1857ء کے بعد سرسید کا خطاب عوام الناس سے تھا جو ثقافتی، معاشرتی اور سیاسی طور پر تباہ حال ہو چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کو مرصّع اور مسجّع اردو پسند نہیں آ سکتی تھی کہ فقرے کے فقرے پلے ہی نہ پڑتے تھے۔ سرسید چاہتے تھے کہ عوام الناس میں بیداری کی ایک لہر پیدا ہو اور سلیس طرزِ تحریر مقبول ہو جو ان کی سمجھ میں آئے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 1857ء کے بعد عملاً ایک غیر جانب دار علمی زبان کی بنیاد رکھی جو تشبیہات اور استعارات کی رنگینی سے خالی تھی، جس کا مفہوم فوراً ہر کہ و مہ کے ذہن نشین ہو جاتا تھا، جو کچھ وہ کہنا چاہتے تھے اس کے لیے سلیس اور رواں زبان ہی کی ضرورت تھی۔ تشبیہ اور استعارے کے چٹخارے یہاں حلقۂ بیرونِ در تھے۔ انہوں ایک ایسی زبان استعمال کی جو ہر مفہوم کے لیے مناسب ذریعۂ اظہار تھی اور ساتھ ہی جوش و خروش اور گھن گرج سے بھی خالی تھی۔
سر سید اپنے دور کے سب سے بڑے مضمون نگار اور سب سے اعلی مقالہ نویس تھے۔ اُن کی ہر قسم کی بے شمار تحریریں، کیا علمی کیا ادبی، کیا تاریخی، کیا سوانحی، کیا اخلاق، کیا ثقافتی، کیا سیاسی اور کیا تنقیدی، جو اُن کی مختلف کتابوں، اُن کے مختلف رسالوں اور اخباروں اور اُن کے بکثرت مکتوبات میں پائی جاتی ہیں، اُن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس موضوع کے متعلق جو پیرایۂ بیان مناسب اور موزوں تھا، اُنہوں نے وہی اختیار کیا ہے۔ بہ قول مولانا حالی سرسید کے ہاں ہر مقام کے مقتضا کے موافق اُن کی تحریر کا رنگ خود بہ خود بدل جاتا ہے۔ اگر اُن کے علمی و تاریخی مضامین میں دریا کے بہاؤ جیسی روانی ہے تو مذہبی اور پولیٹکل تحریروں میں چڑھاؤ کی تیرانی کا سا زور ہے۔ اعتراضات کے جواب میں متانت اور سنجیدگی ہے اور بے دلیل دعووں کے مقابلے میں ظرافت و خوش طبعی، نصیحتیں نشتر سے زیادہ دل خراش اور مرہم سے زیادہ تسکین بخش ہیں۔ غصہ مہربانی سے زیادہ پر لطف ہے اور نفرین، آفرین سے زیادہ خوش آیند۔ وہی قلم جو اخلاق کے بیان میں ایک ناصحِ مشفق کے ہاتھ میں نظر آتا ہے، وہ عدالت کے فیصلوں میں ایک کہنہ مشق جج کے ہاتھ میں دکھائی دیتا ہے اور سالانہ رپورٹوں اور جلسوں کی روئدادوں میں ایک تجربہ کار سکرٹری کے ہاتھ میں معلوم ہوتا ہے‘‘۔
ان کے مضامین کی صف بندی
مضامین اور مقالات کے سلسلے میں سرسید مرحوم نے جن مختلف موضوعات اور عنوانات پر مختلف اوقات اور مختلف زمانوں میں حسبِ ضرورت اور حسبِ موقع قلم اُٹھایا ہے، جہاں تک میں نے تلاش اور جستجو کی ہے، اُن کو مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
(1) مذہبی اور اسلامی مضامین (2) قرآنِ کریم اور بائیبل کی تفسیر کے متعلق مضامین (3) مناظرانہ رنگ کے مضامین (4) فلسفیانہ مضامین (5) علمی اور تحقیقی مضامین (6) سرسید کے ذاتی مذہبی عقائد اور اُن کی تشریحات اور اعتراضوں یا الزاموں کے جوابات (7) اخلاق اور مصلحانہ مضامین (8) تعلیمی اور تربیتی مضامین (9) معاشرت کی اصلاح کے متعلق مضامین (10) تاریخی مضامین (11) سیاسی مضامین (12) ادبی مضامین (13) سوانحی مضامین (14) اخبارات پر تبصرے (15) رسائل پر تنقید (16) کتب پر ریویو (17) فنِ اخبار نویسی پر خیالات (18) خاص رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کے متعلق مضامین (19) تنقیدی مضامین (20) علی گڈھ کالج کے متعلق مضامین (21) مراسلات اور استفسارات کے جوابات (22) سیاسی حالات اور واقعاتِ حاضرہ کے متعلق اظہارِ خیال (23) مضامین متعلق حکومتِ ٹرکی (24) بعض متفرق مضامین۔
سر سید کے ان موضوعات کی فہرست کے بعد اب مجھے یہ دکھانا ہے کہ (1) اُن کے مقالات میں کیا کیا خوبیاں تھیں؟ (2) اُن کے مقالات میں کیا خاص خاص باتیں پائی جاتی تھیں؟ (3) اُن کی تحریروں میں کیا کیا نقائص تھے؟ (4) اُن کی ادبیات کا اثر اردو لٹریچر پر کیا پڑا؟ اور (5) اس سے ادیبوں نے کیا فیض پایا؟
میں یہاں یہ تمام امور انتہائی اختصار کے ساتھ بیان کروں گا کیوں کہ تفصیل کی گنجائش نہیں؛ صرف اشارے ہی لکھ سکوں گا جو یہ ہیں:
مضامین کی خصوصیات
(1) سر سید کے مضامین مسلمانوں کی سچی ہم دردی سے لب ریز ہوتے ہیں جن میں ریاء، دکھاوا اور نمائش قطعاً نہیں ہوتی۔
(2) اپنے دوسرے دور کی مضمون نگاری کے ایام میں سرسید سیدھے اور صاف الفاظ میں اپنا مطلب بیان کرتے ہیں، بہت حد تک مشکل الفاظ اور پیچیدہ عبارات سے پرہیز کرتے ہیں تاکہ اُن کا مافی الضمیر لوگوں کی سمجھ میں آسانی سے آ جائے۔
(3) اُن کی عبارت عموماً دل نشین اور مؤثر ہوتی ہے۔
(4) مضامین میں بالعموم عربی فقرات، قرآنی آیات اور احادیثِ نبوی کا بہ کثرت استعمال کرتے ہیں۔ ساتھ ہی فارسی اشعار، ضرب الامثال اور محاورات بھی کم نہیں ہوتے۔
(5) اپنے مضامین میں ہر جگہ اگرچہ مغربی تہذیب اور یورپین شائستگی کے گن گاتے ہیں، مگر قدیم مشرقی طرزِ معاشرت کا بھی خاص لحاظ رکھتے ہیں، لیکن ساتھ ہی بے ہودہ مراسم اور جاہلانہ معتقدات کے سخت مخالف بلکہ دشمن ہیں اور مضامین میں اُن کا رد ہر جگہ بڑی سختی کے ساتھ کرتے ہیں۔
(6) سرسید کے بیش تر مضامین نہایت دل سوزی کی نصیحتوں اور بلند ترین اخلاقی نکات سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ حکیمانہ نکات اُن کے مضامین میں اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر اُن کو اُن کی تمام تالیفات اور اخباروں اور رسالوں سے لے کر ایک جگہ جمع کیا جائے تو وہ ہماری درستیٔ اخلاق کے لیے بہترین دستور العمل بن سکتے ہیں۔
(7) جس موضوع پر وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں، اُس کے لیے مناسب پیرایۂ بیان اختیار کرتے ہیں۔
(8) سرسید کے مضامین میں بالعموم فقرے چھوٹے چھوٹے اور پیرے مختصر ہوتے ہیں تاکہ مضمون پڑھتے ہوئے قاری کی طبیعت نہ گھبرائے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض بعض جگہ اُن کے فقرے طویل اور پیچ دار بھی ہو جاتے ہیں اور عبارت مغلق8، مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے۔
(9) سرسید اپنے مضامین میں جو کچھ بیان کرنا چاہتے ہیں، اُس کو دلائل اور براہین کے ساتھ پیش کرتے ہیں، اٹکل پچو باتیں کرنے کے عادی نہیں؛ البتہ اپنی ’’تفسیر القرآن‘‘ میں اُنہوں نے بعض آیات کی تشریح ایسی کی ہے جس کو مولانا حالی جیسے سرسید کے مداح بھی نامناسب اور غیر مصلحت آمیز سمجھتے ہیں۔
(10) اُن کے مضامین کا انداز اکثر نہایت خطیبانہ ہوتا ہے اور قوم کی فلاح و بہبود کے جذبات سے بھر پور۔ دیکھیے کس درد، کس سوز اور کس قدر خلوص کے ساتھ ایک جگہ فرماتے ہیں ’’اے میرے پیارے نوجوان! اے میری قوم کے بچو! اپنی قوم کی بھلائی میں کوشش کرو؛ ہمارا زمانہ تو اخیر ہے، اب خدا سے یہ دعا ہے کہ کوئی نوجوان اُٹھے اور اپنی قوم کی بھلائی میں کوشش کرے۔‘‘
(11) نصیحت اور موعظت کے وقت بھی اکثر اوقات عبارت اس قدر دل چسپ اور پُر لطف لکھتے ہیں کہ آدمی مزے لے لے کر پڑھتا ہے، مثلاً ایک اخلاقی مضمون ’’بحث و تکرار‘‘ کی تمہید اس طرح اُٹھاتے ہیں:
’’جب کتے آپس میں مل کر بیٹھتے ہیں تو پہلے تیوری چڑھا کر ایک دوسرے کو بری نگاہ سے آنکھیں بدل بدل کر دیکھنا شروع کرتے ہیں، پھر تھوڑی تھوڑی گونجیلی آواز اُن کے نتھنوں سے نکلنے لگتی ہے، پھر تھوڑا سا جبڑا کھلتا ہے اور دانت دکھائی دینے لگتے ہیں اور حلق سے آواز نکلنی شروع ہوتی ہے، پھر باچھیں چِر کر کانوں سے جا لگتی ہیں اور ناک سمٹ کر ماتھے پر چڑھ جاتی ہے، ڈاڑھوں تک دانت باہر نکل آتے ہیں، منہ سے جھاگ نکل پڑتے ہیں اور عنیف آواز9 کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے چمٹ جاتے ہیں۔ اس کا ہاتھ اُس کے گلے میں اور اُس کی ٹانگ اس کی کمر میں، اُس کا کان اس کے منہ میں اور اس کا ٹینٹوا اُس کے جبڑے میں، اُس نے اس کو کاٹا اور اس نے اُس کو بھنبوڑا؛ جو کمزور ہوا وہ دُم دبا کر بھاگ نکلا۔
