بلاوے کا تار دے دیا گیا۔ اور ماں بیٹیاں دونوں شوکت کو نئے معالج کی آمد کے متعلق مژدہ سنانے اور ڈاکٹری معائنے کے لیے تیار کرنے گئیں۔
شوکت نے ایک غمگین ہنسی ہنس کر کہا، ”میں آپ کے ارشاد کی تعمیل کو حاضر ہوں“۔
اور ایک ہفتے کے بعد جب سین بابو آ گیا تو اس نے نہایت استقلال سے اپنے آپ کو اس مسیحا کے سپرد کر دیا۔
(3)
تمام عزیز اور دوست جمع تھے۔ اور سین بابو شوکت کی آنکھوں کا معائنہ کر رہا تھا۔ ہر ایک کی آنکھیں ڈاکٹر کے چہرے پر اُمید کی متلاشی اور کان اس کے لبوں پر لگ رہے تھے۔ زنان خانے میں مستورات کی بے چینی و بے قراری کا کچھ ٹھکانا نہ تھا۔ منٹ منٹ کے بعد گھر کے ملازم لڑکے کو بھیجا جاتا تھا کہ پوچھے ڈاکٹر صاحب نے کیا رائے دی۔ اور جب لڑکا خاموش واپس آتا۔ تو ماں بیٹیوں کی تمام روح ایک اُمید افزا خبر سُننے کی توقع میں ان کے کانوں میں جمع ہو جاتی تھی۔ لیکن لڑکا جواب دیتا کہ ابھی معائنہ ہو رہا ہے۔
سین بابو... سب کے سینوں میں خوشی کے ایسے بھنور پیدا کر دیے جن میں ہر ایک کا دل ڈوبا جاتا تھا۔ اس نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ ابھی بصارت کا بحال ہونا ممکن ہے“۔ اس کے بعد وہ اپنی ایک علمی بحث میں مشغول ہو گیا جس کے دوران میں اس نے جُلعیہ، قرینا، ثقیےٰ، عصبِ بصارت، عدسیہ، رطوبتِ زجاجیہ اور اس قسم کے بے شمار الفاظ استعمال کیے۔ جن کے سُننے سے گو سب کی طبیعت گھبرا اٹھی، مگر اس پر جامع ہونے کی مہر لگ گئی۔
وہ نہ تو شیخی مارتا تھا اور نہ کوئی پیش گوئی ہی کرتا تھا، کامیابی پر اسے بہت زیادہ اعتماد نہ تھا۔ اور آخر مزید توجہ اور غور کے معائنے کے بعد اس نے شوکت سے کہا۔
”مجھے معاف فرمائیے گا، مگر میں معلوم کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ اپنے مرض کے متعلق اپنے موافق یا مخالف دونوں طرح کا فیصلہ سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟“
شوکت نے جواب دیا، ”میں اپنے مرض کے متعلق بہت سی مایوسیاں برداشت کر چکا ہوں اور اب ان کا عادی ہو گیا ہوں“۔
ڈاکٹر نے کہا، ”تو میں آپ کو بتائے دیتا ہوں کہ اگر چہ مجھے اس امر کا یقین ہے کہ میں آپ کی بصارت بحال کر سکتا ہوں...“ وہ رک گیا۔
شوکت نے اسے باقی فقرے کہنے کی بھی جرات دلائی، ”ہاں ہاں، مگر...“
ڈاکٹر نے کسی قدر پس و پیش کے بعد کہا، ”میں آپ سے اصل معاملہ چھپانا پسند نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بات کا بہت امکان ہے کہ آپ کی صحت محض عارضی ہو۔ آپ کو علم ہے...“
وہ پھر نئے سرے سے ایک معائنے میں مصروف ہو گیا اور فراغت پانے کے بعد ایک لمبا سانس لے کر بولا، ”مجھے تقریباً اس امر کا یقین ہے کہ آپ بصارت حاصل کر لیں گے لیکن بہت ممکن ہے کہ محض ایک ذرا سی دیر کے لیے آپ کی بصارت درست ہو۔ کیا آپ یہ بھی برداشت کر سکتے ہیں؟“۔
شوکت نے کچھ تامل اور پس و پیش کے بعد کہا، ”یہ نہایت مشکل ہے، لیکن میرا خیال ہے میں اسے بھی برداشت کر لوں گا۔“۔
ڈاکٹر نے سمجھ کر کہا، ”میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اسے آپ سمجھ گئے ہیں۔ آپ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عارضی طور پر بصارت کے بحال ہونے کے کیا معنی ہیں۔ اس حالت میں آپ اپنی بد نصیبی کے پورے معنے سمجھنے کے قابل نہیں ہیں۔ آپ نے ابھی تک اپنی قوت بینائی استعمال نہیں کی۔ آپ نے اس روشن دُنیا کے عجائبات اور ۔۔۔۔۔ دیکھا۔ لیکن اگر بصارت حاصل ۔۔۔۔۔ عرصے کے بعد آپ پھر نابینا ہو جائیں۔ اور ایسے نابینا کہ پھر تمام عمر بینائی حاصل کرنے کی اُمید نہ رہے“۔ اور اس کی گفتگو ایک پُر معنی خاموشی پر ختم ہو گئی۔
شوکت نے کچھ اندرونی کشمکش کے بعد کہا، ”جب تک کامیابی کا معقول امکان ہے، میں ہر خطرے میں پڑنے کو تیار ہوں۔“۔
سین بابو نے یقین دلایا کہ اگر آپ میری ہر بات بلا عذر مانیں گے اور مجھ پر یقین رکھیں گے، تو کامیابی کا بہت کافی امکان ہے۔
(4)
غرض اس طرح معاملات کا تصفیہ ہوا۔ بنگالی ڈاکٹر گھر کے چند مقررہ کمروں میں فروکش ہو گیا اور اس نے شوکت کا علاج شروع کر دیا۔ طریقِ علاج پیچیدہ اور تکلیف دہ تھا۔ اور نتائج نہایت صبر آزما طریقے پر سست تھے۔ چھ ہفتے کے عرصے کے لیے شوکت کو ایک اندھیرے کمرے میں چت لٹایا گیا۔ اس کی آنکھوں کے پپوٹوں پر پلستر لگایا گیا، اور اس کی بھوؤں پر سرد پٹی کی کئی تہیں باندھی گئیں۔ اسے نہایت اندازے سے غذا دی جاتی تھی۔ اور حرکت کرنے کی قطعی ممانعت تھی، لیکن اس نے علاج کے اس طولانی عرصے کو روز افزوں ضعف کو خاموش اور سنسان دنوں کو جن کے بعد بے خوابی کی طویل راتیں آتی تھیں۔ نہایت ہمت اور صبر و خاموشی سے برداشت کیا۔ اس نے ایک بار بھی شکایت نہ کی، تکلیف و درد سے کبھی ڈاکٹر کا ہاتھ نہ پکڑا کہ انتظار کا یہ طولانی زمانہ آخر کب تمام ہو گا۔ اس درخشاں و تاباں جوہرِ روح کبھی اس شان اور چمک دمک سے نظارہ افروز نہ ہوا تھا۔
چھٹے ہفتے کا آخری دن تھا کہ سین بابو کی فوری رخصت کے باعث گھر کے انتظار آمیز سکوت میں فکر و تردد کی ہلچل مچ گئی۔ حسب معمول جب صبح کو لڑکا اس کے کمرے میں چائے لے کر گیا تو کمرہ خالی پایا۔ وہاں ڈاکٹر کا اسباب وغیرہ کچھ نہ تھا، البتہ ایک خط میز پر رکھا تھا۔ جسے لے کر وہ دوڑا ہوا پریشان نیچے آیا۔ ماں بیٹیاں دونوں قالین پر بیٹھی چائے پی رہی تھیں کہ اس نے یہ تباہ کن خبر سنائی کہ ڈاکٹر چلا گیا ہے۔ ان دونوں نے ایک دوسری کو دیکھا۔ یہ غیر متوقع خبر ان کے دل پر تیر کی طرح لگی اور بجلی کی طرح گری، دل دکھ کر رہ گئے اور چہروں سے خون کی سرخی یک لخت مرجھا گئی۔ وہ ایسی متحیر و مبہوت رہ گئیں کہ کئی منٹ تک ان کے منہ سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔
”کیا ان کی تمنا بھرے خوابوں کی یہی دل شکن تعبیر تھی!“ لڑکے نے کہا۔ ”یہ خط میز پر رکھا ہوا تھا اور اس نے جُھک کر وہ خط ماں کے قریب فرش پر رکھا دیا۔ مصیبت زدہ ماں کی نگاہوں کے سامنے ایک تاریک دھند چھا رہی تھی۔ دنیا ہندولے کی طرح اچھلتی اور چکر لگاتی معلوم ہو رہی تھی، مگر اس نے ہمت کر کے خط کو اٹھا لیا اور کھولا۔ لیکن اس کی آنکھوں میں دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے آنسو ابل آئے، خط بہت جلدی میں لکھا گیا تھا۔ بڑھیا کی نگاہ آنسوؤں کے نقاب میں پوشیدہ تھی، وہ اسے پڑھ نہ سکی اور خاموشی سے اس کو اپنی بیٹی کی طرف بڑھا دیا۔۔
بیٹی کی حالت ماں سے کم مصیبت زدہ نہ تھی۔ اس نے خاموشی سے خط لے لیا اور بھرائی ہوئی آواز میں اسے پڑھنا شروع کیا۔
ڈاکٹر کا رخصتی خط نہایت شگفتہ معذرتوں سے شروع ہوتا تھا۔ اور اس کے بعد اس نے لکھا تھا کہ گو مریض کو اس حالت میں چھوڑ دینا ایک ذلیل حرکت ہے۔ مگر میری آئندہ زندگی کی بہتری کا تقاضا یہی ہے کہ میں اب یہاں سے رخصت ہو جاؤں اور ہر وہ شخص جس کے دل میں اپنے مادی فوائد کا کچھ بھی خیال ہو، کبھی ایسے زریں موقع کو ہاتھ سے نہیں کھو سکتا۔ پنجاب کے ایک کروڑ پتی نے بہت کچھ انعام و اکرام کے وعدے پر مجھے اپنے شہر میں طلب کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کا علاج کروں، جو نہایت سرعت سے اندھا ہوا جا رہا ہے۔ میرا وہاں فوراً پہنچنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ اگر اس کی بینائی بحال کی جا سکتی ہے تو اس کا یہی موقع ہے۔ اس کے بعد، سین بابو نے تفصیل سے شوکت کے مرض کی بابت لکھا تھا کہ اب اس کے متعلق میرے کرنے کا کوئی کام نہیں، جو کام باقی ہے، وہ شوکت خود اچھی طرح کر سکتا ہے۔ آخری پلستر کے سوکھ کر جھڑتے ہی پٹیاں کھول دینی چاہئیں۔ اگر شوکت کی قسمت میں ہے کہ وہ بصارت حاصل کر لے، تو اسی مبارک لمحے پر اسے یہ قوت حاصل ہو جائے گی۔ اس کے بعد چند ضروری ہدایتیں تھیں اور آخر میں اس نے اپنے اسی پرانے شک کو دہرایا تھا کہ بہت ممکن ہے صحت محض عارضی ہو۔۔
خط پڑھنے سے دونوں عورتوں کے دل کچھ بڑھ گئے۔ امید کے ٹمٹماتے چراغ کا جل اُٹھنا ابھی ممکن تھا۔ ابھی شوکت کی بصارت حاصل کر لینے کا امکان تھا۔ وہ دونوں بدنصیب مریض کے کمرے میں گئیں کہ ڈاکٹر کی رخصت کی خبر کو حتی الامکان خوشگوار بنا کر اسے سنائیں۔۔
