ہندوستان کے مسلمان کئی صدیوں سے ایرانی تاثّرات کے اثر میں ہیں۔ ان کو عربی اسلام سے اور اس کے نصب العین اور غرض و غایت سے آشنائی نہیں۔ ان کے لٹریری آئیڈیل بھی ایرانی ہیں اور سوشل نصب العین بھی ایرانی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس مثنوی میں حقیقی اسلام کو بے نقاب کروں جس کی اشاعت رسول اللہ صلعم کے منہ سے ہوئی۔ صوفی لوگوں نے اسے تصوّف پر ایک حملہ تصوّر کیا ہے اور یہ خیال کسی حد تک درست بھی ہے۔ اِن شاء اللہ دوسرے حصّے میں دکھاؤں گا کہ تصوّف کیا ہے اور کہاں سے آیا اور صحابۂ کرام کی زندگی سے کہاں تک ان تعلیمات کی تصدیق ہوتی ہے جس کا تصوّف حامی ہے۔ امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔ والسلام
آپ کا خادم محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (4) — 14 اکتوبر 1915ء (جلد اوّل، خط 158)
لاہور 14؍ اکتوبر 1915ء
مخدومی، السلام علیکم۔ آپ کا والا نامہ ملا۔ الحمد للہ کہ آپ خیریت سے ہیں۔ زمیندار میں آپ کا خط چھپ جانے کی غلطی کا ذمّہ دار کسی حد تک میں خود اور زیادہ تر دفترِ زمیندار ہے۔ میں نے تو وہ خط مولوی عمادی صاحب کی خدمت میں ارسال کیا تھا کہ وہ اپنے ریویو میں اس تحریر سے مدد لیں۔ مولوی عمادی ایڈیٹر زمیندار خود ایک ریویو لکھ رہے ہیں جو ہنوز ناتمام ہے۔ مقصد اشاعت نہ تھا۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ غلطی سے وہ تحریر ہی چھاپ دی گئی۔
مجھے اس غلطی کے لیے سخت افسوس ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے اُن کو یہی لکھا تھا یہ ریویو ایک پرائیویٹ خط ہے اس میں بعض باتیں پتے کی تھیں اور میرا خیال تھا کہ مولوی صاحب کو ان کے پڑھنے سے مدد ملے گی۔ مگر اس تحریر کی اشاعت کا ذمّہ دار غالباً اسسٹنٹ ایڈیٹر ہے۔ جسے معلوم نہ تھا کہ یہ پرائیویٹ خط دفتر میں کیوں بھیجا گیا۔ بہر حال اس ندامت کا سب بوجھ مجھ پر ہے۔ مَیں مولوی صاحب سے ضرور استفسار کرتا مگر اس وجہ سے کہ محض لٹریری تنقید ہے اور چھپ چکی ہے جس کا علاج اب محال ہے میں نے اُن سے استفسار نہ کیا۔ اگر کوئی چارۂ کار ہو تحریر فرمائیے کہ اس کا علاج کیا جائے۔ والسلام
آپ کا محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (5) — 11 جولائی 1921ء (جلد دوم، خط 149)
مخدوم منشی صاحب!37
السلام علیکم۔ آپ کا والا نامہ ابھی ملا ہے جس کے لیے سراپا سپاس ہوں۔
آپ سے رخصت ہو کر پانچ بجے شام راولپنڈی پہنچ گئے اور 6 بجے شام کی ٹرین بھی مل گئی۔ رستے میں بھی خدا کے فضل و کرم سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ آپ کی مستعدی، خدمت گزاری اور مہمان نوازی کی تعریف کرتے کرتے منزل ختم ہو گئی۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔
میرا خیال تھا کہ آپ کے مقدمہ میں حکم سنا دیا گیا ہوگا۔ مگر سیٹھ کریم بخش صاحب کے خط سے معلوم ہوا کہ جج صاحب بہادر رخصت سے واپس آ کر حکم سنائیں گے۔
آپ سیٹھ صاحب کی خدمت میں عرض کر دیں کہ اگر وہ اشتہارِ نیلام جو پنڈت جانکی ناتھ نے پیش کیا ہے، مسل38 پر نہیں ہے تو اس کا کچھ اثر نہ ہونا چاہیئے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ وہ مسلمان کی آخری امید ہے۔ سیٹھ صاحب اور بڑے شیخ صاحب سے کہیئے کہ درود شریف پڑھنے سے غفلت نہ کریں۔ اس زمانے کے مسلمانوں کے لیے یہ بات خاص کر حلّالِ مشکلات ہے۔ زیادہ کیا عرض کروں۔ خدا کے فضل و کرم سے خیریت ہے۔ میری طرف سے سب کی خدمت میں سلام عرض کیجیئے۔ گرمی کی شدت ہے، بارش مطلق نہیں ہوئی اور نہ اس کے بظاہر کوئی علامات نظر آتے ہیں۔ خواجہ اسد اللہ صاحب (ایڈوکیٹ سری نگر، کشمیر) ملیں تو میرا ان سے سلام ضرور کہیئے۔ والسلام
بخدمت سیٹھ کریم بخش صاحب مضمون واحد۔
مخلص محمد اقبال لاہور
11؍ جولائی 1921ء
(انوار اقبال)
خط (6) — 13 اگست 1921ء (جلد دوم، خط 154)
مخدومی منشی صاحب
السلام علیکم۔ آپ کی علالت کی خبر معلوم کر کے تردد ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے۔ نقل فیصلہ مرسلہ سیٹھ کریم بخش صاحب مل گئی ہے اور میں نے فیصلہ بغور پڑھا ہے۔
دفعہ 47کے متعلق جج صاحب بہادر نے جو کچھ لکھا ہے میری رائے میں غلط ہے۔ ہائی کورٹ میں اس کی چارہ جوئی ہو سکتی ہے لیکن اگر عدالت ہائی کورٹ اس امر میں ہم سے متفق ہو اور واقعات پر متفق نہ ہو تو ہمیں کوئی فائدہ نہیں۔ اس واسطے زیادہ ضروری امر واقعات کے متعلق ہے۔
واقعات کے متعلق یہ عرض ہے کہ جج صاحب نے وہی بات لکھی ہے اور اپنے فیصلے کو اسی بات پر مبنی کیا ہے جس کا احساس ہمیں پہلے ہی تھا یعنی یہ بات کہ واقعات اور بے ضابطگیوں سے ڈگری دار کی بدنیتی ثابت نہیں ہوتی۔ میں نے یہ تمام باتیں پہلے ہی عرض کر دی تھیں۔ سب سے بڑی کمزوری اس مقدمہ میں یہی ہے۔ مجھے امید نہیں کہ ہائی کورٹ، جہاں تک بے ضابطگیوں اور غلطیوں کا تعلق ہے، اے ڈی حکیم صاحب39 سے مختلف تجویز کرے۔
شیخ صاحبان اپنی جگہ سوچ لیں اور اس تمام زیر باری کا اندازہ کر لیں جو اپیل وغیرہ کا نتیجہ ہو گی۔ اگر معمولی مالیت کا مقدمہ ہوتا تو مضائقہ نہ تھا۔ مقدمہ کی مالیت بھی بڑی ہے اور اخراجات وکلاء وغیرہ بھی اسی حیثیت سے ہوں گے۔ غرض ان تمام امور کو ملحوظ رکھ کر آخری فیصلہ کرنا چاہئے۔ میں نہیں چاہتا کہ ان کی زیر باری میں اور اضافہ ہو۔ وجوہاتِ اپیل دو چار روز تک لکھ کر ارسال خدمت کر دوں گا۔ اگر آپ کی مرضی ہو تو آپ اپیل دائر کر دیں۔ باقی خدا کے فضل و کرم سے خیریت ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ چند ابتدائی غلطیوں کی وجہ سے اس مقدمہ کا فیصلہ آپ کے حق میں نہ ہو سکا مگر خدا تعالیٰ کی درگاہ سے مایوس نہ ہونا چاہئے۔ اگر یہ صورت نہیں تو اللہ تعالیٰ سیٹھ صاحبان کے لیے کوئی اور صورت پیدا کر دے گا۔ سیٹھ صاحبان کی خدمت میں السلام علیکم۔
مخلص محمد اقبال لاہور
13 اگست 1921ء
(انوار اقبال)
خط (7) — 20 اپریل 1922ء (جلد دوم، خط 197)
ڈیر منشی صاحب!
السلام علیکم۔ آپ کا خط ابھی ملا ہے۔ الحمد للہ کہ خیریت ہے۔ ان شاء اللہ آپ کے ارشاد پر غور کیا جائے گا۔
افسوس کہ رحمان راہ40 کامل طور پر نہ بچا گو پھانسی سے بچ گیا۔ لالہ کنور سین صاحب41 سے لاہور میں میں نے اس مقدمہ کا مفصل ذکر کیا تھا اور تمام بڑی بڑی باتیں ان کو سمجھا دی تھیں اور یہ بھی درخواست کی تھی کہ مقدمہ کی سماعت جموں میں کریں تو میں بغیر مزید فیس کے بحث کروں گا مگر افسوس کہ وہ مقدمہ کشمیر میں سنا گیا۔
بہر حال میں نے منشی اسد اللہ کی تحریر پر اپنی بحث کے مفصّل نوٹ ان کو بھیج دیے تھے جو عدالت میں پیش کر دیے گئے تھے۔ لالہ کنور سین صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہاری بحث کے مفصّل نوٹ مثل پر موجود ہیں۔ اس وقت اگر میعاد کا سوال نہ اٹھایا جاتا تو مقدمہ مہاراجہ (سر پرتاپ سنگھ) کے سامنے ہی غالباً فیصلہ ہو جاتا۔ مگر منشی اسد اللہ صاحب یہ خیال کرتے رہے کہ بارِ دیگر مقدمہ کونسل کے سامنے پیش ہوگا جہاں رحمان راہ کی بریّت کی توقع ہے اس واسطے اس وقت التوا کو غنیمت سمجھا گیا ورنہ میں نے تو مہاراجہ صاحب کو کہہ دیا تھا کہ آپ ابھی فیصلہ کر دیں کیونکہ دوبارہ یہاں آنے کا خرچ مؤکل اپنی غریبی کی وجہ سے نہ اٹھا سکیں گے مگر منشی اسد اللہ صاحب کا یہی خیال تھا کہ التوا بہتر ہے مگر افسوس کہ بعد میں ان کا خیال پورا نہ ہو سکا اور کونسل اب تک نہ بن سکی۔ وہ غلطی سے یہ سمجھتے رہے کہ اس فیس میں جو انھوں نے مجھ کو دی تھی میں دوبارہ کشمیر آ جاؤں گا مگر یہ کیونکر ممکن تھا۔
اس کے علاوہ مہاراجہ صاحب کے سامنے یہ سب کچھ کہہ دیا تھا۔ بہر حال اب میں نے سنا ہے کہ وہ گورنمنٹ آف انڈیا میں لالہ کنور سین صاحب کے فیصلہ کے خلاف اپیل کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے مندرجہ بالا طویل حالات لکھ کر آپ کو تکلیف دی ہے۔ اس سے غرض یہ ہے کہ اگر رحمان راہ کے وارثوں کا ارادہ اپیل کرنے کا مصمّم ہو تو میں بغیر کسی مزید فیس کے ان کی اپیل لکھ دوں گا۔ آپ یہ امر ان کے گوش گذار کر دیں۔

