جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

موافات

﴿ابو محمد کہتے ہیں﴾ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیں: إني رسول الله إليكم جميعاً ( میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں )۔ یہ ایسا عموم ہے جس سے کسی ایک کو بھی خارج کرنا جائز نہیں۔ اور فرمایا: أيحسب الإنسان أن يترك سدى ( کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ )۔ اللہ سبحانہ نے اس بات کا ابطال فرمایا کہ کوئی شخص ’’سدیٰ‘‘ ہو — اور سدیٰ وہ مہمل ہے جسے نہ کسی چیز کا حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے۔ پس اللہ عز و جل نے اس امر کو باطل ٹھہرایا؛ البتہ ایسا شخص محض اپنی جہالت اور معرفت سے دوری کے سبب معذور ہے۔ اور جس تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر پہنچ جائے، خواہ وہ زمین کے دور دراز گوشوں ہی میں کیوں نہ ہو، اس پر آپ کے بارے میں کھوج لگانا فرض ہے؛ پھر جب آپ کا ڈراوا اس تک پہنچ جائے تو اس پر آپ کی تصدیق، آپ کی اتباع، اپنے لیے لازم دین کی طلب اور اس کی خاطر اپنا وطن چھوڑنا فرض ہو جاتا ہے، ورنہ وہ نصِ قرآن کی رو سے کفر، دوزخ میں ہمیشگی اور عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اور جو کچھ ہم نے بیان کیا، اس سے خوارج میں سے ان لوگوں کا قول باطل ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہی کے وقت زمین کے دور دراز گوشوں کے لوگوں پر آپ پر ایمان لانا اور آپ کی شریعتوں کی معرفت لازم ہو گئی، اور اگر وہ اسی حال میں مر جائیں تو کافر مریں گے اور دوزخ میں جائیں گے۔ اس قول کو اللہ عز و جل کا یہ فرمان باطل کرتا ہے: لا يكلف الله نفساً إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت ( اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں کرتا؛ جو اس نے کمایا اسی کے لیے ہے اور جو گناہ سمیٹا اسی پر ہے ) — اور غیب کا علم کسی کے بس میں نہیں۔ اگر وہ کہیں کہ یہی تو اس گروہ کی دلیل ہے جو کہتا ہے کہ کسی پر شریعت کی کوئی چیز اس وقت تک لازم ہی نہیں ہوتی جب تک اس تک نہ پہنچے، تو ہم کہیں گے کہ اس آیت میں ان کے لیے کوئی حجت نہیں، کیونکہ لوگوں کو جن باتوں کا مکلف کیا گیا ہے وہ سب ان کی طاقت اور ان کی ساخت کی برداشت کے اندر ہیں؛ البتہ یہ باتیں ان سے پوشیدہ ہونے کے سبب وہ معذور ہیں۔ انہیں یہ تکلیف اس طور پر نہیں دی گئی کہ نہ کرنے پر عذاب دیے جائیں، بلکہ اس طور پر دی گئی ہے کہ جب تک حکم ان تک نہ پہنچے، انہیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ اور جس تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجمالی طور پر یہ بات پہنچ جائے کہ کسی معاملے میں آپ کا کوئی حکم موجود ہے، مگر اس کی نص اس تک نہ پہنچے، تو اس پر فرض ہے کہ اس حکم کی تلاش میں خود پوری کوشش کرے، ورنہ وہ اللہ عز و جل کا نافرمان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون ( اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر سے پوچھ لو ) اور فرمایا: فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا في الدين ولينذروا قومهم إذا رجعوا إليهم لعلهم يحذرون ( تو کیوں نہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلی تاکہ دین میں سمجھ حاصل کرے اور جب اپنی قوم کی طرف لوٹے تو انہیں ڈرائے، شاید وہ بچتے رہیں )۔ رہا وہ شخص جو کسی گناہ یا کفر سے توبہ کرے پھر اسی کی طرف لوٹ جائے جس سے توبہ کی تھی، تو اگر توبہ کرتے وقت ہی اس کا عقیدہ لوٹنے کا تھا تو وہ کھلنڈرا، مذاق اڑانے والا اور اللہ تعالیٰ سے دھوکا بازی کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يخادعون الله والذين آمنوا وما يخدعون إلا أنفسهم سے لے کر عذاب أليم بما كانوا يكذبون تک ( وہ اللہ اور اہلِ ایمان سے دھوکا بازی کرتے ہیں حالانکہ اپنے سوا کسی کو دھوکا نہیں دیتے… ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کے لیے دردناک عذاب ہے )۔ اور جس کی توبہ خالص ہو اور اس میں دوبارہ نہ لوٹنے کا پختہ عزم ہو، وہ بلاشبہ صحیح اور مقبول توبہ ہے، جو نص کی رو سے ہر اس چیز کو ساقط کر دیتی ہے جس سے توبہ کی گئی۔ اللہ عز و جل نے فرمایا: وإني لغفار لمن تاب وآمن وعمل صالحاً ( اور بے شک میں اسے بہت بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے، ایمان لائے اور نیک عمل کرے )۔ پھر اگر وہ اس کے بعد اسی گناہ کی طرف لوٹ بھی آئے جس سے توبہ کی تھی، تو جو گناہ اللہ نے اسے بخش دیا وہ کبھی اس پر واپس نہیں لوٹتا۔ ہاں، اگر وہ مرتد ہو جائے اور کافر مرے تو اس کا عمل ساقط ہو گیا — اور توبہ بھی ایک عمل ہے، سو وہ بھی ضائع ہو گئی — ایسے شخص پر صرف وہی کچھ لوٹے گا جو خاص اس کا اپنا کیا ہوا ہے۔ اور جو اسلام کی طرف لوٹ آئے اور اسی پر مرے، اس کا کفر بھی ساقط ہو گیا اور باقی سب کچھ بھی۔

﴿ابو محمد کہتے ہیں﴾ توبہ صرف انہی چیزوں سے مکمل ہوتی ہے: ندامت، استغفار، دوبارہ نہ کرنا اور اس پر پختہ عزم؛ اور اگر توبہ کسی مظلمے (کسی کا حق دبانے) سے ہو تو اس سے اس طرح نکلنا کہ حق دار سے معافی حاصل کی جائے یا اس کا انصاف چکا دیا جائے۔ میں نے ابو بکر احمد بن علی بن یفجور4 المعروف بہ ابن الاخشید کی — جو معتزلہ کے ارکان میں سے ایک ہے؛ اس کا باپ فرغانہ کے ترک شاہ زادوں میں سے تھا اور سرحدی علاقوں (ثغور) کا والی رہا، جب کہ خود یہ ابو بکر شافعی مذہب پر فقہ حاصل کرتا تھا — کسی کتاب میں یہ بات دیکھی کہ وہ کہتا ہے: توبہ صرف ندامت ہی کا نام ہے، خواہ اس کے ساتھ اس کبیرہ گناہ کی طرف دوبارہ نہ لوٹنے کی نیت نہ بھی ہو۔