عام قیاس یہی ہے کہ صاحبِ کمال، کسی حالت میں گمنام نہیں رہ سکتا، تجربہ اور تاریخ بھی اسی کی شہادت دیتے آئے ہیں، لیکن کوئی کلیہ مستثنٰے سے خالی نہیں، مولوی حمید الدین جن کی ایک عجیب و غریب تصنیف کا اس وقت ہم ذکر کرنا چاہتے ہیں، اس استثنا کی ایک عمدہ مثال ہیں، مولوی صاحب موصوف نے پہلے قدیم طریقہ کے موافق تعلیم پائی، یعنی درس نظامیہ کے مطابق فارغ التحصیل ہوئے، پھر مولانا فیض الحسن صاحب شارح حماسہ سے جو میرے بھی استاد ہیں، ادب کی تکمیل کی، اس کے بعد انگریزی شروع کی، اور مدرسۃ العلوم میں رہ کر بی اے کی سند حاصل کی، زمانِ طالب العلمی ہی میں سرسید مرحوم کے حکم سے انہوں نے سیرت نبوی کے متعلق دو کتابیں عربی سے فارسی میں ترجمہ کیں جو مدرسۃ العلوم کے نصاب درسیات میں شامل ہیں، اور چھپ کر شائع ہو چکی ہیں، مدرسے سے نکل کر کراچی کے مدرسۃ الاسلام میں عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے اور اب تک اسی عہدہ پر ہیں، ان کا فارسی دیوان چھپ کر شائع ہو چکا ہے، لارڈ کرزن، جب سواحل عرب کی سیر کو گئے تھے، تو یہ بھی ساتھ تھے، اور سرداران عرب کے سامنے عربی زبان میں لارڈ کرزن کی طرف سے جو تقریر پڑھی گئی، وہ انہیں کی لکھی ہوئی تھی، اس قسم کے واقعات میں سے ایک واقعہ بھی کسی انسان کی شہرت کے لیے کافی ہو سکتا ہے، لیکن مولوی صاحب اب بھی گمنام ہیں، ان کی یہی خواہش ہے، اور اگر وہ اس خواہش میں ہمیشہ کامیاب رہیں، تو ہمارا کوئی حرج نہیں۔
لیکن ان کی جس تصنیف پر ہم ریویو لکھنا چاہتے ہیں، اس کے متعلق، ہم ان کی خواہش کی پیروی نہیں کر سکتے، یہ تصنیف (خصوصاً اس زمانہ میں) اسلامی جماعت کے لیے اس قدر مفید اور ضروری ہے، جس قدر ایک تشنہ لب اور سوختہ جان کے لیے آبِ زلال، اس لیے ہم اس کتاب پر مفصل ریویو لکھنا چاہتے ہیں، افسوس یہ ہے کہ مصنف نے یہ کتاب عربی زبان میں لکھی ہے، اور اس لیے عام لوگ اس سے متمتع نہیں ہو سکتے، ہم نے ان سے بارہا کہا کہ اس زمانہ میں جو کچھ لکھنا چاہیے، ملکی زبان میں لکھنا چاہیے، لیکن ان کی قدامت پسندی، اردو کی طرف ان کو مائل نہیں ہونے دیتی، (اور سچ یہ ہے کہ وہ اردو لکھ بھی نہیں سکتے) عربی ہونے کی وجہ سے ہم ان کی عبارت کے اصلی اقتباسات نہیں دے سکتے بلکہ اس کے مطالب پر اکتفا کریں گے۔
نظم قرآن
یہ امر صاف نظر آتا ہے کہ قرآن مجید کی اکثر آیات میں کوئی خاص ترتیب نہیں ہے، ایک آیت میں کسی فقہی حکم کا بیان ہے، اس کے بعد یکبیک کوئی اخلاقی بات شروع ہو جاتی ہے، پھر کوئی قصہ چھڑ جاتا ہے۔ ساتھ ہی کافروں سے خطاب شروع ہو جاتا ہے، پھر کوئی اور بات نکل آتی ہے، غرض یہ کہ عام تصنیفات کا جو طرز ہے، کہ ایک قسم کے مطالب ایک جا بیان کیے جائیں قرآن پاک کا یہ طرز نہیں۔
اس کے متعلق قدما کی مختلف رائیں ہیں، شاہ ولی اللہ صاحب نے لکھا ہے کہ چونکہ قرآن مجید میں عرب کے خطبات کا انداز ملحوظ ہے، اور ان کے خطبے اسی طرح کے ہوتے تھے، یعنی مختلف مضامین بلا ترتیب بیان کرتے تھے، اس لیے قرآن پاک میں بھی وہی طرز ملحوظ رکھا ہے۔ اکثر علما کی یہ رائے ہے کہ قرآن مجید کی آیتیں مختلف وقتوں اور مختلف ضرورتوں کے پیش آنے پر نازل ہوتی رہیں، اس لیے ان میں کوئی ترتیب کیونکر قائم ہو سکتی ہے، مثلاً کسی شخص کی مختلف تقریروں کو جو اس نے مختلف وقتوں میں کہیں اگر ایک جا ملا کر دیا جائے، تو ان میں ترتیب کیونکر پیدا ہو سکتی ہے؟ یہ رائے بظاہر بالکل صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ مسلم ہے کہ قرآن مجید نجماً نجماً یعنی جستہ جستہ نازل ہوا ہے، اور ہر سورۃ اور ہر ٹکڑے کا شان نزول مختلف ہے، اس لیے ان میں ترتیب کیونکر قائم ہو سکتی ہے، بعض علما نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآن مجید کی تمام آیتوں میں ابتدا سے لے کر انتہا تک، ترتیب اور تناسب ہے، بقاعی نے اس کے ثبوت میں مستقل تفسیر لکھی ہے، جس کا نام نظم الدرر فی تناسب الآیات والسور رکھا ہے، لیکن اس کے جو مطالب تفسیر میں نقل کیے ہیں، ان کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زبردستی تناسب پیدا کیا گیا ہے، اور اس قسم کا تناسب دنیا کی نہایت مختلف بلکہ متناقض چیزوں میں بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
مولوی حمید الدین صاحب نے اسی مسئلہ پر یہ کتاب لکھی ہے، وہ اسی اخیر رائے کے مدعی ہیں یعنی یہ کہ ایک سورۃ میں جس قدر آیتیں ہیں، ان میں ضرور کوئی قدر مشترک ہے، اور اس لحاظ سے وہ سب آیتیں باہم متناسب ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ جس طرح ہر کتاب کا کوئی خاص موضوع (سبجکٹ) ہوتا ہے، اسی طرح ہر سورۃ کا ایک خاص موضوع ہے، اور تمام آیتیں بالذات یا بواسطہ اسی موضوع سے متعلق ہوتی ہیں، ان کا عام استدلال یہ ہے کہ اگر ایک سورۃ کی آیتوں میں باہم اس قسم کا تناسب نہیں تو اس کی کیا وجہ ہے کہ جب کوئی سورۃ نازل ہونی شروع ہوتی تھی، اور مختلف وقتوں میں مختلف آیتیں نازل ہوتی تھیں، تو آنحضرت صلعم حکم دیتے تھے کہ ان آیتوں کو اس سورۃ میں داخل کرتے جاؤ، پھر ایک حد تک پہنچ کر آپ فرماتے تھے کہ اب یہ سورۃ ختم ہو گئی، اور اس کے بعد دوسری آیت شروع ہوتی تھی، اگر یہ آیتیں اس سورۃ سے کوئی خاص مناسبت نہیں رکھتی تھیں، تو ان آیتوں کو انہیں سورتوں میں داخل کرنے کی کیا ضرورت تھی، بلکہ سورتوں کی تحدید اور تخصیص بھی بیکار تھی، اس سے بڑھ کر یہ کہ روایات سے ثابت ہے، کہ بارہا ایسا ہوتا تھا کہ دو سورتیں ساتھ ساتھ نازل ہو رہی ہیں، اور جب کوئی آیت نازل ہوتی تھی، تو آپ فرماتے تھے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں داخل کرو، پھر دوسری آیت نازل ہوتی تھی، تو فرماتے تھے کہ اس کو دوسری سورت میں شامل کرو، اگر اس آیت کو اس سورۃ کے ساتھ کوئی مخصوصیت نہیں تھی، تو جس آیت کو جس سورۃ کے ساتھ چاہتے شامل کر دیتے، اس بنا پر مصنف نے تمام سورتوں میں تناسب کا دعویٰ کیا ہے۔ اور نہایت دقت نظر سے ہر جگہ اس کو ثابت کیا ہے۔
کتاب کا اصلی موضوع اسی قدر تھا، لیکن اس بحث کے ضمن میں، قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت کی بحث بھی آ گئی، مصنف ان کتابوں سے واقف تھا، جو قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت پر لکھی گئی ہیں، لیکن اس کو نظر آیا کہ یہ تمام کتابیں ناتمام ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فصاحت و بلاغت کا جو فن مرتب کیا گیا ہے، وہ خود ناتمام تھا، اور تمام لوگوں نے اسی فن کے موافق قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت ثابت کی تھی۔
اس بنا پر مصنف نے اصل فن پر توجہ کی، اور اس کو ایک نہایت وسیع پیمانہ پر نئے سرے سے ترتیب دیا، اور فصاحت و بلاغت کے بہت سے جدید اصول قائم کیے، اس طرح ایک اور مستقل کتاب تیار ہو گئی جس کا نام انہوں نے جمہرۃ البلاغۃ رکھا، اس کتاب کی تمہید مصنف نے اس طرح شروع کی ہے۔
فنِ بلاغت
علمائے اسلام نے جب یہ ثابت کرنا چاہا کہ قرآن مجید بلاغت کے لحاظ سے معجز ہے، تو اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ پہلے بلاغت کے اصول اور قواعد مرتب کر دیے جائیں، اس کا اصلی طریقہ یہ تھا کہ خود کلام عرب کا تتبع کیا جاتا اور بلاغت کی جزئیات کا استقصا کر کے اس کے اصول اور ضوابط منضبط کیے جاتے، لیکن جس زمانہ میں یہ کوشش کی گئی، اس وقت عجم کے علوم و فنون کا اثر مسلمانوں پر غالب آ گیا تھا، اس لیے مسلمانوں نے جس طرح اور علوم و فنون، یونان اور فارس سے اخذ کیے، اس فن کے مسائل بھی انھیں کی تحقیقات کے موافق مرتب کیے، عجم کے نزدیک بلاغت کے اصلی ارکان، تشبیہ اور بدیع ہیں، اس لیے علمائے اسلام نے بھی انہیں چیزوں کو مہتم بالشان قرار دیا، حالانکہ اہل عرب کے نزدیک بدیع ایک لغو چیز ہے، اور تشبیہ چندان قابل اعتنا نہیں۔
