خط (1) — 18 اکتوبر 1904ء (جلد اوّل، خط 15)
لاہور 18؍ اکتوبر 1904ء
مائی ڈیر شیخ صاحب
آپ کا شیریں کلمات سے مملو محبت نامہ مجھے ابھی ملا ہے اور میں نہیں جانتا کہ اس کا فوری جواب دینے پر کیوں مجبور ہو گیا ہوں۔ آپ نے میرے ساتھ جس بے تکلفی کا اظہار کیا ہے میں اس کا قطعاً برا نہیں مانتا۔ اگرچہ ہم دونوں کبھی ایک دوسرے سے ملے نہیں ہیں تاہم میں نے ہمیشہ آپ کو اپنے بہترین دوستوں میں سے ایک سمجھا ہے۔ یکساں طبائع کو باہم تعارف کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ دل کی آنکھیں نہیں ہیں مگر وہ مادّی حجابات کے باوجود دیکھ سکتا ہے۔
آپ نے مجھے یہ یاد دلا کر شرمندہ کیا کہ میں نے آپ کو ہمیشہ مایوس کیا ہے مگر مجھے یہ سوچ کر قدرے اطمینان ہوتا ہے کہ میں نے کبھی غلط عذر پیش نہیں کیا۔ اگر مجھے حرکت میں لانے کے لیے زیادہ زوردار درخواست کی ضرورت ہے تو اس لیے نہیں کہ میں دوسروں کی منتّوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ بلکہ اس لیے کہ بدقسمتی سے میں طبعاً کاہل ہوں، یہ شیخ عبد القادر کی لطیف شرارت تھی کہ انہوں نے میری کاہلی کا تذکرہ آپ سے ایسے الفاظ میں کیا جنہیں آپ دہرا نہیں سکتے۔
میں ضرور آؤں گا کیونکہ میں آپ کو خوش کرنا چاہتا ہوں اور اپنی وعدہ خلافی کی تلافی بھی کرنا چاہتا ہوں مگر براہِ کرم یاد رکھیے کہ میرا آنا مشروط ہے۔ اگر آپ کے خط میں لکھی ہوئی تاریخوں میں کالج کی چھٹی ہے اور کوئی غیر متوقّع مانع پیش نہ آیا تو مجھے آپ کی فرمایش کی تعمیل میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ میں انجمن میں ایک مقالہ ’حیات طبی کی کیفیات‘ پر پڑھوں گا اور ممکن ہوا تو ایک نظم بھی۔ اپنے آنے کی تاریخ اور وقت میں آپ کو بعد میں بتاؤں گا۔ میں آپ کو یہ زحمت دینا نہیں چاہتا کہ آپ مجھے ہوشیار پور لے جانے کے لیے لاہور آئیں، البتّہ اگر آپ کو یہاں کوئی ذاتی کام ہے تو خوش آمدید۔
میں نے ہوشیار پور کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے اور اس چھوٹے سے لیکن ہنگامہ پرور قصبہ کو دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوگی۔ مجھے بہرحال یہ خبر نہیں کہ اس چھوٹی سی جگہ میں آپ کے لیے خاصا وسیع عملی میدان ہے یا نہیں۔ شیخ عبد القادر نے مجھے بتایا کہ آپ کی فعّالیت کو بہت وسیع علاقہ چاہیئے — امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے اور میرے بارے میں آپ جو خیالات رکھتے ہیں اُن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے
آپ کا مخلص محمد اقبال
(انگریزی سے)
(نوادر)
خط (2) — 23 اکتوبر 1904ء (جلد اوّل، خط 16)
لاہور 23؍ اکتوبر 1904ء
بصیغۂ راز
مائی ڈیر شیخ صاحب
آپ کا حسبِ معمول نوازشوں سے بھرپور خط مجھے ابھی ملا ہے، اگر مجھے پیر کے دن یہاں رہنا ہے تو اس لیے نہیں کہ اُس دن کالج بند نہیں ہوگا بلکہ کسی اور وجہ سے جو میں نے آپ کو اپنے پچھلے خط میں بتائی نہیں۔ سینٹ کی میٹنگ میں جو نئے قوانین کے تحت نئے فیلوز کا انتخاب کرنے کے لیے 7؍ نومبر کو منعقد ہوگی آنریبل مسٹر شاہ دین فیلوشپ کے لیے میرا نام تجویز کرنے والے ہیں۔ ذاتی طور پر یہ مجھے زیب نہیں دیتا کہ اِدھر اُدھر جا کر اس حقیر اعزاز کے لیے سینٹ کے ممبروں کو اپنے حق میں آمادہ کروں مگر آپ نے اخباروں میں پڑھا ہوگا کہ مسلمان فیلوز کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ یہ حکومت کے نامزد کردہ کل چھ ہیں جن میں سے تین (مولوی ہونے کے اعتبار سے) عملاً گویا نہیں ہیں۔ لوگ ان باتوں کو دوسرے ڈھنگ سے لیتے ہیں اور مجھے دوستوں نے مجبور کیا ہے کہ کوشش کروں اور ہو سکے تو فیلوشپ حاصل کروں۔ اس لیے مجھ سے کہا جا رہا ہے کہ میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے اِدھر اُدھر گھوموں۔ آپ جانتے ہیں کہ کسی اتنی سی چیز کے لیے اپنے نام کو آگے بڑھانا ایک بھدّی سی بات ہے، اس لیے جو پہلے سے نامزد ہیں مجھے ان کے دوستوں کی تلاش ہے تاکہ انہیں اپنے دوستوں کی رائے پر میرے حق میں اثر انداز ہونے کے لیے آمادہ کر سکوں۔ جناب شاہ دین نے میری طرف سے کچھ لوگوں سے ملاقات کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس طرح کی کنویسنگ میں کتنی زحمت ہے اور کتنا وقت لگتا ہے۔ پچھلے چند دنوں سے میں اس گناہِ بے لذّت میں گرفتار ہوں۔
اندریں حالات میں آپ کے مشورہ کے تحت کام کرنے کو آمادہ ہوں بشرطیکہ آپ اس معاملہ کو دوسرے معاملوں کی روشنی میں لیں۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اتوار کو لاہور سے میری غیر حاضری بھی میرے مفاد کو نقصان پہنچائے گی۔ میں آپ کے لیے سب چیزوں کی قربانی دینے کو تیار ہوں کیونکہ اس زمانے میں قومی مفادات سب پر مقدم ہیں۔ دوسری چھوٹی چھوٹی باتوں کو پسِ پشت ڈال دینا چاہیئے۔ میں آپ سے ایمانداری سے کہتا ہوں کہ میں بہانہ سازی نہیں کر رہا ہوں اور میں یقیناً کسی ایسے محفوظ تر ضابطۂ عمل پر غور کروں گا جو ان حالات میں آپ تجویز کریں گے۔
میں اس وقت آسانی سے ہوشیار پور آ سکتا ہوں مگر انتخاب کی تاریخوں کے آس پاس یہاں سے جانا، آپ بھی مانیں گے کہ خلافِ مصلحت ہوگا۔ لوگ وعدہ ضرور کر لیتے ہیں مگر دور اندیشی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ہمیشہ اور ہر وقت دیکھتے رہیں کہ وہ اپنے وعدہ میں پکّے ہیں یا نہیں۔
آپ کا مخلص محمد اقبال
انگریزی سے
(نوادر)
خط (3) — 29 اگست 1908ء (جلد اوّل، خط 43)
سیالکوٹ شہر 29؍ اگست 1908ء
مائی ڈیر عزیز صاحب
میرے لاہور کے دوستوں نے فیصلہ کیا ہے کہ میرے لیے لاہور میں کام شروع کرنا اشد ضروری ہے۔ بہت سے اسباب ہیں جن کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں آپ سے ملاقات ہونے پر گفتگو کروں گا۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ہم کبھی ایک دوسرے سے مل نہیں سکے۔ لیکن جب ہمارا اندازِ فکر ایک ہی ہے تو ملاقات کی چنداں اہمیت نہیں رہتی۔ آپ جب بھی لاہور آئیں براہِ کرم مجھ سے ضرور ملیں۔ میں شاید نومبر میں وہاں رہوں گا آپ کے حوصلہ افزا خطوط کا شکریہ اور امید ہے کہ میرے معاملات میں آپ کی دلچسپی برقرار رہے گی۔
آپ کا مخلص ایس۔ ایم اقبال
(انگریزی سے)
(نوادر)
خط (4) — 27 جنوری 1909ء (جلد اوّل، خط 55)
لاہور 27؍ جنوری 1909ء
مائی ڈیر عزیز
آپ نے مجھ میں اور میرے کام میں دلچسپی لینے کا جو وعدہ کیا ہے اس کا بہت بہت شکریہ۔
مُنشی نے جو نوٹ آپ کو لکھ کر بھیجا اس کے بارے میں مجھے کبھی نہیں بتایا۔ یہ مناسب تھا کہ آپ نے براہ راست اس کو جواب نہیں دیا۔ براہ کرم اپنے والد صاحب اور محمد نیاز و دوست محمد کو میرا سلام کہیئے۔
بہترین خواہشات کے ساتھ۔
آپ کا مخلص ایس۔ ایم۔ اقبال بار۔ ایٹ۔ لا
(انگریزی سے)
(نوادر)
خط (5) — 16 جون 1910ء (جلد اوّل، خط 72)
لاہور 16؍ جون سنہ 10ء
مائی ڈیر عزیز
حامل رقعہ ہذا۔ سلطان علی جو کبھی میرے منشی تھے، ایک فوجداری مقدمہ میں پھنس گئے ہیں اور مجھ سے گذارش کرتے ہیں کہ آپ سے ان کے معاملہ میں غور کرنے کی سفارش کروں یہ اپنی داستان آپ کو خود سنائیں گے۔ مجھے امید ہے کہ آپ ان کو بری کرانے میں مدد کر سکیں گے۔
ہمیشہ آپ کا محمد اقبال
(انگریزی سے)
(نوادر)
خط (6) — 14 اکتوبر 1910ء (جلد اوّل، خط 77)
لاہور 14؍ اکتوبر سنہ 1910ء
مائی ڈیر عزیز
شاید آپ کو یقین دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اگر ممکن ہوا تو مجھے حاضر ہونے میں خوشی ہوگی۔ ہوشیار پور میں خود آپ کی ذات میں بڑی کشش ہے جس میں میرے دوست ایف ایس افتخار الدین کی وجہ سے اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
آپ کا تابعدار محمد اقبال
(انگریزی سے)
(نوادر)
خط (7) — 28 اکتوبر 1910ء (جلد اوّل، خط 78)
لاہور 28؍ اکتوبر سنہ 1910ء
مائی ڈیر عزیز
آپ کا 27؍ کا رقعہ ابھی ملا، میں نے وہاں آنے کا پورا ارادہ کر لیا تھا مگر آج صبح یہ جان کر الجھن ہوئی کہ پیر کے دن کالج کی کوئی چھٹی نہیں ہے۔ اگر یہ مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو میں جمعہ کی شام کو ہوشیار پور پہنچ جاتا اور فقیر صاحب کو بھی اسی کے مطابق اطلاع کر دیتا مگر بحالتِ موجودہ میں آج روانہ نہیں ہو سکتا۔
اندریں صورت مجھے امید ہے کہ اس سال آپ مجھے معاف کر دیں گے۔ آیندہ سال مجھے امید ہے کہ میں حاضر ہو سکوں گا۔ یہ کالج کا تعلق مجھے معذور کر دیتا ہے۔ دسمبر میں یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ میں نے آپ کا خط شیخ عبدالقادر صاحب کو بھیج دیا ہے۔ وہ کل روانہ ہو رہے ہیں اور پیر کو واپس آئیں گے کیونکہ انہیں دوسری تاریخ کو راولپنڈی میں ایک مقدمہ کی پیروی کرنی ہے۔
ہمیشہ آپ کا محمد اقبال
(انگریزی سے)
(نوادر)

