جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

موافات

﴿ابو محمد کہتے ہیں﴾ پھر ہم ان سے پوچھتے ہیں: کیا کافر میں، ایمان لانے سے پہلے جب وہ کافر تھا، کفر موجود تھا؟ فاسق میں توبہ سے پہلے فسق موجود تھا؟ اور مومن میں ارتداد سے پہلے ایمان موجود تھا، یا نہیں؟ اگر وہ کہیں کہ نہیں، تو انہوں نے ہٹ دھرمی کی اور محال بات کہی۔ اور اگر کہیں کہ ہاں، تو ہم ان سے کہیں گے: کیا اللہ کفر اور فسق پر ناراض ہوتا ہے یا ان سے راضی ہوتا ہے؟ اگر کہیں کہ ناراض ہوتا ہے، تو انہوں نے اپنا قول چھوڑ دیا؛ اور اگر کہیں کہ وہ کفر اور فسق سے راضی ہوتا ہے، تو وہ کافر ہو گئے۔ پھر ہم ان سے وحشی کے ہاتھوں حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں پوچھتے ہیں: کیا وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا موجب تھا؟ اگر کہیں ہاں، تو کافر ہوئے؛ اور اگر کہیں کہ وہ سراسر ناراضی ہی کا موجب تھا، تو ہم پوچھیں گے: جب وحشی اسلام لے آیا تو کیا اللہ تعالیٰ اس پر اس کا مواخذہ کرے گا؟ ان کا اپنا قول ہے کہ نہیں۔ اور یہی حال ہر نیکی اور برائی کا ہے۔ پس ان کے قول کا فساد ظاہر ہو گیا۔ وباللہ تعالیٰ التوفیق، وصلی اللہ علی محمد وآلہ وصحبہ وسلم۔

اس شخص کا بیان جس تک دعوت نہ پہنچی ہو، اور اس کا جو کسی گناہ یا کفر سے توبہ کرے پھر اسی کی طرف لوٹ جائے جس سے توبہ کی تھی

﴿ابو محمد کہتے ہیں﴾ اللہ عز و جل نے فرمایا: لأنذركم به ومن بلغ ( تاکہ میں اس کے ذریعے تمہیں ڈراؤں اور ہر اس شخص کو جس تک یہ پہنچے ) اور فرمایا: وما كنا معذبين حتى نبعث رسولا ( اور ہم عذاب دینے والے نہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں )۔ اللہ تعالیٰ نے ان نصوں میں صراحت فرما دی کہ ڈراوا صرف اسی پر لازم ہوتا ہے جس تک پہنچے، اس پر نہیں جس تک نہ پہنچے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک اس کے پاس اللہ عز و جل کی طرف سے کوئی رسول نہ آ جائے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جس تک اسلام سرے سے پہنچا ہی نہیں، اس پر کوئی عذاب نہیں۔ اسی مضمون کی نص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آئی ہے کہ قیامت کے دن سٹھیائے ہوئے بوڑھے، بہرے، زمانۂ فترت کے آدمی اور مجنون کو لایا جائے گا۔ مجنون کہے گا: اے میرے رب! اسلام آیا تو میں بے عقل تھا۔ اور سٹھیایا ہوا بوڑھا، بہرا اور فترت والا بھی وہ باتیں کہیں گے جو حدیث میں مذکور ہیں۔ چنانچہ ان کے لیے ایک آگ بھڑکائی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا: اس میں داخل ہو جاؤ۔ پس جو اس میں داخل ہوگا وہ اسے ٹھنڈی اور سلامتی والی پائے گا۔ اسی طرح جس تک دین کے واجبات میں سے کوئی باب نہ پہنچے، وہ معذور ہے اور اس پر کوئی ملامت نہیں۔ جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھی رضی اللہ عنہم سرزمینِ حبشہ میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں تھے، قرآن اترتا اور شریعتیں مقرر ہوتی جاتی تھیں، مگر مدینے سے حبشہ تک راستہ بالکل کٹا ہونے کے سبب جعفر اور ان کے ساتھیوں تک کچھ بھی نہ پہنچتا تھا۔ وہ چھ برس اسی حال میں رہے، مگر اس سے ان کے دین کو ذرہ برابر نقصان نہ پہنچا، حالانکہ (لاعلمی میں) وہ حرام کیے جانے والے کاموں پر عمل کرتے اور فرض کیے جانے والے کام چھوڑتے رہے۔

﴿ابو محمد کہتے ہیں﴾ اور میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے جو اس طرف جاتے ہیں کہ شریعتیں سرے سے اس شخص پر لازم ہی نہیں ہوتیں جو ان سے ناواقف ہو یا جس تک وہ نہ پہنچی ہوں۔

﴿ابو محمد کہتے ہیں﴾ یہ قول باطل ہے؛ بلکہ شریعتیں ایسے شخص پر بھی لازم ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں، تمام جنوں اور ہر اس شخص کی طرف بھی مبعوث ہوئے ہیں جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوا، جب وہ ولادت کے بعد بلوغ کو پہنچے۔