خلیفہ (اُسامہ سے) کہو برادر، کیا عزم ہے۔
اُسامہ۔ یا امیرالمومنین! رسول کریم نے مجھے لشکر کشی کا حکم دیا تھا۔ اور مَیں روانہ بھی ہو گیا تھا۔ میرے والد بقا میں پُہنچ کر شہید ہُوئے۔ اب مَیں حضور سے دریافت کرنے آیا ہوں۔ کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ مجھ سے کہا گیا ہے۔ کہ رسول اللہؐ کی وفات نے عربوں کے تیور بگاڑ دیے ہیں۔ لوگ ارتداد کی طرف مائِل ہو رہے ہیں۔ پس یہاں رہ کر پہلے اُنہیں ہی کیوں نہ سیدھا کیا جائے۔ یا جیسے خلیفہ ارشاد فرمائیں۔
خلیفہ۔ خواہ کچھ بھی ہو مگر مجھ میں یہ طاقت نہیں کہ مَیں حکمِ رسولؐ میں مداخلت کروں۔ واللہ مجھ میں اتنی جُراّت نہیں ہے۔ پس اُسامہ آپ کو جانا چاہئے!
اُسامہ۔ مَیں خلیفہ کا حکم ماننا اپنی سعادت سمجھتا ہوں۔
خلیفہ۔ جزاکم اللہ تعالیٰ۔ خدائے تعالیٰ۔ کامیابی عطا کرے۔
سب۔ آمین۔
خلیفہ (حضرت عمر سے) مناسب ہو کہ آپ بھی ان کے ساتھ چلے جائیں۔
حضرت عمر۔ بہت بہتر!
خلیفہ (اُسامہ سے) اُسامہ جس معاملہ میں تمہیں مشورہ کی ضرورت ہو۔ ان سے مشورہ لینا۔
اُسامہ۔ انشاءاللہ تعالیٰ۔
خلیفہ۔ تو کل ہی روانہ ہو جاؤ۔
اُسامہ۔ انشاءاللہ کل ہی روانہ ہو جاؤں گا۔
(6)
مدینہ کی آبادی سے باہر مجاہدینِ اسلام جمع ہیں۔ ان کی تعداد سات سو کے قریب ہے۔ یہ لشکر کوچ کرنے والا ہے۔ اس کے سپہ سالار حضرت اُسامہ ہیں۔ حضرت عمر بھی گھوڑے پر سوار آمادّۂ سفر ہیں۔ خلیفہ ان لوگوں کو رُخصت کرنے آئے ہیں۔
جب تمام مجاہدین صفیں باندھ کر قرینہ سے کھڑے ہو گئے تو خلیفہ نے سپہ سالار حضرت اُسامہ کو حسب ذیل ہدایات اور نصائح کئے۔
”دیکھنا بے ایمانی۔ بدعہدی اور بیوفائی کسی سے بھی نہ کرنا۔ مال غنیمت کی تقسیم میں انتہائی دیانتداری سے کام لینا۔ کھجور یا کوئی اور ثمر دار درخت نہ کٹوانا اور نہ جلوانا! بھیڑ۔ بکری یا اونٹ بے ضرورت ذبح نہ کرانا!
کسی انسان کی ناک، کان یا ہاتھ پاؤں نہ کاٹنا! اور کسی بچّے۔ بوڑھے یا عورت کو قتل نہ کرنا۔
دیکھو اُسامہ تمہیں ایسے لوگ بھی ملیں گے، جو عبادت گاہوں میں معتکف ہوں گے۔ پس اُن سے کچھ مت کہنا، اور اُنہیں بالکل نہ ستانا۔
اُسامہ نے ان تمام باتوں کا اقرار کیا۔ اور لشکرِ اسلام نے کوچ کیا۔
(7)
سجّاح کا لشکر کوچ و مقام کرتا ہُوا یمامہ آ پُہنچا ہے۔
جب ہذؔیل اور زیاد وغیرہ سرداروں نے اس عجیب عورت کی نبّوت تسلیم کر لی، اور اُن کے تمام قبیلے بھی اس کے پاس آ جمع ہوئے۔ تو اس کے زیرِ علم لشکرِ کثیر جمع ہو گیا۔ لیکن چند ہی روز بعد ان سرداروں اور قبیلوں کے درمیان آتش رشک و رقابت بھڑک اُٹھی۔ جِس کا تعلق کچھ نہ کچھ سجاح کے حسن و شباب کے ساتھ بھی تھا۔ لیکن بالآخر اس دانشمند عورت کی حکمتِ عملی آڑے آئی۔ اور تمام لشکر نے متفق و متحد ہو کر بنی رباب پر حملہ کر دیا۔
جنگ معرکے کی ہوئی۔ فریقین کے سپاہی کام آئے۔ مگر بالآخر باہم صلح ہو گئی۔ اور اس کے بعد سجاح کا لشکر کوچ و مقام کرتا ہُوا نباؔج جا پُہنچا۔
مگر یہاں اس لشکر پر خزؔیمہ جہمی نے یکایک شب خون مارا۔ اور سجاح کے اعلیٰ افسروں کو گرفتار کر لیا۔ لیکن بالآخر مصالحت ہو گئی۔ عورت کی حکمت عملی کامیاب ہُوئی۔ اس کے افسر بھی آزاد ہُوئے اور یہ لشکر یہاں سے کوچ کر کے یمامہ جا پُہنچا۔ جہاں مسلؔیمہ اپنی نبوت کی تبلیغ میں مصروف اور کافی طاقت حاصل کر چُکا تھا۔
مسلؔیمہ نے سجاؔح کے پاس تحائِف بھیج کر پیغام اتحاد بھیجا۔ اور اجازتِ حاضری چاہی۔ متنبّیہ نے اُسے اجازت دے دی۔ چنانچہ وہ بنی حنیفہ کے چالیس ہوشیار سردار ساتھ لے جا کر سجاح سے مِلا۔ گفت و شنید کی۔ نیز اس کی صورت و سیرت اور اثر و طاقت کا مطالعہ کیا۔
مسلؔیمہ نے آخر میں اُس سے درخواست کی۔ کہ میری ضیافت قبول کیجئے۔ اور میرے خیمے میں تشریف لا کر مجھے سرفراز فرمائیے! سجاؔح نے دعوت منظور کی۔ اس کے بعد مسلؔیمہ نے یہ شرط پیش کی۔ کہ میرے اور آپ کے آدمی خیمے میں دُور رہیں گے۔ سجاح نے یہ بھی منظور کر لیا۔ اور اب مہمان میزبانہ سے رُخصت لے کر خوش خوش اپنے خیمہ کی طرف روانہ ہو گیا۔
(8)
آج مسلؔیمہ غیر معمولی اہتمام میں مصروف ہے۔ اُس نے ایک نہایت عمدہ سُرخ رنگ کا خیمہ کھڑا کرایا ہے۔ اُس کے اندر مکلف سامان ہے۔ ایک شاندار مسند بچھی ہُوئی ہے۔ جس کا بستر عطرِ عروس سے مہکا ہُوا ہے۔ خیمے کے کونوں میں عود، لوبان اور اگر کی بتیاں سُلگ رہی ہیں۔ خود مسلؔیمہ کے شاندار لباس سے خوشبو کی لپٹیں نِکل رہی ہیں۔
اسی اثنا میں خادم نے سجاح کی آمد کی اطلاع دی۔ مسلؔیمہ استقبال کے لئے خیمے سے باہر نِکلا اور مہمان کو ہاتھوں ہاتھ اندر لے گیا۔ اُس کے رفیق باہر رہے۔
مسلؔیمہ نے متؔنبّیہ کو مسند پر بٹھایا۔ اُس کے برابر خود بیٹھا۔ مزاج پُرسی کی۔ اِدھر اُدھر کی معمولی باتیں کیں۔ اور اس کے بعد اُس سے بولا۔ ”فرمائیے! آپ پر کیا وحی نازل ہُوئی“۔
سجاح۔ نہیں پہلے آپ ہی فرمائیے! کہ آپ مرد ہیں۔ اور میں آخر عورت ہوں۔
یہ سُن کر مسلیمہ خوش ہُوا۔ اور دِل میں کہنے لگا۔ کہ یہ نبوت میں مجھ سے کمزور ہے۔ اسی لئے میرا لوہا مانتی ہے۔ اور یہ میری اخلاقی فتح ہے۔
مسلیمہ۔ سُنئے مجھ پر تو یہ وحی نازل ہُوئی ہے۔ کہ الم ترکیف فعل ربک بالحبلی اخرج منھا نسمۃ تسعی من بین صفاق وحشا۔ (ترجمہ) کیا تو نہیں دیکھتا کہ تیرے رب نے حاملہ کے ساتھ کیا کیا؟ اُس میں سے ایک زندہ جان نکالی۔ جو دوڑتی پھرتی ہے۔ اور جھلی اور احشا میں سے نِکل آتی ہے۔
سجاح۔ اور کوئی؟
مسلیمہ ( دل میں خوش ہو کر) سُنئے خدائے تعالیٰ نے مجھ پر آیات ذیل بھی نازل فرمائی ہیں:۔
الم ترالی اللہ خلق النساء افواجاً وجعل الرجال لھن ازواجاً۔ فتولج فیھن ایلاجاً۔ ثم تجرج ماشیا اخراجاً فیتجن لنا انتاجاً۔ (ترجمہ) کیا تو خدا کو نہیں دیکھتا۔ کہ جِس نے عورتوں کے غول کے غول پیدا کئے۔ مردوں کو اُن کا جوڑا بنایا۔ جو اُن سے ملتے ہیں۔ پھر اُن میں سے چلتا پھرتا بچہ نکالتا ہے۔ اور وہ ہمارے لئے نتیجہ بخش ثابت ہوتی ہیں۔
سجاح (جوش سے) اشھد انک نبی اللہ (ترجمہ) میں گواہی دیتی ہوں کہ آپ نبی ہیں۔
مسیلمہ۔ اے سجاح۔ خدائے تعالیٰ نے نصف زمین مجھے دی تھی اور نصف قریش کو۔ اُن ناعاقبت اندیشوں نے، انصاف ذبح کر دیا۔ جس کے سبب اب اللہ تعالیٰ نے اُن کا حِصّہ اُن سے چھین کر تمہیں عطا کیا ہے۔ پس میں بہ کمال اشتیاق کہتا ہوں کہ اب ہم دونوں کو سلکِ ازدواج میں منسلک ہو جانا چاہئے کہ مرضی الہٰی یہی ہے۔ اگر ہم دونوں کے لشکر متحد و متفق ہو جائیں، تو تمام عرب پر آسانی سے قبضہ کیا جا سکتا ہے!
سجاح (جلدی سے) مجھے منظور ہے۔
مسیلمہ۔ تو بِسم اللہ! اب دیر کاہے کی ہے۔
یہ کہتے کہتے اُس نے سجاح کو آغوش محبت میں لے لیا۔ اور دیوانہ وار اُس کے بوسے لینے لگا۔ غرض کہ خیمہ کے اندر ہی عقد نکاح، کسی اور متنفس کے علم کے بغیر ہو گیا۔
(9)
سجاح گزشتہ واقعہ کے تیسرے روز مسیلمہ کے خیمہ سے برآمد ہُوئی۔ دونوں اُمتوں کی آنکھیں انتظار کرتے کرتے پتھرا چلی تھیں۔ بارے ان کی جان میں جان آئی۔ مگر وہ سب کے سب مجسم سوال بنے ہُوئے تھے۔ چنانچہ اُس کے وزیر عطؔارد نے اُس سے پہلا سوال یہی کیا۔ کہ ”کیا فیصلہ ہوا؟“
سجاح۔ وہ برحق پیغمبر ہے۔ اس لئے۔۔۔
عطارد (جلدی سے) اِس لئے؟
سجاح۔ مَیں نے اُنہیں نبی تسلیم کر لیا۔ اور
عطارد (بےچینی سے) اور کیا ہُوا؟ فرمائیے۔
سجاح۔ اور اُن سے ازدواج کر لیا۔
سب (حیرت سے) ہیں! کیا آپ نے مسیلمہ سے نکاح کر لیا۔
سجاح۔ ہاں! نکاح کر لیا۔
یہ سُن کر تمام لوگ بحرِ حیرت میں غرق ہو گئے۔
عطارد۔ مگر مہر کیا قرار پایا؟
سجاح (مضطرب ہو کر) ارے مَیں یہ پُوچھنا تو بُھول ہی گئی۔
عطارد۔ تو ابھی واپس جا کر مہر کا فیصلہ کر آئیے۔
سب۔ بیشک! بیشک! یہ نہایت ضروری امر ہے۔
سجاح۔ تو مَیں ابھی جاتی ہوں۔
وہ یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔
(10)
سجاح چل کر مسلیمہ کی فرودگاہ پر آئی۔ تو اُس کا نشان تک نہ پایا۔ تحقیق و تفتیش سے معلوم ہُوّا کہ وہ اپنے قلعے کی اندر چلا گیا۔ اور اُس کا پھاٹک بند کرا لیا ہے۔
بات یہ ہُوئی کہ مسیلمہ کے دل میں سجاح کے رفیق سرداروں کا خوف بیٹھ گیا تھا۔ کہ کہیں وہ اس کی حرکات اپنی تحقیر و توہین سمجھ کر بگڑ نہ بیٹھیں۔
بہرحال سجاح قلعہ کے پھاٹک پر پُہنچی۔ اطلاع کرائی۔ لیکن مسیلؔمہ باہر نہ آیا۔ بلکہ ایک مکان کی چھت پر آ کھڑا ہُوّا۔ جہاں سے سجاح کا سامنا ہوتا تھا۔
مسیلمہ۔ اب کیوں تشریف لائی ہیں؟
سجاح۔ میرا مہر کیا ہے؟ مہر میں آخر کچھ دو گے کہ نہیں؟
مسلیمہ۔ کیوں نہیں ضرور دُوں گا!
سجاح۔ تو فرمائیے! مجھے میرے رفیق سرداروں نے اسی لئے بھیجا ہے۔
مسلیمہ۔ اچھا؟ خیر تمہارا مؤذّن کہاں ہے۔ اُسے بلوا لو۔
