ہم لوگ رات کو اپنے اپنے کمروں میں سوتے ہیں اور صبح سے شام تک تختۂ جہاز پر کرسیاں بچھا کر بیٹھے رہتے ہیں، کوئی پڑھتا ہے۔ کوئی باتیں کرتا ہے۔ کوئی پھرتا ہے۔ کیبن میں جہاز کی جنبش کی وجہ سے طبیعت بہت گھبراتی ہے مگر تختۂ جہاز پر بہت آرام رہتا ہے۔ میرے تمام ساتھی دوسرے ہی روز مرضِ بحری میں مبتلا ہو گئے، مگر الحمدللہ کہ میں محفوظ رہا۔ مجھ سے اکثروں نے دریافت کیا کہ کیا تم نے پہلے بھی بحری سفر کیا ہے جب میں نے جواب دیا کہ نہیں تو وہ حیران ہوئے اور کہا کہ تم بڑے مضبوط آدمی ہو۔ بمبئی سے ذرا آگے نکل کر سمندر کی حالت کسی قدر متلاطم تھی۔ خواجہ خضر صاحب کچھ خفا سے معلوم ہوتے۔ تھے اتنی اونچی اونچی موجیں آتی تھیں کہ خدا کی پناہ! دیکھ کر دہشت آتی تھی۔ ایک شب ہم کھانا کھا کر تختۂ جہاز پر آ بیٹھے۔ کچھ عرصے کے بعد سمندر کی سرد ہوا نے ہم سب کو سلا دیا، مگر دفعتہً ایک خوفناک موج نے اُچھل کر ہم پر حملہ کیا اور تمام مسافروں کے کپڑے بھیگ گئے عورتیں بچّے اور مرد نیچے بھاگ کر اپنے اپنے کمروں میں جا سوئے اور ہم تھوڑی دیر کے لیے جہاز کے ملازموں اور افسروں کے تمسخر کا باعث بنے رہے۔ رستے میں ایک آدھ بارش بھی ہوئی جس سے سمندر کا تلاطم نسبتہً بڑھ گیا اور طبیعت اس نظارے کی یکسانیت سے اُکتانے لگی۔ سمندر کا پانی بالکل سیاہ معلوم ہوتا ہے اور موجیں جو زور سے اٹھتی ہیں اُن کو سفید جھاگ چاندی کی ایک کلغی سی پہنا دیتی ہے اور دُور دُور تک ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کسی نے سطحِ سمندر پر روئی کے گالے بکھیر ڈالے ہیں۔ یہ نظارہ نہایت دلفریب ہے اگر اس میں موجوں کی دہشت ناک کشاکش کی آمیزش نہ ہو ان کی قوّت سے جہاز ایک معمولی کشتی کی طرح جنبش کرتا ہے۔ آسمان اُوپر تلے ہوتا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر آنکھیں چونکہ اس نظارے سے کسی قدر مانوس ہو گئی ہیں اور نیز جہاز والوں کے چہروں کا اطمینان یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک معمولی بات ہے، اس واسطے ہم کو بھی خوف کا احساس نہیں ہوتا۔ یورپین لڑکے لڑکیاں تختۂ جہاز پر دوڑتے پھرتے ہیں اور محسوس بھی نہیں کرتے کہ جہاز میں ہیں۔
ہمارا ایک ہم سفر پادری ہے جو جنوبی ہندوستان سے آیا ہے اور اب اٹلی کو جا رہا ہے۔ گذشتہ رات مجھ سے کسی نے کہا کہ یہ فرانسیسی پادری بہت سی زبانیں جانتا ہے اور روسی زبان خوب بولتا ہے۔ میں اس کے پاس جا کھڑا ہوا اور اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد پوچھا کہ کونٹ ٹالسٹائی16 کی نسبت تمہارا کیا خیال ہے۔ اس نے میرے سوال پر نہایت حیرانی ظاہر کی اور پوچھا کونٹ ٹالسٹائی کون ہے؟ مجھے یہ دیکھ کر نہایت تعجب ہوا۔ کہ یہ شخص روسی زبان جانتا ہے اور کونٹ کے مشہور نام سے واقف نہیں ہے۔ میں یہ لکھنا بھول گیا کہ جہاز پر دیا سلائی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تختۂ جہاز کی ایک طرف ایک کمرے کی دیوار پر پیتل کی ایک انگیٹھی سی لگا رکھی ہے جس میں چند لکڑیاں آگ لگا کر رکھ دیتے ہیں جن لوگوں کو سگریٹ یا سگار دُودی کرنا ہو اس انگیٹھی سے ایک لکڑی اٹھا لیں۔
جہاز کے سفر میں دل پر سب سے زیادہ اثر ڈالنے والی چیز سمندر کا نظارہ ہے۔ باری تعالیٰ کی قوّتِ نامتناہی کا جو اثر سمندر دیکھ کر ہوتا ہے شاید ہی کسی اور چیز سے ہوتا ہو۔ حج بیت اللہ میں جو تمدّنی اور روحانی فوائد ہیں، ان سے قطع نظر کر کے ایک بڑا اخلاقی فائدہ سمندر کی ہیبت ناک موجوں اور اس کی خوفناک وسعت کا دیکھنا ہے جس سے مغرور انسان کو اپنے ہیچ محض ہونے کا پورا پورا یقین ہو جاتا ہے شارعِ اسلام کی ہر بات قربان ہو جانے کے قابل ہے۔
بأبی أنتَ وأمّی یا رسولَ اللہِ صلی اللہُ علیہِ وسلّم17
آج 12 ستمبر کی صبح ہے۔ میں بہت سویرے اٹھا ہوں۔ جہاز کے جاروب کش ابھی تختے صاف کر رہے ہیں چراغوں کی روشنی دھیمی پڑ گئی ہے آفتاب چشمۂ آب میں سے اٹھتا ہوا معلوم ہوتا ہے اور سمندر اس وقت ایسا ہی ہے جیسا ہمارا دریائے راوی۔ شاید صبح کے پُرتاثیر نظارے نے اس کو سمجھا دیا کہ سکونِ قلب بھی ایک نایاب شے ہے۔ ہر وقت کی الجھن اور بے تابی اچھی نہیں۔ طلوعِ آفتاب کا نظارہ ایک دردمند دل کے لیے تلاوت کا حکم رکھتا ہے یہی آفتاب ہے جس کے طلوع و غروب کو میدان میں ہم نے کئی دفعہ دیکھا ہے مگر یہاں سمندر میں اس کی کیفیت ایسی ہے کہ:
|
نظّارہ ز جنبیدنِ مژگاں گلہ دارد18 |
حقیقت میں جن لوگوں نے آفتاب پرستی کو اپنا مذہب قرار دے رکھا ہے میں ان کو قابلِ معذوری سمجھتا ہوں۔ ناسخ مرحوم کیا خوب فرما گئے ہیں:
|
ہے جی میں آفتاب پرستوں سے پوچھیے |
تصویر کس کی ہے ورقِ آفتاب میں |
کوئٹے کے ڈپٹی کمشنر صاحب جو اٹھارہ ماہ کی رخصت لے کر ولایت جا رہے ہیں اور وہ پادری صاحب جو ٹالسٹائی کے نام سے ناواقف معلوم ہوتے تھے اس وقت جہاز کی اوپر کی چھت پر کھڑے اس نظارے کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ یہ پادری صاحب بڑے مزے کے آدمی ہیں ان میں ایک خاص ہنر ہے اور وہ یہ کہ ہر کسی کو باتوں میں لگا لیتے ہیں۔ انگریزی بولتے ہیں مگر بہت شکستہ اور مجھ کو جب بلاتے ہیں تو ٹالسٹائی کے نام سے۔ کل مجھ سے پوچھتے تھے تم ہندوستان کا ٹالسٹائی بننا چاہتے ہو۔ میں نے جواب دیا ٹالسٹائی بن جانا آسان نہیں ہے۔ زمین سورج کے گرد لاکھوں چکر لگاتی ہے، تب جا کر کہیں ایک ٹالسٹائی پیدا ہوتا ہے۔ کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر صاحب بڑے باخبر آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ کل رات اُن سے ہندوستان کے پولیٹیکل معاملات پر بہت دیر تک گفتگو ہوتی رہی عربی اور فارسی جانتے ہیں۔ سر ولیم میور19 (کی) تصانیف کے متعلق گفتگو ہوئی تو کہنے لگے کاش یہ شخص ذرا کم متعصب ہوتا۔ عمر خیّام کے بڑے مدّاح ہیں مگر میں نے ان سے کہا کہ اہلِ یورپ نے ابھی سحابی نجفی20 کی رباعیات کا مطالعہ نہیں کیا ورنہ عمر خیّام کو کبھی کے فراموش کر گئے ہوتے۔
اب ساحل قریب آتا جاتا ہے اور چند گھنٹوں میں ہمارا جہاز عدن جا پہنچے گا ساحلِ عرب کے تصوّر نے جو ذوق و شوق اس وقت دل میں پیدا کر دیا ہے اس کی داستان کیا عرض کروں بس دل یہی چاہتا ہے کہ زیارت سے اپنی آنکھوں کو منوّر کروں:
|
اللہ رے خاکِ پاکِ مدینہ کی آبرو |
خورشید بھی گیا تو اُدھر سر کے بل گیا |
اے عرب کی مقدّس سرزمین، تجھ کو مبارک ہو! تو ایک پتّھر تھی جس کو دنیا کے معماروں نے ردّ کر دیا تھا مگر ایک یتیم بچے نے خدا جانے تجھ پر کیا افسوں پڑھ دیا کہ موجودہ دنیا کی تہذیب و تمدّن کی بنیاد تجھ پر رکھی گئی! باغ کے مالک نے اپنے ملازموں کو مالیوں کے پاس پھل کا حصّہ لینے کو بھیجا لیکن مالیوں نے ہمیشہ ملازموں کو مار پیٹ کے باغ سے باہر نکال دیا اور مالک کے حقوق کی کچھ پروا نہ کی۔ مگر اے پاک سرزمین، تو وہ جگہ ہے جہاں سے باغ کے مالک نے خود ظہور کیا تاکہ گستاخ مالیوں کو باغ سے نکال کر پھولوں کو ان کے نامسعود پنجوں سے آزاد کرے۔ تیرے ریگستانوں نے ہزاروں مقدّس نقشِ قدم دیکھے ہیں، اور تیری کھجوروں کے سائے نے ہزاروں ولیوں اور سلیمانوں کو تمازتِ آفتاب سے محفوظ رکھا ہے۔ کاش میرے بدکردار جسم کی خاک تیرے ریت کے ذرّوں میں مل کر تیرے بیابانوں میں اُڑتی پھرے اور یہی آوارگی میری زندگی کے تاریک دنوں کا کفّارہ ہو! کاش میں تیرے صحراؤں میں لٹ جاؤں اور دنیا کے تمام سامانوں سے آزاد ہو کر تیری تیز دھوپ میں جلتا ہوا اور پاؤں کے آبلوں کی پروا نہ کرتا ہوا اس پاک سرزمین میں جا پہنچوں جہاں کی گلیوں میں بلال کی عاشقانہ آواز گونجتی تھی21
از عدن مورخہ 12؍ ستمبر22
راقم محمد اقبال
(خطوطِ اقبال)
خط (2) — 25 نومبر 1905ء (جلد اوّل، خط 22)
مولوی صاحب23، مخدوم و مکرّم، السلام علیکم
میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ سویز پہنچ کر دوسرا خط لکھوں گا مگر چونکہ عدن سے سویز تک کے حالات بہت مختصر تھے اس واسطے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ لندن پہنچ کر مفصّل واقعات عرض کروں گا۔ میرے پاس ایک کاغذ تھا جس پر میں نوٹ لیتا جاتا تھا مگر افسوس ہے کہ منزلِ مقصود پر پہنچ کر وہ کاغذ کہیں کھو گیا۔ یہی وجہ میرے اب تک خاموش رہنے کی تھی شیخ عبدالقادر صاحب کی معرفت آپ کی شکایت پہنچی۔ کل ایک پرائیوٹ خط میں نے آپ کو لکھا تھا۔ دونوں خط آپ کو ایک ہی وقت ملیں گے۔

