اگرچہ اُن کی زندگی بڑی مصروف تھی اور اُن کو بہت سے ضروری فرائض انجام دینے پڑتے تھے، مختلف زمانوں میں وہ مختلف مصروفیتوں میں بہت زیادہ مشغول رہے، مگر کسی حالت میں بھی قلم اُن کے ہاتھ سے نہ چھوٹا۔ مضمون نویسی اُن کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ تھا اور وہ اس مشغلے میں بڑا اطمینان اور سکون محسوس کرتے تھے۔ وہ خود کہتے ہیں: ’’جیسا تصنیف و تالیف میں میرا جی لگتا ہے، ایسا کسی اور کام میں نہیں لگتا‘‘۔ (’’حیات جاوید‘‘ صفحہ 482) اس کی تشریح شمس العلماء مولانا حالی ان الفاظ میں فرماتے ہیں: ’’رنج میں، خوشی میں، صحت میں، خلوت میں، جلوت میں اس مشغلے سے اُن کا جی نہیں اُکتاتا تھا۔ گرمی کی دوپہروں میں جب کہ آدمی ضرور تھوڑا بہت آرام کر لیتا ہے، یہ شخص ہمیشہ تصنیف و تالیف میں مصروف پایا جاتا تھا۔ بیماری کی حالت میں بھی اُن کو کبھی نہیں دیکھا کہ دوپہر کو پلنگ پر جا کر کمر سیدھی کی ہو۔ بار ہا ایسا اتفاق ہوتا تھا کہ علالت یا کسی اور وجہ سے رات کو نیند اُچاٹ ہوگئی اور اُنہوں نے میز کرسی پر بیٹھ کر کسی مضمون کے لکھنے میں صبح کر دی۔ جہاں اور لوگ بیماری کی راتیں ہائے وائے کر کے بسر کرتے ہیں، وہاں یہ شخص اس دماغ سوز مشغلے سے دل بہلاتا تھا‘‘۔ (’’حیات جاوید‘‘ صفحہ 482) سرسید کی مضمون نویسی کی تین نمایاں اور اہم خصوصیتیں قابلِ ذکر ہیں:
(الف) پہلی یہ کہ دوستوں اور ملاقاتیوں کا کتنا ہی ہجوم ہو، کام کی کتنی ہی کثرت ہو، پاس کتنا ہی شور مچ رہا ہو، قریب بیٹھے ہوئے لوگ کتنے ہی زور زور سے باتیں کر رہے ہوں، ملازم اور ماتحت بار بار آ کر خواہ کچھ پوچھ رہے ہوں؛ غرض کتنی ہی مصروفیت اُن کو ہو یا کیسے ہی جھگڑے اور جھمیلے کے کاموں میں وہ پھنسے ہوئے ہوں، مگر ان میں سے کوئی بات بھی اُن کی توجہ کو منتشر نہیں کر سکتی تھی اور وہ بڑے سکون کے ساتھ مضمون لکھنے میں مصروف رہتے تھے۔
(ب) دوسری خصوصیت اُن کی یہ تھی کہ جو تحقیقی یا مذہبی یا تاریخی مضمون وہ لکھنا چاہتے تھے، اُس کے تمام پہلو پہلے سے اُن کے ذہن نشین ہوتے تھے۔ جو جو اعتراضات اُن کے اس مضمون پر وارد ہو سکتے تھے، اُن سب کے جوابات وہ پہلے سے سوچ لیتے تھے اور اُن کو اپنے مضمون میں عمدگی کے ساتھ بیان بھی کر دیتے تھے۔ مضمون کا جو ڈھانچہ وہ پہلے سے بنا لیتے تھے اسے بعد میں نہیں بدلتے تھے، جتنے حوالوں کی اس مضمون کے لیے ضرورت ہوتی تھی، وہ پہلے سے بڑی عمدگی کے ساتھ اُن کے ذہن میں محفوظ ہوتے تھے؛ غرض جس طریقے سے وہ مضمون لکھتے تھے، وہ اُنہی کے لیے خاص تھا؛ عام مقالہ نگاروں میں یہ بات دیکھنے میں نہیں آتی۔ وہ بار بار اپنے لکھے ہوئے فقروں کو کاٹتے اور بار بار مضمون کی ترتیب کو بدلتے رہتے ہیں، چنانچہ میں نے ایک بڑے فاضل ادیب کو دیکھا جو پانچ زبانیں جانتے تھے اور پچاس سے زیادہ کتابوں کے مصنف اور مترجم تھے، وہ اپنے مسودے کو بارہ بارہ تیرہ تیرہ مرتبہ بدلتے، یہاں تک کہ پتھر پر کاپی5 جمنے کے بعد بھی وہ اپنے مضمون میں ترمیم کرتے رہتے تھے۔
(ج) تیسری خصوصیت اُن کی مضمون نگاری کی یہ تھی کہ جتنی زبردست قوتِ استدلال اُن میں تھی، وہ عام مضمون نگاروں میں بہت ہی کم ہوتی ہے۔
سرسید کی مضمون نویسی اور مقالہ نگاری کو آسانی کے ساتھ دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1- طرزِ قدیم یا ابتدائی دور۔
2- طرز جدید یا آخری زمانہ۔
جس دور میں اُنہوں نے آنکھ کھولی تھی، اُس وقت ادب اور زبان پر مسجّع اور مقفٰی عبارت کی حکومت تھی؛ دور از کار تشبیہیں، مبالغہ آمیز تحریریں، مشکل فقرے، ادقّ محاورے اُس وقت مضمون نگاری اور ادبیت کی شان سمجھے جاتے تھے اور اُن پر فخر کیا جاتا تھا۔ سرسید بھی اُس وقت اُسی رنگ میں رنگین تھے؛ اُس وقت تک عام روش سے ہٹ کر اُنہوں نے اپنا علیحدہ رستہ نہیں بنایا تھا۔ ’’جلاء القلوب‘‘، ’’آثار الصنادید‘‘ اور ’’سلسلۃ الملوک‘‘ اُن کی اُسی وقت کی یادگاریں ہیں۔ سر سید کی طرزِ قدیم کی نگارش کے بہت سے عمدہ نمونے ان مقالات اور کتابوں میں آسانی سے مل سکتے ہیں۔ اس کے بعد جلد ہی وہ اس طرزِ نگارش سے اُکتا گئے جس کو اُنہوں نے اُس وقت کے ماحول کے مطابق شوق کے ساتھ شروع کیا تھا۔ اب اُنہوں نے سادہ، صاف اور آسان عبارت میں اپنے مافی الضمیر کو بیان کرنا شروع کیا۔ یہ اسلوب غالباً ہنگامۂ 1857ء کے بعد اختیار کیا ہے اور بالآخر اُس طرزِ تحریر کے موجد اور بانی ہوئے جو آج رائج ہے۔ اپنی اس اوّلیت اور اصلاح کا سید صاحب خود ان الفاظ میں ذکر فرماتے ہیں:
سر سید کا اپنا بیان
’’جہاں تک ہم سے ہو سکا ہم نے اردو زبان کے علمِ ادب کی ترقی میں اپنے ان ناچیز پرچوں (تہذیب الاخلاق) کے ذریعے سے کوشش کی۔ مضمون کے اداء کا ایک سیدھا اور صاف طریقہ اختیار کیا۔ جہاں تک ہماری کج مج زبان نے یاری دی، الفاظ کی درستی اور بول چال کی صفائی پر کوشش کی۔ رنگینیٔ عبارت سے جو تشبیہات اور استعاراتِ خیالی سے بھری ہوتی ہے اور جس کی شوکت صرف لفظوں ہی میں رہتی ہے اور دل پر اُس کا کوئی اثر نہیں ہوتا، پرہیز کیا۔ تُک بندی سے جو اس زمانے میں مقفٰی عبارت کہلاتی ہے، ہاتھ اُٹھایا۔ جہاں تک ہو سکا سادگیٔ عبارت پر توجہ کی۔ اس میں کوشش کی کہ جو کچھ لطف ہو وہ صرف مضمون کے اداء میں ہو۔ جو اپنے دل میں ہو وہی دوسرے کے دل میں پڑے تاکہ دل سے نکلے اور دل میں بیٹھے۔
ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ہماری یہ کوشش کہاں تک کار گر ہوئی اور ہمارے ہم وطنوں نے اُس کو کس قدر پسند کیا، مگر اتنی بات ضرور دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے خیالات میں ضرور تبدیلی آ گئی ہے اور اُس کی طرف لوگ متوجہ بھی معلوم ہوتے ہیں۔ اخباروں کی عبارتیں بہت عمدہ اور صاف ہوتی جاتی ہیں؛ وہ پہلا سا ناپسند طریقہ ادائے مضمون کا بالکل چھوٹتا جاتا ہے، بھاری بھاری لفظوں اور موٹے موٹے لغتوں سے اردو زبان کا خون نہیں کیا جاتا، صفائی اور سادگی روز بہ روز عبارتوں میں بڑھتی جاتی ہے، خیالات بھی بالکل بدلے ہوئے ہیں۔ بہت کم اخبار ایسے ہوں گے جن میں ہر ہفتے کوئی نہ کوئی آرٹیکل عمدہ و سلیس عبارت میں کسی نہ کسی مضمون پر نہ لکھا جاتا ہو۔
نئی اردو نے در حقیقت ہماری ملکی زبان میں جان ڈال دی ہے۔ میرؔ و دردؔ اور ظفرؔ نے اردو اشعار میں جو کچھ سحر بیانی کی ہو، کی ہو۔ مومن دہلوی نے کوئی کہانی شستہ بول چال میں کہہ دی ہو، کہہ دی ہو؛ جو اُس سے زیادہ فصیح و دل چسپ و با محاورہ نہ ہوگی جو ایک پوپلی بڑھیا بچوں کے سلاتے وقت اُن کو کہانی سناتی ہے۔ مضمون نگاری دوسری چیز ہے جو آج تک اردو زبان میں نہ تھی۔ یہ اسی زمانے میں پیدا ہوئی اور ابھی نہایت بچپن کی حالت میں ہے۔ اگر ہماری قوم اس پر متوجہ رہے گی اور ایشیائی خیالات کو نہ ملائے گی، جو اب حد سے زیادہ اجیرن ہو گئے ہیں، تو چند روز میں ہماری ملکی تحریریں بھی میکالے6 اور اڈیسن7 کی سی ہو جائیں گی‘‘۔ (’’تہذیب الاخلاق‘‘ بابت یکم شوال 1292ھ)۔
مندرجہ بالا فقرات میں سرسید نے وہ سب باتیں بیان کر دی ہیں جو اُن کی طرزِ تحریر اور اُن کے مضامین کا طغرائے امتیاز ہیں اور جن کی بہ دولت وہ جائز طور سے ’’مجدّدِ ادبِ اُردو‘‘ کے لقب کے مستحق ہیں۔ جو اثر اُردو لٹریچر پر اُن کے اندازِ بیان سے پڑا، اُس کو بھی بہ طورِ فخر سرسید نے اپنے اس آرٹیکل کے آخر میں درج کر دیا ہے۔
ابتدا میں جو کچھ سر سید نے لکھا، چونکہ وہ اُس وقت کی عام روش کے مطابق تھا، لہذا اُس طرزِ تحریر میں کوئی خاص بات نہیں، مگر ہاں بعد کے ایام میں سرسید نے جو عام فہم، سلیس اور آسان عبارت کا طرز اختیار کیا اور مختلف موضوعات پر سیکڑوں مضامین اور مقالے نہایت روانی کے ساتھ لکھے، وہ حقیقی کارنامہ سرسید کا ہیں۔ اس کارنامے کی بدولت بقولِ مولانا حالی، اُن کو ’’فادر آف اُردو‘‘ کہنا کچھ مبالغہ نہیں ہے۔
1857ء کے ہنگامے کے بعد سرسید نے جو عبارت آرائی کو ترک کر دیا اور سلاستِ زبان اور روانیٔ بیان کی طرف متوجہ ہوئے تو اُس کی وجہ دریافت کرنی مشکل نہیں۔
