325ھ میں قصر زہراء کی تعمیر شروع ہوئی اور ابتدا سے آخر تک روزانہ چھ ہزار سلیں آتی تھیں جو نہایت خوبصورتی کے ساتھ بڑی بڑی چٹانوں سے تراشی جاتی تھیں اور اینٹ کی جگہ صرف ہوتی تھیں۔ وہ سلیں جو فرش کے کام آتی تھیں وہ ان سے علیحدہ تھیں اور ان کا شمار ان اینٹوں میں نہ تھا۔ ڈھلائی وغیرہ کے کام کے لیے چودہ سو خچر روزانہ کام دیتے تھے جن میں سے چار سو تو خاص شاہی بار برداری کے تھے اور ایک ہزار کرایہ پر آتے تھے۔ جن میں سے ہر ایک کو روزانہ تین مثقال مزدوری دی جاتی تھی۔ ایک دن درمیان چھوڑ کے ہر تیسرے روز گیارہ سو بوجھ کانپ اور چونے کے آتے تھے۔
قصر کے ساتھ ہی ساتھ مدینہ زہرا کی بھی عمارتیں بنتی رہیں۔ قصر اور جامع زہراء کا کام تو خلیفہ ناصرلدین اللہ کی زندگی ہی میں پورا ہو چکا تھا مگر مدینۂ زہراء کی عمارتیں پچیس برس تک اس کے عہد میں تعمیر ہوئیں اس لیے کہ 325ھ میں عمارت کا کام شروع ہوا تھا اور 350ھ میں خلیفہ عبدالرحمان نے انتقال کیا۔ اور پندرہ برس تک اس کے بیٹے خلیفہ حکم کے عہد میں مدینۂ زہرا کی عمارتوں کا کام جاری رہا بہت سے حمام بنوائے گئے تھے جن میں سے ایک تو قصر زہرا کے متعلق تھا اور خاص بادشاہ اور وزرا کے لیے مخصوص تھا باقی حمام اہل شہر کی ضرورتوں کے لیے تھے بعض وہ لوگ جو زہرا کی تعمیر میں کسی خدمت پر مامور تھے ان کا بیان ہے کہ صرف عبدالرحمان کے زمانہ میں اس کے آخر عہد تک پچھتر لاکھ اشرفیاں اس کام میں صرف ہو چکی تھیں اس کے بعد حکم کے عہد میں جو کچھ صرف ہوا وہ علیحدہ ہے۔
سنگ رخام عموماًتیونس اور دیگر ممالک افریقہ سے لایا جاتا تھا۔ عبداللہ بن یونس حسن بن محمد اور علی بن جعفر اسکندرانی نے سنگ رخام فراہم کرنے کا کام اپنے ذمے لیا تھا اور ہر چھوٹی اور بڑی سل کے معاوضہ میں دس دینار انعام پاتے تھے۔ باقی نام پتھر خاص سرزمین اندلس کے تھے۔ لیکن گلابی اور سبز رنگ کے پتھر افریقہ کے ایک مشہور کنیسہ اسفاقس سے لائے گئے تھے۔ قصر زہرا میں سنگی ستونوں کا کوئی شمار نہ تھا۔ مورخ ابن حیان بیان کرتا ہے کہ قصر زہراء میں چھوٹے بڑے سب چار ہزار تین سو بارہ ستون تھے۔ بعض تو نیچے تھے اور بعض نیچے والے ستونوں کے اوپر قائم کیے گئے تھے۔ وہ خاص ستون جن پر مرصع کاری کی ہوئی تھی ان کی وضع ایسی تھی کہ معلوم ہوتا تھا نیچے تصویریں ہیں اور ستون ان تصویروں کے منہ میں اترے ہوئے ہیں۔ کچھ ستون تو روما دارالسلطنت اٹلی سے آئے تھے اور بعض وہ تھے جن کو قسطنطنیہ کے بادشاہ نے ہدیتہً بھیجا تھا۔ ان کی نسبت بعض مورخین نے تصریح کر دی ہے کہ ایک ہزار تیرہ ستون افریقہ سے آئے تھے۔ انتیس ستون فرنگستان سے بہم پہنچائے گئے تھے اور ایک سو چالیس ستون قیصر روم نے ہدیتہً بھیجے تھے۔ اس قصر میں چھوٹے بڑے سب ملا کے پندرہ ہزار سے کچھ زائد دروازے لگے تھے۔ اور کل دروازوں پر لوہے اور تانبے کی چادریں چڑھی ہوئی تھیں اور اس لوہے یا تانبے پر سونے کا پانی پھیر دیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے اس قصر پر آفتاب کی شعاعیں ایک عالم نور کا سماں دکھا رہی تھیں۔ اس قصر پر سونا زیادہ پھیرا گیا تھا اور در و دیوار پر سونے کے بیل بوٹے بنے ہوئے تھے اور ہر چار طرف مرصع کاری کی گئی تھی جس کی جھلک آنکھوں کو خیرہ اور دلوں کو متحیر کر دیتی تھی۔ خصوص قصر کا گنبد اور وہ بڑا کمرہ جو مجلس الذہب کہلاتا تھا ان دونوں کی آب و تاب اور شانداری نے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنا والہ و شیدا بنا لیا تھا۔
اس قصر اور اس کے گرد کے باغ کی زیب و زینت کے لیے خلیفہ ناصر نے ایک نہر بنوائی تھی اس میں جو صفتیں اور کاریگریاں صرف کی گئی تھیں انہوں نے عقلوں کو اور زیادہ حیرت و استعجاب میں ڈال دیا تھا۔ یہ نہر جبل قرطبہ سے لائی گئی تھی۔ نہایت شیریں لطیف اور سرد پانی آتا تھا اور قصر ناعورہ میں جو قرطبہ کے مغرب جانب تھا جاتا تھا۔ قصر ناعورہ بھی زہراء کی ایک بے مثل عمارت تھی اور کئی بلند چبوتروں پر اس کی کرسی دی گئی تھی۔ اس نہر میں یہ صنعت رکھی گئی تھی کہ ان تمام اونچے چبوتروں پر جن پر قصر بنایا گیا تھا چڑھتی تھی اور کل عالیشان پشتوں پر ہو کے گزرتی تھی جو قصر ناعورہ کے آس پاس واقع تھے۔ انتہائی بلندی پر ایک نایاب اور خوش نما سنگ رخام کا حوض تھا۔ اور اس کے کنارے ایک بہت بڑا شیر بنا کے بٹھایا گیا تھا۔ شیر پر طلائی گلکاری بنی تھی۔ اور ایسے ایسے قیمتی جوہرات لگائے گئے تھے کہ اس کی چمک دمک دور سے دیکھنے والوں کو دھوکا دیتی تھی کہ حوض کے کنارے سے آفتاب طلوع ہو رہا ہے اور شیر کی صورت ایسی ہیبت ناک اور رعب دار بنائی گئی تھی کہ دولت امویہ کے رعب و داب کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی تھی۔ مورخین کہتے ہیں کہ شاہان سلف نے اپنے آثار دکھانے کے لیے جتنی صنعتیں پیش کی ہیں یہ شیر ان سب سے بڑھا ہوا تھا۔ نہر چبوتروں اور پشتوں پر چڑھ کے اس شیر کے نیچے گئی تھی اور پانی شیر کے پیٹ سے چڑھ کر اس کے منہ سے حوض میں گرتا تھا۔ اور حوض کے چاروں کونوں سے چھلک کر باغ میں جاتا تھا۔ اور تمام چمنوں کی آبیاری خود بخود اس پانی سے ہوتی رہتی تھی۔ چمنوں میں ہر جگہ ایسی نالیاں بنائی گئی تھیں کہ نونہالان چمن کی سیرابی کے بعد جس قدر پانی بچتا تھا ان نالیوں کے ذریعہ سے پھر اسی نہر میں واپس چلا جاتا تھا۔ صرف یہی صنعت ایسی بے مثل رکھی گئی تھی کہ آخر ناعورہ اور اس کا چمن اور یہ حوض ان دنوں اظہار دولت و سطوت کے بہت بڑے بے مثل و بے نظیر نمونے خیال کیے جاتے تھے۔ یہ نہر بہت دور تک بہتی چلی گئی تھی اور اس سے شاخیں کاٹ کاٹ کے باغ میں ہر چار طرف چشمہ اور آبشار جاری کیے گئے تھے۔ جابجا اونچے خوشنما برج بنے تھے اور ہر برج پر نہر چڑھتی تھی اور چڑھ کے پھر نشیب میں چلی جاتی تھی۔ اس کی تیاری اور درستی کا کام ایسے چالاک ہوشیار اور چابکدست مہندسوں کے سپرد کیا گیا تھا کہ چودہ مہینے میں نہر بن کے تیار ہو گئی۔ اور پانی جاری ہو گیا۔ جس روز پانی نہر میں لایا گیا اور چشموں اور آبشاروں کی روانی کا سلسلہ قائم ہو گیا اس روز جمادی الثانی کی پہلی تاریخ تھی اور ہجرت نبوی کا تین سو انتیسواں سال تھا۔ اس روز تیاری نہر کی خوشی میں ناصر نے قصر ناعورہ میں ایک عظیم الشان اور جلیل القدر دعوت کی جس میں اکثر روسائے اسپین اور عام اہل قرطبہ شامل تھے۔ اس مجمع عام میں مہندسوں اور کاریگروں کو ان کے حسن خدمت کا صلہ دیا گیا اور سلطنت کی جانب سے ان کی قدر و منزلت دوبالا کی گئی۔
