کھلونے خرید کر، جب میں نے چوک میں قدم رکھا ، عود ، اَگر ، اور لوبان کی لپٹوں نے میرا استقبال کیا۔ آگے بڑھا تو سونے چاندی کے ورق کٹنے کی ، نپی تلی کھٹاکھٹ نے ، میرے پاؤں میں زنجیر ڈال دی ۔ وہ مرتّب و مُنظم کھٹاکھٹ ایسی معلوم ہوئی، گویا طبلے پر بول کٹ رہے ہیں۔ پھر ہار والے کی سُریلی آواز آئی ”ہار ـــــــ بیلے کے، پھول، چمپا کے“۔ وہاں سے آگے بڑھا تو کیا بتاؤں کیا کیا دیکھا ۔ ہائے تنبولیوں کی وہ جھلجھلاتی تتری کلاہیں، وہ دوپلی ٹوپیاں، وہ شربتی انگرکھے، وہ گھنے گھنے پٹّے ـــــــ وہ چوڑی دار پائجامے شانوں پر وہ ریشمی ، بڑے بڑے رومال ۔ آڑی ترچھی مانگیں ۔ کلوں میں دبی ہوئی معطر گلوریاں ۔ ساقیوں اور ساقنوں کے ہاتھوں میں وہ، خوش بودار تمباکو کے حقے، حقوں پر وہ لپٹے ہار ، ہاروں سے ، پانی کے قطروں کا وہ ترشّح ، وہ بجتے کٹورے ، وہ سارنگیوں کی تھرتھراہٹ کے ہواؤں میں ہلکورے ، وہ گمکتے ہوئے طبلے ، بالا خانوں کے چھجوں سے ، وہ مکھڑوں کی برستی ہوئی چاندنی ۔ اور زُلفوں کے گرتے ہوئے سیاہ آب شار ، کوٹھے والیوں میں کوئی گوری ، کوئی چمپئی ، کوئی سانولی سلونی ـــــــ خدوخال اس قدر باریک گویا ہیرے کے قلم سے ترشے ہوئے ۔ کوئی کڑیل جوان ، کوئی نوجوان ، اور کوئی ان دونوں کے درمیان ، گویا ہمکتی ہوئی اٹھان ، کوئی گٹھے جسم کی اور کوئی دھان پان ـــــــ کسی کی ناک میں نتھ ، کسی کی ناک میں نیم کا تنکا ـــــــ تماشائیوں کا ہجوم ، شانے سے شانے چھلتے ریلے ، اور کوٹھوں پر نظر جمائے ہوئے مخالف سمتوں سے آنے جانے والوں کے سینوں کا ٹکراؤ اور ٹکراؤ پر وہ دست بستہ عذر خواہیاں۔ میں ابھی اس دریائے طلسم میں غوطے کھا رہا تھا کہ مشیر خاں نے میرا ہاتھ پکڑ کر ، اپنی طرف کھینچا، میں ساحل پر آ گیا۔ سارا طلسم ٹوٹ گیا ، اور میں سب کے ساتھ ، میاں کے پیچھے پیچھے ، سر جھکا کر سرائے آگیا ۔ سرائے میں قدم رکھتے ہی دم سا گھٹنے لگا ، میں نے بڑی لجاجت کے ساتھ کہا ، میاں ـــــــ ہم سپاہیوں کو ساتھ لے کر ، نیچے گھوم آئیں ؟ مشیر خاں مسکرائے ، اور میاں نے بڑی خوف آمیز سنجیدگی سے کہا ، چوک، بچوں کے ٹہلنے کی جگہ نہیں ہے۔ میں کلیجہ مسوس کر رہ گیا۔
اتنے میں صالح محمد خاں ، ڈھورے13 کو ساتھ لیے آگئے۔ اس نے بست کی بڑی بڑی قفلیوں کو دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں بڑے ماہرانہ انداز سے گھما گھما کر اور بالائی کے کاغذی آب خوروں کو مٹی کی سوندھی سوندھی رکابیوں میں کھول کھول کر پیش کیا۔ اور مٹی کے کورے کورے چمچے بھی سامنے رکھ دیئے۔ کیا بتاؤں ان قفلیوں اور ان آب خوروں کی لذت و ملائمیت زبان نے اس سے پیشتر کبھی کوئی ایسی چیز چکھی ہی نہیں تھی ، اُن کے مزے کو بیان کروں تو کیونکر ، اور تشبیہہ دوں تو کس چیز سے ـــــــ اور ملائمیت کا تو یہ عالم تھا کہ، اُن کو صرف ہونٹوں اور تالو سے کھایا اور نظر کی حرارت سے پگھلایا جاسکتا تھا ۔ رات ہوتے ہی ، ہمارے باورچی کے پکائے ہوئے کھانوں کے ساتھ ساتھ ـــــــ عبد اللّٰہ کی دکان کی پوریاں کچوریاں ، احمد کی باقرخوانیاں ، سعادت کی شیرمالیں ، شبراتی کے ، اٹھارہ اٹھارہ پرتوں کے پراٹھے ، جھبن رکاب دار کے بھنے ہوئے مرغ ، شاہد کا بٹیروں کا پلاؤ ، حیدر حسین خاں کے پھاٹک کی گلی کا ، انناس کا مُز عفر ، غلام حسین خاں کے پل کے کباب ، کپتان کے کنویں کی پستے بادام کی مٹھائی ، اور حسین آباد کی بالائی ، اور نہ جانے اور کیا کیا نعمتیں ، ہمارے دستر خوان پر چن دی گئیں ـــــــ اور میں کھا پی کر سو رہا۔
بھور درشن کی چاٹ تو پڑ ہی چکی تھی ۔ میں سب سے پہلے بیدار ہو کر ، بالا خانے کی چھت پر چڑھ گیا ۔ صبح کا استقبال کرنے کو جب آسمان کی طرف نظر اُٹھائی ، شہر کی اونچی اونچی عمارتوں کے باعث طلوع کی رنگینی دُور دُور بھی نظر نہیں آئی ۔ آنکھیں مرجھا گئیں میں نے دیکھا ، پو تو ضرور پھٹ رہی ہے ، اور مرغ بھی بانگ دے رہے ہیں ۔ لیکن پو پھٹنے میں سہانا پن ہے اور نہ مرغوں کی بانگ میں توانائی ۔ زمین سے آسمان تک ایک پھیکا پن چھایا ہوا ہے سانس لیتا ہوں تو دھانس بھری ، موٹی موٹی ہوا ، سینے کو کھرچ ، اور دل پر بوجھ ڈال رہی ہے ۔ نسیمِ صبح چل رہی ہے ، مگر اس کے جھونکوں میں بالکل دھار ہی نہیں ہے ۔ عروسِ قدرت کے پاؤں میں نہ چاندی کے گھنگرو ہیں نہ سر پر چھپکا ۔ میرے ولولے ، ایسی ملگجی ملگجی کھوئی کھوئی ، پھیکی پھیکی ، اُبلی اُبلی سیٹھی سیٹھی ، روڑھی روڑھی ، اوندھی اوندھی ، گونگی گونگی ، بھینچی بھینچی ، اور بُجھی بُجھی صبح کو دیکھ کر ، گل ہو گئے اور دھواں دینے لگے ـــــــ اور میں ، اس نامراد عاشق کی طرح جس کا معشوق اس کو دغا دے کر غائب ہو گیا ہو ، بھاری دل کے ساتھ نیچے آیا اور منھ ہاتھ دھونے لگا ـــــــ منھ پر بار بار چھپکے مارے دل کی کلی نہیں کھلی ۔
اتنے میں ناشتہ آ گیا ۔ روغنی روٹی ، انڈوں کے ستارے ، بالائی ، شیرمال اور نمش کا ناشتہ کر کے فارغ ہوا تو میرے باپ نے دو سپاہیوں اور مشیر خاں کو ساتھ کر کے مجھے لکھنؤ کی سیر کرنے کے لیے روانہ کر دیا۔
میں نے لکھنؤ کے ہفتے عشرے کے قیام میں ، مندرجہ ذیل مقامات دیکھے۔ حسین آباد کی شاہی کوٹھی ، اس کا کلاک ٹاور ، حسین آباد کا امام باڑہ ، اس کی بھول بھلیاں ، آصف الدولہ کا امام باڑہ ، رومی دروازہ ، حضرت عباس کی درگاہ ، نجف اشرف ، تال کٹورے اور بھول کٹورے کی کربلائیں ، بیلی گارڈ14 ، عجائب خانہ ، شاہ پیر محمد کے ، ٹیلے کی مسجد ، شاہ مینا کا مزار اور موتی محل ، حضرت گنج ، چنیا بازار ، امین آباد15 ، گومتی ، ٹھنڈی سڑک ، لوہے کا پل ، لال باغ ، سکندر باغ ، بندریا باغ ، وکٹوریہ باغ اور بنارس باغ ، اور چھتر منزل کا فقط وہ حصہ جو سڑکوں سے نظر آتا ہے16 ۔ ہر چند میری لڑکپن کی نگاہوں میں ، یہ تمام مقامات بڑے عجیب تھے ـــــــ لیکن ان تمام عجیب مقامات سے ، بمراحل عجیب تر نظر آئے ، لکھنؤ کے وہ رؤساء ، علماء ، ادباء ، شرفاء اور شعراء ، جو میرے باپ کے پاس آتے یا وہ ان کے وہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ اللّٰہ اللّٰہ ، وہ ان کے لچکیلے سلام ، وہ ان کی نشست و برخاست کے پاکیزہ انداز ، وہ ان کی تہذیب میں ڈوبی وضع و قطع ، وہ ان کے لباس کی انوکھی تراش خراش ، وہ مسائلِ علمی و ادبی کی توضیح کے ہنگام ، ان کے الفاظ کا ٹھہراؤ ، وہ ان کے لہجوں کے کٹاؤ ، اثنائے غزل خوانی میں ، وہ حسبِ مفہومِ شعر ان کی آنکھوں کا رنگ ، اور ان کے چہروں کا اُتار چڑھاؤ ، وہ قہقہوں سے دامن کش ، ان کا ہلکا ہلکا تبسّم ، وہ ان کا انکسار کے سانچے میں ڈھلا ہوا وقار ، اور باوجودِ کمال وہ ان کا ہاتھ جوڑ جوڑ کر اپنی ہیچ مدانی کا اعتراف یہ ساری باتیں دیکھ کر میں نقشِ بد یوار ہو کر رہ گیا ـــــــ وہ تمام لوگ ، اس قدر شائستہ ، شستہ ، اور گداختہ تھے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس کرۂ خاک کے نہیں ، کسی کرۂ نور کے باشندے ہیں ۔ انھیں بزرگوں کی جوتیاں سیدھی کر کے میں نے شائستگی سیکھی ، ادب اور زبان میں نظر پیدا کی اور یہ ذرا سی شُد بد جو آج مجھے ادب و زبان پر حاصل ہے ، یہ انھیں کی صحبت کا اثر ہے۔
اب وہ لکھنؤ ہے نہ لکھنؤ والے ـــــــ ایک ایک کر کے چلے گئے سب خاک کے نیچے ، کھا گئی مٹی ان کے جو ہروں کو۔ بہت دن ہوئے میں نے ایک رباعی کہی تھی :۔
|
جلتی ہوئی شمعوں کے بُجھانے والے |
جیتا نہیں چھوڑیں گے زمانے والے |
|
لاشِ دہلی پہ ، لکھنؤ نے یہ کہا |
اب ہم بھی ہیں کچھ روز میں آنے والے |

