سو ، جو میں نے کہا تھا وہی ہو گیا ۔ گزشتہ سال جب لکھنؤ گیا تو لکھنؤ کی اُداسی دیکھ کر دل سے خون کی بوندیں ٹپکنے لگیں ـــــــ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ہر طرف دیکھا ۔ کوئی جانی پہچانی صورت نظر نہیں آئی ، اور ان کی جگہ یہ دیکھا کہ ، ناتراشیدہ کندوں کے سے کھُردرے ، اور تکونے چہروں کے وحشی افراد بار بار اپنے اُلجھے ہوئے بال کھجاتے اور دائیں بائیں تھوکتے چلے جا رہے ہیں ـــــــ نہ وہ شان دار فٹنیں ہیں ، نہ عمدہ قسم کی بند گھوڑا گاڑیاں ، نہ اعلیٰ درجے کے تانگے ـــــــ لے دے کر چند گھٹیا قسم کے اکے اور بے رنگ و روغن کے ، چوں چوں کرتے تانگے ہیں ، جن میں گھوڑوں کے عوض چوہے جُتے ہوئے ہیں اور چند کھڑ کھڑ کرتی رکشائیں ہیں ، جن کو نہ جانے کس سر زمین کے ہُون لونڈے چلا رہے ہیں ۔ اور وہ تمام اس قدر ذلیل ہیں کہ ان پر اگر سکندرِ اعظم تک کو بٹھا دیا جائے ، تو وہ بھی کسی دیہاتی رنڈی کا بھڑوا نظر آنے لگے ۔
سہ پہر کے وقت نخاس17 گیا ۔ نخاس کی وہ سڑک جو لکھنوی تہذیب کا گہوارہ تھی ، اداس اداس نظر آئی ۔ حکیم صاحبِ عالم کے مطب کے بالا خانے کی طرف نگاہ اٹھائی ، جیسے دل پر کسی نے گھونسا مار دیا ، ایک ایک کر کے وہ تمام یارانِ جشن آنکھوں سے گزرنے لگے جنھوں نے وہاں میرے ساتھ راتیں جگائیں اور دھومیں مچائی تھیں ـــــــ اور دیکھا کہ یگانہ چنگیزی ، حکیم صاحبِ عالم ، مجاز ، حکیم مخمور اور عطا حسین قزلباش ، کفن اوڑھے زینے سے اُترتے چلے آرہے ہیں ۔ آنکھوں میں آنسو آگئے ، آنسو پونچھتا ، بانس والی سرائے کی جانب مڑا ـــــــ پرانی یادیں سر پیٹنے لگیں ، اور جب اس نئی سڑک سے گزر کر ، جو سرائے کو شہید کر کے اس کی قبر پر بنائی گئی ہے ، چوک میں قدم رکھا تو کلیجہ تھام کر رہ گیا ۔
کوتاہ اندیش معلمانِ اخلاق کے اجاڑے ہوئے چوک نے آنکھوں میں آنسو بھر کر مجھے سلام کیا ۔ ہائے وہ چوک جو شبستانِ رنگ و بو تھا اب بھائیں بھائیں کر رہا ہے ۔ جن کمروں میں پریاں رہتی تھیں کالے دیوؤں کو وہاں آباد کر دیا گیا ہے ۔ جو فضا ، سارے گاما کے جھولوں میں جھولا کرتی تھی ، اب اس پر ”اے پائی (اے بھائی) جلندھر سنگھا“ اور اے ہا پج (حافظ) کھدائی بکس (خدا بخش) کے نعروں کو سوار کر دیا گیا ہے ۔ ہائے جن چھجوں پر زلفیں لہرایا کرتی تھیں ، وہاں داڑھے پھٹکارے جا رہے ہیں ، جہاں طبلے گمکتے تھے وہاں خارشیےکتے بھونک رہے ہیں ۔ اور جہاں چاندنی رہا کرتی تھی وہاں دھوپ بسا دی گئی ہے ۔
ایک جملۂ معترضہ
اس کج اندیش دَور میں ، ہر طرف ایک شور برپا ہے کہ نکال دو شہر سے طوائفوں کو ، مسمار کر ڈالو مے خانوں کو اور اُجاڑ کر رکھ دو شبستانوں کو ـــــــ اور یہ فتنہ اٹھایا ہوا ہے مہاتما گاندھی کا ، بے شک گاندھی جی میں بے شمار خوبیاں تھیں ، وہ ہندوستان کے عظیم محسن اور سب سے بڑے دوست تھے ـــــــ لیکن ، اسی کے ساتھ ساتھ اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ انسانی شادمانی کے بدترین دشمن تھے ۔
انھوں نے جب بازارِ حُسن و خراباتِ مغاں کے خلاف غیر عاقلانہ آواز اٹھائی ، اور انسانی مسرت کا گلا گھونٹ دینے کی مجرمانہ تحریک چلائی تو لنگر لنگوٹ باندھ باندھ کر دوڑ پڑے ان کی آواز پر وہ تمام گزیدگانِ اخلاق ، مخنثینِ کرام جو قطعی طور پر توفیقِ گناہ سے یک سر محروم تھے اور جن کے دلوں میں اس بات کی لگن لگی ہوئی تھی کہ وہ ”صالحین“ کا روپ بھر بھر کر گاندھی جی کو رجھائیں ، جاہل عوام کے ووٹ اُڑائیں ، اقتدار کی گدیوں پر براجمان ہو جائیں ، اور دولت کے دریا میں غوطے لگائیں۔
”نیک نفس“ مہاتما اور ان کے ہوس پرور چیلوں کی سمجھ میں یہ بات مطلق نہیں آئی کہ مسرت کی تمنا اور حُسن کی آرزو ، نوعِ انسانی کی جبلت میں داخل ہے ۔ اور فطرت نے ، تولید و تناسل کا سلسلہ قائم رکھنے کے واسطے انسان کی جوانی کو مست و سرشار رہنے اور بوس و کنار کی موجوں میں بہنے پر اس استحکام کے ساتھ مامور و مجبور کر دیا ہے کہ اگر تمام قوائے کائنات خم ٹھونک کر اس کے سامنے آجائیں تو وہ لنگڑی مار کر انھیں چاروں خانے چت کرتا ہوا ، آگے بڑھ جائے ۔
نوعِ انسانی کے اس جبلی میلانِ مسکرات و مستورات کے ہونکتے ہوئے طوفانی دریا پر بندھ باندھنے کے ارادے سے ، اس دنیا میں کتنے اولیا اور اوصیاء ، اقطاب ، ابدال ، امام ، اوتار اور انبیاء ـــــــ کتنے معلّم ، مجدد ، مُفسر ، مجتہد ، مُقنّن ، مُبلّغ ، محتسب ، مُصلح اور مُلّا ، اور کتنے پادری ، پاپا ، پوپ ، پروہت ، پنڈت ، پانڈے ، پونگی ، پیر اور پیغام بر ـــــــ ازل سے لے کر آج تک آچکے ہیں ۔ لیکن تاریخِ انسانی شہادت دے رہی ہے کہ جس نے بھی انسان کے اس بے پایاں تند و شدید ولولے سے ٹکر لی ہے ، خود اس کا ماتھا لہولہان ہو کر رہ گیا ہے ۔ آسمان کی ڈاٹ کے نیچے یہ آواز بڑے طنطنے کے ساتھ آج بھی گونج رہی ہے کہ :۔
|
ہاں ، سلسلۂ جام و سُبو جاری ہے |
اب تک وہی شغلِ ہاؤہو جاری ہے |
|
کھائی ہے کچھ انسان سے ٹکر ایسی |
ادیان کے ماتھے سے لہو جاری ہے |
اور تمام مصلحینِ کرام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انسان آج بھی یہ نعرہ لگا رہا ہے کہ :۔
|
مرا ، مہرِ سیہ چشماں ، ز سر ، بیروں نہ خواہد شد |
قضائے آسمان است ایں و دیگرگوں نہ خواہد شد |
|
ترجمہ سیاہ آنکھوں والوں کی محبت میرے سر سے ہرگز نہیں جائے گی، یہ آسمانی فیصلہ ہے اور یہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ |
|
اور جب یہ بات مسلّم ہو چکی ہے کہ اس جذبہ قوی کا فنا کر دینا ، انسانی طاقت سے باہر ہے ۔ اور کیوں نہ باہر ہو جب کہ حامیانِ ادیان سے لے کر ، مسجد کے نابینا حافظ جی تک بفضلہ ، اس ”چوں بخلوت می روند “کے کاروبار میں ، ازل کے دن سے آج تک مشغول ہیں ۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جذبے کو بے لگام چھوڑ دیا جائے ، یا اس پر چند قیود عائد کر دیئے جائیں ؟ چوں کہ آدمی ابھی تک ، حیوانی سطح سے فقط ایک بالشت بلند ہوا ہے ، اس لیے ہم اپنے کو اس امر پر مجبور پاتے ہیں کہ جب تک نوعِ انسانی بالغ نہ ہو جائے ۔ اس جذبے پر چند قیود ضرور عائد کر دیئے جائیں ، لیکن وہ اس قدر سخت نہ ہوں کہ آدمی بلبلا اُٹھے18۔
وہ قیود اور ان کے حُدود سر دست کیا ہوں ، اور آگے چل کر ان کو کس رفتار کے ساتھ ختم کیا جائے ۔ اس سلسلے میں اگر چند بنیادی حقائق زبان پر لے آؤں تو ہر طرف تھپڑی بجنے لگے اور میں ، دیکھتے ہی دیکھتے نکو بن کر رہ جاؤں۔
میں ، جس ماحول میں زندہ رہنے کا ارتکاب کر رہا ہوں ، وہاں حقائق سے دامن بچانے اور حقائق سے آنکھیں چرانے ہی میں ، ایمان کی خیر سمجھی جاتی ہے اور نجات کے خواب دیکھے جاتے ہیں ، میرے معاشرے کو آج تک یہ علم ہی نہیں ہے کہ ہمارے عقائد و مسلّمات ، ہمارے آبائی اقوال و روایات ، ہمارے خیر و شر کے تصوّرات ، ہمارے مرغوبات و مکروہات اور ہمارے ذہنی تعصبات ، فکری ہیں کہ سمائی ، نیز جس ماحول کو اس بات کی بھی خبر نہ ہو کہ پاکی و ناپاکی گناہ گاری و اطاعت شعاری ، جواز و عدمِ جواز اور حرام و حلال کی ، وقت نوازیدہ ، اصطلاحیں ، معقولات نے وضع کی ہیں یا منقولات نے ؟ یا مَردوں کی پاکیزگی و پارسائی کے ضوابط ، عورتوں کی عصمت و عفت کے قواعد ، جنسی تعلقات کی حد بندی ، اور ازدواج کا رواج قدرت کا عطیہ ہے ، یا پنچوں کی ایجاد ہے ؟ ایسے ماحول میں چہرۂ حقائق سے پردہ اٹھانے والے کو نکو بن کر رہ جانے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے ۔ اس لیے اب میرے واسطے صرف یہی ایک صورت رہ گئی ہے کہ امورِ گفتنی کو ناگفتنی کے زمرے میں لے آؤں اور :ـ
|
افسوس ، بے شمار سخن ہائے گفتنی |
خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے |
پر نگاہ کر کے ، میں اپنے دور کی ذہنی سطح پر آجاؤں ، سب کی ہاں میں ہاں ملاؤں اور کوچۂ بتاں و کوئے مغاں دونوں کو، بد اخلاقی کا مرکز ٹھہراؤں ۔

