ہیں؟“

اس نے کہا، ”نہیں، اگرچہ میری خواہش ہے، مگر کیوں؟ کوئی خاص بات ہے؟“