اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

مقدمہ: مقالاتِ سرسید

(25) سرسید کی مضمون نویسی کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اُنھوں نے قدیم موضوعات کو نئے اسلوبِ نگارش کے ساتھ اس طرح پیش کیا کہ وہ ایک نئی چیز معلوم ہونے لگے۔

(26) مضمون نویسی کے متعلق اُن کا ایک اصول یہ تھا (اور وہ ہمیشہ اس پر کار بند رہے) کہ طرزِ بیان سادہ اور سلیس ہو؛ مضمون میں الفاظ کے چٹخارے نہ ہوں بلکہ حقیقت ہو اور مضامین کی تحریر میں صفائی اور سچائی ہمیشہ مدِّ نظر رہے۔

(27) اگرچہ وہ اعلی درجے کے مضمون نگار اور بہترین مقالہ نویس تھے مگر اُنھوں نے کبھی ادبیت اور انشا پردازی کا دعویٰ نہیں کیا۔ وہ ادیب اور انشا پرداز سے زیادہ مصلح اور ریفارمر تھے؛ اسی لیے وہ اصلاح کے جوش میں انشا پردازوں کے مقررہ قواعد اور اہلِ زبان کے مجوزہ محاورں کا قطعاً لحاظ نہیں کرتے تھے؛ جو کچھ اُن کے دل میں آتا تھا، بے اختیار اُن کے قلم سے ٹپک پڑتا تھا۔

(28) اُن کے خیالات میں بے شک بڑا خلوص ہے جو دل پر اکثر خاص اثر کرتا ہے مگر باوجود اس کے اُن کی بعض تحریریں قاری کی اُلجھن کا باعث ہوتی ہیں۔

(29) سرسید کا اندازِ بیان مذہبی مضامین لکھتے وقت اکثر مناظرانہ ہوگیا ہے۔

(30) مذہبی مقالات میں معقولات سے استفادہ سرسید کے مضامین کی خاص صفت ہے۔

(31) اکثر ایسے مضامین اور خطوط بھی سرسید کے پاس آتے تھے جن میں سوائے گالیوں اور سبّ و شتم کے اَور کچھ نہ ہوتا تھا، مگر سرسید نے کبھی اُن کا کوئی جواب نہیں دیا اور ایسے ہر مضمون کو ضائع کر دیا؛ چنانچہ مولانا حالی لکھتے ہیں: ’’جو فضول تحریریں لوگ اُن کے پاس بھیجتے تھے، اُن کا کچھ جواب نہیں دیتے تھے۔ کبھی اُنھوں نے کسی تحریر کو اس خیال سے کہ مخالف کو الزام دینے یا شرمندہ کرنے کا موقع رہے، اپنے پاس دستاویز بنا کر نہیں رکھا‘‘۔ (’’حیات جاوید‘‘ صفحہ 788)۔

(32) سرسید کے کلام میں بعض متروک الفاظ بھی اکثر ملتے ہیں جن کو اُنھوں نے ترک کرنے کا آخر وقت تک خیال نہ کیا، مثلاً:

’’اپنے تئیں‘‘ بجائے ’’اپنے آپ کو‘‘۔

’’کر کر‘‘ بجائے ’’کر کے‘‘

’’جو کہ‘‘ بجائے ’’چونکہ‘‘

’’چھاپہ ہوئی ہے‘‘ بجائے ’’چھپی ہے‘‘

’’خرید کر کے‘‘ بجائے ’’خرید کر‘‘ وغیر وغیرہ

(33) سرسید کے مضامین اور تحریروں میں بعض غلط لفظ اور فقرے بھی نظر آتے ہیں۔ مثلاً: ’’بہ طور ایک نیکی کے‘‘ ’’بہ نسبت بدی کے‘‘۔ ’’بہ ذریعہ تسخیر کواکب کے‘‘ ’’بہ ذریعہ ایک ڈیپوٹیشن کے‘‘۔ ’’میرے پاس بہ ذریعہ ڈاک کے‘‘۔ ’’بہ طور نمونہ کے‘‘۔ ’’پیر پھٹک دیا‘‘۔ ’’ترغیب کرتے ہیں‘‘ (بجائے ’’ترغیب دیتے ہیں‘‘)۔ ’’رسومات‘‘ (بجائے رسوم)۔ ’’ان بزرگوں کے سبب ہماری قوم کی لٹریچر کیسی عمدہ ہو جائے گی‘‘۔ ’’اُصولوں‘‘ (بجائے اصول)۔

(34) بعض پیچیدہ جملوں سے بھی سرسیّد کے مضامین خالی نہیں؛ مثلاً ’’انگریزی گورنمنٹ کی ابتدا 1757ء وقت شکست کھانے سراج الدولہ کے پلاسی پر سے شمار ہوتی ہے۔‘‘ یا ’’آپ کا عنایت نامہ اور چند اجزا جوابِ سوال پہنچ زائد از حد آپ کی عنایت کا شکر کرتا ہوں‘‘۔

(35) سر سید کی تحریروں میں بعض مشکل اور ادق الفاظ ہیں، مثلاً: ’’معمّم‘‘ (بڑے بڑے عمامے باندھنے والے) مشمّل (جن کے شملے بہت بڑے بڑے ہوں) وغیرہ، مگر ان جزوی اور معمولی باتوں سے جو اوپر بیان ہوئیں، سر سید کے مضامین اور مقالات کی عظمت اور رفعت کم نہیں ہوتی۔ جہاں بہت سی خوبیاں اُن کی تحریروں میں پائی جاتی ہیں، اگر دو چار نقائص بھی اُن میں ہوں (اور نقائص سے کس انسان کا کلام خالی ہے؟) تو اُن کے باعث اُن کے کلام کا رتبہ کم نہیں ہوتا۔ کما قال اللہ تعالیٰ‌جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ان الحسنات یذهبن السیّئات‌بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں‘‘۔ مولانا حالی کیا خوب فرماتے ہیں ؎

کچھ نقص انار کی لطافت میں نہیں

ہوں اُس میں اگر گلے سڑے دانے چند

(36) فنِ مقالہ نگاری موجودہ حالت میں در حقیقت سر سید کے زمانے سے قبل عام طور پر رائج نہ تھا، سرسید ہی نے اس کو شروع کیا، ترقی دی اور عروج پر پہنچایا، اس لیے وہی موجودہ مقالۂ نگاری کے بانی ہیں۔

(37) سر سید انگریزی مضامین اور انگریز مصنفین کے عام طور پر بڑے مداح ہیں، مگر اس کے بالمقابل عربی مصنفین سے سوائے ایک دو کے، بہت ناراض ہیں۔ عربی مصنفین میں سے حضرت امام غزالی کے متعلق اُنھوں نے متعدد مضامین لکھے ہیں، اُن کے رسائل شائع کیے ہیں اور اُن کے فلسفیانہ خیالات و افکار پر تبصرے کیے ہیں۔

(38) اُن کی تحریروں میں بعض فقرے بے شک مسلمانوں کے بعض فرقوں اور امتِ مسلمہ کے اکثر افراد کے لیے بجا طور پر نہایت دل آزار ہیں، مثلاً: ’’میں تو اُن صفات کو جو ذاتِ نبویؐ میں جمع تھیں، دو حصوں پر تقسیم کرتا ہوں: ایک سلطنت اور ایک قدّوسیت؛ اول کی خلافت حضرت عمرؓ کو ملی، دوسری کی خلافت حضرت علیؓ و آئمہ اہلِ بیتؓ کو۔۔۔ حضرت عثمانؓ نے سب چیزوں کو غارت کر دیا، حضرت ابوبکرؓ تو صرف برائے نام بزرگ آدمی تھے۔‘‘

سخت تعجب ہوتا ہے کہ سر سید جیسے مرنجان و مرنج اور صلحِ کل انسان کے قلم سے ایسے خلافِ واقعہ اور دل شکن جملے کس طرح نکل گئے؟

(39) سر سید کی شگفتہ تحریروں اور اُن کے سلیس مضامین کا اثر اُن کے مخالفین اور معاندین پر بھی بہت زیادہ پڑا اور وہ سر سید کا جواب دینے کے لیے وہی طرزِ بیان اور طریقِ نگارش اختیار کرنے پر مجبور ہوئے جو سر سید کا تھا اور یہ بات سر سید کے مضامین کی برتری اور فوقیت کی زبردست دلیل ہے۔ سلیس اردو لکھنے کا جو رواج اُس وقت ہوا، وہ برابر ترقی کرتا جا رہا ہے، اور علمائے کرام بھی کہ جن کی طرزِ تحریر کی ایک خاص روش تھی، اب عام فہم اور سلیس اردو لکھنے لگے ہیں۔

(40) ساتھ ہی سر سید کے مضامین اور اُن کی تحریروں کا اثر اُن کے مداحوں، دوستوں اور معتقدین پر بھی زبردست پڑا۔ اُنھوں نے وہی طرزِ تحریر اختیار کی، جو اُن کے قائد کی تھی؛ مثلاً شمس العلماء مولانا الطاف حسین حالی، نواب محسن الملک، نواب اعظم یار جنگ، مولوی چراغ علی، شمس العلماء مولوی سید علی بلگرامی، خان بہادر شمس العلماء مولانا ذکاء اللہ اور اُن کے لائق اور قابل فرزند مولانا عنایت اللہ دہلوی، مولوی سید وحید الدین سلیم پانی پتی اور مولوی عبدالحلیم شرر لکھنوی وغیرہ۔

بالآخر یہی لوگ نثرِ اردو کے امام مانے گئے اور بعد کے لوگوں نے انھی کی تقلید کر کے ادب و انشاء میں نام پیدا کیا۔

سر سید کا مقام

غالباً کیا بلکہ یقیناً سر سید ہی پہلے شخص ہیں جنھوں نے یہ نکتہ پا لیا کہ علوم و فنون کا انکشاف اور سائنس کی ترقی کی ایسی صورت ہے کہ اگر ہم نے اردو کے قالب میں بنیادی تبدیلیاں نہ کیں تو وہ اسی طرح ’’فسانۂ عجائب‘‘ کی رنگینی کی ترجمان ہو سکے گی لیکن حقائقِ حیات اور بدلتے ہوئے ماحول کے کوائف کی زبان نہ بن سکے گی؛ علاوہ ازیں اُنھوں نے نثر کو با مقصد بنانا چاہا جسے انگریزی میں (Purposire) کہتے ہیں۔ ادب برائے ادب سے اسے دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا۔ اس کا منصب یہ ہوتا ہے کہ ایک مقصد یا متعدد مقاصد پورے کرے۔

سر سید نے دیکھا کہ مغرب کے فشارِ تہذیب، جبرِ تاریخ اور لزومِ وقایع کے ماتحت سائنسی انکشافات اس طرح سیلاب کی طرح بڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ نوجوانوں کا طبقہ متذبذب، بدگمان بلکہ بد عقیدہ ہو گیا ہے۔ یہ بات ملحوظ رکھ کر اُنھوں نے قرآنِ مجید کی بعض آیات کی ایسی تفسیر کی جسے آج شاید ’’بالرائے‘‘ کہا جا سکے، لیکن بہر حال ان کا مقصد نیک تھا، نیت درست تھی، اور نیت درست ہو تو اعمال کا معاملہ خدا کے ہاتھ ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں سر سید نے بہت سی باتیں مسلکِ جمہور کے خلاف بھی کیں لیکن اُن کے خلوص کی بنا پر آج ان باتوں سے پیدا شدہ تلخی کم ہو گئی ہے اور سر سید کی نیک نیتی روشن سے روشن تر ہو گئی ہے۔

ایک سلسلۂ مضامین میں جسے مجلسِ ترقیٔ ادب نے ’’حصہ سوم‘‘ کا نام دیا ہے، اُنھوں نے نہایت متانت، سلاست، ٹھنڈے دل اور منطق کی تمام موشگافیوں سے کام لے کر فلسفیانہ مضامین لکھے؛ مثلاً ’’امام غزالی کے فلسفیانہ خیالات‘‘ ’’التفرقہ بین الاسلام والذندقہ پر ایک نظر‘‘۔ یہ دو بہت سیر حاصل مضامین ہیں اور ان کے اسلوبِ نگارش سے پتا چلتا ہے کہ سر سید نے اردو زبان کی تمام ممکنات کو ٹٹول لیا تھا؛ تبھی تو وہ بے تکلف ہر موضوع پر طبع آزمائی کرتے چلے جاتے تھے۔ بے شک ان کے انداز میں رنگینی اور صنعت گری نہیں تھی لیکن وہ عالمانہ متانت اور غیر جانب داری تھی جو فلسفیانہ مضامین سے منسوب ہے۔

اسی جلد میں ’’العلم حجاب الاکبر‘‘ ’’ذاتہ وصفاتہ تعالیٰ شانہ‘‘ جیسے مضمون سما گئے ہیں جن کے متعلق کبھی گمان بھی نہ ہو سکتا تھا کہ اردو میں بیان کیے جا سکیں گے ’’نمے دانم نمے دانم۔۔۔‘‘ مختصر سا مضمون ہے لیکن بہت رفیع ہے اور اردو کے امکانات کو خوب روشن کرتا ہے۔