بہت اچھا ، تسلیم کر لیا میں نے ان دونوں اداروں کو بد اخلاقی کا مرکز ، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہ ادارے جو اتنے ہی قدیم ہیں ، جتنی کہ انسانی تمدّن کی تاریخ ـــــــ معرضِ وجود میں آئے ہیں ، آسودگی تمنا کی بازی گاہ دنیا میں ، ان اداروں کو (جنھیں ، یخ بستہ پیرانِ فرتوت ، مادر زاد پر شکستہ جوانانِ صالح اور گرگانِ باراں دیدہ سیاسی افراد ، بد اخلاقی کے اڈے کہہ کر اپنا جی خوش کرتے ہیں) معرضِ وجود میں لایا ہے ، نوعِ انسانی کا پیدایشی ذوقِ مسکرات19 و مستورات کیوں کر ؟ اس مسئلے پر غور کرتا ہوں تو پتا چل جاتا ہے کہ اس مطالبۂ درسد ، اور تمنّا و اور یہ ہیجانی ذوق برانگیختہ کیا ہوا ہے ۔ اس نا قابلِ مقابلہ تند اور شدید حیوانی جبلت کا ، جو انسان کو اکسا کر وجد میں لاتی اور اس کی نسل بڑھاتی ہے ، اور جس کی ناقابلِ فتح شدّت کا یہ عالم ہے کہ تاریخِ تمدّن سے لے کر آج تک ہزاروں ارضی و سماوی طاقتوں کے دانت کھٹے کر کے اور کسی مادی یا روحانی طاقت کو اپنی پشت پر کاٹھی رکھنے کی اجازت نہ دے کر ، مونچھوں پر تاؤ دے رہا ہے ۔
اور جب نگاہ کرتا ہوں اس جذبۂ گرم کی صلابت و حرارت پر تو یہ دیکھ کر ہنسی آتی ہے کہ آج کل کے ڈسٹرکٹ بورڈوں ، میونسپلٹیوں ، اور کارپوریشنوں کے اُن ووٹوں کی بھیک پر جینے والے بونے اور اوچھے ارکان پر ، جو اس خیالِ خام میں مبتلا ہیں کہ وہ ان ”بد اخلاقی“ کے اداروں کو بند فرما دیں گے ۔ نیولے ، ڈھال تلوار باندھ کر ، نامِ خدا ، شیر کا شکار کرنے گھروں سے نکل پڑے ہیں ۔
پرانے زمانے کو چھوڑ یئے ، اس دَور میں بھی ، پاک وہند کے بڑے بڑے شہروں میں طوائفوں کے اڈوں کو ڈھایا اور مے خانوں کے دروازوں میں قفل لگایا جا چکا ہے پھر بھی طوائفیں معدوم اور مے خوار مفقود نہیں ہو سکے ہیں ۔ کوچۂ خوباں و کوئے مغاں کو ایک محلے سے نکال کر دوسرے محلے میں آباد کرنا بالکل اسی نوعیت کی حماقت ہے کہ کہنی کے پھوڑے کو گھٹنے پر منتقل فرما کر ، اس بات کا یقین کر لیا جائے کہ پھوڑا باقی نہیں رہا ہے ۔
اس لیے دانش مندی اور انسانی فلاح اسی میں نظر آتی ہے کہ جہاں تک بازارِ حُسن کا تعلق ہے ۔ ماہر و سن رسیدہ ڈاکٹروں کے ہفتہ وار معائنے کی وساطت سے اس ادارے کی تہذیب و تطہیر کا سائنٹیفک بندوبست کر دیا جائے ۔ اور ایسے ضابطے وضع کیے جائیں کہ امنِ عامّہ اور صحتِ جسمانی میں کوئی خلل نہ پڑنے پائے ۔
اب رہا مسکرات کا مسئلہ ، سو حکومت کا یہ فرض ہے کہ اعلیٰ قسم کی ، اور پختہ لیکن سستی شراب کشید کرنے کے واسطے بھٹیاں قائم ۔ اور ایسے افراد کے نام اجازت نامے جاری کر دے جو صحتِ جسمانی ، سلامتیِ عقل ، اور شرافتِ نفس کی بناء پر بادہ خواری کی اہلیت رکھتے ہیں ۔
اگر اس برسوں کے سوچے سمجھے مشورے پر عمل نہیں کیا گیا تو یاد رکھیئے ، اور کان کھول کر سُن لیجئے کہ ایک طرف تو انسانی فطرت بغاوت پر کمر باندھ لے گی ، گھر گھر بھٹیاں قائم ہو جائیں گی ، اور اناڑیوں کے ہاتھ کی کھینچی ہوئی کچی شراب یعنی اسپرٹ پی پی کر لوگ جرائم پر اُتر آئینگے اور دھڑا دھڑ مرنے لگیں گے ۔
اور دوسری طرف ، جب طوائفوں کے اڈے بند کر دیئے جائیں گے تو ان کے پاؤں کی زنجیر کھل جائے گی اور وہ اڈے شہر کا رُخ کر کر کے گلی گلی میں پھیل جائیں گے ، شہر کا ہر مکان بازارِ حُسن میں تبدیل ہو کر رہ جائے گا ۔ اور شہر کی ہر شریف زادی ، خانگی کا روپ بھر کر طوائف سے بھی دو قدم آگے نکل جائے گی ، اور عصمت فروشی کا پانی اس قدر ٹوٹ ٹوٹ کر برسے گا ، کہ کالجوں کے احاطوں اور گھروں کی انگنائیوں میں گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہو جائے گا ۔

