حضرت علی۔ جناب رسولِ خدا (روحی فداہ) نے کامل تیرہ سال تک قوم کی قہمائش کی۔ اس کے ہاتھ سے نا قابلِ برداشت ایذائیں اُٹھائیں۔ وہ کون سی گستاخی تھی جو حضور کی شان میں نہیں کی گئی۔ اور وہ کون سا آزار تھا، جو اُس بہی خواہ ابن آدم کو نہیں دِیا گیا۔ بارے آخر کار قوم کے دِل نرم ہُوئے۔ حتٰی کہ تمام عرب زیرِ لوائے اسلام آ گیا۔ اعراب ایک اُمت واحدہ ہو گئے۔ اتفاق و اتحاد کی رُوح اُن کے قلوب میں حلول کر گئی۔ اور وہ سب کے سب ایک روحانی تہذیب کے حلقہ بگوش ہو گئے۔
خالد۔ اور اسلام۔ رسول اور خدا نے ہم پر پانچ فرض عائِد کئے۔ جن میں سے ایک رُکن زکوٰۃ بھی ہے۔ ہم پر کوئی بڑا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ ہم سے خراج وصول نہیں کیا گیا۔ بلکہ ہمیں حکم دِیا گیا کہ ہم اپنی دولت کا ایک قلیل جزو بیت المال میں جمع کیا کریں۔
حضرت عمر۔ زرِ زکوٰۃ قوم ہی کے کام آتا ہے۔ یتؔیموں، بیواؔؤں، محتاؔجوں اور دیگر مستحقین کی پرورش اسی روپے سے ہوتی ہے! وظائِف اسی روپیہ سے دیے جاتے ہیں۔ پھر یہی رقم مہمات مُلکی اور جہاد پر صرف کی جاتی ہے۔ غرض کہ وہ تمام کی تمام رقم اصلاح مُلکی اور ضروریات تمدنی ہی پر صرف ہوتی ہے۔
خالد۔ مگر اب بعض مسلمان ہیں کہ ادائیگی زکوٰۃ میں مُتامّل ہیں۔
حضرت عثمان۔ بات یہ ہے کہ حضور سرور کائِنات کی وفات نے اُن لوگوں کے دلوں میں شک سا ڈال دِیا ہے۔ اِسی لئے وہ کہتے ہیں کہ اب زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
خالد بن ولید۔ مگر یہ اُن کی گنہگارانہ غلطی ہے!
حضرت عثمان۔ دوسری مصیبت یہ واقع ہُوئی ہے۔ کہ کذّاؔب مسیلمہ دعویٰ نبوّت کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔
حضرت علی۔ الجزیرہ سے بھی خبر آئی ہے۔ کہ وہاں کوئی جوان عورت سجّاح متنبّیہ بن بیٹھی۔ اور مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
خالد بن ولید۔ مگر انشاءاللہ ان کذابوں کا بھی وہی حشر ہو گا۔ جو اسودالفنس کا ہُوا۔
حضرت عثمان۔ یہ کذاب ہی تو لوگوں کو زکوٰۃ دینے سے منع کر رہے ہیں۔
خالد۔ ہاں ہاں انہیں لوگوں نے تو گویا عرب میں آتش بغاوت و بدامنی مشتعل کر دی ہے!
حضرت عمر۔ صرف ایک مکہ معظمہ ہی اس طوفان بے تمییزی سے محفوظ ہے۔
حضرت عثمان۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو، کہ اہل مکّہ رسول کریمؐ کی حیات ہی میں زورِ مخالفت بطریقِ کامل خرچ کر چُکے ہیں۔
خالد۔ اس شہر مدینۃ الرسول کی حالت یہ ہے۔ کہ ہر طرف عام شورش پھیلی ہوئی ہے۔ اور حالات نازک سے نازک تر ہوتے جاتے ہیں۔
خلیفہ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
ایک صحابی۔ میری رائے میں تو رعایت اور نرمی سے کام لینا مناسب ہو گا۔ کہ وقت اور موقع نازک ہے۔
حضرت عمر۔ جزاکم اللہ تعالیٰ۔ میرے دِل کی بات آپ ہی نے کہہ دی۔ ہاں حضرت امیرالمومنین، فی الحال مصلحت وقت، اور چشم پوشی سے کام نکالتے۔ جو لوگ اس وقت زکوٰۃ دینے پر رضامند نہیں ہیں۔ اُن سے کچھ نہ کہیے۔ اور اُنہیں نظر انداز کر دیجیے۔ وہ انشاءاللہ چند روز بعد خود بخود سیدھے ہو جائیں گے! حضرت! یہ لوگ وحشی ہیں۔ پس ان کی تالیف قلوب کر کے انہیں رام کیجئے!
خلیفہ۔ واہ صاحب واہ! یہ تو کبھی نہ ہو گا۔ لوگ حیاتِ رسول میں جو کچھ زکوٰۃ دیتے تھے، یاد رکھیے کہ مَیں اس میں سے ایک پائی اور ایک تسمہ بھی کم نہیں کروں گا۔ حتٰی کہ اگر آپ لوگ بھی میری رفاقت نہیں کریں گے، تو میں تنہا ہی میدان میں جاؤں گا۔ ہاں مَیں یہ گوارا نہیں کروں گا کہ لوگ اسلام کے ایک ضروری جزو (زکوٰۃ) جو نماز سے کم نہیں ہے، نظر انداز کر دیں۔ ایک حکم پامال کر دیں۔ با ایں خطاب! مجھے تو آپ سے امداد کی امید تھی۔ مگر آپ اس کے خلاف گویا میری تباہی کے فکر میں ہیں۔ یا اخی! آپ! زمانۂ جاہلیّت میں تو بہت ہی سخت گیر تھے۔ پھر حیرت ہے کہ آپ اسلام لا کر اس قدر نرم اور سُست کیوں ہو گئے۔ آہ رسولِ کریم جنّت سدھارے، نزولِ وحی بند ہو گیا، مگر خدا کی قسم جب تک میرے ہاتھ تلوار ہے، مَیں تب تک مرتدین سے جہاد، اور ہر مسئلہ کی عقدہ کُشائی اپنے ناخن تدبیر سے کروں گا۔ انشاءاللہ تعالیٰ۔
حضرت عمر۔ مگر حضور رسالت پناہ نے تو یہ فرمایا ہے کہ ”مجھے یہ حکم ہُوا ہے۔ کہ میں کُفّار سے اس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہیں! اور جب کلمہ پڑھ لیں، تو اُن کا مال اور خون مجھ پر حرام ہو گا۔ قضائے فرض کا بار اُنہیں کے کندھوں پر ہو گا۔ جس کا حساب خدائے تعالیٰ پر ہے۔ پس جب یہ حالت ہے تو آپ اُن لوگوں پر ہتھیار کیسے اُٹھا سکتے ہیں۔ کہ آخر وہ بھی تو کلمہ کے شریک، اور مسلمان ہیں۔
خلیفہ۔ خدا کی قسم آپ کو غلط فہمی ہُوئی ہے۔ میں اُن لوگوں سے ضرور جنگ کروں گا۔ جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق سمجھتے ہیں۔ یا اخی! زکوٰۃ بھی تو بیت المال کا حق ہے۔ اور رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ ادائے حق سے غافل رہنے والوں کا مال اور خون مجھ پر جائز ہے!
حضرت عمر۔ واللہ! آپ حق پر ہیں۔ اور خدائے تعالیٰ نے آپ کا سینہ حق کے لئے کھول دیا ہے۔
(3)
یماؔمہ میں خیام بنی حنیفہ کے سامنے بہت سے زن و مرد جمع ہیں۔ اور وسط میں ایک شخص کھڑا ہُوا تقریر کر رہا ہے۔
اس کا نام مسلؔیمہ ہے۔ اور اس نے بھی عین اُس زمانے میں جب الجزیرہ کے اندر سجاح نبیہ بن بیٹھی تھی، دعویٰ پیغمبری کیا۔ چنانچہ وہ تقریباً ایک سال سے مصروفِ تبلیغ ہے۔
مسلؔیمہ نے تقیر شروع کی۔
یاایہّاالناس! رات مجھ پر یہ وحی نازل ہُوئی۔ کہ
جِس شخص کے بیٹا موجود ہو، اُسے نکاحِ ثانی نہیں کرنا چاہئے! بلکہ اُسے اپنی زوجہ سے مقاربت بھی حرام ہے! البتہ اگر فرزند فوت ہو جائے، تو پھر یہ امر اُس کے لئے جائِز ہے کہ دوسرا بیٹا پیدا کرنے کی تدبیر کرے۔ اور اس کے بعد باز رہے۔
اے بنی حنیفہ غور کرو۔ کہ یہ وحی نکاتِ حکمت سے کیسی ہم آغوش ہے۔ اور کیوں نہ ہو، کہ کلامِ الہٰی ہے۔ یاایہّاالناس! کثیر الاولادی، سخت مصیبت ہے۔ ابن آدم کے لئے۔ پس یہ وحیّٔ مقدس اسی بدعت قبیحہ کے انسداد کے واسطے نازل ہُوئی ہے۔ انسان کے لئے ایک فرزند کافی ہے۔ دیکھئے اولاد زیادہ ہوتی ہے، تو وہ باہم لڑتی جھگڑتی، اور اس طرح باعث فتنہ و فساد بن جاتی ہے۔ یہ مصیبت اہلِ دل اور والیان مُلک کی اولاد پر عام طور پر نازل ہوتی اور اُن کی جانیں ہلاکت میں ڈال دیتی ہے! پس یہ وحی، اس بدعت قبیحہ کا دُنیا سے خاتمہ کر دے گی!
ایک شخص۔ الحق یا نبی اللہ! الحق۔
(4)
جناب سرورِ کائنات نے 632ء میں عزم روضۂ رضوان کیا تو حضرت ابوبکر صدیق اُن کے خلیفہ اور امیر المسلمین منتخب ہُوئے۔ آپ کو مسندِ خلافت پر قدم رکھتے ہی بے شمار مشکلات کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اکثر قبائِل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ کہ وفات رسول نے بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں شکوک پیدا کر دیے۔ اور عرب میں عام بغاوت کے آثار نظر آنے لگے۔
دوسری مصیبت یہ نازل ہُوئی کہ اگر الجزیرہ میں سجّاح نبیّہ بن بیٹھی، تو یماؔمہ میں مسلؔیمہ نے دعویٰ پیغمبری کیا۔ اور ان دونوں نے مسلمانوں کو زکوٰۃ ادا کرنے سے منع کر کے گمراہ کیا۔ اسود الغسی نے رسول اللہ کی زندگی ہی میں دعوےٰ کیا تھا۔ مگر اسے تہ تیغ کر دیا گیا تھا۔
اصحاب رسول اللہ خصوصاً خلیفہ یہ حال دیکھ کر بے حد فکرمند ہُوئے۔ چنانچہ انہوں نے یہ سوچنے کے لئے کہ فتنہ کیوں کر فرو کیا جائے، مجلس شوریٰ منعقد کی۔ اکثر صحابۂ کرام اور حضرت عمر کی رائے یہ تھی کہ نرمی سے کام لیا۔ اور جو لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے، اُن سے چشم پوشی کی جائے۔ مگر خلیفہ اس امر پر مصر تھے کہ اسلام کے پانچ ضروری ارکان میں سے ایک رکن (زکوٰۃ) نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پس اگر یہ لوگ زرِ زکوٰۃ ویسے نہ دیں، تو ان سے بزورِ شمشیر حاصل کیا جائے۔ آخر کار صحابۂ کرام بھی خلیفہ سے متفق ہو گئے اور ان لوگوں کو تلوار نیام سے نکالنی پڑی۔ جیسا کہ باالتفصیل مذکور ہُو چکا ہے۔
(5)
خلیفہ اور صحابۂ کرام مسجد نبوی میں جمع ہیں۔ رات کا وقت ہے۔ کوئی نو بجے ہوں گے۔
ایک صحابی۔ یا امیرالمومنین۔ جو لشکر اُسامہ کے ماتحت روانہ کیا گیا ہے۔ اُسے واپس بُلا لیجئے۔ اُسامہ بھی جناب کی منشا معلوم کرنے آئے ہیں۔ اور اُن کے والد کو تو بقا میں شہید ہی کر دیا گیا۔
خلیفہ۔ وہ لشکر خود حضرت رسالت مآب نے مرتب اور روانہ کیا تھا۔ پس جو جھنڈا خود حضور اقدس نے باندھا ہے۔ مَیں اُسے ہرگز نہیں کھولوں گا۔ کہ رسالت مآب کے کاموں کی تکمیل ہماری سعادت مندی اور ہمارا فرض ہے۔
حضرت علی۔ ”بے شک“۔
اسی اثنا میں اُسامہ بھی وہاں آ پُہنچے۔
