خود علمائے علمِ حدیث نے احادیثِ موضوع کے امتیاز کرنے کو جو قاعدے بنائے ہیں، اُن میں ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ جس حدیث میں ایسے اُمور مذکور ہوں جو مافوق الفطرت یا خارج از عقل ہوں، تو وہ حدیث نا معتبر اور موضوع ہے، مگر محدثین اس قاعدہ کو ان حدیثوں پر جاری نہیں کرتے جو کتبِ مشہور احادیث میں اور خصوصاً اُن سات کتابوں میں مندرج ہیں جن کے نام اوپر بیان ہوئے ہیں، مگر ایک محقق اس بات کی کوئی وجہ نہیں پاتا کہ کیوں اس قاعدہ کو ان حدیثوں کی کتابوں پر جاری نہ کیا جائے۔ اگر ان امور سے قطعِ نظر کی جائے تو انہیں تینوں باتوں کا ثبوت درکار ہوگا جو ہم نے اوپر بیان کی ہیں، یعنی یہ کہ درحقیقت اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اور جو لفظ راویوں نے بیان کئے ہیں وہی لفظ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے اور جو معنی ان لفظوں کے شارحین اور مفسرین نے اختیار کئے ہیں، ان کے سوائے اور کوئی معنی ان لفظوں کے نہیں ہیں۔ اگر ان میں سے پہلی دو باتیں ثابت نہ ہو سکیں تو اس کو حدیثِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ اگر تیسری بات ثابت نہ ہو سکے تو محقق ان معنوں کا پابند نہیں ہو سکتا جو شارحین اور مفسرین نے قرار دئے ہیں۔ پس ایسی حدیثوں سے انکار کرنے پر یہ کہنا کہ اس لئے ان سے انکار کیا گیا ہے کہ مذہبِ اسلام پر کوئی حرف نہ آنے پائے کیسا غلط اور بے جا اعتراض ہے۔
پانچویں امر کی نسبت ہم یہ کہتے ہیں کہ جن حدیثوں یا روایتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مناقب بیان ہوتے ہیں اور وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں ہوتا، صحابہ کے اقوال ہوتے ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہے ہیں۔ پس جو کچھ اُن میں بیان ہوا ہے وہ رائے اُن بیان کرنے والوں کی ہے۔ پس کسی کو حق نہیں ہے کہ یہ کہے کہ یہ رائے اس بیان کرنے والے کی نہیں ہے اور اس لئے ضرور ہے کہ وہ حدیثیں بطور اس راوی کی رائے کے تسلیم کی جائیں۔
حدیث یا تفسیر یا سیر کی کتابوں میں ہم کوئی روایت ایسی نہیں پاتے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نعوذ باللہ منقصت کی ہو یا کسی شخص نے جو آنحضرت کی رسالت اور اسلام کی حقیقت کا مقر5 ہو، ایسی روایت بیان کی ہو۔ اور اس لئے یقین ہوتا ہے کہ ایسی روایت کا بیان کرنا صرف دو شخصوں کا کام ہے یا منافقوں کا یا کافروں کا اور ظاہر ہے کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں، بہ سبب نفاق اور کفر کے جو مورثِ عداوت ہے کہتے ہیں، اس لئے ضرور ہے کہ اس کو مردود سمجھا جائے۔ ایسا کرنے میں ہم قاعدۂ طبیعتِ انسانی سے کچھ زیادہ نہیں کرتے، کیونکہ اس زمانہ میں بھی اگر کوئی کسی کا دشمن یا مخالف اس کی نسبت کوئی بات منقصت کی کہتا ہے تو اس کو نہیں مانا جاتا اور یقین کیا جاتا ہے کہ دشمنی اور عداوت کی وجہ سے کہتا ہے۔ پس ایسی بات کے تسلیم نہ کرنے میں ہم عام طبیعتِ انسانی سے کچھ زیادہ نہیں کرتے۔
چھٹے امر کی نسبت ہم یہ کہتے ہیں کہ ہاں ہم ایسی روایتوں کو بھی نہیں مانتے، جو وقارِ نبوت کے بر خلاف ہوں۔ ایسا کرنے میں بھی ہم عام طبیعتِ انسانی کے بر خلاف نہیں کرتے، کیونکہ ہم نے بہت سی قطعی دلیلوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل ترین خلق تسلیم کر لیا ہے اور رسولِ خدا بھی مانا ہے تو ایسے امور کو جو اس وقار کے برخلاف ہوں، ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔ ایسا کرنے میں بھی ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کرتے جو عموماً کیا کرتے ہیں۔ اس زمانہ میں بھی جس شخص کو ہم عمدہ خصلت اور صاحبِ دیانت، ذی وقار سمجھ لیتے ہیں تو اگر کوئی شخص ایسا امر بیان کرے جو اس کے وقار کے شایان نہ ہو تو اس کو بھی ہم تسلیم نہیں کرتے۔ پس اگر ہم نے رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی ایسا کیا تو کچھ تعجب کی بات نہیں ہے۔
محدثین نے حدیث کے روایت کرنے میں تین لفظ اختیار کئے ہیں: اخبرنا6 اور انباناً7 اور عن۔ پہلے دو لفظ تو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ پچھلے راوی نے پہلے راوی سے خود وہ روایت سنی ہے، مگر عن کے لفظ سے یہ لازم نہیں ہے کہ پچھلے راوی نے پہلے راوی سے وہ روایت سنی ہو اور ممکن ہے کہ نہ سنی ہو، بلکہ اس پچھلے راوی اور اس کے اوپر کے راوی میں اور جو لوگ بھی ہوں، جن کے نام چھوٹ گئے ہوں اور ایسی بھی حدیثیں ہیں جن کی روایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچی، بلکہ صرف صحابہ یا تابعین اور تبعِ تابعین تک پہنچی ہے۔ اگر ایسی حدیثوں میں ایسے مُضمون ہوں جن پر کوئی جرح و قدح نہیں ہو سکتی، یعنی از روئے درایت کے وہ مضمون غلط نہیں معلوم ہوتے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان حدیثوں کے قبول کرنے سے انکار کریں۔
تفسیروں اور سیر کی کتابوں میں خواہ وہ تفسیرِ ابنِ جریر ہو یا تفسیرِ کبیر وغیرہ اور خواہ وہ سیرۃ ابنِ اسحق ہو، خواہ سیرتِ ابنِ ہشام اور خواہ وہ روضۃ الاحباب ہو یا مدارج النبوۃ وغیرہ، ان میں تو اکثر ایسی لغو اور نا معتبر روایتیں اور قصے مندرج ہیں جن کا نہ بیان کرنا ان کے بیان کرنے سے بہتر ہے۔
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 23 تا 35 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔ یہ تحریر کتاب «آخری مضامینِ سر سید» سے ماخوذ ہے۔

