اس زمانہ میں جس قدر مذاہب موجود تھے کیا یہودی اور کیا عیسائی اور کیا آتش پرست اور کیا بت پرست سب کے سب سپر نیچرل، یعنی ما فوق الفطرت واقعات کے واقع ہونے کے قائل تھے اور یہودی اور عیسائیوں میں ایسے واقعات کثرت سے مشہور تھے اور مسلمان خدا کو قادرِ مطلق یقین کرتے تھے جن سے اُن کا یہ مقصد تھا کہ خدا ایسے امور کے کرنے پر بھی مختار ہے جو ما فوق الفطرت ہوں، اسی لئے جو روایتیں اور حدیثیں ایسی ہوتی تھیں، جن میں واقعاتِ ما فوق الفطرت کا بیان ہوتا تھا، ان کو بلا کسی شبہ اور تردد کے حدیث کی کتابوں میں داخل کر لیا جاتا تھا۔ غرضیکہ تمام کتبِ احادیث اور بالتخصیص کتبِ تفاسیر اور سیر اس قسم کی روایات کا مجموعہ ہیں، جن میں صحیح اور غیر صحیح اور قابلِ تسلیم اور نا قابلِ تسلیم حدیثیں اور روائتیں مندرج ہیں۔
یہ سب باتیں جو ہم نے بیان کیں تاریخانہ واقعات ہیں جو اسلام پر گذرے ہیں اور کوئی بات اس میں ایسی نہیں ہے کہ سوائے معتقدینِ اسلام کے اور کوئی اس کو تسلیم نہ کرتا ہو اور اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی شخص کسی مذہب کا ہو، بشرطیکہ وہ تاریخی واقعات سے واقف ہو، ان واقعات کے صحیح ہونے سے انکار نہیں کر سکتا۔
اب ہم پوچھتے ہیں کہ ایک محقق، کو جو یہ چاہتا ہو کہ اُن حدیثوں اور روایتوں میں سے صحیح کو غیر صحیح سے تمیز کرے، عقلاً بغیر پابندیٔ مذہب کے کیا کرنا لازم ہے؟ عقل یہ حکم کرتی ہے کہ سب سے اول اس کا یہ کام ہوگا کہ اسی زمانہ کی ایسی تحریر کو تلاش کرے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہو، لکھا ہو، تاکہ اُس سے اُن زبانی روایتوں کا مقابلہ کرے اور جس زبانی روایت کو اس تحریر کے مخالف یا متناقض پائے اس کو غلط قرار دے۔
ایسی تحریر بجز اس کتاب کے جس کو مسلمان قرآنِ مجید کہتے ہیں اور کوئی نہیں ہے اور اس میں کچھ شبہ نہیں کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآنِ مجید اس زمانہ کے رواج کے موافق لکھا جاتا تھا اور وہ متفرق چیزوں پر لکھا ہوا تھا۔ بعد انتقالِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت ابوبکرؓ کی خلافت میں ایک جا جمع ہوا جس میں بہت سے اقوال اور احکامِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اور چند واقعات جو اس زمانہ میں واقع ہوئے مندرج ہیں۔ نعوذ باللہ2 اس کو کتاب منزل من اللہ3 نہ مانو، مگر کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ وہ کتاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور کم سے کم یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین زمانہ میں لکھی گئی ہے۔ پس اگر کوئی زبانی روایت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی گئی ہو اور اس کتاب کے اقوال اور احکام اور واقعاتِ مندرجہ کے خلاف یا متناقض ہو تو بلا لحاظِ مذہب، عقل اس بات کی مقتضی ہے، کہ اس زبانی روایت کو غلط سمجھا جائے اور مذہبِ اسلام میں سے اس کو اسی طرح نکال کر پھینک دیا جائے جس طرح دودھ میں سے مکھی نکال کر پھینک دی جاتی ہے۔ اور یہی عقلی اصول مذہبِ اسلام میں ٹھہرا ہے کہ جو حدیث یا روایت قرآنِ مجید کے برخلاف یا اس کے متناقض ہو اُس کو نامعقول اور مردود کیا جائے۔ پس ہمارا ایسا کرنا اس مطلب سے نہیں ہے کہ قرآنِ مجید کی صداقت میں (جو ہمارے نزدیک بلاشبہ صادق ہے) کچھ فرق نہ آئے، بلکہ ہر انسان ایسا ہی کرے گا جیسا کہ ہم کرتے ہیں۔
ایسا کرنے میں ہم نے قرآنِ مجید کے ساتھ کوئی عجیب کام نہیں کیا، بلکہ ایسا ہی کام کیا ہے، جو عموماً ایسی حالت میں کیا جاتا ہے۔ مثلاً ہمارے پاس تزکِ تیموری، تزکِ بابری، تزکِ جہانگیری، جو خود ان بادشاہوں کی لکھی ہوئی ہیں یا ایسی تاریخیں جو ہم عہد مصنفوں نے لکھی ہیں موجود ہیں۔ اب ہم کو ایک زبانی روایت پہنچی جو بالکل مخالف یا متناقض اُن حالات کے ہے جو ان کتابوں میں مندرج ہیں تو ہم بلاشبہ اس زبانی روایت کو غلط اور مردود قرار دیں گے۔ پس کیا وجہ ہے کہ قرآنِ مجید کے مقابلہ میں ایسی زبانی حدیث یا روایت کو جو قرآنِ مجید کے مخالف یا متناقض ہے، مردود اور نا مقبول نہ قرار دیں۔ پس یہ خیال کہ ہم قرآنِ مجید کی صداقت قائم رکھنے کو اُن زبانی روایتوں سے انکار کرتے ہیں کیسا لغو اور بے ہودہ اور بے اصل خیال ہے۔
دوسرے امر کی نسبت ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں تو کوئی ایسی بات جو تاریخِ محققہ اور مشہورہ کے بر خلاف ہو، پائی نہیں جاتی۔ ہاں اس میں کچھ شبہ نہیں کہ بعض قصص جو یہودیوں اور عیسائیوں میں یا عربِ جاہلیت میں مشہور تھے، ان کا ذکر قرآنِ مجید میں بھی ہے، مگر جو فضول اور زائد اور بے اصل باتیں اُن قصصِ مشہور میں شامل تھیں اور جو عقلاً بھی غلط معلوم ہوتی تھیں، وہ قرآنِ مجید میں نہیں ہیں، گو کہ مفسروں نے اپنی تفسیروں میں اُن کو بھی داخل کر لیا ہو۔
باقی رہیں اور حدیثیں اور روایتیں جو زبانی زبان پر مبنی ہیں، اگر کسی تاریخِ محققہ کے بر خلاف ہیں تو یہ بر خلافی اُن کے نامعتبر ہونے کی دلیلِ کافی ہے، اور وہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کی گئی ہیں تو اول اس بات کا کافی ثبوت ہونا چاہئے کہ درحقیقت اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ دوم اس بات کا ثبوت چاہئے کہ جو لفظ راویوں نے بیان کئے ہیں وہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے نکلے تھے۔
تیسرے اس بات کا ثبوت چاہئے کہ جو معنی ان لفظوں کے شارحین و مفسرین نے بیان کئے ہیں، ان کے سوا اور کوئی معنی ان کے نہیں ہیں اور اگر ان میں سے کوئی ایک امر بھی نہیں ہے تو اس روایت کو رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
تیسرے امر کی نسبت ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم کو کوئی ایسی حدیث جس کو صحیح طور پر حدیثِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کہہ سکیں معلوم نہیں ہے، جو حس اور مشاہدہ کے برخلاف ہو اور اگر کوئی روایت ایسی ہو اور اس کو رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کیا ہو تو جب تک وہ تینوں امر ثابت نہ ہوں جن کا ابھی ہم نے بیان کیا ہے، اُس وقت تک اُس کو حدیثِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہہ سکتے۔ پس یہ خیال کرنا کہ ایسی روایتوں سے ہمارا انکار کرنا اس لئے ہے کہ مذہبِ اسلام پر کوئی حرف نہ آنے پائے کس قدر غلط اور ناواجب ہے۔
چوتھے امر کی نسبت ہم یہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ حدیث کی کتابوں میں ایسی حدیثیں مندرج ہیں جو عقلِ انسانی کے برخلاف یا مافوق الفطرت ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ لوگ واقعاتِ مافوق الفطرت کے واقع ہونے کو تسلیم کرتے تھے، جیسا کہ اور تمام مذاہب کے معتقد بھی اس کو تسلیم کرتے تھے۔ پس یہ اعتراض ایسا عامتہ الورود4 ہے کہ کوئی شخص جو کسی مذہب کا معتقد ہو، خواہ یہودی مذہب کا یا عیسائی مذہب کا یا اور کسی مذہب کا اس اعتراض سے بچ نہیں سکتا، لیکن جب کوئی محقق ان پر نظر ڈالتا ہے، تو کہتا ہے کہ اُن کا مافوق الفطرت یا خلافِ عقل ہونا اس کے نا معتبر اور ناقابل ہونے کو کافی ہے۔

