﴿ابو محمد کہتے ہیں﴾ یہ مرجئہ کے اقوال میں سب سے شنیع بات ہے، کیونکہ جو شخص بھی اسلام کا معتقد ہو، اس کے بارے میں ہم بلاشبہ جانتے ہیں کہ وہ ہر اس گناہ پر نادم ہوتا ہے جسے وہ یہ جانتے ہوئے کرتا ہے کہ اس میں برائی کر رہا ہے، اور اس سے استغفار کرتا ہے؛ اور جو اس صفت کے برخلاف ہو، یعنی اپنے کیے کو اچھا سمجھے اور اس پر نادم نہ ہو، وہ سرے سے مسلمان ہی نہیں۔ پس ابن الاخشید کے قول کی رو سے ہر کبیرہ گناہ کا مرتکب اپنے گناہ پر ماخوذ نہ ہوگا، کیونکہ وہ (اس تعریف کے مطابق) اس سے تائب ہے — اور یہ وعید کی نصوص کے خلاف ہے۔ اگر کوئی کہنے والا کہے: تم مومن کے ایمان کی قبولیت کا قطعی حکم لگاتے ہو؛ تو کیا تائب کی توبہ اور نیکی کرنے والے کے عمل کے بارے میں بھی قطعی کہتے ہو کہ یہ سب مقبول ہے؟ اور کیا کثرت سے گناہ کرنے والے کے بارے میں قطعی کہتے ہو کہ وہ دوزخ میں ہے؟ تو ہم کہیں گے — وباللہ تعالیٰ التوفیق — کہ اعمال کی کچھ شرطیں ہیں: نیت کا حق ادا کرنا اور عمل کا حق ادا کرنا۔ اگر ہمیں یقین ہو جائے کہ کوئی عمل ٹھیک اسی طرح مکمل واقع ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا، تو ہم اللہ عز و جل کے ہاں اس کی قبولیت کا قطعی حکم لگائیں گے۔ رہی توبہ، تو جب وہ خالص واقع ہو تو ہم اس کی قبولیت کا قطعی حکم لگاتے ہیں۔ لیکن نیکی ظاہر کرنے والے کے بارے میں قطعی طور پر کہنا کہ وہ جنت میں ہے، اور برائی اور معاصی ظاہر کرنے والے کے بارے میں کہ وہ دوزخ میں ہے — یہ غلط ہے، کیونکہ ہم دلوں کا حال نہیں جانتے۔ ممکن ہے کہ نیکی ظاہر کرنے والا اندر سے کفر چھپائے ہوئے ہو، یا ایسے کبیرہ گناہ جو ہمیں معلوم نہیں؛ لہٰذا واجب ہے کہ اس بنا پر ہم اس کے بارے میں کوئی قطعی حکم نہ لگائیں۔ اسی طرح کبیرہ گناہوں کا اعلانیہ مرتکب: ممکن ہے کہ وہ اپنے باطن میں کفر چھپائے ہو، پھر موت کے قریب ایمان لے آئے اور جنت کا مستحق ہو جائے؛ یا شاید اس کے باطن میں ایسی نیکیاں ہوں جو اس کی برائیوں پر غالب آ جائیں اور وہ اہلِ جنت میں سے ہو۔ اسی لیے واجب ہوا کہ ہم کسی متعین شخص کے بارے میں نہ جنت کا قطعی حکم لگائیں نہ دوزخ کا — سوائے ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے جن کے بارے میں نص آ چکی ہے کہ وہ جنت میں ہیں اور یہ کہ اللہ نے ان کے دلوں کا حال جان کر ان پر سکینت اتاری، اور اہلِ بدر اور سبقت لے جانے والوں کے: ان کے بارے میں ہم جنت کا قطعی حکم لگاتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ہمیں یہ خبر دی ہے۔ اور سوائے اس شخص کے جو اعلانیہ کفر کی حالت میں مرے: اس کے بارے میں ہم دوزخ کا قطعی حکم لگاتے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی سب کے بارے میں ہم توقف کرتے ہیں؛ البتہ صفات پر قطعی حکم لگاتے ہیں اور کہتے ہیں: جو اعلانیہ یا چھپے طور پر کفر کی حالت میں مرے، وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا؛ اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس حال میں مرے کہ اس کی نیکیاں اس کی برائیوں اور کبیرہ گناہوں پر غالب یا ان کے برابر ہوں، تو وہ جنت میں ہے اور اسے آگ کا عذاب نہ ہوگا؛ اور جو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے ملے کہ اس کے کبیرہ گناہ نیکیوں پر غالب ہوں، تو وہ دوزخ میں جائے گا اور شفاعت کے ذریعے اس سے نکل کر جنت میں پہنچے گا۔ وباللہ تعالیٰ التوفیق۔
﴿ابو محمد کہتے ہیں﴾ میں نے اپنے بعض اصحاب کو ایک ایسی چیز کا قائل دیکھا ہے جسے وہ ’’شاہدِ حال‘‘ کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص دین کی کسی بات کو ظاہر کرے، اس کی راہ میں اذیت برداشت کرے اور جو کچھ اسے پیش آئے اس کے عوض کوئی فوری فائدہ نہ سمیٹ رہا ہو، تو اس کے باطن اور ظاہر (کی مطابقت) پر ایسا قطعی حکم لگایا جائے گا جس میں کوئی شک نہیں — جیسے عمر بن عبدالعزیز، سعید بن المسیب، حسن بصری، ابن سیرین اور ان جیسے وہ لوگ جو ان سے پہلے، ان کے ساتھ یا ان کے بعد گزرے۔ ان حضرات رضی اللہ عنہم نے دنیا کی وہ چیزیں ٹھکرا دیں جنہیں اگر وہ برت لیتے تو ان کی وجاہت میں ذرہ برابر کمی نہ آتی، اور ایسی تکلیفیں جھیلیں جنہیں اگر وہ اپنے اوپر سے ہلکا کر لیتے تو کسی کے نزدیک ان پر کوئی حرف نہ آتا۔ سو ان کے بارے میں قطعی حکم ہے کہ وہ اللہ عز و جل کے نزدیک (سچے) مسلمان تھے، اور ان کی خیر اور فضیلت ثابت ہے۔ اسی طرح ہم قطعی طور پر کہتے ہیں کہ عمر بن عبید5 اپنے باطن میں بلاشبہ ابطالِ قدر ہی کو دین سمجھتا تھا؛ اور ابو حنیفہ اور شافعی رضی اللہ عنہما اپنے باطن میں قیاس کو اللہ تعالیٰ کا دین سمجھتے تھے؛ اور داود بن علی اپنے باطن میں بلاشبہ ابطالِ قیاس کو اللہ تعالیٰ کا دین سمجھتے تھے؛ اور احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ اپنے باطن میں بلاشبہ حدیث پر تدین کو اللہ تعالیٰ کا دین سمجھتے تھے اور بلاشبہ اس کے قائل تھے کہ قرآن مخلوق نہیں۔ اور یہی حال ہر اس شخص کا ہے جس کے احوال ایک دوسرے کی تائید کریں، اپنے عقیدے میں جس کی سنجیدگی ظاہر ہو، جو اس میں کوئی رو رعایت نہ برتے اور اس کی خاطر اذیت اور تکلیف برداشت کرے۔
﴿ابو محمد کہتے ہیں﴾ یہ قول بلاشبہ صحیح ہے، کیونکہ انسانی طبیعت کی ساخت میں یہ بات سرے سے ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص بغیر کسی ایسے فائدے کے، جو اسے فوراً ملے یا آگے چل کر ملنے کی امید ہو، اذیت اور مشقت برداشت کرے۔ وباللہ تعالیٰ التوفیق۔ اور ہر عقیدہ رکھنے والے کے عقیدے کا شاہد لازماً اس پر ظاہر ہو کر رہتا ہے — یا تو اس رو رعایت سے جو وہ اس میں برتتا ہے، یا اس صبر سے جو وہ اس پر کرتا ہے۔ اور جو اس صفت پر نہ ہو، اس کے عقیدے کے بارے میں ہم کوئی قطعی حکم نہیں لگاتے۔ وباللہ تعالیٰ التوفیق۔
شفاعت، میزان، حوض، عذابِ قبر اور کاتب فرشتوں کا بیان
﴿ابو محمد کہتے ہیں﴾ شفاعت کے مسئلے میں لوگوں کا اختلاف ہے۔ ایک گروہ نے اس کا انکار کیا — یعنی معتزلہ، خوارج اور ہر وہ شخص جو اس کا قائل ہے کہ دوزخ میں داخل ہونے کے بعد کوئی اس سے نہیں نکلے گا۔ جب کہ اہلِ سنت، اشعریہ، کرامیہ اور بعض روافض شفاعت کے قائل ہیں۔ منکرین نے اللہ عز و جل کے ان فرمانوں سے استدلال کیا: فما تنفعهم شفاعة الشافعين ( سو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت انہیں کوئی نفع نہ دے گی )؛ اور يوم لا تملك نفس لنفس شيئاً والأمر يومئذ لله ( جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کی مالک نہ ہوگی اور اس دن سارا معاملہ اللہ ہی کا ہوگا )؛ اور قل إني لا أملك لكم ضراً ولا رشداً ( کہہ دو: میں تمہارے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا )؛ اور واتقوا يوماً لا تجزى نفس عن نفس شيئاً ولا يقبل منها شفاعة ( اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی جان کسی جان کے کچھ کام نہ آئے گی اور نہ اس سے کوئی شفاعت قبول کی جائے گی )؛ اور من قبل أن يأتي يوم لا بيع فيه ولا خلة ولا شفاعة ( اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی، نہ دوستی، نہ شفاعت )؛ اور فما لنا من شافعين ولا صديق حميم ( سو نہ ہمارے کوئی شفاعت کرنے والے ہیں اور نہ کوئی مخلص دوست )؛ اور ولا يؤخذ منها عدل ولا تنفعها شفاعة ولا هم ينصرون ( نہ اس سے کوئی فدیہ لیا جائے گا، نہ اسے کوئی شفاعت نفع دے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی )۔
﴿ابو محمد کہتے ہیں﴾ جو شفاعت پر ایمان رکھتا ہے، اس کا اصول یہ ہے کہ قرآن کے کچھ حصے کو لے کر کچھ کو چھوڑ دینا جائز نہیں، نہ بعض سنتوں پر اکتفا کر کے بعض کو نظر انداز کرنا، اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بیان کو چھوڑ کر تنہا قرآن پر اکتفا کرنا، جن سے ان کے رب عز و جل نے فرمایا: لتبين للناس ما أنزل إليهم ( تاکہ تم لوگوں کے لیے وہ کھول کر بیان کرو جو ان کی طرف اتارا گیا ہے )۔ اور اللہ تعالیٰ نے شفاعت کی صحت پر نص فرمائی ہے…
