(نوشتۂ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی)
سرسید کی تصانیف اور مقالات
سرسید کے متعدد عظیم الشان کارناموں میں سے اُن کی ادبی خدمات کو نہایت نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ اُنہوں نے سولہ سترہ برس کی عمر میں قلم سنبھالا اور وفات تک برابر لکھتے رہے۔ اس طویل عرصے میں اُنہوں نے کئی اخباروں کی ایڈیٹری بھی کی اور مختلف موضوعات پر بہت سی کتابیں بھی تصنیف اور تالیف کیں؛ دوسروں کی کتابیں بھی تصحیح کے بعد شائع کیں؛ مگر سرسید کی ادبی حیثیتوں میں سب سے بڑی اور سب سے زیادہ نمایاں حیثیت اُن کی مضمون نگاری اور مقالہ نویسی ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ وہ اپنے دور کے سب سے بڑے اور سب سے اعلی مضمون نگار تھے اور اُنہوں نے اپنی زندگی میں سیکڑوں مضامین اور طویل مقالے بڑی تحقیق و تدقیق، بڑی محنت و کاوش اور بڑی لیاقت و قابلیت سے لکھے اور اپنے پیچھے ایک عظیم الشان ذخیرہ نادر مضامین اور بلند پایہ مقالات کا چھوڑ گئے۔ اس کے علاوہ بہت سی مستقل تصانیف بھی اُن کی یادگار ہیں جن کی فہرست حسبِ ذیل ہے:
1- ’’جام جم‘‘: ہندوستان کے سلاطینِ مغلیہ کی تاریخ فارسی میں، مطبوعہ 1840ء۔
2- ’’انتخاب الاخوین‘‘: قوانینِ دیوانی متعلقہ منصفی کا خلاصہ، مطبوعہ 1841ء۔
3- ’’جلاء القلوب بذکر المحبوبؐ‘‘: قدیم طرز کا ایک مولود، مطبوعہ 1843ء۔
4- ’’تحفۂ حسن‘‘: تحفۂ اثنا عشریہ کے دو بابوں کا اردو ترجمہ، مؤلفہ 1844ء۔
5- ’’تسہیل فی جر الثقیل‘‘: علم جر الثقیل کے متعلق ایک فارسی رسالے کا ترجمہ، مطبوعہ 1844ء۔
6- ’’آثار الصنادید‘‘: دہلی کی تاریخی عمارات کا حال، مطبوعہ 1847ء۔
7- ’’ترجمہ فیصلہ جات صدر شرق و صدر غربی‘‘: مقدمات کے متعلق اعلی عدالتوں کے فیصلے، مرتبہ 1849ء۔
8- ’’کلمۃ الحق‘‘: پیری مریدی کے مروجہ طریقوں کی مذمت میں، مؤلفہ 1850ء۔
9- ’’رسالہ راہ سنت و ردّ بدعت‘‘: اہلِ حدیث کے مشرب کے موافق سنت کی تائید اور ’’بدعت‘‘ کے رد میں، مصنفہ 1850ء۔
10- ’’نمیقہ‘‘: متعلق تصوف بہ صورت ایک خط، بہ زبانِ فارسی، مطبوعہ 1852ء۔
11- ’’سلسلۃ الملوک‘‘: راجگان و شاہانِ دہلی کی تاریخ بہ صورت جدول، مطبوعہ 1852ء۔
12- ’’ترجمہ کیمیائے سعادت‘‘: امام غزالی کی مشہور کتاب ’’کیمیائے سعادت‘‘ کی ابتدائی تین فصلوں کا اردو ترجمہ، محررہ 1853ء۔
13- ’’تاریخ ضلع بجنور‘‘: اس تاریخ کا مکمل مسودہ 1857ء کے ہنگامے میں تلف ہوگیا، مؤلفہ 1857ء۔
14- ’’تاریخ سرکشی بجنور‘‘: ہنگامۂ 1857ء کے موقع پر بجنور میں جو حوادث پیش آئے، اُن کی مفصل روئداد، مطبوعہ 1858ء۔
15- ’’رسالہ اسباب بغاوت ہند‘‘: 1857ء کی بغاوت کے اسباب و علل، مطبوعہ 1859ء۔
16- ’’گزارش در باب تعلیم اہل ہند‘‘: ہندوستانیوں کی ابتدائی تعلیم کے متعلق گورنمنٹ کو کچھ مشورے، اردو اور انگریزی میں، مطبوعہ 1859ء۔
17- ’’تحقیق لفظ نصاریٰ‘‘: ’’نصاریٰ‘‘ کے متعلق انگریزوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے یہ رسالہ 1859ء میں سرسید نے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع کیا۔
18- ’’تبیین الکلام فی تفسیر التوراۃ والانجیل علی ملّۃ الاسلام‘‘: (در دو جلد) توریت اور انجیل کی تفسیر اور قرآن و حدیث سے اُس کی تطبیق، مؤلفہ 1862ء۔
19- ’’سیرت فریدیہ‘‘: سرسید کے نانا خواجہ فرید الدین وزیرِ اکبر شاہ ثانی کی سوانح عمری، مطبوعہ 1864ء۔
20- ’’ترجمہ فوائد الافکار فی اعمال الفرجار‘‘: علمِ ہیئت کے متعلق، مطبوعہ 1864ء۔
21- ’’قول متین در ابطال حرکتِ زمین‘‘: حرکتِ زمین کے مسئلے کی تردید قدیم خیالات کے موافق، مطبوعہ 1865ء۔
22- ’’رسالہ علاجِ ہیضہ‘‘: بہ موجب اصولِ ہومیو پیتھک، مطبوعہ 1868ء۔
23- ’’احکام طعام اہل کتاب‘‘: یہود و نصاریٰ کے ساتھ کھانے پینے کے متعلق شریعتِ اسلامیہ کے احکام، مطبوعہ 1868ء۔
24- ’’سفر نامۂ مسافران لندن‘‘: سفرِ لندن کے حالات اور وہاں کی معاشرت، مطبوعہ 1869ء، (در اخبار سائنٹفک سوسائٹی علی گڈھ۔)
25- ’’الخطبات الاحمدیہ فی العرب و السیرۃ المحمدیہ‘‘: سر ولیم میور1 کی کتاب ’’لائف آف محمد2‘‘ کا جواب۔ انگریزی در 1870ء۔ اردو در 1887ء۔
26- ’’ہندوستان کا طریقۂ تعلیم‘‘: (انگریزی) ہندوستان میں رائج انگریزی طریقۂ تعلیم پر اعتراضات، مطبوعہ 1870ء۔
27- ’’ڈاکٹر ہنٹر3 کی کتاب پر ریویو‘‘: مسلمانوں کے خلاف ڈاکٹر ہنٹر کی زہریلی کتاب ’’انڈین مسلمانز4‘‘ کا جواب انگریزی میں، مطبوعہ 1871ء۔
28- ’’النظر فی بعض مسائل الامام الغزالی‘‘: حضرت امام غزالی کے بعض رسائل و مسائل پر تنقید، مطبوعہ 1880ء۔
ان کے مقالات پر تبصرہ
تصانیف سے قطع نظر ان کے بیش بہا مضامین لٹریچر کے لیے مایۂ ناز اور عوام و خواص کے لیے بے حد مفید ہیں۔ اُن سے معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اور نظر میں وسعت پیدا ہوتی ہے، مذہبی مسائل اور تاریخی عقدے حل ہوتے ہیں، اخلاق و عادات کی اصلاح کے لیے بھی وہ بے نظیر ہیں، سیاسی اور معاشرتی لحاظ سے نہایت فائدہ مند ہیں: بہت سے مشکل سوالوں کے تسلی بخش جواب بھی اُن میں موجود ہیں۔ سرسید کے ذاتی عقائد اور اُن کے مذہبی خیالات کے متعلق بھی اُن سے کافی روشنی ملتی ہے (جو اپنے زمانے میں زبردست اعتراضات کا نشانہ بنے رہے ہیں)۔ اُن میں علمی حقائق بھی ہیں اور ادبی لطائف بھی، ان میں سیاست بھی ہے اور معاشرت بھی، اُن میں اخلاق بھی ہے اور موعظت بھی، اُن میں مزاح بھی ہے اور طنز بھی، اُن میں درد بھی ہے اور سوز بھی، اُن میں دل چسپی بھی ہے اور دل کشی بھی، اُن میں نصیحت بھی ہے اور سوزش بھی؛ غرض سرسید کے یہ مضامین و مقالات ایک سدا بہار گلدستہ ہیں جن میں ہر رنگ اور ہر قسم کے خوش بُو دار پھول موجود ہیں۔
یہ مضامین سرسید نے جن اخباروں اور رسالوں میں وقتاً فوقتاً لکھے، وہ مدت ہوئی عام نظروں سے اوجھل ہو چکے تھے اور کہیں اُن کا سراغ نہیں ملتا تھا۔ پرانے اخبارات کے فائل کون سنبھال کر رکھتا ہے۔
سرسید کی زندگی میں کسی کو اس کا خیال نہ آیا کہ ان تمام بیش قیمت جواہرات کو جمع کرکے فائدۂ عام کے لیے شائع کر دے۔ صرف دو ایک نہایت ہی مختصر مجموعے شائع ہوئے مگر وہ بھی بے حد تشنہ اور نامکمل جو نہ ہونے کے برابر تھے۔
سرسید کے انتقال کے بعد نصف صدی کا طویل زمانہ پورا گزر گیا مگر کسی کو ان مضامین کے جمع کرنے کا خیال پیدا نہ ہوا۔ پچاس پر بارہ سال اور بھی گزر گئے مگر کوئی اس طرف متوجہ نہ ہوا۔ اب آ کر مجلسِ ترقیٔ ادب کو ان بیش بہا بکھرے ہوئے جواہرات کے جمع کرنے کا خیال آیا۔ مجلس نے ان جواہرات کو ڈھونڈنے اور اُن کو ایک سلک میں منسلک کرنے کے لیے مجھ ناچیز کا انتخاب کیا۔ پرانے اخبارات اور قدیم رسالوں کے فائلوں کی تلاش میں جگہ جگہ کے چکر لگانے اور فراہمی کے بعد اُن کے بوسیدہ اور دریدہ اوراق کو غور و احتیاط سے پڑھنے کے بعد اُن میں سے مطلوبہ مواد فراہم کرنا بڑے بکھیڑے کا کام تھا، مگر چونکہ طبیعت شروع ہی سے دقّت طلب اور مشکل پسند واقع ہوئی ہے، اس لیے میں نے یہ ذمہ داری قبول کر لی اور آج میں اپنی عرصۂ دراز کی محنت و کاوش کے شیریں ثمرات ناظرینِ کرام کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مجلسِ ترقیٔ ادب کو اس وقت اس ضروری اور اہم کام کا خیال نہ آتا تو پھر یہ نادر و نایاب مضامین کبھی جمع نہ ہو سکتے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ سرسید کے علمی اور ادبی کارناموں کا ایک نہایت ہی بیش بہا اور اہم حصہ قوم کی غفلت کے باعث ضائع ہو جاتا۔ پاکستان و ہندوستان کے تمام علمی طبقے کو اس عظیم ادبی خدمت پر مجلسِ ترقیٔ ادب کا شکرگزار ہونا چاہیے، جس نے یہ ادبی جواہر ریزے بڑی معقول رقم خرچ کر کے نہایت نفاست کے ساتھ شائقینِ علم کی خدمت میں پیش کیے۔ یہ مضامین اور مقالات پیش کرتے ہوئے ضروری ہے کہ سرسید کی ادبی حیثیت اور اُن کی مقالہ نگاری کی خصوصیات پر ایک معمولی تبصرہ کیا جائے، تاکہ ناظرینِ کرام کو اس عظیم رہنما کی اس مخصوص حیثیت سے بھی پوری واقفیت ہو جائے اور وہ ان مقالات کی افادیت سے اچھی طرح روشناس ہو سکیں۔
سرسید کی ادبی حیثیت پر اب تک بہت ہی کم لکھا گیا ہے۔ اُمید ہے کہ مندرجہ ذیل سطور سے اس کمی کی بہت حد تک تلافی ہو سکے گی۔
سرسید کو لکھنے پڑھنے کا چسکا شروع ہی سے تھا۔ اُنہوں نے بہت چھوٹی عمر میں بڑے شوق کے ساتھ لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا اور سترہ برس کی عمر میں وہ اپنے بھائی کے پرچے میں، جس کا نام ’’سید الاخبار‘‘ تھا، روانی کے ساتھ مختلف موضوعات پر مضامین لکھنے اور اخبار کو ایڈٹ کرنے لگے تھے۔ انہوں نے ہوش سنبھالتے ہی مضمون نگاری شروع کی اور بہت جلد ملک کے سب سے بڑے مقالہ نگار بن گئے۔
