اسی طرح چوتھی جلد میں علمی اور تحقیقی مضمون ہیں۔ ان کے متعلق بہت گفتگو کی گنجائش ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ جس زبان میں سر سید ’’التناسخ‘‘، ’’مسمریزم13‘‘، ’’کیا دنیا و ما فیہا چھ دن میں بن گئی ہے؟‘‘ لکھ سکیں اس زبان کی علمی ثروت اور اس کے روشن مستقبل کی طرف سے ہمیشہ پُر امید رہنا چاہیے۔
کوئی شک نہیں کہ سر سید کی مذہبی اور فقہی تحقیقات پر بے شمار اعتراضات ہوئے ہیں لیکن ہمیں ادبی نقطۂ نظر سے یہ دیکھنا ہے کہ ایسے معرکے کے مضمون اردو میں بہ کمال سلاست و روانی و بہ غایت ابلاغ و اظہار لکھے کس طرح گئے۔ یہ سر سید کا جوہر تھا جو زبان کے پرانے لفظوں سے نئے معانی تراشتا تھا۔ چوتھی جلد میں سرسید نے ’’شائستگی یا تہذیب‘‘ پر جو مضمون لکھا ہے، اس کے بعض فقرے تو بالکل آج کل کے علما کے لکھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں اُنھوں نے ’’شائستگی پر مذہب کا اثر‘‘ ایک ذیلی عنوان قائم کیا ہے اور حق یہ ہے کہ اس عنوان کے تحت اُنھوں نے بہت اچھا لکھا ہے۔ تہذیب اور مذہب کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے؛ یہاں تک کہ فنونِ لطیفہ مذہب اور متعلقہ تصورات ہی سے اکثر پیدا ہوتے ہیں۔ پانچویں جلد اخلاق اور اصلاحی مضامین پر مشتمل ہے اور غالباً اس کے مطالب کے متعلق نسبتاً کم نزاع ہو گی۔ بہر حال رسوم و عادات اور پردے سے لے کر آزادیٔ رائے اور کاہلی تک سرسید نے اظہارِ خیال کیا ہے اور ہمیشہ نئی بات کی ہے؛ یہ نہیں کہ پرانے خیالات کو پھر نئے الفاظ کا جامہ پہنا دیا ہو۔
سچ یہ ہے کہ سر سید نے اور خدمتوں سے قطعِ نظر اپنے مضامین کے ذریعے اردو زبان کی ممکنات کی توضیح کر دی اور ہم پر واضح ہو گیا کہ دقیق سے دقیق ما بعد الطبیعیاتی بات سے لے کر ذاتِ باری تعالیٰ تک اردو میں بحث کی جا سکتی ہے۔
پہلے کہا جا چکا ہے کہ اُنھوں نے اپنی انشا پردازی میں رنگینی کا عنصر نہیں رکھا لیکن ہمارے خیال میں یہ بات قصداً کی گئی ہے کہ لوگ مطالب سے ہٹ کر محض پیکر یا ہیئت کی طرف متوجہ نہ ہو جائیں۔
حالی نے بھی کسی حد تک سر سید کی پیروی کی تھی لیکن سرسید کا خلوص، اُن کی دیانت داری اور ان کی نرمیٔ طبع اس طرح کلام سے پھوٹی پڑتی تھی کہ انسان رنگینی یا اسلوب کی دل نشینی کا خیال ہی نہ کرتا تھا۔
مضامین سے قطعِ نظر سر سید کا کمال یہ کیا کم ہے کہ اُنھوں نے اپنے سوزِ دروں سے ایسے رفقا پیدا کر لیے جنھوں نے ہر معاملے میں ان کا ہاتھ بٹایا اور مسلمانوں کے احیائے علمی کے آغاز کا باعث ہوئے۔
ان کے مکاتیب دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ مذہبی مناظرین سے لے کر ادیبوں تک سب سے ان کے یکساں اچھے تعلقات ہیں اور حتی المقدور وہ کسی کو اپنے دامِ خیال سے نکلنے نہیں دیتے کہ ان کے سامنے جو کام تھا، یعنی مسلمانوں کا احیائے علمی و معاشرتی، وہ ایک شخص کے ذریعے نہیں بلکہ ایک جماعت کے ذریعے سر انجام ہونا تھا۔
سر سید کے مضامین اور مقالات فراہم کرنے میں مجھے سب سے زیادہ اور سب سے قیمتی امداد حضرت شمس العلماء مولانا سید ممتاز علی صاحب مرحوم کے کتب خانے سے ملی، جہاں ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کی تمام جلدیں محفوظ ہیں۔ میں نہایت ممنون ہوں حضرت شمس العلماء کے لائق فرزند سید امتیاز علی تاج صاحب کا کہ اُنھوں نے مجھے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کے فائلوں سے سرسید کے مضامین نقل کرنے کی اجازت دی۔
اخبار ’’علی گڈھ سائنٹفک سوسائٹی‘‘ اور ’’علی گڈھ انسٹیٹیوٹ گزٹ‘‘ اور رسالہ ’’رائل محمڈنز آف انڈیا14‘‘ کے فائل مجھے یونیورسٹی لائبریری لاہور سے مل گئے۔
میں اس سلسلے میں اپنے محترم دوست سردار مسیح صاحب ایم۔ اے انچارج شعبۂ مشرقیات پنجاب پبلک لائبریری لاہور کا بھی بے حد شکر گزار ہوں کہ آپ نے سر سید کی بعض نایاب تحریریں مجھے مہیا کر کے دیں۔ جن جن اخباروں، رسالوں اور کتابوں سے میں نے سر سید کے یہ مقالات جمع کیے ہیں، میں اُن سب کے مؤلفین اور مرتبین کا نہایت درجہ ممنون ہوں اور تہِ دل سے اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اُن کی بدولت میں سر سید مرحوم کے یہ مضامین فراہم کر سکا۔
میں آخر میں نہایت ہی رنج کے ساتھ اس حقیقت کا اظہار کرتا ہوں کہ میرے نہایت ہی لائق فرزند شیخ محمد احمد جنھوں نے پرانے فائلوں سے ان مضامین اور مقالات کو ڈھونڈنے، اُنھیں نقل کرنے، عربی تحریروں کے ترجمہ کرنے اور پھر پروفوں کو پڑھنے میں نہایت مستعدی کے ساتھ میری مدد کی، صد ہزار افسوس کہ یہ نہایت ہی قابل نوجوان جس نے بہت ہی قلیل عرصے میں بہت سی اعلیٰ پائے کی تاریخی عربی کتب کا نہایت سلیس اور شگفتہ اردو میں ترجمہ کیا، صرف 34 سال کی عمر میں 9 جنوری 1962ء کو ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہو گیا۔ کل من علیها فان ویبقٰی وجه ربک ذو الجلال والاکرام۔15
خاکسار
محمد اسماعیل پانی پتی
رام گلی نمبر 3، لاہور
اردو جریدہ نے یہ مقدمہ «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 1 تا 31 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔
