’’نامہذب آدمیوں کی مجلس میں بھی آپس میں اسی طرح پر تکرار ہوتی ہے۔ پہلے صاحب سلامت کر کر آپس میں مل بیٹھتے ہیں، دھیمی دھیمی بات چیت شروع ہوتی ہے۔ ایک کوئی بات کہتا ہے، دوسرا بولتا ہے ’’واہ! یوں نہیں یوں ہے‘‘ وہ کہتا ہے ’’واہ! تم کیا جانو‘‘ وہ بولتا ہے ’’تم کیا جانو‘‘ دونوں کی نگاہ بدل جاتی ہے، تیوری چڑھ جاتی ہے، رخ بدل جاتا ہے، آنکھیں ڈراونی ہو جاتی ہیں، باچھیں چِر جاتی ہیں، دانت نکل پڑتے ہیں، تھوک اڑنے لگتا ہے، باچھوں تک کف بھر آتے ہیں، سانس جلدی جلدی چلنے لگتا ہے، رگیں تن جاتی ہیں؛ آنکھ، ناک، بھوں، ہاتھ عجیب عجیب حرکتیں کرنے لگتے ہیں؛ عنیف عنیف آوازیں نکلنے لگتی ہیں، آستینیں چڑھا، ہاتھ پھیلا، اُس کی گردن اس کے ہاتھ میں اور اس کی داڑھی اُس کی مٹھی میں، لپا ڈکی10 ہونے لگتی ہے۔ کسی نے بیچ بچاؤ کر کر چھڑوایا تو غرّاتے ہوئے ایک ادھر چلا گیا اور ایک اُدھر، اور اگر کوئی بیچ بچاؤ کرنے والا نہ ہوا تو کم زور نے پٹ کر کپڑے جھاڑتے سر سہلاتے اپنی راہ لی ------‘‘
(12) اپنی قوم کی پستی و فلاکت اور اُن کی غربت اور بد حالی کو دیکھ دیکھ کر سرسید کا حساس دل نہایت ہی پژمردہ ہوگیا تھا؛ اسی لیے اُن کو مسلمانوں کے تنزل کا نوحہ گانے اور اُن کی ابتر حالت کا رونا رونے کے سوا اور کوئی کام نہ رہا تھا، مگر کبھی کبھی اُن کی فطری زندہ دلی بھی عود کر آتی تھی اور اُس وقت وہ ایسے دل چسپ اور ایسے پُر لطف مضمون لکھتے تھے کہ پڑھ کر بڑا مزا آتا تھا؛ مثال کے طور پر وہ مضمون دیکھیے جو سرسید نے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ میں ’’امید کی خوشی‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔ اس نہایت شگفتہ مضمون میں خصوصاً وہ لوری جو ماں اپنے بچے کو دیتی ہے، اردو ادب میں ایک شاہکار چیز ہے۔
(13) اخباروں اور رسالوں کے ایڈیٹروں کا عام قاعدہ ہوتا ہے کہ جو تعریفی خطوط اُن کو موصول ہوتے ہیں، اُن کو بڑے طمطراق کے ساتھ شائع کرتے ہیں۔ ایک بلند پایہ علمی و ادبی ماہ نامہ تو اس قسم کے توصیفی خطوط ’’عالم ہمہ افسانۂ ما دارد و ما ہیچ‘‘11 کے عنوان سے مسلسل طور پر باقاعدہ شائع کیا کرتا تھا، مگر سرسید کا یہ انداز نہ تھا؛ جو مضامین اُن کی تعریف و توصیف میں آتے تھے، وہ اُن کو شائع نہیں کرتے تھے؛ یا تو واپس کر دیتے تھے یا ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے تھے۔ ایسے ہی وہ اس قسم کے مضامین بھی شائع نہیں کرتے تھے جن میں مضمون نگار کا نام لکھا ہوا نہ ہوتا تھا؛ چنانچہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ میں ایک جگہ خود فرماتے ہیں:
’’ہمارا دستور نہیں کہ کوئی بے نام مضمون ’’تہذیب الاخلاق‘‘ میں چھاپیں، اور نیز کوئی ایسا مضمون جو ہمارے ذاتی افعال کی حمایت میں ہو، ہم کو اپنے پرچہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ میں چھاپنا پسند نہیں، اس لیے کہ من آنم کہ من دانم12۔ جو باتیں ہمارے مخالف ہماری نسبت منسوب کرتے ہیں، ہم اُس سے زیادہ الزام کے لائق ہیں۔ فرض کرو کہ وہ باتیں ہم میں نہ ہوں مگر اُن کے علاوہ اَور باتیں اُن سے بھی بد تر ہمارے میں موجود ہیں، پس ہمارے ذاتی افعال کی حمایت سے کیا فائدہ ہے۔ ہماری تو وہی مثل ہے کہ ’’اُونٹ رے اُونٹ! تیری کون سی کل سیدھی۔‘‘
مگر بعض اوقات خود سرسید فرضی ناموں سے مضامین لکھا کرتے تھے۔ ایسے مضامین کے آخر میں وہ (اے۔ ڈی) یا (ایس۔ ٹی) کے حروف لکھ دیا کرتے تھے اور اس کا مقصد کسی کی تنقیص نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ ہوتا تھا کہ ایک ہی نام ’’سید احمد‘‘ کو پڑھتے پڑھتے لوگ اُکتا نہ جائیں۔
(14) سرسید کا قاعدہ تھا کہ اپنے مخالفین کی مخالفت کو اپنے مضامین میں (1) یا تو مذاق میں اُڑا دیتے تھے (2) یا بے پروائی کے ساتھ ٹھکرا دیتے تھے (3) یا مخالفت پر رنج و افسوس کا اظہار کر کے خاموش ہو جاتے تھے (4) مگر بعض اوقات غصہ بھی آ جاتا تھا؛ اُس وقت وہ بہت سختی کے ساتھ اپنے مخالفین کا اپنے مضامین میں ذکر کرتے تھے اور اُن کے متعلق بہت درشت الفاظ بھی استعمال کرتے تھے۔
(15) مضامین میں منافقت اور مداہنت سے قطعاً کام نہیں لیتے تھے اور جو بات کہنی ہوتی تھی، بڑی آزادی کے ساتھ صاف صاف کہہ دیتے تھے، چاہے کوئی برا مانے یا بھلا۔ اپنی صاف گُوئی کے متعلق خود ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’میرے سچے مذہب نے مجھے سکھایا ہے سچ کہنا اور سچ کرنا۔ نہایت کمینہ وہ آدمی ہے جو کہتا کچھ ہو اور کرتا کچھ ہو، اور اُس سے بھی زیادہ کمینہ وہ شخص ہے جو شریعت کے حکم سے واقف ہو اور پھر رسم و رواج کی شرم سے یا لوگوں کے لعن و طعن کے ڈر سے اُس کے کرنے میں تامّل کرے۔‘‘ (’’حیات جاوید‘‘ صفحہ 198)
(16) اپنے مضامین میں اس بات کو بڑے زور سے بار بار پیش کرتے تھے کہ ترقی کرنے اور عروج حاصل کرنے کے لیے، نیز خدا کی درگاہ میں مقبول ہونے کے لیے لمبے چوڑے دعووں، دھواں دھار تقریروں اور فصیح و بلیغ تحریروں کی ضرورت نہیں بلکہ ’’عمل‘‘ کی ضرورت ہے اور صرف عمل ہی سے دنیوی بھلائی اور دینی بہبودی حاصل ہو سکتی ہے۔
(17) سرسید کا قاعدہ تھا کہ مضمون لکھتے وقت ایک ہی قسم کے الفاظ کے آگے وقفہ (-) دینے کی بجائے ہر لفظ کے آگے ’’اور‘‘ کا لفظ لکھا کرتے تھے؛ مثلاً ایک جگہ مزاحیہ رنگ میں لکھتے ہیں: ’’سبحان اللہ! ہمارا بھی کفر کیا کفر ہے کہ کسی کو حاجی اور کسی کو پاجی اور کسی کو کافر اور کسی کو مسلمان بناتا ہے۔‘‘ ایک دوسرا فقرہ اسی طرح استعمال کیا ہے: ’’اُن کی طبیعت کے زور اور پاکیزگیٔ مضامین اور شوکتِ الفاظ اور طرزِ ادا سے ہم لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔‘‘ یا یہ فقرہ: ’’سویلزیشن سے مراد ہے انسان کے تمام افعال اور اخلاق اور معاملات اور طریقۂ تمدن اور صرفِ اوقات اور علوم اور ہر قسم کے فنون کو اعلی درجے کی عمدگی پر پہنچانا۔‘‘
(18) سرسید نے اپنے مضامین میں اکثر جگہ بلا ضرورت انگریزی الفاظ کا استعمال بہت کثرت کے ساتھ کیا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ ’’زندہ اور ترقی کرنے والی زبان میں نئے الفاظ ملنے چاہئیں، خواہ کسی زبان کے ہوں۔‘‘
(19) مترادفات کا استعمال بھی سرسید کے مضامین میں اکثر پایا جاتا ہے، مثلاً: ’’علاوہ ان کے تین قومیں اَور ہندوستان میں ہیں جو اپنے تئیں مودب و مہذب و تربیت یافتہ و شائستہ سمجھتی ہیں۔‘‘
(20) آخری زمانے کی مضمون نویسی میں مقفّٰی اور مسجّع عبارت کے نمونے بھی سرسید کے مضامین میں ملتے ہیں مگر کم؛ مثلاً ایک جگہ کہتے ہیں: ’’یہ نہیں ہو سکتا کہ کھانے تو ہوں فرعونی اور طریق کھانے کا ہو مسنونی۔‘‘
(21) سرسید کے مضامین میں ظرافت کا عنصر بھی خاصا ہوتا تھا مگر پھکڑ پن سے خالی اور بازاری الفاظ سے معرّا۔ مزاحیہ فقرے ایسے لطیف ہوتے تھے کہ مخالف کو ناگوار بھی نہ ہوں اور طنز بھی بھرپور ہو؛ مثلاً ایک ایڈیٹر نے لکھا کہ ’’جو آدمی پرچہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کی تائید کرے گا ’’وہ خسر الدنیا والآخرہ‘‘ کا مصداق ہوگا‘‘۔ اس کے جواب میں سرسید فرماتے ہیں: ’’بھئی ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کے معاونوں، خریداروں، پڑھنے والوں، چھونے والوں، پاس سے دیکھنے والوں، دور سے دیکھنے والوں، خواب میں دیکھنے والوں، خیال کرنے والوں سے ہوشیار ہو جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ ’’خسر الدنیا و الآخرہ‘‘ ہو جاؤ‘‘
اسی طرح ایک صاحب نے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کی مخالفت میں خدا سے دعا مانگی:
|
عنایت کر مجھے آتش زبانی |
کہ لب تک لا سکوں رازِ نہانی |
|
بتانِ سنگ دل کا دل جلا دے |
زباں کو شعلۂ دوزخ بنا دے |
اس پر سرسید تحریر فرماتے ہیں: ’’مولوی صاحب نے خدا سے دعا مانگی ہے کہ خدا اُن کی زبان کو شعلۂ دوزخ بنا دے، مگر اُن کو ایسی دعا کرنی نہیں چاہیے اور اپنی زبان پر رحم کرنا چاہیے۔‘‘
(22) عام ادیبوں کا قاعدہ ہے کہ وہ صرف ایک یا دو قسم کے مضامین لکھ سکتے ہیں مگر سرسید میں یہ وصف تھا کہ اُنھوں نے بہ کثرت موضوعات پر لمبے لمبے مضمون لکھے ہیں اور اُن میں پورے طور پر کامیاب ہوئے ہیں۔
(23) اُنھوں نے بہت سے انگریزی مضامین کو اردو کا لباس پہنایا ہے، مگر اُن کا ترجمہ نہیں کروایا، بلکہ اُن کا مطلب اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ اس سے اُن کی سب سے بڑی غرض تو قوم کی اصلاح تھی مگر اس کے علاوہ یہ بھی غرض تھی کہ اہلِ یورپ کے عمدہ اور چیدہ خیالات و افکار سے اہلِ وطن شناسا ہوں؛ تیسری غرض یہ تھی کہ اردو کا دامن گوناگوں مفید مضامین سے بھر جائے۔
(24) علمی مضامین اردو میں آسانی سے بیان نہیں ہو سکتے کیوں کہ اس میں ابھی اصطلاحات کی کمی ہے، مگر سرسید نے ایسی سلاست کے ساتھ علمی مضامین پر قلم اُٹھایا کہ الفاظ کی کمی اُن کی راہ میں حائل نہ ہوئی۔
