(6)
رفتہ رفتہ اس کے خوف اور ڈر کا طوفان سرد پڑنا شروع ہوا۔ اس کے دل کی دھڑکن ہلکی پڑ گئی، جسم کی سنسناہٹ دور ہو گئی اور وہ آہستہ آہستہ سیدھا بیٹھ گیا۔ اب اس کی یہ خواہش نہ تھی کہ وہ اپنی ماں یا بہن کو اندر بلائے۔ اس پر دماغی سکون کی ایک ایسی حالت چھا رہی تھی جو خوشی یا غم کے جذبات سے متاثر نہ ہو سکتی تھی۔ صوفے کے قریب ہی میز پر ایک پھولدان رکھا تھا جس میں گلاب کے چند تازہ پھول اپنے پورے سحر اور دلفریبیوں سے اسے دعوتِ گل چینی دے رہے تھے۔ اس نے انہیں دیکھا، اس کا دل اچھل پڑا۔ بے اختیاری سے ان کی جانب ہاتھ بڑھایا، مگر اسے ڈر لگا کہ نہ معلوم انہیں چھونے کا احساس کیا ہو! اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ کھڑکی میں سے پرندوں کے چہچہانے کی آواز آئی۔۔ اپنی قدیم رفیق آواز کی رہنمائی سے اس نے باہر جھانکا۔ ایک گنجان درخت تھا جس کے پتے ہل رہے تھے اور جس پر چڑیاں چہچہا رہی تھیں۔ اس نے شوق سے درخت کو دیکھا۔ لیکن وہ معلوم نہ کر سکا کہ درخت کے پتے وہ چڑیاں تھیں جو گا رہی تھیں یا وہ گانے والی چیز اس کی نظر سے اوجھل تھی۔
درخت سے اُچٹ کر اس کی نگاہ اس سرسوں کے کھیت، سبزے اور زردی کے سمندر پر پڑی جو ہوا کے جھونکوں سے متلاطم تھا، وہ غور کرتا رہا کہ یہ کیا چیز ہے؟ بہت سوچنے کے بعد اس نے نتیجہ نکال لیا کہ یہ اتنی دور تک پھیلی ہوئی چیز کھیت ہی ہو گی، کیونکہ اس نے لوگوں سے سنا تھا کہ اس کے گھر کے چاروں طرف کھیت ہیں، مگر اس نے تعجب سے اس تغیر کو دیکھا کہ یہ کھیت دور (افق پر) جا کر اور طرح (رنگ) کا ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ بلند ہوتا ہوا تمام چیزوں پر چھا جاتا ہے۔
اتنے ہی میں ایک لڑکا کھیت میں بھاگتا ہوا دکھائی دیا جو فوراً ہی نظر سے غائب ہو گیا۔ کیا یہی انسان ہے؟ وہ پھر کانپنے لگا۔ اس کا دل پھر دھڑکنے لگا، وہ پھر صوفے میں دبک کر بیٹھ گیا۔
اس کو آئینے کا کوئی خاص فہم نہ تھا۔ ڈاکٹر سین کی ہدایتوں میں ایک ضروری ہدایت یہ بھی تھی کہ شوکت کو ایک کافی عرصے تک آئینہ نہ دکھایا جائے اور جب اسے اپنی تازہ کردہ قوتِ بینائی کے استعمال کرنے کی عادت ہو جائے اور وہ اپنی نظر سے فاصلے کا اندازہ کرنے اور انحرافِ روشنی کے اصولوں کو سمجھنے لگے تب آئینہ دیکھے۔ کیونکہ سین بابو کا تجربہ تھا کہ ایسے انسان آئینہ دیکھتے ہی دیوانے ہو گئے۔
(7)
تھوڑی ہی دیر کے بعد ماں اور بہن جن کے تفکرات کا کچھ ٹھکانا نہ تھا، اس کی ناراضگی کے خیال سے ڈرتی ڈرتی دروازے پر آئیں اور آہستہ سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس نے کھٹکے کو سن لیا، وہ اس کا مطلب جانتا تھا، اس نے تعجب سے اس جگہ کو دیکھا جہاں سے یہ آواز پیدا ہو رہی تھی اور سمجھ لیا کہ یہ دروازہ ہے۔ یہ اس کی پہلی واقفیت تھی۔ جس کے صحیح ہونے کا اسے یقین تھا۔ اس نے اپنے اور دروازے کے فاصلے کو نہایت نقابانہ نگاہ سے دیکھا اور زمین پر ہاتھ رکھ کر راستے کے فرش کو چھو کر احساس معلوم کرنا چاہا۔ اس کی ماں نے پھر دروازہ کھٹکھٹایا اور اسے آواز دی۔ اس نے جواب دیا، ”اماں، ابھی نہیں، میں دیکھ سکتا ہوں، مگر اماں، تمہیں کیسے دیکھوں گا؟“ اس نے سنا کہ اس کی ماں کے لبوں سے خوشی کی ایک دیوانہ وار چیخ نکل گئی ہے۔
ماں نے دروازہ کھولنے پر اصرار کیا مگر شوکت کی جرات نہ پڑی اور جب ماں کے رخصت ہوتے ہوئے قدموں کی آواز غائب ہو گئی، تو وہ جرات کر کے نہایت احتیاط سے سیدھا کھڑا ہو گیا۔ لیکن اپنا وزن قائم نہ رکھ سکا، اپنے ہاتھوں کے بل گر پڑا۔ چوپائے کی طرح چل کر ایک دیوار کے کونے تک گیا اور وہاں پھر ڈر کر دبک گیا۔ ڈر کی لہر ایک دفعہ پھر اس کے جسم میں سے گزر گئی اور پھر آہستہ آہستہ بالکل اسی طرح جیسے پھولوں کی پتیوں پر اوس بنتی ہے۔ اس پر ایک سرو سکون چھا گیا۔
ذرا سی دیر کے بعد مامتا کی ماری ماں پھر آئی اور اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ مگر اس نے پھر وہی کہا، ”اماں، ابھی نہیں۔“
اس نے سنا کہ وہ بار بار بے حد اشتیاق سے اس کا نام لے کر اسے پکار رہی ہے اور اس کی منتیں کر رہی ہے، لیکن وہ سمجھتا تھا کہ ابھی مجھ میں جرات نہیں کہ اپنی ماں کو دیکھ سکوں۔ وہ خوشی کے اس جذبے کا تصور نہ کر سکتا تھا جو اپنی پیاری ماں کو پہلی بار دیکھنے سے اس پر گزرے گا۔
اس کی تازہ بصارت کے ڈر اور خوف کی تیز دھار کند ہوتی گئی، لیکن وہ اسی طرح خاموش اور چپ چاپ بیٹھا عالمِ خیال کے سمندر میں غوطے کھا رہا تھا۔ اس کے تخیل میں ایک اضطراب اور آشفتگی کی ہلچل مچ رہی تھی جس میں کبھی ماں کا خیال، کبھی بہن کا خیال، کبھی کسی دوست کا تصور اور کبھی مختلف دور دراز کی چیزوں کا خیال جھلکنے لگتا تھا۔ اسی طرح بیٹھے بیٹھے اس کو بہت دیر ہو گئی۔
اس کی ماں بار بار آتی تھی اور وہ ہر دفعہ اسے مایوس واپس بھیجتا تھا۔ گویا اس کی بہن نے اس کے ظلم پر اسے بہت لعنت ملامت کی مگر وہ متاثر نہ ہوا۔ اس نے دل میں سوچا، ”اس دفعہ دروازہ کھول دوں گا“ اور شوق سے مسکرایا، لیکن اس کا تبسم اس کے چہرے پر سے یوں دفعتاً غائب ہو گیا جیسے کوئی گھونسا لگا ہو۔ یہ کیا ہو رہا تھا؟ اس نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور آہستہ سے آنکھیں ملیں۔ کیونکہ ان میں اب تک درد اور جلن باقی تھی۔ وہ جلدی سے اٹھا اور پھر صوفے پر آ پڑا، وہ گھور گھور کر باہر کے منظر کو دیکھنے لگا۔ ہر چیز پر ایک بخار سا چھایا ہوا تھا۔ کنارے دھندلے دھندلے معلوم ہو رہے تھے اور صاف نہ دکھائی دیتے تھے۔ وہ ابھی ابھی جس درخت کو صاف صاف دیکھ سکتا تھا اس کی وضع و شکل دھندلی دکھائی دیتی تھی اور وہ محض ایک بڑا سا دھبہ معلوم ہو رہا تھا۔ سرسبز کھیت جو کچھ دیر پہلے خوب لہرا رہا تھا، اب سست سست دکھائی دیتا تھا۔ ہر چیز میں بے حد تغیر معلوم ہو رہا تھا۔ وہ صوفے پر گر پڑا، بے حس و حرکت لیٹ گیا اور اس کی بے چین نگاہیں چاروں طرف کمرے میں پھرنے لگیں۔ دیواریں، کرسیاں، میز، پھول، سب ایک دھندلی کہر میں ڈوبے جا رہے تھے!
آہ! کیا بینائی پھر عود کر رہی تھی؟
اس نے اپنی دکھتی ہوئی آنکھیں بار بار کھولیں اور بند کیں، لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ اس وقت اسے بنگالی ڈاکٹر کے وہ الفاظ یاد آئے۔
”ممکن ہے بصارت تھوڑے سے عرصے کو بحال ہو، شاید چند گھنٹوں کے لیے، چند لمحوں کے لیے...“
اس کے دل پر ایک تیر سا لگا۔ وہ اپنی از خود رفتگی میں اس خوفناک امکان کو بھولا ہوا تھا۔ اس کی تمام امیدوں کا گلا گھٹ گیا۔ تصورات و تخیلات کا حسین و خوبصورت بلبلا پھٹ گیا۔ وہ اب پھر مجبور تھا کہ اپنی اسی قدیم تاریکی میں واپس جائے۔ اسی تاریک وادی میں جہاں ہاتھ کو ہاتھ نہیں سجھائی دیتا۔ دلفریب دنیا کا یہ مختصر سا نظارہ اور ہمیشہ کے لیے مایوسی۔ عجائباتِ عالم کا اتنا ذرا سا انکشاف اور ہمیشہ کی محرومی۔ روشنی کی اتنی سی سیر اور پھر وہی تاریکی۔ ویران تاریکی۔ سنسان تاریکی۔ گھٹا ٹوپ تاریکی۔ جو اب قبر تک پیچھا نہ چھوڑے گی۔
اس کی آنکھوں کا نور تیزی سے گھٹ رہا تھا۔ اس کے منہ سے ایک زور کی چیخ نکلی اور وہ اٹھ کر ایک بار پھر اپنی پُرانی رفیقِ تاریکی میں راستہ ٹٹولتا ہوا دروازے کی طرف چلا۔ اس کے قدم کانپ رہے تھے۔ جسم لرز رہا تھا۔ اور اس کو یقین تھا کہ یہ صدمہ اس کا کام تمام کرنے کو ہے۔ دروازے کی چٹخنی اس نے کھولی۔ اس کی درد و کرب کی بلند آواز ملول خاموشی میں گونجی۔ صرف ایک دفعہ گونجی اور وہ گر پڑا۔
(8)
جب وہ ہوش میں آیا تو اس نے سمجھا کہ وہ سرزمینِ حیات کا تمام تاریک اور مختصر سا روشنی کا سفر طے کر کے اب اس دنیا میں پہنچ چکا ہے۔ جس کی روشنی سے کسی بدبخت کی آنکھ محروم نہیں کی جاتی، کیونکہ اب وہ دیکھ سکتا تھا!۔
اب ہلکی، نورانی، شگفتہ روشنی سے ایک لطیف طوفانِ نور سے فضا لبریز تھی۔ اور اس کے قریب ہی متفکر چہرہ، جو گویا اس کے دل کے نازک سے نازک جذبات و احساسات کا زندہ وجود تھا۔ اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ شبیہ بولی، ”میرے پیارے، تم دیکھ سکتے ہو؟“
اس نے آہستہ سے جواب دیا، ”ہاں، اب کہ میں مر چکا ہوں، میں پھر صاف دیکھ سکتا ہوں۔“
اس شبیہ کا جسم کانپا، اس کی آنکھوں میں دو آنسو ابل آئے اور مریض کی پیشانی پر گر کر موتیوں کی طرح چمکنے لگے۔ وہ آہستہ سے ایک خود فراموشی کے عالم میں اٹھا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے اپنے بازو اس کی گردن میں ڈال دیے اور اس کے سینے سے لپٹ گیا۔
وہ بولی، ”میرے پیارے شوکت، تم زندہ ہو اور اپنی اسی دنیا میں ہو۔ آہ! یہ تمام پریشانی صرف ایک بات سے ہوئی۔ یہ میری غلطی تھی۔ جو میں نے تم کو نہ بتایا، مگر مجھ میں اتنی سمجھ کہاں تھی کہ میں اتنی دور اندیشی کرتی“۔
اس نے نقاہت کی آواز میں کہا۔
”میرا خیال ہے میں نے کوئی پریشان خواب دیکھا تھا اور اب بھی خواب دیکھ رہا ہوں“۔
اس کی ماں نے اس کو تسلی دی اور کہا، ”تمہاری بصارت درست ہو گئی ہے۔“
اور سرہانے کی طرف سے بہن کے نازک اور محبت کے نشے میں چور ہاتھ اس سے لپٹ گئے اور وہ بولی، ”میرے پیارے بھائی، یہ نابینائی واپس نہیں آتی تھی۔ اس وقت سورج غروب ہو رہا تھا۔ جب رات آتی ہے تو روشنی ختم ہو جاتی ہے اور اندھیرا چھا جاتا ہے۔ یہی تو تاریکی اور روشنی کا فرق ہے“۔
اور دوسری شام آنے تک وہ اسے دن اور رات، روشنی اور تاریکی کی آمد و رفت کی نسبت کچھ علم نہ دلا سکیں۔
