جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

نظم القرآن و جمہرۃ البلاغۃ

ارسطو نے اس بحث میں بھی سخت غلطی کی ہے، وہ کہتا ہے کہ شاعری کے جذبہ کے وقت، انسان جو گانے یا ناچنے لگتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نغمہ اور رقص ایک قسم کی محاکات ہے، یعنی انسان کے دل میں جو جذبات پیدا ہوتے ہیں، آواز، اور حرکات کے ذریعہ سے وہ ان کی تصویر کھینچتا ہے، چنانچہ رقاص جو کچھ گاتے ہیں، حرکاتِ رقص کے ذریعہ سے اس کو بتاتے بھی جاتے ہیں۔

لیکن یہ خیال غلط ہے، اصل حقیقت یہ ہے کہ جذباتِ انسانی مثلاً رنج، خوشی، خوف، تعجب، شوق، نفرت، یہ چیزیں، انسان کے دل میں ایک نہایت پرزور حرکت پیدا کر دیتی ہیں، یہی حرکت، آواز، یا راگ یا رقص، یا ترنم، بن جاتی ہے، مثلاً انسان کو جب ہنسی آتی ہے، تو دل میں ایک قسم کی حرکت پیدا ہوتی ہے یہی حرکت، ہنسی بن جاتی ہے، اور چونکہ یہ آثار، حرکاتِ نفسانی کے مشابہ ہوتے ہیں، اس لیے یہ حرکاتِ نفسانی پر بھی اسی طرح دلالت کرتے ہیں جس طرح، الفاظ اپنے معانی پر دلالت کرتے ہیں۔

غرض جس طرح نطق، ایک فطری چیز ہے، اسی طرح یہ اشارات اور حرکات بھی فطری ہیں اور بے اختیار سرزد ہوتے ہیں، وہ محاکات کی غرض سے نہیں کیے جاتے، گو ممکن ہے کہ محاکات کا مقصد، اس سے حاصل ہو جائے۔

اس موقع پر پہنچ کر ایک اور عام غلطی کا رفع کرنا بھی ضروری ہے، اکثر لوگ، شعر، اور نثرِ بلیغ کو ایک سمجھتے ہیں چنانچہ قدما میں، ارسطو، اور متاخرین میں جان مل‌John Stuart Mill کا یہی مذہب ہے، ارسطو کا خیال ہے کہ محاکات کے مختلف طریقے ہیں اور خود کلام جو محاکات کا ایک خاص طریقہ ہے، اس میں محاکات کے تین ذریعے پائے جاتے ہیں، وزن، الفاظ، نغمہ، یہ چیزیں کبھی تنہا، اور کبھی مل کر ارادات قلبی کی تصویر کھینچتی ہیں، یہی محاکاتِ شعری ہے، کبھی محاکات، صرف الفاظ کے ذریعہ سے ہوتی ہے جیسے سقراط‌Socrates کا مکالمہ اور کبھی الفاظ اور نظم کے ذریعہ سے، وزن، شعر کے لیے کوئی ضروری چیز نہیں، لیکن عام لوگوں نے اس کو شاعری کا ضروری جز قرار دے دیا ہے۔

ارسطو کا خیال اس حد تک صحیح ہے کہ شعر کا وزن پر مدار نہیں، لیکن اس کے یہ معنے نہیں، کہ وزن شعر کے اجزا میں داخل نہیں، وزن شعر کا جز ہے، لیکن چونکہ کل کے لیے محض ایک جز کافی نہیں ہوتا، اس لیے تنہا وزن سے شعر نہیں بن سکتا، لیکن ارسطو کی یہ غلطی ہے کہ وہ سقراط کے مکالمہ، اور ہومر کے کلام دونوں کو شعر قرار دیتا ہے۔

جان مل کی رائے اس حد تک صحیح ہے کہ شاعری جذبات کے اظہار کا نام ہے، اور یہ کہ شاعر، دوسروں کو نہیں، بلکہ صرف اپنے آپ کو مخاطب کرتا ہے، اس تشریح سے جان مل نے شاعر کو خطیب سے الگ کر دیا، اور اس بنا پر وہ مکالمہ سقراط کو شاعری نہیں کہتا، لیکن جان مل نے بھی یہ غلطی کی کہ وہ وزن کو شعر کا کوئی ضروری جز نہیں قرار دیتا۔

اب دوبارہ غور کرو کہ شعر کس چیز کا نام ہے، انسان پر جب کوئی جذبہ طاری ہوتا ہے تو کسی نہ کسی ذریعہ سے ظاہر ہونا چاہتا ہے اور چونکہ انسان کی تمام قوتوں میں سے نطق سب سے زیادہ قوی اور اس کی مخصوص قوت ہے، اس لیے یہ جذبہ بالطبع نطق ہی کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا ہے، جس طرح کہ حیوانات کے جذبات مختلف قسم کی آوازوں سے ظاہر ہوتے ہیں، مثلاً شیر کا گرجنا، طاؤس کی جھنکار، کوئل کی کوک وغیرہ وغیرہ بعض وقت یہ جذبہ، موزوں حرکات کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، مثلاً طاؤس، اور کبوتر کا رقص، یا راگ سننے کے وقت سانپ کا لہرانا، قدرت نے جن اشخاص کو نطق، اور نطق کے ساتھ نغمہ کی بھی قوت دی ہے، ان سے جذبات کی حالت میں شعر ادا ہوتے ہیں، اور ساتھ ہی وہ گنگنانے بھی لگتے ہیں، اور جب جذبہ زیادہ قوی ہوتا ہے تو رقص کی حرکات بھی سرزد ہونے لگتی ہیں۔ اس بنا پر شعر وزن، نغمہ، اور رقص کے مجموعہ کا نام ہے، لیکن چونکہ یہ چیزیں، جذبات کے کمال شدت کے وقت پیدا ہوتی ہیں، اس لیے ہر شعر میں ان چیزوں کا پایا جانا ضروری نہیں، تاہم کوئی شعر نغمہ اور راگ سے بالکل خالی نہیں ہو سکتا خود وزن جو شعر کا ایک ضروری جز ہے راگ کی ایک قسم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اہل عرب ہمیشہ شعر کو گا کر پڑھتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ شعر پڑھنے کو، اہل عرب، انشاد کہتے ہیں جس کے معنے گانے کے ہیں، اب تم نے سمجھا ہو گا کہ شعر کو وزن سے، نغمہ سے، رقص سے، کیا تعلق ہے، درحقیقت یہ سب، ایک ہی مخرج سے نکلے ہیں، البتہ وزن کو شعر سے، بہ نسبت نغمہ، اور رقص کے زیادہ قوی تعلق ہے۔ اور اسی وجہ سے ہمیشہ لوگ وزن، اور شعر، کو ایک چیز سمجھتے آئے ہیں۔

اس بحث کے بعد مصنف نے بلاغت کے اصول، اور قواعد اور جزئیات بیان کیے ہیں، اس کو ہم آئندہ پرچہ کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔

شبلی نعمانی۔ از دار العلوم ندوہ، لکھنؤ