اس مضمون پر اُس سے بہت گفتگو ہوئی اور میں نے اُسے بتایا کہ ینگ پارٹی کو انگلستان کی تاریخ سے فائدہ اٹھانا چاہیئے کیونکہ جس طریق سے رعایا انگلستان نے بتدریج اپنے بادشاہوں سے پولیٹیکل حقوق حاصل کیے وہ طریق سب سے عمدہ ہے بڑے بڑے عظیم الشان انقلابوں کا بغیر کشت و خون کے ہو جانا یہ کچھ خاکِ انگلستان ہی کا حصّہ ہے۔ ایک روز سرِ شام میں اور یہ ترک جنٹلمین بمبئی کا اسلامیہ مدرسہ دیکھنے چلے گئے۔ وہاں اسکولوں کی گراؤنڈ میں مسلمان طلبا کرکٹ کھیل رہے تھے۔ ہم نے اُن سے ایک کو بلایا اور اسکول کے متعلق بہت سی باتیں اس سے دریافت کیں۔ میں نے اس طالب علم سے پوچھا کہ انجمن13 اس اسکول کو کالج کیوں نہیں بنا دیتی۔ کیا فنڈ نہیں ہے یا اور کوئی وجہ ہے۔ اس نے جواب دیا کہ فنڈ تو موجود ہے اور اگر ضرورت ہو تو ایک آن میں موجود ہو سکتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہاں بڑے بڑے متموّل سوداگر موجود ہیں۔ مگر مشکل یہ ہے کہ مسلمان طلباء پڑھنے کے لیے نہیں آتے اس کے علاوہ اور اچھے اچھے کالج بمبئی میں موجود ہیں اور جیسی تعلیم ان میں ہوتی ہے ویسی سر دست ہم یہاں دے بھی نہیں سکتے۔ یہ جواب سن کر میں بہت خوش ہوا میرا خیال تھا کہ بمبئی جیسے شہر میں مسلمانوں کا کالج ضرور ہو گا کیونکہ یہاں کے مسلمان تموّل میں کسی اور قوم سے پیچھے نہیں ہیں لیکن یہاں آ کر معلوم ہوا کہ تموّل کے ساتھ اُن میں عقل بھی ہے۔ ہم پنجابیوں کی طرح احمق نہیں ہیں۔ ہر چیز کو تجارتی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور نفع و نقصان پر ہر پہلو سے غور کر لیتے ہیں۔
غرض کہ بمبئی (خدا اسے آباد رکھے) عجب شہر ہے۔ بازار کشادہ، ہر طرف پختہ سربفلک عمارتیں ہیں کہ دیکھنے والے کی نگاہ ان سے خیرہ ہوتی ہے۔ بازاروں میں گاڑیوں کی آمد و رفت اس قدر ہے کہ پیدل چلنا محال ہو جاتا ہے یہاں ہر چیز مل سکتی ہے یورپ امریکہ کے کارخانوں کی کوئی چیز طلب کرو فوراً ملے گی۔ ہاں البتہ ایک چیز ایسی ہے جو اس شہر میں نہیں مل سکتی یعنی فراغت۔
یہاں پارسیوں کی آبادی اسی نوے ہزار کے قریب ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمام شہر ہی پارسیوں کا ہے۔ اس قوم کی صلاحیت نہایت قابلِ تعریف ہے۔ اور ان کی دولت و عظمت بے اندازہ۔ مگر اس قوم کے لیے کسی اچھی فیوچر14 کی پیشین گوئی نہیں کر سکتا۔ یہ لوگ عام طور پر سب کے سب دولت کمانے کی فکر میں ہیں اور کسی چیز پر اقتصادی پہلو کے سوا کسی اور پہلو سے نگاہ ہی نہیں ڈال سکتے علاوہ اس کے نہ کوئی ان کی زبان ہے اور نہ ان کا لٹریچر ہے اور طرّہ یہ کہ فارسی کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ افسوس! یہ لوگ فارسی لٹریچر سے غافل ہیں۔ ورنہ ان کو معلوم ہوتا کہ ایرانی لٹریچر میں عربیّت کو فی الحقیقت کوئی دخل نہیں ہے، بلکہ زردشتی رنگ اس کے رگ و ریشے میں ہے اور اسی پر اس کے حسن کا دار و مدار ہے۔ میں نے اسکول کے پارسی لڑکوں اور لڑکیوں کو بازار میں پھرتے دیکھا۔ چستی کی مورتیں تھیں مگر تعجب ہے کہ ان کی خوبصورت آنکھیں اسی فی صدی کے حساب سے عینک پوش تھیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ عینک پوشی پارسیوں کا قومی فیشن ہوتا جاتا ہے۔ معلوم نہیں کہ ان کے قومی ریفارمر اس طرف توجّہ کیوں نہیں کرتے۔ اس شہر کی تعلیمی حالت عام طور پر نہایت عمدہ معلوم ہوتی ہے۔ ہمارے ہوٹل کا حجام ہندوستان کی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات جانتا تھا۔ گجراتی کا اخبار ہر روز پڑھتا تھا اور جاپان اور روس کی لڑائی سے پورا باخبر تھا۔ نوروجی دادا بھائی کا نام بڑی عزّت سے لیتا تھا میں نے اس سے پوچھا: نوروجی انگلستان میں کیا کرتا ہے؟ بولا ’’حجور کالوں کے لیے لڑتا ہے‘‘ ہوٹل کے نیچے مسلمان دکاندار ہیں۔ میں نے دیکھا ہر روز گجراتی اخبار پڑھتے تھے میں نے ایک روز ان سے پوچھا تم اُردو پڑھ سکتے ہو کہنے لگے نہیں سمجھ سکتے ہیں پڑھنا نہیں جانتے۔ میں نے پوچھا کہ جب مولوی تمہارے نکاح پڑھاتا ہے تو کون سی زبان بولتا ہے۔ مسکرا کر بولا ’’اردو‘‘ یہاں پر ہر کوئی اردو سمجھ سکتا ہے اور ٹوٹی پھوٹی بول بھی لیتا ہے۔ ہمارے ہوٹل کا سیٹھ (وہی بوتل والا پیر مرد) کبھی ہندوستان نہیں گیا مگر اردو خاصی بولتا تھا۔ میں بمبئی یعنی بابِ لندن کی کیفیت دیکھ کر حیران ہوں، خدا جانے لنڈن کیا ہو گا جس کا دروازہ ایسا عظیم الشان ہے۔ اچھّا دیدہ خواہد شد، 7؍ ستمبر کو 2 بجے ہم وکٹوریہ ڈاک (گھاٹ) پر پہنچے جہاں مختلف کمپنیوں کے جہاز کھڑے ہیں۔ اللہ اکبر! یہاں کی دنیا ہی نرالی ہے۔ کئی طرح کے جہاز اور سینکڑوں کشتیاں ڈاک میں کھڑی ہیں اور مسافر سے کہہ رہی ہیں کہ سمندر کی وسعت سے نہ ڈر۔ خدا نے چاہا تو ہم تجھے صحیح و سلامت منزلِ مقصود پر پہنچا دیں گے۔ خیر طبّی معائنہ کے بعد میں اپنے جہاز پر سوار ہوا۔ لالہ دھنپت رام وکیل لاہور اور ان کے ایک دوست ڈاکٹر صاحب اس روز حسنِ اتفاق سے بمبئی میں تھے۔ میں ان کا نہایت سپاس گذار ہوں کہ یہ دونوں صاحب مجھے رخصت کرنے کے لیے ڈاک15 پر تشریف لائے۔ بہت سے اور لوگ بھی جہاز پر سوار ہوئے اور اُن کے دوستوں اور رشتہ داروں کا ایک ہجوم ڈاک پر تھا۔ کوئی تین بجے جہاز نے حرکت کی اور ہم اپنے دوستوں کو سلام کہتے اور رومال ہلاتے ہوئے سمندر پر چلے گئے یہاں تک کہ موجیں اِدھر اُدھر سے آ آ کر ہمارے جہاز کو چومنے لگیں۔ فرانسیسی قوم کا مذاق اس جہاز کی عمدگی اور نفاست سے ظاہر ہے۔ ہر روز صبح کو کئی آدمی جہاز کی صفائی میں مصروف رہتے ہیں اور ایسی خوبی سے صفائی کرتے ہیں کہ ایک تنکا تک جہاز پر نہیں رہنے دیتے۔ ملازموں میں مصر کے چند حبشی بھی ہیں جو مسلمان ہیں اور عربی بولتے ہیں۔ جہاز کے فرانسیسی افسر نہایت خوش خُلق ہیں اور ان کے تکلفات کو دیکھ کر لکھنؤ یاد آ جاتا ہے۔ ایک روز ایک افسر تختۂ جہاز پر کھڑا تھا کہ ایک حسین عورت کا اُدھر سے گذر ہوا، اتّفاق سے یا غالباً ارادۃً یہ عورت اس افسر کے شانے پر ہاتھ رکھتی ہوئی گذری۔ ہمارے نوجوان افسر نے اس توجہ کے جواب میں ایک ایسی ادا سے جنبش کی کہ ہمارے ملک کے حسین بھی اُس کی نقل نہیں اتار سکتے۔
کھانے کا انتظام بھی نہایت قابلِ تعریف ہے میز بھی فرانسیسی تکلف کی گواہی دے رہا ہے مگر اس جہاز پر ہم ہندوستانیوں کے لیے ایک بڑی دقّت ہے اور وہ یہ کہ جہاز کے تقریباً سب مسافر فرانسیسی بولتے ہیں۔ انگریزی کوئی نہیں جانتا۔ جہاز کے تمام ملازم فرانسیسی بولتے ہیں اور بعض اوقات اُن کو اپنا مطلب سمجھانے میں بڑی دقّت ہوتی ہے اگرچہ فرانسیسی جہازوں میں ہر طرح کی آسایش ہے، تاہم میری رائے یہی ہے کہ ہم لوگوں کو انگریزی کمپنیوں کے جہازوں میں سفر کرنا چاہیئے۔ ان کے مسافر سب کے سب انگریزی داں ہوتے ہیں۔ اور علاوہ اس کے مسافروں کی کثرت کی وجہ سے جہاز پر بڑی رونق ہوتی ہے۔ ہمارے اس جہاز میں ساٹھ سے زیادہ مسافر نہیں ہیں۔

