پرانے زمانے کو چھوڑ یئے، اس دَور میں بھی، پاک وہند کے بڑے بڑے شہروں میں طوائفوں کے اڈوں کو ڈھایا اور مے خانوں کے دروازوں میں قفل لگایا جا چکا ہے پھر بھی طوائفیں معدوم اور مے خوار مفقود نہیں ہو سکے ہیں۔ کوچۂ خوباں و کوئے مغاں کو ایک محلے سے نکال کر دوسرے محلے میں آباد کرنا بالکل اسی نوعیت کی حماقت ہے کہ کہنی کے پھوڑے کو گھٹنے پر منتقل فرما کر، اس بات کا یقین کر لیا جائے کہ پھوڑا باقی نہیں رہا ہے۔
اس لیے دانش مندی اور انسانی فلاح اسی میں نظر آتی ہے کہ جہاں تک بازارِ حُسن کا تعلق ہے۔ ماہر و سن رسیدہ ڈاکٹروں کے ہفتہ وار معائنے کی وساطت سے اس ادارے کی تہذیب و تطہیر کا سائنٹیفک بندوبست کر دیا جائے۔ اور ایسے ضابطے وضع کیے جائیں کہ امنِ عامّہ اور صحتِ جسمانی میں کوئی خلل نہ پڑنے پائے۔
اب رہا مسکرات کا مسئلہ، سو حکومت کا یہ فرض ہے کہ اعلیٰ قسم کی، اور پختہ لیکن سستی شراب کشید کرنے کے واسطے بھٹیاں قائم۔ اور ایسے افراد کے نام اجازت نامے جاری کر دے جو صحتِ جسمانی، سلامتیِ عقل، اور شرافتِ نفس کی بناء پر بادہ خواری کی اہلیت رکھتے ہیں۔
اگر اس برسوں کے سوچے سمجھے مشورے پر عمل نہیں کیا گیا تو یاد رکھیئے، اور کان کھول کر سُن لیجئے کہ ایک طرف تو انسانی فطرت بغاوت پر کمر باندھ لے گی، گھر گھر بھٹیاں قائم ہو جائیں گی، اور اناڑیوں کے ہاتھ کی کھینچی ہوئی کچی شراب یعنی اسپرٹ پی پی کر لوگ جرائم پر اُتر آئینگے اور دھڑا دھڑ مرنے لگیں گے۔
اور دوسری طرف، جب طوائفوں کے اڈے بند کر دیئے جائیں گے تو ان کے پاؤں کی زنجیر کھل جائے گی اور وہ اڈے شہر کا رُخ کر کر کے گلی گلی میں پھیل جائیں گے، شہر کا ہر مکان بازارِ حُسن میں تبدیل ہو کر رہ جائے گا۔ اور شہر کی ہر شریف زادی، خانگی کا روپ بھر کر طوائف سے بھی دو قدم آگے نکل جائے گی، اور عصمت فروشی کا پانی اس قدر ٹوٹ ٹوٹ کر برسے گا، کہ کالجوں کے احاطوں اور گھروں کی انگنائیوں میں گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہو جائے گا۔

