عدن میں قدیم ایرانی بادشاہوں کے بنائے ہوئے تالاب ہیں اور یہ اس طرح بنائے گئے ہیں کہ ایک دفعہ بارش کا تمام پانی ہر جگہ سے ڈھل کر اُن میں جا گرتا ہے۔ چونکہ ملک خشک ہے اس واسطے ایسی تعمیر کی سخت ضرورت تھی۔ میں بوجہ گرمی کے اور نیز قرنطینہ کے عدن کی سیر نہ کر سکا۔ انجینیری کے اس حیرت ناک کرشمے کی دید سے محروم رہا۔ جب ہم سویز پہنچے تو مسلمان دکانداروں کی ایک کثیر تعداد ہمارے جہاز پر آ موجود ہوئی اور ایک قسم کا بازار تختۂ جہاز پر لگ گیا۔ ان لوگوں کی فطرت میں میلانِ تجارت مرکوز ہے۔ اور کیوں نہ ہو ان ہی کے آبا و اجداد تھے جن کے ہاتھوں میں کبھی یورپ اور ایشیا کی تجارت تھی۔ سلیمان اعظم24 انہیں میں کا ایک شہنشاہ تھا جس کی وسعتِ تجارت نے اقوامِ یورپ کو ڈرا کر ان کو ہندوستان کی ایک نئی راہ دریافت کرنے کی تحریک کی تھی۔
کوئی پھل بیچتا ہے، کوئی پوسٹ کارڈ دکھاتا ہے، کوئی مصر کے پرانے بُت بیچتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ یہ ذرا سا بت اٹھارہ ہزار برس کا ہے۔ جو ابھی کھنڈر کھودنے پر ملا ہے، غرضکہ یہ لوگ گاہکوں کو قید کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔ انہیں لوگوں میں ایک شعبدہ باز بھی ہے کہ ایک مرغی کا بچہ ہاتھ میں لیے ہے اور کسی نامعلوم ترکیب سے ایک کے دو بنا کر دکھاتا ہے۔ ایک نوجوان مصری دکاندار سے میں نے سگریٹ خریدنے چاہے اور باتوں باتوں میں، میں نے اُس سے کہا کہ میں مسلمان ہوں، مگر چونکہ میرے سر پر انگریزی ٹوپی تھی اُس نے ماننے میں تامل کیا اور مجھ سے کہا کہ تم ہیٹ کیوں پہنتے ہو۔ تعجب ہے کہ یہ شخص ٹوٹی پھوٹی اُردو بولتا تھا، جب وہ میرے اسلام کا قائل ہو کر یہ جملہ بولا ’’تم بھی مسلم ہم بھی مسلم‘‘ تو مجھے بڑی مسرت ہوئی، میں نے اسے جواب دیا کہ ہیٹ پہننے سے کیا اسلام تشریف لے جاتا ہے؟ کہنے لگا کہ اگر مسلمان کی داڑھی منڈی ہو تو اس کو ٹرکی ٹوپی یعنی طربوش ضرور پہننا چاہیے ورنہ پھر اسلام کی علامت کیا ہوگی۔ میں نے دِل میں کہا کہ کاش ہمارے ہندوستان میں بھی یہ مسئلہ مروّج ہو جاتا تاکہ ہمارے دوست موسمی علماء کے حملوں سے مامون و مصئون ہو جاتے۔ خیر آخر یہ شخص میرے اسلام کا قائل ہوا اور چونکہ حافظِ قرآن تھا، اس واسطے میں نے چند آیات قرآن شریف کی پڑھیں تو نہایت خوش ہوا اور میرے ہاتھ چومنے لگا۔ باقی تمام دکانداروں کو مجھ سے ملایا اور وہ لوگ میرے گِرد حلقہ باندھ کر ماشاء اللہ، ماشاء اللہ کہنے لگے اور میری غرضِ سفر معلوم کر کے دعائیں دینے لگے، یا یوں کہیے کہ دو چار منٹ کے لیے وہ تجارت کی پستی سے اُبھر کر اسلامی اخوت کی بلندی پر جا پہونچے۔
تھوڑی دیر کے بعد مصری نوجوانوں کا ایک نہایت خوبصورت گروہ جہاز کی سیر کے لیے آیا۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو اُن کے چہرے اس قدر مانوس معلوم ہوتے تھے کہ مجھے ایک سکنڈ کے لیے علی گڈھ کالج کے ایک ڈیپوٹیشن کا شبہ ہوا۔ یہ لوگ جہاز کے ایک کنارے پر کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے اور میں بھی دخل در معقولات ان میں جا گھسا۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں، ان میں سے ایک نوجوان ایسی خوبصورت عربی بولتا تھا کہ جیسے حریری کا کوئی مقام پڑھ رہا ہو۔
آخر مسلمانوں کے اس گروہ کو چھوڑ کر ہمارا جہاز رخصت ہوا اور آہستہ آہستہ سویز کنال25 میں جا داخل ہوا۔ یہ کنال جسے ایک فرانسیسی انجینیر نے تعمیر کیا تھا دنیا کے عجائبات میں سے ایک ہے۔ عرب اور افریقہ کی جدائی ہے اور مشرق و مغرب کا اتحاد ہے۔ دنیا کی روحانی زندگی پر مہاتما بدھ نے بھی اِس قدر اثر نہیں کیا جس قدر اس مغربی دماغ نے زمانۂ حال کی تجارت پر اثر کیا ہے۔ کسی شاعر کا قلم اور کسی سنگ تراش کا ہنر اس شخص کے تخیل کی داد نہیں دے سکتا، جس نے اقوامِ عالم میں اس تجارتی تغیّر کی بنیاد رکھی، جس نے حال کی دنیا کی تہذیب و تمدن کو اور سے کچھ اور کر دیا۔ بعض بعض جگہ تو یہ کنال ایسی تنگ ہے کہ دو جہاز مشکل سے اِس میں سے گزر سکتے ہیں اور کسی کسی جگہ ایسی بھی ہے کہ اگر کوئی غنیم چاہے کہ رات بھر میں اسے مٹی سے پُر کر دے تو آسانی سے کر سکتا ہے۔ سینکڑوں آدمی ہر وقت کام کرتے رہتے ہیں جب ٹھیک رہتی ہے اور اس کا ہمیشہ خیال رکھنا پڑتا ہے کہ دونوں جانب سے جو ریگ ہوا سے اُڑ کر اس میں گرتی رہتی ہے اس کا انتظام ہوتا رہے۔ کنارے پر جو مزدور کام کرتے ہیں بعض نہایت شریر ہیں۔ جب ہمارا جہاز آہستہ آہستہ جا رہا تھا اور جہاز کی چند انگریز بیبیاں کھڑی ساحل کی سیر کر رہی تھیں تو اُن میں سے ایک مزدور از سرتاپا برہنہ ہو کر ناچنے لگا۔ یہ بیچاری دوڑ کر اپنے اپنے کمروں میں چلی گئیں۔
جہاز سے گزرتے ہوئے ایک اور دلچسپ نظارہ بھی دیکھنے میں آیا اور وہ یہ کہ ہم نے ایک مصری جہاز گذرتے ہوئے دیکھا جو بالکل ہمارے ہی پاس سے ہو کر گذرا۔ اس پر تمام سپاہی ترکی ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے اور نہایت خوش الحانی سے عربی غزل گاتے جاتے تھے۔ یہ نظارہ ایسا پُر اثر تھا کہ اس کی کیفیت اب تک دل پر باقی ہے۔
ابھی ہم پورٹ سعیدنہ پہونچے تھے کہ ایک بارود سے بھرے ہوئے جہاز کے پھٹ جانے اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر غرق ہو جانے کی خبر آئی۔ تھوڑی دیر میں اس کے ٹکڑے کنال سے گذرتے ہوئے دکھائی دیے۔ جان و مال کا بے اندازہ نقصان ہوا اور تھوڑی دیر کے لیے ہماری طبیعت اس مصیبت پر بہت متاثر رہی۔پورٹ سعید پہونچ کر پھر مسلمان تاجروں کی دکانیں تختۂ جہاز پر لگ گئیں۔
میں ایک کشتی پر بیٹھ کر مع پارسی ہم سفر کے بندرگاہ کی سیر کو چلا گیا۔ پورٹ سعید جہازوں کو کوئلہ مہیا کرنے والے بندرگاہوں میں سب سے بڑا ہے اور سعید پاشا کے نام سے مشہور ہے جس نے سویز کنال بنانے کی اجازت دی تھی۔ عمارات کا نظارہ نہایت ہی خوبصورت ہے اور شہر چھوٹی موٹی بمبئی ہے جس کے متعلق خیال ہے کہ یہ کبھی دنیا کے تجارتی مرکزوں میں سے ایک ہوگا۔ مدرسہ دیکھا، مسجدوں کی سیر کی۔ اسلامی گورنر کا مکان دیکھا، موجد سویز کنال کا مجسمہ دیکھا۔ غرض کہ خوب سیر کی، یہاں کے مدرسے میں عربی اور فرانسیسی پڑھاتے تھے، جس حصّے میں انگریز آباد ہیں وہ حصّہ خصوصیت سے خوبصورت اور پاکیزہ ہے لیکن افسوس ہے کہ جہاں مسلمان آباد ہیں وہ جگہ بہت میلی ہے۔ یہودی، فرانسیسی، انگریز، یونانی، مسلمان غرض کہ دنیا کی تمام اقوام یہاں آباد ہیں۔ سب کے محلے جُدا جُدا ہیں ہوٹل بھی جُدا جُدا ہیں اور چرچ بھی، شہر کی سیر کر کے پورٹ آفس میں آیا، ملازم قریباً سب مسلمان ہیں اور خوب انگریزی اور عربی بولتے ہیں۔ اس عمارت میں داخل ہو کر میں نے ’’نوٹس بورڈ‘‘ سے کئی نئے عربی الفاظ سیکھے جن کو ایک کاغذ پر میں نے نوٹ کر لیا لیکن افسوس ہے کہ بعد میں وہ کاغذ بھی کھو گیا۔ کچھ ٹکٹ پوسٹ آفس سے خرید کیے اور خطوں پر لگا کر ڈاک میں ڈالے تعجب ہے کہ ان میں سے کسی خط کی رسید نہیں آئی۔ آخر اپنے مسلمان راہ نما کو جو اکثر زبانیں جانتا تھا کچھ انعام دے کر جہاز کو لوٹا۔ یہاں جو پہونچا تو ایک اور نظارہ دیکھنے میں آیا۔ تختۂ جہاز پر تین اطالین عورتیں اور دو مرد وائلن بجا رہے تھے اور خوب رقص و سرود ہو رہا تھا۔ ان عورتوں میں ایک لڑکی جس کی عمر تیرہ چودہ سال ہوگی نہایت حسین تھی۔ مجھے دیانت داری کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ اس کے حسن نے تھوڑی دیر کے لیے مجھ پر سخت اثر کیا، لیکن جب اس نے ایک چھوٹی سی تھالی میں مسافروں سے انعام مانگنا شروع کیا تو تمام اثر زائل ہو گیا کیونکہ میری نگاہ میں وہ حسن جس پر استغنا کا غازہ نہ ہو بدصورتی سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔
القصہ فردوسِ گوش اور کسی قدر جنتِ نگاہ کے حظوظ اُٹھا کر ہم روانہ ہوئے اور ہمارا جہاز بحرِ روم میں داخل ہو گیا۔ یہاں سے بہت سے جزیرے رستے میں ملتے ہیں جن میں سے بعض کسی نہ کسی بات کے لیے مشہور ہیں لیکن ان کے نظارے کی کیفیت ذہن سے اُتر گئی۔ یہ جتنے سطور لکھے ہیں حافظہ سے لکھے ہیں اگر میرے نوٹ ضائع نہ ہو جاتے تو امید ہے کہ میں آپ کے ناظرین کو زیادہ کامیابی کے ساتھ خوش کر سکتا۔
بحرِ روم کے ابتدائی حصّے میں سمندر کا نظارہ بہت دلچسپ تھا اور ہوا میں ایسا اثر تھا کہ غیر موزوں طبع آدمی بھی موزوں ہو جائے۔ میری طبیعت قدرتاً شعر پر مائل ہو گئی اور میں نے چند اشعار کی غزل لکھی جو حاضر ہے:

