وہ پیدائشی اندھا تھا۔ اس کی بے بصارت آنکھیں ایک آئینہ تھیں، جن میں اس دلفریب دنیا کی حسرتِ دیدار بیٹھی جھانک رہی تھیں۔ یا وہ نقاب تھیں، جس کے پیچھے آرزوئے شاعر کی طرح ایک عجیب تمنا بے چین تھی۔ جس لحظ سے اس کو آغوشِ مادر کی خار انگیز حرارت کا احساس ہوا، اس نے ہمیشہ اپنی تنہا اور سنسان ہستی کو ایک تیرہ و تاریک عالم میں گم گشتہ پایا۔ اس کی بے بصارتی کوئی موروثی عیب نہ تھی، کہ اس کے باعث اسے مہد سے لحد تک، یعنی اپنی پہاڑ سی زندگی کا تمام عرصہ ناقابلِ نفوذ تاریکی اور بے شعاع تنہائی میں صرف کرنا پڑتا۔ اس کی ماں ایک شریف و معزز خاندان کی اولاد سے تھی۔ وہ حسین تھی، سیاہ اور بڑی بڑی آنکھوں والی تھی۔ اس کی سرخ و سفید رنگت تھی اور جسم کنول کی شاخ۔ اس کا باپ خاندانی رئیس تھا، اور اس کے تمام خاندان کا کوئی فرد بھی نابینائی جیسی نحس مصیبت سے داغ آلود نہ ہوا تھا۔ چنانچہ، بدقسمت بچے کی اس ملال انگیز کمی کا باعث قضا و قدر کے وہی پُر اسرار کھیل سمجھے گئے۔ جو کبھی کبھی پردۂ غیب میں سے مسکراتے ہوئے دکھائی دیے جاتے ہیں۔
سُہانی دھوپ اس کے لیے گرمی کی ایک خوشگوار کیفیت سے زیادہ نہ تھی۔ پھول اس کے لیے شیریں خوشبوئیں تھیں، اور اس کے عزیز اور دوست چند مشفقانہ آوازیں تھیں۔ ایسی ہستیاں، جن کے قرب سے ہمدردی کی حرارت کا احساس ہوتا تھا، جن کے ہاتھوں میں سکون و اطمینان کا سحر تھا، اور جن کی آنکھوں سے کبھی کبھی اس کے رخساروں پر گرم گرم آنسو بھی ٹپک پڑا کرتے تھے۔ اس کی غیر مرئی دنیا تکلیف دہ نشیب و فراز اور بہت سی ایسی سدِ راہ چیزوں سے پُر تھی جن سے اکثر اس کا جسم ٹکراتا اور زخمی ہوتا رہتا تھا۔ ایسے خطرات اور شورو غل سے لبریز تھی جن سے یکا یک اس کے تاریک سکوت میں یک ہلچل مچ جاتی تھی۔ وہ جگہ تھی، جس میں اکثر ایسی ناہموار سطحیں تھیں کہ جب وہ اپنی ذی حس انگلیوں کے سروں سے انہیں چھوتا تھا تو اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ دھوپ اور چھاؤں، دن اور رات، رنگ اور شکل، کیف و کم، حسن و قبح یہ تمام ایسے الفاظ تھے جن کے معنی کا وہ کوئی سُراغ نہ لگا سکتا تھا۔
(1)
گو یہ نابینا شخص متمول بھی تھا، لیکن وہ اپنے تمول پر اس قدر فخر و ناز نہ کرتا تھا۔ جس قدر اس سرمایۂ عشق و محبت پر جو اس کی ماں کے دہنِ آرزو میں صرف اسی پر نچھاور کرنے کو جمع تھا۔ یہ نابینا شخص اپنی ماں اور بہن کے ہمراہ رہتا تھا۔ مایوسی اور دلشکنی اس کے باپ کا کام کر چکی تھی، کیونکہ اس کے دل میں اپنی اولاد کے متعلق بڑی بڑی امنگیں اور منصوبے تھے اور پھر اکلوتے بیٹے کا نابینا پیدا ہونا، اس کے واسطے ایک ایسا برق صفت امید سوز انکشاف تھا جس نے اس کی کمر توڑ دی اور آخر اس کی جان لے کر رہا۔ یہ بچہ خوبصورت تھا۔ اس کی رنگت سفید تھی۔ نقش و نگار نازک تھے، وہ تندرست و توانا تھا، خوش مزاج تھا، حلیم الطبع تھا، اور جو کوئی اس سے ملتا اس کی بیچارگی اور بے بصارتی پر دو گرم آنسو بہائے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ موسیقی اس کی زندگی کا جوہر تھی۔ وہ گانا سنتا۔ موسیقی کے دریائے بے پایاں کی لہریں اس کو اپنے سینے پر اُٹھا کر عالمِ خیال کے ان جزیروں میں پہنچا دیتی تھیں۔ جہاں زمین کا سرسبز اور پھولوں سے معطر دامن عالمِ علوی کا راہ بتاتا ہے۔ جہاں تاریکی روشنی ہے اور روشنی تاریکی۔ پھولوں کے نازک لبوں میں بلبل کا سوز ہے۔ اور بلبل کے پروں میں پھولوں کی خوشبو۔ جنگل سبزہ زار ہیں۔ اور سبزہ زار گنجان اور کثیر درخت۔ ایک عالمِ بے خودی ہے، ایک دنیائے خود فراموشی۔
ادبِ لطیف سے وہ خوش ہوتا تھا۔ شاعری اس کی روشنی تھی، کیوپڈ کی طفلانہ شوخیاں وہ نہ سمجھ سکتا تھا۔ آنکھوں کے وار اسے معلوم نہ تھے کہ کتنے کاری ہوتے ہیں۔ وہ کہتا تھا، آواز عشق کا پہلا تیر ہوتی ہے۔ آواز کے سننے سے دل ساکت ہوتا ہے۔ آواز دل کو تیزی سے دھڑکاتی ہے۔ کسی کی آواز ہی بدن کے رونگٹے کھڑے کر سکتی ہے۔
با مذاق صحبت، سیف زبان، حاضر جوابی، غم انجام اور مسرت انجام افسانے، سب میں اسے بے انتہا لطف آتا تھا۔ اور سوائے ان اوقات کے وہ اپنی مصیبت کی درد ناک تکلیف اور اپنے مرض کی مجنونانہ نوعیت محسوس نہ کرتا تھا۔ کہ جب وہ بے قرار ہو کر ماں سے چمٹتا اور چاہتا کہ اپنے سینے کے عمیق ترین حصوں میں بیٹھی ہوئی محبت کو عالم آشکار کرنے کا کوئی ذریعہ پا لے۔
اس نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ شہر سے دور ایک گاؤں میں بسر کیا تھا۔ وہ جنگل کی تازہ تازہ ہوا، ندی کی روانی کے مدھم شور اور پرندوں کے چہچہوں سے بہت حظ حاصل کرتا تھا۔ شہروں کی آبادی میں جانے سے اس کو ڈر لگتا تھا۔ شہر کے تنگ و تاریک مکانوں میں ٹھہرنے سے اس کا دم گھٹتا، بازاروں کی سامعہ خراش آوازیں اس کی نازک سماعت کے لیے سخت عذاب تھیں اور متعفن بوئیں اس کے مشام کو سخت تکلیف پہنچاتی تھیں۔
اسی طرح اس کی خاموش زندگی کے چوبیس سال گزر گئے اور اس نے یہ امید بالکل ترک کر دی کہ کبھی وہ زمین، آسمان اور سمندر کے عجائبات اور اپنے عالمِ خیال کی غیر متشکل ہستیوں کے زندہ وجود دیکھ سکے گا۔ بڑے بڑے معالج، جو ہر قسم کی نابینائی کے علاج کے لیے شہرہ آفاق تھے، اس کے مرض کی ماہیت معلوم کرنے آئے، مگر وہ سب یہ کہہ کر متاسف واپس گئے کہ اس کا علاج انسانی ہنر مندی کی رسائی سے خارج ہے۔
وہ محض اپنے عزیزوں کی خاطر زبانِ شکوہ دراز کیے بغیر معالجوں کے تکلیف دہ سوالات اور صبر آزما مشاہدات کو برداشت کر لیتا تھا۔ لیکن بہت جلد اس نے اپنی اس خوشگوار، ایک پرستار کے خواب کی سی دلفریب امید کو ترک کر دیا۔ چونکہ اسے علم تھا کہ موہوم امیدوں اور عظیم توقعات کا انجام یاس ہے، اور رضا بہ قضا میں کم از کم اطمینانِ قلب تو ہے۔
(2)
لیکن اس کی عمر کا پچیسواں سال تھا، کہ یہ خبر متواتر اس کے کان میں پہنچی کہ بنگال کے ایک مشہور ڈاکٹر نے بہت سے مادر زاد اندھوں کو بینائی بخشی ہے، اور شرطیہ علاج کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ چنانچہ، اس کی ماں نے اپنے عزیزوں میں سے ایک شخص کو جو خود بھی امراض چشم کا معالج تھا، بنگال روانہ کیا کہ وہاں جا کر بہ شرطِ امکان ان خبروں کی تصدیق و تکذیب کی صورت نکالے۔
اس نے واپس آ کر اطلاع دی کہ ”سین بابو“ کچھ بہت عمدہ ڈاکٹر تو معلوم نہیں ہوتا۔ ہندوستان کا تعلیم یافتہ ہے، لیکن اس کے رقیب معالج چشم اسے جیسا فریبی مشہور کر رہے ہیں۔ وہ ویسا نہیں۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے...“
اس نے جن نابیناؤں کو بینائی حاصل کرتے دیکھا تھا۔ ان کے قصے بیان کیے۔ اور کہا کہ وہ شوکت کا علاج کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن نا کامی سے بچنے کے لیے پہلے وہ ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہے۔
ماں نے بے صبری سے پوچھا، ”وہ کیا؟“
اس نے جواب دیا کہ ”اگر شوکت مادر زاد اندھے ہیں۔ تو ان کے بینائی حاصل کرنے کی کوئی امید نہیں ہو سکتی“۔
یہ سُن کر گھر کی مستورات کے مشتاق چہرے افسردہ اور جوش مردہ ہو گئے۔ ماں نے وفورِ غم سے دبی ہوئی آواز میں کہا، ”شوکت اندھا ہی پیدا ہوا تھا“۔
اس نے کہا، گو سین بابو نے شوکت کو نہیں دیکھا۔ مگر پھر بھی اس نے کہا کہ شوکت مادر زاد اندھا نہ ہو گا۔ دنیا میں شاذ و نادر ہی، بلکہ کبھی بھی یہ نہیں ہوتا کہ کوئی مادر زاد اندھا پیدا ہو۔ البتہ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ پیدائش کے چند روز یا چند گھنٹوں یا چند لمحوں کے بعد بینائی جاتی رہے۔“۔
سوکھے دھانوں میں پانی پڑ گیا۔ ماں کا مایوس اور مرجھایا ہوا چہرہ صبح سویرے کے آفتاب کی طرح چمک اٹھا اور وہ بے قراری سے بولی۔ ”تب تو مجھے یقین ہے۔ کہ شوکت اندھا پیدا نہ ہوا تھا۔ میں اس کے چہرے کو متواتر دیکھتی رہی تھی۔ لیکن کامل دو روز کے عرصے تک مجھے شبہ بھی نہ ہوا کہ بچہ اندھا ہو گا۔“۔
اس نے کہا، ”سین بابو ہر وقت آنے کے لیے تیار ہے۔ اور صرف آپ کے ارشاد کا منتظر ہے۔ اور گو ایک ایسے بڑے ڈاکٹر میں یہ بات تعجب انگیز ضرور ہے، مگر میں بتائے دیتا ہوں کہ وہ بہت زیادہ انعام و اکرام کا متوقع ہے۔“۔
ماں نے بے پرواہی سے کہا، ”دولت تو کیا، وہ میرے شوکت کو تندرست کر دے۔ تو میں ساری عمر کے لیے اس کی غلامی کرنے کو تیار ہوں۔ تم فوراً اسے آنے کے لیے تار دے دو۔ بالفرض اگر کچھ نفع نہ ہوا، تو کوئی نقصان بھی تو نہ پہنچے گا۔
