جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

متنبّیہ کا مہر

مؤذّن بلوایا گیا۔ چنانچہ شیث بن ربعی ریاحی، چند ہی لمحات بعد آ موجود ہُوا۔

مسلیمہ (مُؤذّن سے) تم جا کر مومنین میں اعلان کر دو۔ کہ حضرت محمدؐ خُدا کے پاس سے جو پانچ نمازیں لائے تھے۔ اُن میں سے دو یعنی فجر اور عشّا کی خدائے تعالیٰ نے بہ عوض مہرِ سجاح مسلمانوں کو معاف کر دیں۔۔۔۔۔

چند روز بعد شرائطِ صلح پر گفتگو ہُوئی۔ اور مسلیمہ نے سجاح کو ایک سال کا نصف خراج دے دیا۔ اور باقی کے لئے کہا۔ کہ اپنا مختار چھوڑ جاؤ۔ باقی اُس کے حوالے کر دُوں گا۔ چنانچہ وہ چلی گئی اور کوچ و مقام کرتی اپنے وطن الجزیرہ جا پُہنچی۔ گویا فتح عرب کے لئے مسلیمہ کو تنہا چھوڑ دیا۔

سجاح کا لشکر زیادہ تھا۔ پس مسلیمہ نے اس سے تلوار سے عہدہ برآ نہ ہوتے دیکھ کر سجاح کو دام محبت و فریب میں پھنسایا۔

(11)

اسلامی لشکر ایک ہی ماہ بعد بہ ماتحتی خالد بن ولید یمامہ آ پُہنچا۔ اور مسلیمہ سے جنگ شروع ہُوئی۔ کئی زبردست معرکے ہُوئے۔ جس میں مسلمانوں کو ناکامیاں بھی ہُوئیں۔ مگر فتح بالآخر اُنہیں کی ہُوئی۔ اور مسلؔیمہ وحؔشی (قاتل امیر حمزہ) کی تلوار سے مارا گیا۔ اس وقت اس کی عمر ڈیڑھ سو برس سے کم نہ تھی۔ سجاح کے ایجنٹ یمامہ سے پہلے ہی فرار ہو چُکے تھے۔

تیغ اسلام نے باقی مرتدوں اور باغیوں کا بھی صفایا کر دیا۔ بحؔرین، عمؔان۔ غرض کہ تمام عرب از سرِنو قبضۂ اسلام میں آ گیا۔ اور بغاوت کا تخم مٹ گیا۔ سجاح اور اُس کے رفیقوں کو بھی سر اُٹھانے کی جُرات نہیں ہُوئی۔ اس کے بعد مسلمانوں نے شام وغیرہ ممالک بھی فتح کئے۔

(12) سجاح نے خاموشانہ زندگی اختیار کی۔ حتٰی کہ حضرت معاؔویہ خلیفہ ہوئے۔ اور اُن کے زمانے میں الجزیرہ میں قحط پڑا۔ اس وجہ سے خلیفہ نے بنی تغلب کو بصرے میں آباد کرایا۔ اور اس طرح سجاح بھی بصرہ پُہنچی۔ اور اُس نے معہ اپنی تمام قوم کے تجدید اسلام کی۔ یہ لکھا جا چکا ہے کہ بنی تغلب میں اس کی نانہال تھی۔

سجاح مرتے دم تک دیندار کامل رہی۔ چنانچہ جب وفات پائی تو اس کی نماز جنازہ حاکمِ بصرہ سؔمرہ بن جنؔدب نے پڑھائی جو ایک بلند پایہ صحابی تھے اور اس طرح سجاح کا خاتمہ بالخیر ہُوا۔