ذیل کا مضمون مولوی سید خورشید علی صاحب نے خاص ادیب کے لیے عطا فرمایا ہے۔ ممدوح سے ناظرینِ ادیب بخوبی واقف ہیں اور آپ کے خیالات سے اکثر مستفید ہوتے رہے ہیں۔ مزید تعارف کی ضرورت نہیں۔ اس مضمون میں مسز سروجنی نائڈو کی انگریزی شاعری کی اہمیت دکھائی گئی ہے۔ آپ کی قادر الکلامی کے خود ولائی ادیب اور جوہر شناس معترف ہیں۔ آپ کا کلام انگریزی رسائل میں بارہا ہماری نظر سے گزرا ہے۔ زورِ طبع، معنی آفرینی اور آمدِ مضمون واقعی قابلِ داد ہے۔ نکتہ سنج جانتے ہیں کہ دوسرے ممالک کے خیالات و جذبات، رسم و رواج اور عادات و خصائل کو شاعری کا جامہ پہنانا کس قدر دشوار اور مشکل کام ہے۔ مسز سروجنی نائڈو میں یہی بہت بڑا کمال ہے کہ جس حُسن و خوبی سے وہ اپنے ملک کے خیالات کی بندش کرتی ہیں اُسی خوش سلیقگی اور شگفتگی کے ساتھ یورپ کے جذبات بھی نظم کرتی ہیں۔ اور مشرق اور مغرب میں ہر حیثیت سے جو بُعد ہے وہ ظاہر ہے۔ اُن کی ذات پر ابنائے وطن جس قدر فخر کریں بجا ہے۔ اور یہ ایک عجیب بات ہے کہ ہر زمانہ میں ایک نا ایک باکمال ہندوستان کے لیے مایۂ ناز ہوا ہے۔ انگریزی شاعری پر مس تورودت آنجہانی کے بھی جو احسانات ہیں ان کو زمانہ کبھی نہ بھولے گا۔ اور یہ تو قاعدہ ہے کہ متقدمین میں سے متاخرین کو بڑھ جانے کا زیادہ موقع ملتا ہے۔ یہی کمالات ہیں جن کو یکسو کر دینے سے کسی خاص فن میں ممتاز ہو جانے کے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔ اور مثال کے لیے پنڈتا رما بائی کی ذات کافی ہے۔ (ایڈیٹر)
مسٹر عبداللہ یوسف علی نے اپنی مشہور کتاب لایف انڈ لیبر آف دی اپیپل آف انڈیا (اقوام ہند کی طرزِ زندگی اور کسبِ معیشت) میں کیا خوب کہا ہے کہ ”یہ ایک عجیب بات ہے کہ ہندوستان کے صرف دو شاعروں نے در حقیقت انگریزی ادب میں نام کیا ہے اور وہ دونوں خواتین ہی ہیں“۔ اس میں شک نہیں کہ جب سے انگریزی تعلیم ہمارے ملک میں عام ہوئی ہے اہل ہند کی کثیر تعداد نے انگریزی زبان میں شعر کہنے کا شوق کیا، لیکن کسی کے کلام کو مقبولیت و شہرت میں وہ درجہ حاصل نہ ہو سکا جو مس تورودت آنجہانی اور مسز سروجنی نائڈو کا حصہ تھا۔ قسام ازل نے اس حقیقی دولت سے اب تک مادر ہند کے ان ہی دو سعادت اطوار خوش نصیب بچوں کو مالا مال کیا۔ مس تورودت اور مسز سروجنی نائڈو کے نام نامی انگریزی ادب کے آسمان پر آفتاب و ماہتاب کی طرح جگمگا رہے ہیں۔ ان ہر دو فخرِ وطن خواتین کی دلکش شاعری نے نظم انگریزی میں ایک جدید، پُر لطف باب کا اضافہ کیا، اور ان کے تخیل کی جدت اور مضامین کی تازگی نے انگریزی نظم کے گلزار میں عجیب و غریب روح پرور گل بوٹے لگائے۔ لیکن مسز سروجنی نائڈو نے اپنی پیشرو مس تورودت آنجہانی سے بھی گوئے سبقت لے جانے میں کامیابی حاصل کی۔ جواں مرگ مس تورودت کو بے وقت موت نے اتنی مہلت نہ دی کہ وہ اپنی خدا داد سخن طرازی اور خوش فکری کے زیادہ ترقی و تربیت یافتہ نمونے دنیا کے سامنے پیش کر سکتیں۔ انگلستان کے مشہور شاعر مسٹر اڈمنڈ گاس نے ان دونوں شاعرہ خواتین کا باہمی مقابلہ کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ:
”تورودت کی تصانیف نہایت عمدہ اور پاکیزہ ہیں لیکن مصنفہ کی کمسنی، عزلت و تنہائی اور بہت مختصر ناشاد و ناکام زندگی کے نہایت درد انگیز و جاں گداز واقعات کے باعث ان میں کچھ امور قابلِ معافی بھی ہیں۔ مسز نائڈو کے تازہ اور پختہ کلام میں کوئی بات ایسی نہیں پاتا جو سخت سے سخت تنقید میں بھی قابل گرفت معلوم ہو سکے“۔
مسز سروجنی نائڈو 13 فروری 1879ء کو بمقام حیدر آباد پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ماجد اگھور ناتھ چٹوپادھیائے، ڈی۔ ایس۔ سی (اڈنبرا)، مشرقی بنگال کے ایک معزز اور موقر خاندان کے رکن رکین ہیں۔ ان کا خاندان سنسکرت میں بہت فاضل اور یوگ کے عمل میں کامل ہونے کے باعث بنگال میں بہت مشہور ہے۔ ڈاکٹر اگھور ناتھ ان محترم بزرگوں میں سے ہیں جن کے ہاتھوں حیدر آباد میں انگریزی تعلیم کی داغ بیل پڑی۔ آج حیدرآباد میں بچہ بچہ اس نام سے واقف ہے اور حیدرآباد کے ہر طبقہ اور ہر فرقہ کے لوگ ڈاکٹر صاحب کی عزت اور ان کے خاندان کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے یہاں کے سر رشتۂ تعلیمات کی مختلف خدمتیں ادا کیں۔ مدت تک وہ نظام کالج کے سائنس پروفیسر تھے۔ اگرچہ ڈاکٹر صاحب نے وظیفہ لینے کے بعد اب سال ڈیڑھ سال سے اپنے وطن مالوف میں رہنا اختیار کیا ہے، لیکن ان کی ذاتی خوبیوں اور پاکیزہ اخلاق کی یاد اور ان کی سادہ طرزِ زندگی کا نیک اثر اب تک ویسا ہی باقی ہے۔
مسز سروجنی نائڈو ڈاکٹر صاحب کی سب سے بڑی اولاد ہیں۔ ابتدائی تعلیم حیدر آباد کے مشہور سنٹ جارجس گرامر اسکول میں ہوئی۔ بمصداق “سالے کہ نکوست از بہارش پیداست” شروع ہی سے غیر معمولی قابلیت کے آثار ہویدا تھے۔ بارہ برس کی عمر میں مدراس یونیورسٹی کے امتحان میٹریکولیشن میں کامیابی حاصل کی۔ 1895ء میں سرکار نظام کی جانب سے بعطائے وظیفہ انگلستان بھیجی گئیں۔ انگلستان میں 1898ء تک قیام رہا۔ اس زمانہ میں کچھ دنوں تو لندن کے کنگس کالج میں تعلیم پائی اور باقی ایّام مشہور زنانہ درس گاہ گرٹن میں بسر کیے۔ 1898ء کے ستمبر میں حیدر آباد واپس ہوئیں اور اسی سال دسمبر میں ڈاکٹر ایم۔ جی۔ نائڈو کے ساتھ جو اڈنبرا یونیورسٹی کے ایم۔ بی۔ سی۔ ایم ہیں، شادی کر لی۔
مسز سروجنی نائڈو کو بہت کمسنی سے شعر کہنے کا شوق ہے۔ چنانچہ وہ بیان کرتی ہیں:
”ایک روز جب کہ میں گیارہ برس کی تھی جبر مقابلہ کا ایک سوال مجھ سے حل نہیں ہو رہا تھا۔ میں اس کو حل کرنے کی کوشش میں بہت پریشان ہو رہی تھی اور اپنی ناکامی پر بیٹھی افسوس کر رہی تھی۔ سوال تو حل نہیں ہوا، لیکن اس کے عوض خود بخود ایک پوری نظم میرے ذہن میں آئی۔ میں نے فوراً اسے قلم بند کر لیا اور اس دن سے میری شاعری کی ابتدا ہوئی“۔
پانچ چھے برس بعد جب وہ انگلستان پہنچیں تو انھیں شعر کہنے میں خوب کمال حاصل تھا۔ وہ کئی بہت نفیس اور پاکیزہ نظموں کی مصنف بن چکی تھیں۔ ایک آدھ دلچسپ ڈراما بھی لکھا تھا۔ غرض وہ اس وقت ایک بہت اچھی شاعرہ تھیں۔ مسز سروجنی نائڈو کی غیر معمولی قابلیتیں انگلستان میں بڑی حیرت اور قدر کی نگاہوں سے دیکھی گئیں۔ اس کا اندازہ مسٹر اڈمنڈ گاس کے مندرجہ ذیل بیان سے ہو سکتا ہے۔
“سروجنی چٹوپادھیائے جیسا کہ وہ اس وقت کہلاتی تھیں، جب پہلے پہل لندن پہنچیں تو وہ ایک سولہ برس کی بچی تھیں، مگر اسی عمر کی انگریز لڑکی سے وہ اتنی ہی مختلف تھیں جس قدر کہ کنول یا ناک پھنی سوسن سے الگ ہوتا ہے۔ ان کی دماغی پختگی غضب کی تھی۔ حیرت ناک طور پر مطالعہ کیا تھا اور دنیا کی معلومات میں مغربی لڑکیوں سے بدر جہا فائق تھیں“۔
مسز سروجنی نائڈو کی اس وقت کی شاعری کے متعلق وہ کہتے ہیں:
”ان کا کلام تمام ظاہری امور میں بالکل مکمل، قواعد کے لحاظ سے نہایت درست، اور جذبات و خیالات کی نظر سے بالکل بے عیب تھا“۔
