جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

مدینہ زہرا اور اس کا قصر

خاص قصر زہراء میں دو اور مطلا اور منقش حوض تھے۔ یہ حوض نہایت ہی خوش نما اور خوبصورت بنے تھے ان میں سے بڑے حوض کی نسبت مورخین کہتے ہیں کہ ناصر کے دربار کا بہت بڑا مہندس احمد یونانی اس کے سامان کو قسطنطنیہ سے لایا تھا۔ اور چھوٹے حوض کو وہی احمد یونانی شام کے ایک قدیم کنیسہ سے لے آیا تھا۔ لوگوں کا بیان ہے کہ چھوٹا حوض اس درجہ خوش نما بنا تھا کہ بادشاہ نے بہت کوشش کی مگر صرف خوشنمائی کی وجہ سے کوئی اس کی قیمت نہیں تجویز کر سکا۔ یہ حوض ابتداءً اکھاڑ اکھاڑ کے کئی جگہ نصب کیا گیا اور آخر خلیفہ ناصر نے اسے اپنے خاص خواب گاہ کے مشرقی کمرے میں نصب کیا۔ اس کمرے کا نام ’’مولنس‘‘ تھا۔ کمرۂ مولنس میں نصب ہونے کے بعد یہ اور لطف پیدا کیا گیا کہ اس کے اوپر چاروں طرف خالص سونے کی بارہ مورتیں کھڑی کی گئیں جن پر موتی اور بے بہا جواہرات جڑے ہوئے تھے خاص قرطبہ میں صنعت و دستکاری کا ایک بہت بڑا کارخانہ تھا ’’دارالصناعتہ‘‘ یہ مورتیں اسی کارخانے میں تیار ہوئی تھیں۔ ان مورتوں کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ ایک طرف شیر ہرن اور گھڑیال کی تصویریں تھیں اور ان کے مقابل میں دوسری طرف اژدہے عقاب اور ہاتھی کی مورتیں قائم تھیں۔ ادھر ادھر کے دونوں پہلوؤں میں سے ایک جانب کبوتر شاہین اور طاؤس تھے اور ان کے مقابل میں دوسرے پہلو پر مرغ چیل اور باز نصب تھے۔ قطع نظر اس طلائی کام اور اس مرصع کاری کے جو قیمت میں سلطنتوں کے خراج سے زیادہ تھی یہ بہت بڑی صنعت تھی کہ ان سب جانوروں کے منہ سے ہر وقت حوض میں پانی گرا کرتا تھا۔ اور پھر لطف یہ کہ پانی اس قدر کبھی نہیں بڑھتا تھا کہ حوض سے چھلک جائے۔ کیونکہ حوض ہی سے جانوروں میں پانی پہنچتا تھا۔

تیاری کے بعد بادشاہ نے قصر زہراء کو اپنا مستقر قرار دیا۔ اگرچہ ان دنوں کی لڑائیوں اور بعض بغاوتوں نے خلیفۂ ناصر کو قصر زہراء میں کبھی اطمینان سے نہیں بیٹھنے دیا مگر پھر بھی حتٰی الامکان اس نے کوشش کی کہ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ اس بے بدل قصر اور اس پری جمال معشوقہ زہرا کے پہلو میں بسر کرے۔ تیرہ ہزار سات سو پچاس نوجوان خاص قصر زہراء کے ملازم تھے۔ جو مختلف خدمتوں پر مامور تھے۔ کہتے ہیں کہ ان نوجوانوں میں تین ہزار سات سو ستاسی سسلی‌Sicily والے تھے۔ اور ان نوجوانوں کے علاوہ چھے ہزار تین سو چودہ پری وش لڑکیاں تھیں جو ہر وقت اس شاہی قصر کی آراستگی میں سرگرم رہتی تھیں۔ کانڈی لکھتا ہے کہ قصرالزہرا کے خاص شاہی نشست گاہ کے کمرے میں علاوہ اور تمام صناعیوں کے ایک یہ صفت تھی کہ کمرے کے درمیان میں زبر جد کا ایک نہایت نازک و نفیس فوارہ تھا جس کی چوٹی پر ایک سونے کی بط تھی اور انسانی حیرت خیز کاریگری کی خبر دیتی تھی۔ اس بط کی نسبت بیان ہے کہ قسطنطنیہ کی بنی ہوئی تھی۔ اور اس فوارے کے محاذات میں اوپر وہ بے بہا اور بے مثل موتی آویزاں تھا جس کو شہنشاہ یونان نے خلیفۂ عبدالرحمن الناصرالدین اللہ کی خدمت میں نذر کیا تھا وہ اونچا اور سب سے بلند چبوترہ جہاں سے آبشاروں کی روانی۔ درختوں کی سرسبزی۔ پھولوں کی شادابی۔ فواروں کی روانی۔ اور عمارتوں کی آب و تاب کا سماں نظر آتا تھا اس پر ایک نفیس بنگلہ تھا۔ اس بنگلے میں اکثر اوقات خلیفہ جب کسی محنت اور کسی کام سے تھک کے آتا تھا آرام کیا کرتا تھا۔ بنگلہ کی چھت سنگ مر مر کے ستونوں پر قائم تھی اور ان ستونوں پر سنہری گلکاری بنی ہوئی تھی۔ کہتے ہیں کہ اس بنگلے میں سنگ سماق کا ایک بڑا حوض رکھا تھا جس میں پارہ بھر دیا گیا تھا جو ترکیبوں سے ایسا متحرک کر دیا گیا تھا کہ خود بخود اس میں لہریں اٹھتی تھیں اور ہر وقت حرکت کرتا رہتا تھا۔ اس متحرک پارے پر جب آفتاب یا ماہتاب کی شعاعیں پڑتی تھیں عجب حیرت انگیز سماں نظر آتا تھا اور اس کی آب و تاب سے آنکھیں خیرہ ہو جاتی تھیں۔ سب طرف دروازوں پر ریشم اور رو پہلے سنہرے پردے آویزاں رہتے تھے۔ ان پردوں پر جا بجا ایسے بیل بوٹے اور ایسی تصویریں بنی ہوئی تھیں کہ دیکھنے والے کو اصل باغ اور زندہ جانوروں کا دھوکا ہوتا تھا۔ خلاصہ یہ کہ اس قصر اور اس کے گرد کے باغ میں وہ تمام سامان فراہم تھے جو کسی بڑے سے بڑے جلیل القدر اور صاحب جبروت شہنشاہ کو خوش کرنے کے لیے مہیا کیے جا سکتے۔

مدینۂ غرناطہ میں اس قصر کے گرد اور بہت سی عمارتیں بنوائی گئی تھیں ایک ٹکسال تھا اور خاص شاہی گارد کے لیے بہت سی بارکیں تعمیر کی گئی تھیں۔ خلیفہ الناصرالدین اللہ کے گارد میں بارہ ہزار جوان تھے۔ چار ہزار اسکلاونیا‌Sclavonia کے رہنے والے تھے جو پیادے تھے۔ اور قصر کے اندر حاضر رہتے تھے باقی آٹھ ہزار میں چار ہزار افریقہ کے حبشی اور چار ہزار خاص اندلسی جوان تھے جو سوار تھے۔ ان پلٹنوں اور رسالوں کی سرداری کے لیے خاص شاہی خاندان کے شاہزادے اور معزز امرا و شیوخ اندلس و افریقہ منتخب کیے جاتے تھے۔ ہر رسالہ اور ہر پلٹن کے لیے الگ بارک بنی ہوئی تھی۔ جن میں ہر قوم کے لوگ الگ الگ رہا کرتے تھے۔ سوا ان اوقات کے جب خلیفہ خود میدان جنگ کا قصد کرے اور کسی حال میں یہ فوج پائے تخت سے حرکت نہیں کرتی ہے۔

قصر زہراء کے بعد جس عمارت کی جانب خلیفۂ ناصرالدین اللہ نے توجہ کی وہ مدینہ زہراء کی عالیشان مسجد جامع زہرا تھی۔ اس مسجد کی تعمیر میں بھی مصارف کا جتنا بڑا بار عبدالرحمان نے اپنے سر لیا تھا شاید اور کوئی بادشاہ نہ لے سکا ہو گا۔ ابن فرضی اور دیگر مورخین لکھتے ہیں کہ جامع زہرا جس روز بننا شروع ہوئی اس روز سے اختتام اور تیاری تک روزانہ ایک ہزار کاریگر کام بناتے رہے جن میں سے تین سو معمار دو سو بڑھئی اور پانچ سو مزدور اور مختلف قسم کے کاریگر تھے۔ جامع زہرا میں پانچ درجے قائم کیے گئے تھے جن کی خوبصورتی عجیب و غریب تھی۔ تمام مسجد میں سنگ مر مر کا فرش تھا اور وسط صحن میں ایک فوارہ تھا جس سے ہر وقت پانی جاری رہتا تھا۔ یہ مسجد ستانوے گز لمبی اور انسٹھ گز چوڑی تھی۔ گنبد زمین سے چالیس گز بلند تھا۔ اور گنبد کا قطر بیس گز تھا۔ خاص قرطبہ کی جامع مسجد جس کا حال کسی موقع پر ہم بیان کریں گے جس وقت خلیفۂ ہشام نے اس کو تعمیر کرایا ہے تمام لوگوں نے دعویٰ کر دیا تھا کہ دنیا بھر کی مساجد شان و شوکت اور خوشنمائی اور عظمت میں اس سے دب گئیں مگر کانڈی لکھتا ہے کہ جس وقت یہ مسجد مدینہ زہرا میں تعمیر ہوئی سب نے اعتراف کر لیا کہ اس نے اپنی رفعت و شان کے آگے اس کو بھی دبا لیا۔ جامع زہرا کی ایسی عظمت کا حال سننے کے بعد جب لوگ یہ سنیں گے کہ یہ مسجد کس قدر جلد بن کر تیار ہو گئی تو لوگوں کو خلیفہ کی سرگرمی اور کاریگروں کی چابک دستی پر حیرت ہو جائے گی۔ باوجود تمام خوبیوں اور مضبوطیوں کے یہ مسجد صرف اڑتالیس دن میں بن کے تیار ہو گئی تھی۔ تعمیر مسجد کا کام جب تمام ہو گیا تو عبدالرحمان نے خیال کیا کہ ایسی عالیشان مسجد کے لیے منبر بھی اسی شان و شکوہ کا چاہیے اس کے حکم سے منبر کی تیاری میں بڑی بڑی دستکاریاں اور اعلیٰ درجہ کی عقل آرائیاں صرف کی گئیں اور 23 شعبان 329ھ23 مئی 941ء کو منبر لا کے اپنے مقام میں رکھا گیا۔ اس دن کی پہلی شام کو مغرب کی نماز جماعت سے قصر زہرا میں ادا کی گئی۔ یہ پہلی جماعت تھی جو اس مسجد میں اس پاک خدائے واحد کی عبادت کرتی ہوئی نظر آئی۔

قاضی ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن ابی عیسی نے جو اس زمانے کے مشہور اور مرجع خلائق مقتدا تھے امامت کی۔ دوسرے روز جمعہ کو منبر لا کے رکھا گیا اور قاضی صاحب ممدوح نے اس منبر پر کھڑے ہو کر جمعہ کا خطبہ پڑھا۔ جو پہلا خطبہ تھا۔ اور خود خلیفۂ ناصرالدین اللہ نے ان کے پیچھے اس مسجد میں پہلے پہل نماز جمعہ ادا کی۔ خلیفہ ناصرالدین اللہ کو ان عمارتوں کی تیاری کا ایسا شوق تھا کہ اپنے بیٹے حکم کے سوا وہ ان کاموں کا اہتمام اور کسی شخص کے ہاتھ میں نہ دے سکا۔ اول سے آخر تک حکم ہی کا انتظام رہا۔ جو خود بھی عمارتوں کا نہایت شائق تھا اور واقعی ناصر نے نہایت سچا اندازہ حکم کے شوق کا کیا تھا کیونکہ عبدالرحمان جب مدینۂ زہراء کے کام کو ادھورا چھوڑ کے اور تکمیل عمارت کی حسرت دل میں لے کے راہی ملک عدم ہوا تو حکم نے اپنے ذاتی شوق کے جوش میں مرحوم باپ کی آرزوئیں پوری کیں اور مدینہ زہراء کو ہر طرح سے آباد اور مکمل کر کے چھوڑا۔

خلیفہ عبدالرحمان الناصر الدین اللہ نے جب دیکھا کہ اب زندگی کا آخر عہد ہے اور موت کے فرشتے سفر عالم آخری کا تقاضا کر رہے ہیں۔ اگرچہ اپنے تعمیر کیے ہوئے قصر تمام اطراف اسپین میں پھیلے ہوئے دیکھے اور ہر عمارت اور ہر جامع کو خیال کیا تو ایک قوی کشش سے اس شوق میں پایا کہ وہ اسے اپنی طرف بلا رہی ہے مگر مدینتہ الزہراء اور اس کے قصر کی کشش سب سے بڑھی ہوئی تھی۔ اولوالعزمی کے حوصلہ اور حوصلہ سپہگری کے کام چھوڑ دیے اور قصر زہراء میں گوشہ نشین ہو گیا۔ اس کی یہ زندگی بھی عجب لطف اور سرور کی زندگی تھی۔ اپنے ولی عہد حکم کو سلطنت کا مختار کر دیا اور خود ایک مختصر اور منتخب صحبت میں زندگی کی پچھلی گھڑیاں گزارنے لگا۔ اس صحبت کارکن اعظم سلیمان بن عبدالغفار تھا جو کسی زمانے میں اسپین کا بہت بڑا نامور سپاہی تھا۔ اور جس کی شجاعت اور جرات نے خلافت اندلس کو اپنا ممنون احسان بنا لیا تھا۔ اس زمانے میں سلیمان نے دنیا کو چھوڑ دیا تھا۔ بالکل فقیرانہ زندگی بسر کرتا تھا اور صرف اپنی نجات کے خیال میں محو رہتا تھا۔ بکری کی کھال اوڑھتا تھا۔ ننگے پاؤں پھرتا تھا اور خدائے لایزال کے جلال کو ہر وقت اپنی آنکھوں سے دیکھا کرتا تھا۔ عبدالرحمان کو بھی سلیمان کی صحبت نے اگرچہ بالکل درویش اور باخدا بنا دیا تھا مگر قصر زہراء اور نیز صحبت کی چند پری جمال لڑکیوں کی وجہ سے یہ بھی صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ایک زبردست شہنشاہ ہے۔ اس کی خدمت میں جو چند عورتیں تھیں ان میں سے ایک تو محسنہ تھی جو تمام خانگی معاملات کی کار فرما تھی۔ ایک صفیہ تھی۔ جو اس عہد کی ایک مشہور مصنفہ تھی اور عبداللہ الراعی کی بیٹی تھی۔ اور اس کے اشعار و قصائد سے بادشاہ اکثر اپنا دل خوش کیا کرتا تھا۔ جن میں عاشقانہ جذبات کے ساتھ علم کے اعلیٰ خیالات بھی پائے جاتے تھے۔ احمد بن قاسم کی بیٹی عائشہ کے اشعار بھی بادشاہ اکثر سنتا تھا اور بے اختیار ہو ہو کے داد دیتا تھا۔ عائشہ قرطبہ کی ایک کنواری لڑکی تھی۔ جس کی مورخین بہت تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تین باتوں میں وہ اسپین کی کل عورتوں سے فوق لے گئی تھی یعنی پاکدامنی۔ حسن و جمال اور علم و فضل میں اس کے برابر اندلس بھر میں کوئی لڑکی نہ تھی۔

آخر داعیٔ اجل نے لبیک کہی۔ اور عشرت کدۂ زہرا بزم ماتم بن گیا۔ 2 ماہ مبارک رمضان 350ھ15 اکتوبر 961ء میں سہ شنبہ کے روز رحمت حق نے بڑھ کے خلیفہ ناصرالدین اللہ کو اپنی گود میں لے لیا۔ نامور خلیفہ نے پچاس برس چھ مہینے اور تین دن سلطنت کر کے بہتر برس کی عمر میں سفر آخرت کیا۔

اس کا بیٹا حکم جو امور سلطنت اور شاہی اولوالعزمیوں میں ہمیشہ مشیر کار رہا تھا۔ دوسرے روز تخت خلافت پر بیٹھا۔ حکم تخت پر بیٹھنے کے بعد المستنصر باللہ حکم بن عبدالرحمان الناصر کے لقب سے یاد کیا گیا۔ حکم نے اپنے زمانے میں علمی ترقیوں کی طرف خاص توجہ کی۔ اور اسی کی کوششوں سے علمی دنیا میں بھی خلافت اسپین خلافت بغداد کی حریف بن گئی۔ اس کے حالات بھی ہم کسی اور موقع پر ظاہر کریں گے۔