جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

مسز سروجنی نائڈو

مسز سروجنی نائڈو کی شاعری کی ابتدا کی طرح اس کے تغیرات کی تاریخ بھی بہت دلچسپ ہے۔ مسٹر اڈ منڈ گاس نے مسز سروجنی نائڈو کی نظموں کے ایک تازہ ترین مجموعہ کی تمہید میں اس پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلی مرتبہ مسز نائڈو کے کلام کو دیکھ کر انھیں سخت مایوسی ہوئی، کیونکہ مسز سروجنی نائڈو کا اس وقت تک کا کلام باوجود تمام اوصاف و محاسن کے ایک بہت بڑی خامی یہ تھی کہ کسی مابہ الامتیاز خصوصیت سے معرا تھا۔ جذبات اور تخیل میں وہ بالکل مغربی تھا۔ ٹینی سن اور شیلے کے کلام پر اس کی بنا تھی۔ یہاں تک کہ عیسائی مذہب کے مخصوص جذبات کے پر تو سے بھی وہ خالی نہ تھا۔ مسٹر اڈ منڈ گاس نے مسز نائڈو کو اس نقص کی جانب متوجہ کیا اور سمجھایا کہ ایک انتہا درجے کی سمجھدار نوجوان ہندی سے، جس کو نہ صرف زبان پر بلکہ مغربی عروض پر بھی پوری دستگاہ حاصل ہو، اہلِ انگلستان اس بات کے خواہش مند نہ تھے کہ وہ خود ان ہی کے جذبات اور احساسات کو ان کی زبان میں ان کے سامنے پیش کرے، بلکہ وہ اس کے متوقع تھے کہ انھیں ہندوستان کے ٹھیٹ ہندوستانی شاعرانہ اسرار سے تعارف حاصل ہو۔ مسز سروجنی نائڈو نے اس دانش مندانہ مشورہ کو بڑی ممنونیت کے ساتھ قبول کیا۔ اس روز سے اپنی طرز بدل دی اور مسٹر اڈ منڈ گاس کی مشفقانہ نصیحت پر عمل کرنا شروع کیا۔ 1895ء سے آج تک ان کا کلام خالص ہندوستانی خیالات و جذبات کا ترجمان اور انگریزی شاعری کے خزانہ میں بالکل ایک انوکھا قابلِ قدر اضافہ ہے۔ اب تک مسز نائڈو کے کلام کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں (1) ”دی گولڈن تھرش ہولڈ“ یعنی ”آستانہ زریں“ یا ”سنہری چوکھٹ“ اور (2) ”دی برڈ آف ٹائم“ یعنی ”طائر العصر“ بہت مشہور ہیں۔ انگریزی ادب کی دنیا مسز نائڈو کے کلام کا بڑی گرم جوشی کے ساتھ خیر مقدم کرتی ہے۔ ہندوستان اور انگلستان کے سر بر آوردہ نامور علمی رسالے مسز سروجنی نائڈو کے دل آویز کلام کو فخر اور قدر و وقعت کے ساتھ اپنے صفحات میں درج کرتے ہیں۔ بڑے بڑے نقادانِ سخن نے مسز نائڈو کے ایک ایک مصرعہ کی داد دی ہے اور اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ مسز سروجنی نائڈو کا کلام انسان کے باطنی احساسات کو بیدار کرتا، روح کو لذت و سرور بخشتا، اور لطیف جذبات کو وجد میں لاتا ہے۔ غرض مسز نائڈو کی شاعرانہ قابلیت کے اعتراف میں ہندوستان اور انگلستان والے یکساں رطب اللسان ہیں، اور وہ بجا طور پر اس وقت ایک بہت اعلیٰ پائے کی شاعرہ مانی جاتی ہیں۔

شاعری کی طرح مسز نائڈو کی ایک اور بہت بڑی خصوصیت ایسی ہے جس میں بھی وہ اپنی نظیر آپ ہیں۔ وہ قابلیت ان کی خدا داد قوتِ بیان ہے۔ وہ ایک نہایت اعلیٰ درجے کی فصیح و بلیغ مقرر ہیں۔ مبدأِ فیاض نے اس کے خاص جوہر ان کو عطا کیے ہیں۔ جن لوگوں کو مسز نائڈو کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا ہے، وہی اس بات کا پورا اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ کس پائے کی مقرر ہیں۔ خصوصاً جبکہ مضمونِ زیرِ بحث ہندوستان کی دیرینہ عظمت کا اظہار کرتا ہو، تو پھر مسز نائڈو کی پر جوش فصیح البیانی عجیب و غریب ہوتی ہے۔ جب وہ تقریر کرتی ہیں تو سامعین پر وجد اور محویت کا عالم طاری ہو جاتا ہے۔ بڑے بڑے مبصر ان کی جادو بیانی کے قائل اور ثنا خواں ہیں۔ سوشل کانفرنس کے اجلاسِ منعقدہ کلکتہ اور آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے اجلاسِ منعقدہ دہلی وغیرہ بڑے بڑے مجمعوں میں مسز نائڈو نے جو پاکیزہ تقریریں کی تھیں، ان کی تعریف میں سارا ہندوستان گونج اٹھا تھا۔ خود انگریز مسز نائڈو کی شستہ زبان کے مداح ہیں۔ وہ اس شعر کی پوری مصداق ہیں۔

اللہ رے صفائے بیانِ حدیثِ دوست

دم بند ہے فصاحتِ اہلِ فرنگ کا

مسز نائڈو کو اپنی درماندہ ہم جنسوں کی بھلائی و بہبودی میں کوشش کرنے کا خاص شوق ہے۔ حیدرآباد میں عورتوں کی ہمدردی اور بہتری کا جو کام ہوتا ہے، اس میں مسز سروجنی نائڈو کے مبارک ہاتھ ضرور سب سے پہلے شریک رہتے ہیں۔ حیدرآباد پر پچھلے دنوں رودِ موسیٰ کی طغیانی کے باعث جو عام تباہی چھائی تھی اور بیچارے بے زبان فرقۂ نسواں کو جو ناگوار مصائب اس میں برداشت کرنے پڑے تھے، اس کے دفعیہ کی کوششوں میں مسز نائڈو نے بے انتہا تکلیفیں گوارا کیں۔ ان دنوں انھوں نے اپنے اوپر گویا خواب و خور حرام کر رکھا تھا۔ رسم و رواج اور انس و عادت کے طوق و سلاسل میں گرفتار شکستہ حال، فلک زدہ، پردے کی بیٹھنے والیوں کی بر وقت اعانت و دستگیری میں اس عالی حوصلہ، نیک نفس، خدا ترس، روشن خیال خاتون نے خالصاً للہ جو سخت کوششیں اور شدید محنتیں جس مستعدی، سرگرمی اور جفاکشی سے کیں، ملک کبھی ان کے احسان سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔ مسز سروجنی نائڈو کی یہ جانفشانیاں ہر طبقہ میں بڑی ممنونیت کے ساتھ دیکھی گئیں۔ چنانچہ سرکار انگریزی نے اس کے متعلق اپنی پسندیدگی کے اظہار میں قیصرِ ہند کا اوّل درجے کا تمغہ مرحمت فرمایا۔ بالمختصر یہ کہ مسز سروجنی نائڈو اپنے ملک کی واجب الرحم عورتوں کے ساتھ پوری ہمدردی رکھتی ہیں اور ان کی رفاہ و بہبودی کے ہر کام میں دل و جان سے شریک ہوتی ہیں۔

آج کل کی حالت پر نظر کرتے ہوئے یہ بات خاص طور پر ذکر کرنے کے قابل ہے کہ باوجود اس کے کہ مسز سروجنی نائڈو ولایت کی تعلیم یافتہ ہیں، انگریزی کی بہت بڑی ادیب ہیں، اعلیٰ پائے کی شاعرہ ہیں اور انگریزی زبان بمنزلہ ان کی مادری زبان کے ہے، لیکن وہ ہندوستان کے تقریباً تمام سر بر آوردہ اردو رسالے برابر مطالعہ کرتی ہیں اور انھیں اردو سے خالص دلچسپی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ تعلیمِ نسواں کی معدومیت اور پردے کی معذوریوں نے ہندوستان کی خواتین کو اس قابل نہیں رکھا کہ وہ فطری انعامات سے کام لے کر اپنے دماغی نور کی شعاعوں سے دنیا کو منوّر کر سکیں۔ لیکن ان تمام موانعات کے باوجود جب کسی خوش نصیب خاتون کا نام افقِ کمال پر اس عزت و وقعت کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے، تو حقیقت میں نہایت شادمانی ہوتی ہے۔ خصوصاً ایسا نام، جو نہ صرف فرقۂ نسواں کے لیے بلکہ سارے ملک کے لیے بجا طور پر فخر و ناز کا باعث ہو، بے انتہا مسرت بخشتا ہے۔ وہ لوگ جو عورتوں کی دماغی ترقیات کے منکر ہیں، مسز سروجنی نائڈو کی اعلیٰ قابلیتوں سے بصیرت حاصل کر کے اپنے مفروضہِ توہمات کی اصلاح کر سکتے ہیں۔

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا

یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا