|
کیا مرتے دم کے لطف میں پنہاں ستم نہ تھا؟ |
وہ دیکھتے تھے سانس کو اور مجھ میں دم نہ تھا |
مومن نے اس شعر میں معشوق کے لطف ستم فہمی کو نہیں دکھلایا ہے بلکہ ایک عام حالت کی بھی مصوری کی ہے۔ معشوق تو حالت نزع میں عاشق کو صرف اس لیے گھبرا کر دیکھ رہا ہے کہ دیکھوں اس میں دم باقی ہے یا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر عاشق مر جائے تو قصہ پاک ہو۔ مگر عام طور پر بھی عزیز و دوست احباب اپنے عزیز کی آخری حالت کو بار بار دیکھتے ہیں کہ اس میں سانس باقی ہے یا نہیں۔ اس لحاظ سے مومن کا شعر بہت ہی سچا اور اثر انداز ہے۔ اسی میں رنگ تغزل بھی اعلیٰ درجہ کا ہے اور جذباتِ انسانی کی بھی حالت دکھائی ہے۔
|
میں مر گیا وہ چشم جو یاد آئی اور یار |
حیراں ہیں کہ مے تھی پیالہ میں سم نہ تھا |
مومن کی یہ سحر بیانی حد درجہ قابل تعریف ہے کہ وہ معنی آفرینی کے ساتھ عاشقانہ مضامین ایسے پیدا کرتے ہیں جن کا کوئی جواب نہیں۔ مذکورہ بالا شعر کو نظرِ انصاف سے دیکھیے کس کیفیت کو نظم کر گئے ہیں۔ یہ معشوق کی آنکھ کو صرف دیکھ کے مر گئے۔ حالانکہ آنکھ کو دیکھ کر مر جانا خلاف قیاس بات ہے لیکن جب چشم یار کو ایک جامِ مے مان لیا۔ اور تجربہ سے ظاہر ہو چکا ہے کہ جب شراب بہت تیز اور تند ہوتی ہے تو اس کے پینے سے انسان مر بھی جاتا ہے۔ اگر چشم معشوق بھی انتہائی نشیلی ہے تو عاشق بھی اس کے اثر سے مر سکتا ہے۔ یہ ایک خاص حالت ہے جو محض عشاق سے مخصوص ہے۔ اس کو عام جذبات سے نہ ملایے۔ مومن کے دوست حیران ہیں کہ اس نے (مومن) وہ جام پیا جس میں مے تھی۔ پھر کیوں مر گیا۔ کچھ اس پیالے میں زہر تو نہ تھا۔ ہائے کیا مزہ کی بات ہے۔ چشم محبوب کے تصور میں جامِ مے پینے سے شراب کا اثر بہت تند اور تیز ہو گیا اور اس لیے مومن کی موت پر زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔
(پر شکستگی میں پرواز)
|
اڑتے ہی رنگِ رخ مرا نظروں سے تھا نہاں |
اس مرغِ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا |
ذیل کے شعر میں مومن جادو کو اعجازِ مسیحائی سے ملا رہے ہیں۔ فرطِ لطفِ بیان اور معشوق سے طرزِ مکالمت کو دیکھیے۔ مصرعہ ثانی میں (آ مرے) میں جو مزہ بھرا ہے اس کو رنگ تغزل کے نقاد سمجھ سکتے ہیں۔ مومن کا یہ شعر بالکل تیر نشتر ہے۔ اس خیال کو نظیری بھی اس سے اچھا نہ کہہ سکتے۔ لب کو لب سے ملانے کی تمنا کی ہے۔ اور پھر معشوق سے دعویٰ سحری اور مسیحائی کے انداز کو تو دیکھیے۔ شعر ملاحظہ ہو۔
|
تلخکامی پر مجھے، تجھ کو لبِ شیریں پہ ناز |
آ مرے جادو سے اعجازِ مسیحائی ملا |
اس زمین کے مقطع میں جبیں سائی کے علوے و مرتبت کو کس بلند پایہ میں ظاہر کر رہے ہیں۔ سجدہ گاہ کیسا کعبہ سے بھی زیادہ معزز و ارفع مقام رکھنا چاہتے ہیں۔ شاید مومن کی خودی عرش سے اعلیٰ ہے۔
|
چھوڑ تجھ کو کروں مومن سجدہ کس بت کے نگر |
خاک ہے تیرے قدم لینے کو جبیں سائی بلا |
|
ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا |
طوفانِ باد ہے مجھ کو جھونکا نسیم کا |
یہ مطلع صائب اور سخن فہموں کی روح کو خوش کرنے والا ہے۔ اردو میں یہ رنگین خیالی اور نزاکتِ مضمون اعلیٰ درجہ کی ہے۔ اپنی لاغری کو شمیم گل سے تشبیہ دے کر مصرعہ ثانی میں اپنے دعویٰ کو ثابت کر رہے ہیں۔ جس طرح بوئے گل نسیم سے اڑی اڑی پھرتی ہے اسی طرح جھونکا فرطِ لاغری سے نسیم کا مجھ کو اٹھائے پھرتا ہے بلکہ نسیم کا جھونکا مجھے ایک طوفانِ باد ہو رہا ہے اس لیے وہ گویا شمیم گل سے بھی زیادہ نازک ہیں۔
شوخ بیانی
|
واعظ بتوں کو خلد میں لے جائیں گے کہیں |
ہے وعدہ کافروں سے عذابِ الیم کا |
|
جوں نکہتِ گل جنبشِ ہے جی کا نکل جانا |
اے بادِ صبا میری کروٹ تو بدل جانا |
اس نازک خیالی اور ادا آفرینی کی کیا تعریف ہو سکتی ہے۔ مومن نے اپنے ضعف کی تصویر نئے رنگ روپ سے اتاری ہے۔ بادِ صبا کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ میں فرطِ ضعف سے کروٹ نہیں بدل سکتا ہوں تو اگر مجھ کو کروٹ بدلوائے تو مہربانی ہو۔ اس طرح کہ جیسے نسیم کی جنبش سے نکہت گل جدا ہو جاتی ہے۔ انہیں نازک خیالیوں سے مومن کی سحر طرازی کا قائل ہونا پڑتا ہے۔
|
بوسے دم غضب لیے اُلٹی سمجھ تو دیکھ |
بل جو پڑا جبیں پہ تمنا کو لب ہوا |
بظاہر ایک اردو کا شعر ہے مگر معنی تو دیکھیے۔ کہتے ہیں میری تمنا کی الٹی سمجھ کو دیکھیے کہ جب معشوق کی جبیں پر غصہ سے بل پڑے تو اس بل کو لب معشوق سمجھ کر بوسے لینے لگے۔ مومن نے در پردہ اس بات کو بیان کیا کہ ہم معشوق کے غضب کو بھی رحم کے برابر ہی سمجھتے ہیں۔ معمولی بات کو کس ادیبانہ شان سے بیان کیا ہے۔
|
بجلی گری فغاں سے مرے آسمان پر |
جو حادثہ کبھی نہ ہوا تھا سو اب ہوا |
صاف شعر میں بھی کیا بات پیدا کی ہے۔ آسمان سے زمین پر بجلی گرا کرتی ہے۔ مگر مومن زمین سے آسمان پر بجلی گرا رہے ہیں۔ مصرعہ اول میں انہوں نے صرف اپنی فغانِ بے اختیار سے آسمان پر بجلی نہیں گرائی بلکہ آسمان جو شعرا اور عشاق کا رقیب اور تکلیف رساں ہے اس سے اس طور پر بدلہ لیا کہ فغاں کی بجلی سے اس کو جلا دیا کیونکہ حادثہ کا مفہوم یہی ہے کہ خدا کا نقصان اور تکلیف ہو۔ اسی مفہوم کے قریب قریب ذیل کا شعر بھی ہے۔ لیکن اسلوب بیان بالکل الگ ہے۔ مومن انتقامِ فلک لینے کے لیے نالہ کو اجازت دینا چاہتے ہیں۔ مگر دیکھیے تقاضوں کے بعد داہ بے حسن بیان۔
|
اب اذنِ انتقامِ جفائے فلک تو دوں |
سو بار جوشِ نالہ اجازت طلب ہوا |
ذیل کا شعر مرثیۂ عشق ہے۔ عاشق کی دردناک حالت کو کس حسنِ بیان اور دلگداز طریقہ سے بیان کر رہے ہیں۔
|
سینے پہ ہاتھ دھرتے ہی کچھ دم پہ بن گئی |
لو جان کا عذاب ہوا دل کا تھامنا |
ذیل کا خیال بھی بالکل نیا ہے۔ نئی شمع ہے اور نیا پروانہ ہے۔ سوز و بزمِ جدائی کو نئے انداز سے بیان کیا ہے۔
|
بن ترے اے شعلہ رو آتشکدہ تن ہو گیا |
شمع مرقد پر میرے پروانہ برہمن ہو گیا |
ذیل کے شعر میں نیا مرہمِ زخم نکالا ہے اور چارہ گر کو کس خوبی سے بھجائے ہیں۔ تیرِ یار کو سینہ میں کس مطلع سے بند کیا ہے۔ اف کیا دردناک شعر ہے۔
|
زخم بھی تو مرہمِ زخمِ جگر ہے چارہ گر |
بند تیرِ یار سے سینہ کا روزن ہو گیا |
|
قابو میں نہیں ہے دلِ کم حوصلہ اپنا |
اس جور پہ جب کرتے ہیں تجھ سے گلہ اپنا |
معشوق سے کہہ رہے ہیں کہ ابتدائے عشق میں میرا دل ابھی کم حوصلہ ہے اور میں اس کے تقاضے اور نا صبری سے تیرے جور کا گلہ تجھ سے کیا تو اس میں مجھے معاف رکھ۔ میری خطا نہیں بلکہ دل کی ہے۔ بالکل سچی بات ہے کہ ابتدائے عشق میں عاشق کو صبر و تحمل نہیں ہوتا۔ جوں جوں عشق کامل ہوتا جاتا ہے مصائب کے تحمل کی قوت اور ہمت پیدا ہوتی ہے اور اس کے بعد تسلیم و رضا کی شان پیدا ہوتی ہے۔ بہر حال مومن سچ کہہ رہے ہیں کہ میں تیرے جور پر بھی راضی ہوں دل میں ابھی یہ وصف نہیں پیدا ہوا ہے۔
|
انصاف کے خواہاں ہیں، نہیں طالبِ زر ہم |
تحسینِ سخن فہم ہے مومن صلہ اپنا |
|
روزِ محشر کیا ہوا پھر کیوں شبِ دیجور ہے |
کیا ہمارا نامۂ اعمال کچھ وا ہو گیا |
نامۂ اعمال کی سیاہی کے اثر سے روزِ محشر کا شبِ دیجور ہو جانا عجیب دلچسپ مضمون ہے۔
|
یوں لبِ خنجر کے بوسے مقتل میں لیتے نہ تھے |
زخمِ کاری کی ہنسی میں کام میرا ہو گیا |
مومن کا یہ شعر بھی حد کا دلکش ہے۔ لبِ خنجر کے بے حد بوسے لینے سے زخمِ کاری کا ہو جانا لازمی ہے اور زخمِ کاری میں زندگی دشوار ہے۔ خوب شعر ہے۔
|
نفرت تھی اس قدر کہ نہ ٹھہرے وہ صبح تک |
پاسِ درازیٔ شبِ کاکل نہ ہو سکا |
معشوق کی نفرت اور جلد بازی کو کس پیرایہ سے ظاہر کر رہے ہیں۔ معمولی بات میں غیر معمولی خوبیاں پیدا کی ہیں۔ کہتے ہیں اس کو مجھ سے اس قدر نفرت تھی کہ وہ صبح ہوتے ہی چلے گئے اور اپنی کاکل کی درازی رات کا بھی خیال نہ کیا۔ شاید اس سے مراد ہے کہ وہ اپنی کاکلِ دراز کو کھول دیتے تو اس کی سیاہی کے اثر سے طلوعِ صبح نہ ہونے پاتا کیونکہ اپنی کاکلِ دراز کی کاکل آفتاب کو گھیر لیتی۔ لیکن میری نفرت کے سبب سے انہوں نے ایسا نہیں کیا اور اپنی کاکلِ دراز کا پاس بھی نہ کیا۔
