اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

مولوی انشاء اللہ خاں کے نام

مثالِ پرتوِ مے، طوفِ جام کرتے ہیں

یہی نماز ادا صبح و شام کرتے ہیں

خصوصیت نہیں کچھ اس میں اے کلیم تری

شجر حجر بھی خدا سے کلام کرتے ہیں

نیا جہاں کوئی اے شمع ڈھونڈیے کہ یہاں

ستم کشِ تپشِ ناتمام کرتے ہیں

عجب تماشا ہے مجھ کافرِ محبت کا

صنم بھی سُن کے جسے رام رام کرتے ہیں26

ہوا جہاں کی ہے پیکار آفریں کیسی

کہاں عدم کے مسافر قیام کرتے ہیں27

نظارہ لالے کا تڑپا گیا مرے جی کو

بہار میں اسے آتش بجام کرتے ہیں28

رہینِ لذتِ ہستی نہ ہو کہ مثلِ شرار

یہ راہ ایک نفس میں تمام کرتے ہیں29

بھلی ہے ہم نفسو اس چمن میں خاموشی

کہ خوش نواؤں کو پابندِ دام کرتے ہیں

غرض نشاط ہے شغلِ شراب سے جن کی

حلال چیز کو گویا حرام کرتے ہیں

الٰہی سحر ہے پیرانِ خرقہ پوش میں کیا

کہ اک نظر سے جوانوں کو رام کرتے ہیں

میں اُن کی محفلِ عشرت سے کانپ جاتا ہوں

جو گھر کو پھونک کے دنیا میں نام کرتے ہیں

جہاں کو ہوتی ہے عبرت ہماری پستی سے

نظامِ دہر میں ہم کچھ تو کام کرتے ہیں30

بھلا نبھے گی تری ہم سے کیونکر اے واعظ

کہ ہم تو رسمِ محبت کو عام کرتے ہیں

ہرے رہو وطنِ مازنی کے میدانو!

جہاز پر سے تمہیں ہم سلام کرتے ہیں

جو بے نماز کبھی پڑھتے ہیں نماز اقبالؔ

بلا کے دیر سے مجھ کو امام کرتے ہیں

مازنی31 اٹلی کے محسنین کا سرگروہ تھا۔ یہ شعر اس وقت لکھا گیا جب کہ اس ملک کا ساحل نظر کے سامنے تھا۔

مارسیلز32 تک پہنچنے میں چھ روز صرف ہوئے، کچھ تو اس وجہ سے کہ سمندر کا آخری حصّہ بہت متلاطم تھا اور کچھ اس خیال سے کہ اصلی راستہ میں طوفان کا اندیشہ ہوگا ہمارا کپتان جہاز کو ایک اور راستے سے لے گیا۔ جو معمولی رستے سے کسی قدر لمبا تھا۔ 23؍ کی صبح کو مارسیلز یعنی فرانس کی ایک مشہور تاریخی بندرگاہ پر پہنچے اور چونکہ ہمیں آٹھ دس گھنٹے کا وقفہ مل گیا تھا اس واسطے بندرگاہ کی خوب سیر کی۔ مارسیلز کا نوٹرڈام گرجا33 نہایت اونچی جگہ تعمیر ہوا ہے اور اس کی عمارت کو دیکھ کر دل پر یہ بات منقوش ہو جاتی ہے کہ دنیا میں مذہبی تاثیر ہی حقیقت میں تمام علوم و فنون کی محرک ہوئی ہے۔ مارسیلز سے گاڑی پر سوار ہوئے اور فرانس کی سیر بھی ’’حسنِ رہگذرے‘‘ کے طریق پر ہو گئی۔ کھیتیاں جو گاڑی کے اِدھر اُدھر آتی ہیں ان سے فرانسیسی لوگوں کا نفیس مذاق مترشح ہوتا ہے۔ ایک رات گاڑی میں کٹی اور دوسری شام ہم لوگ برٹش چینال34 کو کراس کر کے ڈوور35 اور ڈوور سے لندن پہنچے۔ شیخ عبدالقادر کی باریک نگہ نے باوجود میرے انگریزی لباس کے مجھے دُور سے پہچان لیا اور دوڑ کر بغل گیر ہو گئے۔

مکان پر پہنچ کر رات بھر آرام کیا۔ دوسری صبح سے کام شروع ہوا۔ یعنی ان تمام فرائض کا مجموعہ جن کی انجام دہی نے مجھے وطن سے جدا کیا تھا اور میری نگاہ میں ایسا ہی مقدّس ہے جیسے عبادت۔

والسلام

آپ کا اقبال

از کیمبرج 25؍ نومبر 1905ء

(خطوطِ اقبال)


اردو جریدہ نے یہ خطوط «کلیاتِ مکاتیبِ اقبال» (مرتبہ سید مظفر حسین برنی، اردو اکادمی، دہلی)، جلد اوّل (نومبر 1989ء)، صفحہ 94 تا 117 سے ڈیجیٹائز کیے ہیں۔