(از ’’آخری مضامینِ سرسید‘‘)
جو لوگ مذہبِ اسلام کی مخالفت اور اس پر نکتہ چینی کرتے ہیں وہ زیادہ تر ان کتابوں پر متوجہ ہوتے ہیں جو کتبِ احادیث و تفاسیر و کتبِ سیر1 کے نام سے مدون ہیں اور جن کو خود اہلِ اسلام نے لکھا ہے اور جب کوئی مسلمان ان احادیث کی تنقیح کرتا ہے اور کسی کو مقبول اور کسی کو مردود قرار دیتا ہے یا تفاسیر اور سیر کی کتابوں کے مضامین کو غلط ٹھہراتا ہے تو اس پر مذہبِ اسلام کی طرفداری کا الزام لگاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا کتابوں میں ایسی باتیں بھی پائی جاتی ہیں جو
(1) خود قرآنِ مجید کے بھی برخلاف ہیں اور
(2) ایسی بھی پائی جاتی ہیں جو تاریخِ محققہ اور مشہورہ کے متناقض ہیں اور
(3) ایسی بھی پائی جاتی ہیں جن کو حس اور مشاہدہ جھٹلاتا ہے اور
(4) ایسی بھی پائی جاتی ہیں جن کو عقلِ انسانی کسی طرح قبول نہیں کرتی۔ اس قسم کی روایتوں سے جو مسلمان انکار کرتے ہیں اور ان کو غلط ٹھہراتے ہیں اس سے ان کا صاف مطلب یہ پایا جاتا ہے کہ قرآنِ مجید کی صداقت ظاہر کرنے کو اس کے مخالف جو حدیثیں اور روائتیں ہیں ان سے انکار کریں اور تاریخِ محققہ اور مشہورہ اور حس اور مشاہدہ اور عقلِ انسانی کے برخلاف جو حدیثیں اور روائتیں ہیں ان کا اس لئے انکار کرتے ہیں کہ مذہبِ اسلام پر کوئی حرف نہ آنے پائے اور تعجب یہ ہوتا ہے کہ
(5) ایسی حدیثوں اور روایتوں کو جن سے بانیٔ اسلام کے مناقب پائے جائیں، تسلیم کرتے ہیں اور جن سے بانیٔ اسلام پر کسی قسم کی منقصت لازم آتی ہے اس کو نہیں مانتے۔
(6) اور جو حدیثیں اور روائتیں وقارِ نبوت کے بر خلاف ہیں ان کو بھی نہیں مانتے اور کوئی عقلی دلیل اس بات کی نہیں بیان کر سکتے کہ کیوں ان حدیثوں اور روایتوں کو مانا اور کیوں ان روایتوں اور حدیثوں کو نہیں مانا، مگر اس ماننے اور نہ ماننے کی بنا عقائدِ مذہبی پر ہے تو وہ شخص جو مذہبِ اسلام کو نہیں مانتا قبول نہیں کر سکتا، بلکہ ان کے ماننے اور نہ ماننے کے لئے ایسی عقلی اور روشن دلیل چاہیے جس کو غیر مذہب والا بھی مان سکے۔
یہ قول تو مخالفینِ مذہبِ اسلام کا ہے، مگر ہم اس پر یہ اور زیادہ کرتے ہیں کہ جب کسی راوی کی ایک روایت یا کسی حدیث کی کتاب کی کوئی حدیث یا کسی محدث یا مفسر یا عالم یا مجتہد کے قول کو صحیح مانا جاتا ہے تو جب اسی راوی کی دوسری روایت یا اسی حدیث کی کتاب کی دوسری حدیث یا اسی مفسر یا محدث یا عالم یا مجتہد کے دوسرے قول کو غلط قرار دیا جاتا ہے تو خود مسلمان ہی معترض ہوتے ہیں کہ کیوں اس راوی کی روایت اور اس حدیث کی کتاب کی حدیث کو اور اسی محدث یا مفسر یا عالم یا مجتہد کے قول کو صحیح مانا تھا اور اب کیوں اسی راوی کی روایت اور اسی حدیث کی کتاب کی حدیث اور اس محدث یا مفسر یا عالم یا مجتہد کے دوسرے قول کو غلط مانا جاتا ہے۔
ہم ان امور کی نسبت جو کچھ لکھنا چاہتے ہیں اس کی بنیاد عقائدِ مذہبی پر رکھنی نہیں چاہتے، بلکہ ایسے عام واقعات پر مبنی کرنا چاہتے ہیں کہ جن سے ہماری دانست میں کوئی انسان انکار نہیں کر سکتا۔
یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جو واقعہ کسی زمانہ میں گزرتا ہے، بشرطیکہ وہ واقعہ ایسا ہو کہ آئندہ زمانہ کے لوگ اس کے تذکرہ میں مشغول رہتے ہوں اور اس کا چرچا قائم رکھتے ہوں تو جس قدر زمانہ گزرتا جاتا ہے اسی قدر اس میں زائد باتیں جو اس واقعہ میں در حقیقت نہیں ہوئیں ملتی جاتی ہیں۔ دنیاوی واقعات میں ایسا کم ہوتا ہے بلکہ، نہیں ہوتا کہ آئندہ زمانہ کے لوگ مدتِ دراز تک اس کے تذکرے اور چرچے میں مشغول رہتے ہوں اور یہی سبب ہے کہ تاریخانہ واقعات میں جو بادشاہوں اور سلطنتوں اور ملکوں کے حالات میں لکھے جاتے ہیں ایسی زائد اور بے اصل باتوں کا میل کمتر ہوتا ہے، مگر واقعاتِ مذہبی ایسے قسم کے ہوتے ہیں جن کا تذکرہ اور چرچا زمانۂ دراز تک قائم رہتا ہے، بلکہ برابر چلا جاتا ہے، اس لئے زائد اور بے اصل باتیں ان واقعات میں شامل ہوتی جاتی ہیں۔ مذہبِ اسلام بھی اس عام قاعدہ سے بری نہیں رہا، بلکہ اس میں ایسے اسباب پیش آئے کہ اس میں زائد اور بے اصل باتوں کے شامل ہونے کے زائد اسباب تھے۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جہاں تک ان واقعات کا جو آنحضرت کے زمانہ میں گذرے اور ان اقوال و افعال کا جو آنحضرت نے فرمائے یا کئے سب کا زبانی روایتوں پر مدار تھا اور اس میں زائد بے اصل باتوں کے شامل ہونے کے بہت سے اسباب موجود تھے۔
اول۔ امتدادِ زمانہ ہی اس بات کا مقتضی تھا کہ زائد اور بے اصل باتیں اس میں شامل ہوتی جائیں۔
دوم۔ ان باتوں کو، گو وہ زائد اور بے اصل ہی ہوں، لوگ زیادہ پسند کرتے تھے جن سے تقدس اور تفوق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مترشح ہوتا تھا۔
سوم۔ جو راوی اس زمانہ کے واقعات کو یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو روایت کرتے تھے وہ نہایت مقدس، معزز و مکرم، لائقِ ادب سمجھے جاتے تھے جس نے بہت لوگوں کو صحیح و غلط روایت کرنے پر اور موضوع و بے اصل روایت بنا لینے پر راغب کیا تھا۔
چہارم۔ راویوں کا اُن واقعات کے اسباب کے سمجھنے میں جن کے سبب سے وہ واقعات پیش آئے تھے، غلطی کرنا اور اس کا ایسا مطلب قرار دینا جو واقعی نہ تھا۔
پنجم۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا، اس کے مطلب اور مقصد اور منشاء کے سمجھنے میں غلطی کرنا اور اس کا ایسا مطلب قرار دینا جو مقصود نہ تھا۔
ششم۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری بات سنے بغیر صرف اسی قدر کو روایت کر دینا جس قدر کہ ادھوری بات سنی تھی۔
ہفتم۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں اور عیسائیوں اور عربِ جاہلیت کے حالات اور عقاید یا واقعات کا بھی تذکرہ فرمایا کرتے تھے، مگر سننے والے نے یہ سمجھا کہ ان باتوں کو خود رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور اُس کو آنحضرت کے فرمودہ کے طور پر روایت کر دیا۔
ہشتم۔ ایک غلط افواہ کا لوگوں میں مشہور ہو جانا اور پھر اس کا بطور روایت کے بیان ہونا۔
نہم۔ آپس میں تنازعات کا ہونا اور ہر ایک گروہ کا اپنے مقصد کے موافق روایتوں کا بنانا اور روایت کرنا۔
دہم۔ مختلف عقائد پر لوگوں کا ہونا اور اپنے اپنے عقائد کی تائید میں روایتوں کا بیان کرنا۔
یازدہم۔ بد دیانت لوگوں کا امراء و سلاطین کے خوش کرنے کو جھوٹی روایتوں کا بیان کرنا۔
دوازدہم۔ منافقین اور مخالفینِ مذہب کا جھوٹی روایتوں کو شائع کرنا یا اصلی روایتوں میں کمی بیشی کر دینا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک مدتِ دراز تک زبانی روایت کا سلسلہ جاری رہا اور اُس وقت منقطع ہوا جب کہ معتدبہ کتابیں حدیث کی لکھی گئیں، مگر اس بات کو فراموش کرنا نہیں چاہئے کہ جس قدر حدیث کی کتابیں لکھی گئیں ان کی بنیاد اُنہیں زبانی روایتوں پر مبنی تھی۔
ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ محدثین نے، خدا ان پر رحمت کرے، جہاں تک کہ اُن سے ہو سکا، کسی نے کم اور کسی نے بہت زیادہ اس بات میں کوشش کی کہ صحیح روایتوں کو اپنی کتاب میں جمع کریں۔ چنانچہ موطا امام مالک اور بخاری، مسلم نے اور اس کے بعد ترمذی، سننِ ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے اس میں بہت کامیابی حاصل کی اور علماء نے ان کتابوں کو قبول کیا اور ان کی شروح لکھنے اور مقاماتِ مشکلہ کے حل کرنے میں متوجہ ہوئے۔
ان کی کوشش کا زیادہ تر، بلکہ بالکلیہ راویوں کے معتبر اور نا معتبر ہونے پر مدار تھا مگر جن لوگوں کو مرے ہوئے ایک زمانہ گذر گیا تھا، ان کے معتبر یا نا معتبر ہونے کو اس طرح پر تحقیق کرنا جس پر یقینِ کامل ہو، اگر نا ممکن نہ تھا تو نہایت مشکل ضرور تھا، مگر اس حدیث کے مضامین کے لحاظ سے اس کے صحیح یا غیر صحیح ہونے پر اُن لوگوں کو کچھ خیال نہ تھا۔

