جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

نابینا نوجوان

وہ بے حس و حرکت پڑا سنتا رہا۔ سننے کے بعد اس کی کمزور اور مرض سے تنگ آئی ہوئی طبیعت صحت کے خیال سے بیزار ہو گئی۔ اس نے آہستہ سے رنج و غم میں دبی ہوئی آواز میں کہا۔ ”میرا خیال ہے وہ دغا باز تھا۔ میری زندگی اچھی خاصی گزرتی ہے۔ لیکن صرف یہ آپ کی بے سود کوششیں ہیں جو مجھے بار بار میری بد قسمتی کا احساس دلاتی ہیں“۔

یہ آخری دن بہت صبر آزما تھے، امید کا چراغ جو اس پر خطر اور کٹھن راستے میں راہ نما تھا، بار بار نگاہ سے اوجھل ہو جاتا تھا۔ پلستر کی جلن اب سخت روح فرسا تھی، اس کے سوکھنے کا انتظار بیحد بے چینی سے بھرا ہوا تھا۔ اور کچھ یقین نہ تھا کہ پھر کیا ہوگا! شب تیرہ و تار تھی۔ اور یہ سراپا انتظار، تین قابل رحم ہستیاں تھیں۔ کوئی راہنما نہ تھا۔ کوئی روشنی نہ تھی۔ معلوم نہ تھا۔ صبح کو سورج انہیں منزل مقصود پر پہنچنے کی مبارک باد دے گا یا منزل مقصود سے کوسوں دور پڑا ہوا دیکھے گا۔

(5)

آخر کار وہ لمحہ بھی آ پہنچا جس پر نابینا شوکت کی قسمت کا فیصلہ منحصر تھا۔ ماں اور بہن اپنے وفورِ شوق سے کانپتے جسم اور دھڑکتے دل کو جس کی آواز ان کے کان تک آ رہی تھی، بمشکل سنبھال کر اس کے قریب کھڑی تھیں اور وہ پٹی کھولنے کو تھا۔ اس آخری فیصلہ کن لمحے پر وہ کچھ ہچکچا سا رہا تھا۔ نامعلوم مستقبل کی نسبت ایک بزدلانہ خوف اس کے تخیل و تصور کو مرتعش کر رہا تھا اور وہ اپنا ہاتھ پیشانی تک نہ اٹھا سکتا تھا۔ میں اس روشن دنیا کے طلسمات کو پہلی بار دیکھنے کی خوشی کیسے برداشت کر سکوں گا۔ کیا میں اپنے عزیزوں کو جن کی شیریں آوازیں میری تاریکی کی کثافت کو لطیف بنا دیتی ہیں۔ دیکھ کر زندہ رہ سکوں گا! یا اگر معاملہ دگرگوں ہوا تو اس قدر تکالیف و مصائب اُٹھانے کے بعد یہ صدمہ کیسے برداشت کروں گا کہ میں اب کبھی بصارت حاصل نہیں کر سکتا؟

اس کے قریب مستورات سراپا اضطراب بنی کھڑی تھیں۔۔ ان کی آنکھوں میں خود بخود آنسو بھرے آتے تھے، وہ متعجب تھیں کہ اس کا یہ تامل کیسا ہے اور بیتابی سے منتظر تھیں کہ وہ پٹی کھولے۔ اتنے میں وہ بولا، ”نہیں، اماں، مجھے ڈر معلوم ہوتا ہے۔ مجھ میں جرات نہیں، بہتر ہوتا کہ میں اس پُر خطر تجربے میں نہ پڑتا۔ میں پہلے مطمئن تھا، خاموش تھا۔ لیکن اب اس قدر مصائب اُٹھانے اور تکالیف جھیلنے کے بعد بھی میرے مقدر میں سوائے تاریکی کے اور کچھ نہ نکلا، تو اماں پھر مجھے زندگی بھر کبھی خوشی یا اطمینان نصیب نہ ہو گا“۔

اس کی ماں کی آنکھوں میں گرم گرم آنسو ابل آئے، اس نے بیٹے کے سر پر شفقت مادرانہ کا سکون ریز ہاتھ پھیرا اور اسے تسلی دی۔ اس نے ماں کا ہاتھ پکڑ لیا، اسے جوش سے چوما اور آنکھوں سے لگایا اور سر جھکا کر پھر تعجب کے عمیق سمندر میں غوطے کھانے لگا۔

وہ اپنے تفکرات میں محو اپنے آپ کو مخاطب کر کے آہستہ سے بولا، ”میں کیسے سمجھوں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ میں نے تم کو پھولوں اور چڑیوں کا، خوبصورت رنگوں کا، سورج، چاند، ستاروں کا اور آسمان اور سمندر کا ذکر کرتے سنا ہے، آہ! لیکن میں صرف چڑیوں کے چہچہے اور پانی کی روانی کو سن سکتا ہوں۔ اماں، میں اگر ان چیزوں کو دیکھوں تو مجھے ڈر تو نہ لگے؟ آپا، اگر مجھے بینائی حاصل ہو گئی تو وہ کرسی پر بیٹھا بیٹھا کانپ گیا۔ پھر بولا، ”میں اسے کیسے برداشت کر سکوں گا!“۔

اس کی ماں اور بہن نے اسے تسلی تشفی دی اور اس کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی اور کچھ دیر کی متفکر خاموشی کے بعد وہ مصمم آواز میں بولا، ”لیکن جب مجھے اس خطرے میں پڑنا ہی ہے تو پھر مجھے ایک مرد کی طرح اس کو برداشت کرنا چاہیے۔ میں اسے تنہا برداشت کروں گا۔“۔

ماں اور بیٹی تعجب سے بولیں، ”تنہا!“

اس نے جواب دیا، ”کیوں نہیں؟ انسان تنہائی میں اچھی طرح عبادت کر سکتا ہے۔ انسان صرف تنہائی ہی میں خدا تعالیٰ سے دلی تعلق استوار کر سکتا ہے۔ میں بھی تنہائی ہی کو پسند کروں گا۔ میرا آخری فیصلہ ہے کہ آپ مجھے تنہا چھوڑ دیں“۔

ماں نے اس کو منع کرنا چاہا اور کہا، ”لیکن شوکت...“

مگر اس نے درشت آواز میں بات کاٹ کر کہا، ”ماں، تمہیں اچھا معلوم ہو گا کہ تمہارے سامنے میری تحضیر ہو۔ میں خوف اور ڈر کے باعث کوئی مضحک حرکت کر بیٹھوں گا۔ میں اپنے پیاروں کے سامنے اپنی تحضیر برداشت نہیں کر سکتا۔ میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔

وہ دونوں اس کی مرضی کی تعمیل کرنے کی ایسی عادی ہو گئی تھیں کہ انہوں نے زیادہ اصرار نہ کیا اور اس کے کہنے کے مطابق مجبورًا اسے تنہا چھوڑ دیا۔ وہ اٹھ کر دروازے تک ان کے پیچھے پیچھے گیا۔ ان کے گزر چکنے کے بعد اس نے کہا کہ وہ دروازے کے قریب بھی نہ ٹھہریں اور دروازے کو چٹخنی لگا کر واپس آ گیا۔

جب وہ تنہا رہ گیا تو اس نے کچھ دیر غور کرنے کے بعد فورًا پٹی کھولنی شروع کر دی۔ مگر اس کے کمزور ہاتھوں کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ وہ پٹی کی گرہ نہ کھول سکا اور وہ شخص جو ایک چوتھائی صدی اپنی بینائی کے متعلق صبر سے کام لیتا رہا تھا، بے صبری سے چیخ اٹھا۔ گرہ کھولنے کی کشمکش میں اس کا سر کمرے کے سازو سامان میں سے کسی چیز پر لگا اور گو اسے چھوٹی چھوٹی تکالیف اٹھانے کی عادت تھی، مگر وہ ایک بچے کی طرح زور سے چلا دیا۔

گرہ کھل گئی۔ اس کا سانس بے انتہا تیزی سے چل رہا تھا۔ دل ہوا ہوا ہوا جا رہا تھا۔ اس نے کچھ پس و پیش کے بعد ہاتھ کی آخری جنبش سے پٹی کو علیحدہ کر دیا۔

اس کے مُنہ سے ایک ایسی چیخ نکلی جیسے کسی نے اس کا گلا گھونٹ دیا ہو۔

وہ دیکھ سکتا تھا!

اس کی آنکھوں کے پپوٹے اکڑے ہوئے تھے اور دکھ رہے تھے۔ پلکیں اوپر نیچے ہونے پر بول رہی تھیں۔ لیکن وہ دیکھ سکتا تھا۔ اس شاندار تعجب انگیز واقعہ میں کچھ کلام نہیں کہ اس کو قوتِ بینائی حاصل ہو گئی تھی!

شروع شروع میں اسے ایک زرد سی کہر دکھائی دی، جس میں عجیب و غریب غیر متشکل دھبے سے تیر رہے تھے، لیکن رفتہ رفتہ یہ غبار صاف ہوتا گیا۔ وہ دھبے زیادہ واضح ہو گئے، انہوں نے خاص خاص وضعیں اور شکلیں اختیار کر لیں۔ روشن دنیا اپنے تمام طلسم اور سحر کے ساتھ اسے دعوتِ نظارہ دے رہی تھی۔

اس کو ایک تیز چکر آیا اور وہ لڑ کھڑا گیا۔ اس نے دیوانہ وار اپنے ہاتھ یوں پھیلا دیے گویا ان مختلف شکلوں اور رنگوں کے خطرات سے اپنے آپ کو بچانا چاہتا تھا، جنہوں نے چاروں طرف سے اسے گھیر رکھا تھا، اس کو پریشان کر رہے تھے اور وہ ڈرتا ڈرتا کھڑکی کی جانب ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔ وہ بے انتہا خوف زدہ تھا کہ اٹھے، دروازہ کھول دے اور چیخ مار کر اپنی ماں اور بہن کو پکارے، لیکن اب اس کی وہ حس بیحد کمزور ہو گئی تھی، جس سے وہ اپنا راستہ تلاش کیا کرتا تھا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ چاروں طرف کی ان سفیدیوں میں، جو اس کے سامنے موجود تھیں، دروازہ کون سا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کو ڈھانپ لیا۔ اس کا دل چاہا کہ چیخے چلائے، لیکن اس کی آواز سینے کی گہرائیوں میں کھو گئی تھی اور بے خودی کی ایک عجیب و غریب سنسناہٹ نے اسے صوفے کے ساتھ جکڑ رکھا تھا۔ وہ اس کے سوا کچھ نہ کر سکتا تھا کہ خاموش بیٹھا کانپے، اپنی رگوں میں خون کے تیز دوران کو اور اپنے ہول کھائے ہوئے دل کی دھڑکن کو سُنے۔