اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

منشی سراج الدین کے نام

خط (1) — 1902ء (جلد اوّل، خط 3)

ڈیر سراج1

دو تین روز سے طبیعت بہ سبب دورۂ درد کے علیل ہے۔ یہ چند شعر قلم برداشتہ آپ کے شکریہ میں عرض کرتا ہوں۔ میرا ارمغان یہی ہے اسی کو قبول کر کے مجھے مشکور2 کیجیے چاہیں تو پیشانی پر چند اُردو سطور لکھ کر مخزن میں بھیج دیجیے۔ والسّلام

آپ کا اقبال از لاہور

1902ء

آپ نے مجھ کو جو بھیجی ارمغاں انگشتری

دے رہی ہے مہر و الفت کا نشاں انگشتری

زینتِ دستِ حنا مالیدۂ جاناں ہوئی

ہے مثالِ عاشقاں آتش بجاں انگشتری

تو سراپا آیتے از سورۂ قرآنِ فیض

وقفِ مطلق اے سراجِ مہرباں انگشتری

میرے ہاتھوں سے اگر پہنے اُسے وہ دلربا

ہو رموزِ بے دلی کی ترجماں انگشتری

ہو نہ برق افگن کہیں اے طائرِ رنگِ حنا

تاکتی رہتی ہے تیرا آشیاں انگشتری

ساغرِ مے میں پڑا انگشتِ ساقی کا جو عکس

بن گئی گردابۂ آبِ رواں انگشتری

ہوں بہ تبدیلِ قوافی فارسی میں نغمہ خواں

ہند سے جاتی ہے سوے اصفہاں انگشتری

یارم از کشمیر فرستاد است چار انگشتری

چار در صورت بمعنی صد ہزار انگشتری3

چار را گر صد ہزار آوردہ ام اینک دلیل

شد قبولِ دستِ یارم ہر چہار انگشتری4

داغ داغِ موجِ5 میناکاری اش جوشِ بہار

می دہد چوں غنچۂ گل بُوے یار انگشتری6

در لہانور7 آمد و چشمِ تماشا شد تمام

بُود در کشمیر چشمِ انتظار انگشتری8

یار را ساغر بکف انگشتری در دستِ یار

حلقہ اش خمیازۂ دستِ خمار انگشتری910

ما اسیرِ حلقہ اش او خود اسیرِ دستِ دوست

اللہ اللہ دام و صیّاد و شکار انگشتری11

خاتمِ دستِ سلیمان حلقہ در گوشِ وَے است

اے عجب انگشتری را جان نثار انگشتری12

وہ چہ بکشاید بدستِ آن نگارِ سیم تن

ماند گر زین پیشتر سربستہ کار انگشتری13

من دلِ گم گشتۂ خود را کجا جویم سراغ

دزدیِ دزدِ حنا را پردہ دار انگشتری14

راز دارِ دزد ہم دزد است در بازارِ حسن

چشمکِ دزدِ حنا را راز دار انگشتری15

ہر دو باہم ساختند و نقدِ دلہا می بُرند

پختہ مغز انگشتِ جانان پختہ کار انگشتری16

نو بہارِ دلفریب انگشتری در دستِ یار

برگِ گل انگشت و آغوشِ بہار انگشتری17

من خورم خونِ جگر از حسرتِ پابوسِ دوست

بوسہ بر دستش زند لیل و نہار انگشتری1819

بوالہوس ز انگشتری طرزِ اطاعت یاد گیر

می نہد سر بر خطِ فرمانِ یار انگشتری20

ماہِ نو قالب تہی کرد است از حسرت بہ چرخ

جلوہ فرما شد چو در انگشتِ یار انگشتری21

ارمغانم سلکِ گوہر است، یعنی این غزل

کز سراجم نورہا آمد چہار انگشتری22

گشت اے اقبال مقبولِ امیرِ ملکِ حسن

کردہ وا مارا گرہ آخر ز کار انگشتری23

(اقبال نامہ)


خط (2) — 11 مارچ 1903ء (جلد اوّل، خط 6)

لاہور۔ بھاٹی دروازہ

11؍ مارچ 1903ء

برادرِ مکرم۔ السلام علیکم

آپ کا خط ابھی ملا۔ الحمد للہ کہ آپ خیریت سے ہیں۔

آج عید کا دن ہے اور بارش ہو رہی ہے۔ گرامی صاحب تشریف رکھتے ہیں اور شعر و سخن کی محفل گرم ہے۔ شیخ عبدالقادر ابھی اُٹھ کر کسی کام کو گئے ہیں۔ سیّد بشیر حیدر بیٹھے ہیں اور ابرِ گہربار کی اصل علّت کی آمد آمد ہے۔ یہ جملہ شاید آپ کو بے معنی معلوم ہو گا۔ مگر کبھی وقتِ ملاقات آپ پر اُس کا مفہوم واضح ہو جائے گا۔ آپ کے خط نے ایک بڑی24 فکر سے نجات دی۔ مجھے تین روز25 سے اس بات کی کاوش تھی کہ نظم کہیں سے ملے تو ارسال26 کروں۔ الحمد للہ کہ آپ کو مل گئی۔ آپ کی داد کا مشکور ہوں اور اس کو کبھی تصنّع نہیں سمجھتا۔ آپ کو کس بات سے یہ اندیشہ پیدا ہوا۔

ترتیبِ اشعار کی خود مجھے فکر27 ہو رہی ہے۔ مگر یہ خیال ہے کہ ابھی کلام کی مقدار تھوڑی ہے۔ بہر حال جب یہ کام ہو گا تو آپ کے صلاح و مشورہ کے بغیر نہ ہو گا۔ مطمئن رہیں۔ ملٹن28 کی تقلید میں کچھ لکھنے کا ارادہ مدت سے29 ہے اور اب وہ وقت قریب معلوم ہوتا ہے کیونکہ ان دنوں وقت کا کوئی لحظہ خالی نہیں جاتا جس میں اس کی فکر نہ ہو۔ پانچ چھ سال سے اس آرزو کو دل میں پرورش کر رہا ہوں مگر جتنی کاوش آج کل محسوس ہوتی ہے اس قدر کبھی نہ ہوئی30۔ فکرِ روزگار سے نجات ملتی ہے تو اس کام کو باقاعدہ شروع کروں گا ابرِ گہربار شروع کرنے سے پیشتر میں نے اس خیال سے کہ کوئی وہابی31 اس کے بعض اشعار پر کوئی فتوےٰ نہ دے دے، چند باتیں تمہید میں بھی کہی تھیں اور ایک غزل بھی کہی تھی جو ارسالِ خدمت کرتا ہوں۔

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی32

منصور کو ہوا لبِ گویا پیامِ موت

اب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی

ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر

ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی

میں انتہائے عشق ہوں تو انتہائے حسن

دیکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی

عذر آفرینِ جرمِ محبت ہے حسنِ دوست

محشر میں عذرِ تازہ نہ پیدا کرے کوئی

چھپتی نہیں ہے یہ نگہِ شوق ہم نشیں!

پھر اور کس طرح انھیں دیکھا کرے کوئی

اڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طور پر کلیم

طاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی

نظارے کو یہ جنبشِ مژگاں بھی بار ہے

نرگس کی آنکھ سے تجھے دیکھا کرے کوئی

کھل جائے کیا مزے ہیں تمنائے شوق میں

دو چار دن جو میری تمنا کرے کوئی


بلبل کی فریاد33

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ

وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا

آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی

اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا

لگتی ہے چوٹ دل پر آتا ہے یاد جس دم

شبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا

وہ پیاری پیاری صورت، وہ کامنی سی مورت

آباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانہ

آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میں

ہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں

کیا بدنصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوں

ساتھی تو ہیں وطن میں، میں قید میں پڑا ہوں

آئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی ہیں

میں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں

اس قید کا الٰہی دکھڑا کسے سناؤں

ڈر ہے یہیں قفس میں، میں غم سے مر نہ جاؤں

جب سے چمن چھٹا ہے یہ حال ہو گیا ہے

دل غم کو کھا رہا ہے، غم دل کو کھا رہا ہے

گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے

دکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے

آزاد مجھ کو کر دے او قید کرنے والے

میں بے زباں ہوں قیدی تو چھوڑ کر دعا لے

کاغذ ختم ہو گیا ہے دل بھی اکتا گیا ہے میں سمجھتا ہوں میں نے بڑی ہمت کی کہ اتنے اشعار نقل کر لیے اور آپ کو بھی خط لکھ گیا34۔ الحمد للہ علیٰ ذٰلک۔ مندرجہ بالا نظم کی بندش ملاحظہ فرمائیے۔ چونکہ بچوں کے لیے ہے اس واسطے اضافات اور وقتِ مضمون سے خالی ہے۔ علاوہ بریں35 فریاد کرنے والا آخر پرندہ ہے۔ والسّلام۔ صادق علی خاں صاحب36۔ عنبر صاحب اور دیگر احباب کی خدمت میں سلام عرض کریں۔

آپ کا صادق محمد اقبال

1۔ اقبال نامہ

2۔ معاصرینِ اقبال کی نظر میں


خط (3) — 4 اکتوبر 1915ء (جلد اوّل، خط 157)

لاہور 4؍ اکتوبر 1915ء

مخدومی۔ السلام علیکم

آپ کا نوازش نامہ ملا جس کو پڑھ کر مُجھے بڑی مسرت ہوئی۔ الحمد للہ کہ آپ کو مثنوی پسند آئی۔ آپ ہندوستان کے ان چند لوگوں میں ہیں جن کو شاعری سے طبعی مناسبت ہے اور اگر نیچر ذرا فیاضی سے کام لیتی تو آپ کو زمرۂ شعرا میں پیدا کرتی۔ بہر حال شعر کا صحیح ذوق شاعری سے کم نہیں بلکہ کم از کم ایک اعتبار سے اس سے بہتر ہے۔ محض ذوقِ شعر رکھنے والا شعر کا ویسا ہی لطف اٹھا سکتا ہے جیسا کہ خود شاعر اور تصنیف کی شدید تکلیف اُسے اٹھانی نہیں پڑتی۔

یہ مثنوی گذشتہ دو سال کے عرصے میں لکھی گئی۔ مگر اس طرح کہ کئی کئی ماہ کے وقفوں کے بعد طبیعت مائل ہوتی رہی۔ چند اتوار کے دنوں اور بعض بے خواب راتوں کا نتیجہ ہے۔ موجودہ مشاغل وقت نہیں چھوڑتے اور جوں جوں اس پروفیشن میں زمانہ زیادہ ہوتا جاتا ہے کام بڑھتا ہی جاتا ہے۔ لٹریری مشاغل کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر مجھے پوری فرصت ہوتی تو غالباً اس موجودہ صورت سے یہ مثنوی بہتر ہوتی اس کا دوسرا حصّہ بھی ہوگا جس کے مضامین میرے ذہن میں ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ حصّہ اس حصّہ سے زیادہ لطیف ہوگا۔ کم از کم مطالب کے اعتبار سے، گو زبان اور تخیّل کے اعتبار سے میں نہیں کہہ سکتا کہ کیسا ہوگا۔ یہ بات طبیعت کے رنگ پر منحصر ہے جو اپنے اختیار کی بات نہیں۔